Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 6

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 6

رابی جب سے مارکیٹ سے آئی تھی اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی بارش شام تک رک گئی تھی مگر مون سون بارش کا سپیل کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتا تھا

موسم کی مناسبت اور زوہیب اور سعدیہ کی جانے کی وجہ سے رات کا کھانا خاص اہتمام سے بنایا گیا تھا پروین بيگم نے وقار کی مدد سے کافی ڈشز بنالی تھیں یہی وجہ تھی کھانا آج ڈائینگ کی بجاۓ نیچے چٹائی بچھا کر لگایا گیا تھا سب ہاتھ دھو کر دسترخوان پر بیٹھ رہے تھے پورا گھر مزے دار طرح طرح کے کھانوں کی باس سے مہک رہا تھا رابی غائب تھی

پروین بيگم اس کو بلانے کمرے میں آئی تو وہ چادر اوڑھے سو رہی تھی

“بیٹا آج زوہیب کی شادی کی اور انکے جانے کی دعوت کا اہتمام کیا ھے میں نے اپنے بیٹے اور بہو کے لئیے۔۔۔۔۔سب اکیلے پکا لیا تم خود نہیں آئی تو میں نے بھی نہیں بلايا کچن میں مگر اب کم از کم سب کے ساتھ دسترخوان پر تو بیٹھ کے میزبان ہونے کا فرض پورا کرلو،تم اتنی بد لحاظ تو نہیں تھی یہ تربیت تو نہیں دی میں نے تمہیں ؟؟؟؟”

پروین بيگم کی بات پر رابی کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا

“بس اموں سر درد اور باڈی پین ہے بخار ہوگیا ہے شاید،”

وہ شرمنده سی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی

“میرا بچہ عورت ہو تم،عورت سب سے آگے اپنی ذمہ داری،اپنا فرض اور دوسروں کی تکلیف رکھتی ہے اور پھر جب گھر میں مہمان ہو تو اسے سستی اور بستر توڑنا زيب نہیں دیتا،کل اگلے گھر جانا ہے تم نے یہ سر درد جسم درد بخار یہ تو بہانے سمجھے جاتے ہیں سسرال میں لہذا ابھی سے ان کو نظر انداز کر کے چلتی پھرتی نظر آؤ،اللّه تمہارے نصیب اچھے کرے اچھا گھر اور شوہر دے تمہیں مگر میری جان ہم والدین کتنا بھی دیکھ بھال لیں ہم بیٹی کے نصیب سے نہیں لڑ سکتے ۔۔۔۔”

پروین بيگم سمجھ گئی تھیں اب وہ تھوڑا سا بھی کچھ کہیں گی تو وہ خود کو رونے سے روک نہیں سکے گی وہ جلدی سے اٹھ گئی تھیں

“امی میں منہ دھو کر بس دو منٹ میں آتی ہوں”

رابی چادر ہٹا کر بیٹھ گئی تھی پروین بيگم جا چکی تھیں

“میں سعدیہ باجی اور زوہیب بھائی کو خوشی خوشی الوداع کروں گی اللّه ان کو ہمیشہ ساتھ میں آباد اور خوش رکھے امین،زوہیب بھائی صرف سعدیہ باجی کے لئے بنے ہیں”

ایک آنسو اس کے گال پر آیا تھا جسے اس نے مسکرا کر صاف کر لیا تھا وہ تیزی سے منہ دھو کر پونی ٹیل کر کے دل سے سب کو سلام کرکے دسترخوان پر آ کر بیٹھی تھی

بہت اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا

اب سب چھت پر ٹھنڈی ہوا میں چارپائیوں پر آ کر بیٹھ گئے تھے سب کی چاۓ پروین بيگم نے رابی اور وقار کے ہاتھ اوپر ہی بھیجی تھی سب خوشگوار موسم میں چسکیاں بھرتے گپ شپ لگا رہے تھے

“بیٹا صبح کب کی فلائٹ ہے ؟؟؟”

شفیق صاحب نے زوہیب سے پوچھا تھا

“چچا جی كل دن دس بجے تک ایئر پورٹ پہنچنا ضروری ہے فلائٹ گیارہ بجے کی ہے”

“چلو میں چھوڑ آؤں گا فیکٹری بعد میں چلا جاؤں گا”

شفیق صاحب نے چسکی لے کر کہا تھا

“ارے میں بھی جاؤں گی اپنی بہو کے ساتھ”

پروین بيگم نے بڑا گھونٹ بھر کر کہا تھا

“اموں مجھے بچپن سے ایئر پورٹ اور جہاز دیکھنے کا بڑا شوق ہے میں بھی جاؤں گا”

وقار نے بھی لقمہ دیا تھا

“یار بہت تنگ ہو کر جانا پڑے گا پھر سب کو”

شفیق صاحب نے سواریوں کی تعداد سوچ کر کہا تھا

“تین لوگ آرام سے بیٹھ جایئں گے پیچھے ابو جی،آپی ویسے بھی نہیں جا رہیں”

وقار نے گویا تابوت پر آخری کیل ٹھوکا تھا

رابی نے مسکرا کر سب کی طرف دیکھا تھا وہ واقعی نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔۔

“آپ سب چلے جانا میں سکون سے نیند پوری کروں گی”

نارمل لگنے کے چکر میں اس نے بے تکی بات کی تھی زوہیب کو گزشتہ دن کے بعد اس کی آنکھوں میں نظر آتی بغاوت سے خوف آنے لگا تھا

کچھ دیر بعد سب سونے اپنے اپنے کمروں میں گئے تھے

رابی کا دل بہت اداس تھا یہ رات آج بہت بھاری تھی آج پھر اسے سونے کے لئے گولی کا سہارا لینا پڑا۔۔۔

صبح کے نو بج رہے تھے جب اس کی آنکھ کھلی تھی کچھ وقت دن اور رات میں فرق کرنے میں گزرا ۔۔۔۔جیسے ہی دماغ جاگا وہ بھاگ کر منہ پر پانی ڈال کر باہر آئی تھی جہاں گیٹ کے پاس چار بیگ رکھے ہوۓ تھے

بس آخری آخری کام نپٹاۓ جا رہے تھے وہ سعدیہ کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی

“پتہ ہے رابی کافی عرصے بعد مجھے لگا میں بھی زندہ ہوں،میں لا وارث نہیں ہوں،میرے اپنے بھی ہیں”

میں آپ سب کی اس محبت اس اپنائیت کو بہت یاد کروں گی”

اب سعدیہ باقاعده رونے لگی تھی

“میں بھی”

رابی کا تو ویسے ہی کھل کر رونے کا بہانہ چاہیے تھا وہ خود بھی سعدیہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی گھر کے سب افراد ان کے گرد جمع ہوگئے تھے سب آبدیدہ تھے

دس بجنے کو تھے اب سامان گاڑی میں رکھا جا رہا تھا آہستہ آہستہ سب گاڑی میں بیٹھ چکے تھے رابی دروازے میں کھڑی ہاتھ ہلا کر بظاہر سعدیہ کو جبکہ دل زوہیب کو نم آنکھوں سے الوداع کر رہا تھا

بادل زور سے گرجے تھے

ساتھ ہی موٹے موٹے قطرے گرنا شروع ہوۓ تھے مون سون کی بارش نے پھر سے اس رخصتی میں دخل اندازی کی تھی جب زخم تازہ اور گہرا ہو پھر بارش کا پانی بھی اس میں جلن پیدا کر دیتا ہے ۔۔۔آگ دل میں لگی ہو تو بارش اس آگ کو بجھانے کی بجاۓ اکثر سلگانے کا کام دیتی ہے ۔۔۔

گاڑی روانہ ہو چکی تھی رابی دروازے میں کھڑی کبھی روتے آسمان کو دیکھتی کبھی چلتی گاڑی کو ۔۔۔۔۔

بارش تیز ہوئی تھی وہ چھت پر جا کر دھاڑیں مار مار کر روئی تھی

اس معصوم محبت پر جس میں اس کے دماغ کا کوئی قصور نہیں تھا یہ جرم تو جانتے بوجھتے فقط دل کی جرأت تھا مگر اب پورا جسم اس کی تکلیف کی لپیٹ میں آچکا تھا ۔۔

محبت بہت بے باک اور من موجی فطرت کی ہوا کرتی ہے، نا ہو تو۔۔۔۔۔ شادی کے نام پر ہر حد پار کر کے بھی اپنے همسفر سے نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔اور کبھی فقط ایک نگاہ ہی بنا جسم کی محتاجی کے سیدھا دل پر اثر کر جاتی ہے ۔۔۔

محبت ایک احساس کا نام ہے کبھی ساتھ موجود شخص کے ساتھ ساری عمر گزار کر بھی یہ جنم نہیں لے پاتا اور کبھی میلوں دور بیٹھا وجود اپنے لمس سے آپ کو ہر پل بے چین ركهتا ہے ۔۔۔۔

محبت تو رب کی خوبی ہے ۔۔۔یہ اپنے مطلب کی پاکیزگی کو جانتے ہوۓ ہوجأے تو انسان زندگی کا مطلب سمجھ جائے ۔۔۔۔

محبت تو کسی تیسری چیز کی محتاج ہوا ہی نہیں کرتی ۔۔۔۔سچ تو یہ ہے جو محبت جسم کی محتاج ہو وہ محبت کی “ميم” سے بھی محروم ہیں ۔۔۔۔پورا لفظ محبت تو میرے رب کی خاص عطاء ہے ۔۔۔

رابی کسی بن پانی مچھلی کی طرح اس بارش میں تڑپ رہی تھی اس کی ہر تکلیف بے سدھ تھی کیوں کہ وہ شخص کسی اور کا همسفر بن چکا تھا وہ اب کسی کا شوہر تھا مگر دل بنا اسے پانے کی ضد کے بس اس کے چلے جانے پر ہر حد پار کیئے بس رو رہا تھا ۔۔۔

ایک شادی شدہ انسان سے محبت وہ بھی اتنی آسانی سے ؟؟؟یک طرفہ؟؟؟؟

محبت اندھی ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔۔اور دل واقعی دیوانہ ۔۔۔۔۔

آج یہی تو ثابت ہوا تھا ۔۔۔۔

۔****************

ہانی اور ہادی واپس لاہور بائے ایئر آ چکے تھے دونوں نے آج دن کی آف لی تھی

ہانی جا کر دوبارہ سے سو گئی تھی جبکہ ہادی ماں کے پاس آکر بیٹھا تھا

“بیٹا آج کچھ بدلے بدلے لگ رہے ہو کیا بات ہے ؟؟؟”

صبیحہ بيگم اس محل نما گھر میں بیٹھی بارش کا لطف لیتی ہادی کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھیں جس پر ہادی حیران ہوا تھا

“نہیں ماں بس ہر میٹنگ میری توقع سے زیادہ کامیاب جا رہی ہے جب سے ہانی آئی ہے بس اسی لئے پُر سکون ہوں،خوش بھی”

ہادی کے دل نے بلا ضرورت ہانی کا نام لے کر اپنی تسكين کی تھی

“ہانی ؟؟؟؟”

صبیحہ بيگم پوری طرح بیٹے کی طرف متوجہ ہوئی تھیں

“جی ماں نئی پرسنل سیکرٹری ہائر کی ہیں بہت نيک بہت ایمان دار بہت محنتی لڑکی ہیں “

ہادی جتنی عقیدت اور محبت سے ہانی کا ذکر کر رہا تھا ماں اس کا مطلب جان رہی تھیں وہ بے سکون ہوئی تھیں

“کب ؟؟؟آپ تو مجھے بزنس میں ہونے والی ہر اونچ نیچ بتادیتے ہیں نا ہادی پھر یہ مجھے آج کیوں پتہ چل رہا ہے ؟؟؟؟”

صبیحہ بيگم نے اچھا خاصا برا مانا تھا

“ایسی بات نہیں ہے ماں بس ان دنوں آپ کی طبیعت کافی خراب تھی بس اسی لئے ۔۔۔۔۔اپ کو بتانا یاد نہیں رہا آپ کل میرے ساتھ آفس چلیں ملوا دو ں گا وہ بہت اچھی ہیں آپ کو دلی خوشی ہوگی ان سے مل کر”

ہادی ماں کے پیروں میں محبت سے ان کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

“کل نہیں مگر جلد ہی میں ضرور چکر لگاؤں گی”

صبیحہ بيگم نے آج سے پہلے ہادی کو ایسے کسی لڑکی کے لئے بے چین نہیں دیکھا تھا ان کا ماتھا ٹھنکا تھا وہ کم از کم اپنے ارب پتی بیٹے کو ایک معمولی سیکرٹری میں انوولو ہوتا برداشت نہیں تھی کر سکتیں ۔۔۔۔

“اچھا بیٹا آپ جا کر ریسٹ کریں،پھر شام کی چاۓ پر ہوتی ہے بات”

ہادی ماں کا ہاتھ چوم کر اپنے کمرے میں آ گیا تھا

اگلی صبح ہادی آفس معمول سے لیٹ گیا تھا چونکہ آج کوئی خاص میٹنگ نہیں تھا وہ آج سے پہلے ایسے موقعے پر گھر پر ہی ماں کے ساتھ وقت گزارا کرتا تھا آفس کی معلومات عابد صاحب سے بس فون پر لے لیا کرتا تھا مگر آج تو دل نے گزشتہ دن اور رات بھی بمشکل گھر پر گزارا تھا وہ آیا تو ہانی ٹشو ہاتھ میں پکڑے سر پر ہاتھ رکھ کر بیزار سی بیٹھی تھی

وہ اپنے آفس میں جانے کی بجائے سیدھا اس کے پاس آیا تھا

“کیا ہوا مس ہانی آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”

“جی سر بس فلو ہے ساتھ ہلکا سا بخار ۔۔۔۔۔۔ٹیبلٹ لی ہے میں نے کچھ دیر میں ہوجاؤں گی ٹھیک،آپ آفس میں جائیں میں آج کے ٹاسکس کی ڈیٹیل آ کر دیتی ہوں”

اس کی آواز میں مسلسل کھانسنے کی وجہ سے کھردرا پن تھا

“نہیں آپ آرام کریں ریسٹ روم میں جا کر فائل مجھے دے دیں میں دیکھ لوں گا،چلیں اٹھیں”

“نو سر ۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں بس ہلکا سا فلو ہی تو ہے”

ہانی کو اتنی کیئر پر شرمندگی نے آگھیرا تھا

“نہیں بس میں نے کہہ دیا نا اٹس مائی آرڈر”

ہادی کہہ کر چلا گیا تھا ہانی بخار میں تپ رہی تھی اسے واقعی ریسٹ کی اشد ضرورت تھی وہ ریسٹ روم میں

جا کر فورا سو گئی تھی

دن کے دو بج رہے تھے جب کوئی اس کے کمرے میں آیا تھا ہانی چونکہ گھر سے نزلا زکام کی دوا کھا کر آئی تھی یہی وجہ تھی کہ اس نے کافی لمبی نیند لی تھی وہ آنکھیں ملتی اٹھ کر بیٹھی تھی

ہادی دروازے میں کھڑا اسے دیکھنے آیا تھا

“میں گھر جا رہا تھا سوچا آپ کو دیکھتا ہوا جاؤں”

“میں اب ٹھیک ہوں سر،میں بھی اب گھر جانا چاہتی ہوں”

وہ کہہ کر فورا اٹھی تھی جس سے وہ چکرا کر گرتے گرتے بچی تھی

“آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”

ہادی فورا پاس آیا تھا گهبراہٹ میں ہادی نے ہانی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا ہانی کی دل کی دھڑکن یک دم تیز ہوئی تھی اس نے فورا اپنا ہاتھ چھڑایا تھا

“سر یہ آپ کیا کر رہیں ہیں ؟؟؟”

“آخر آپ بھی ؟؟؟؟”

“میں کل سے نہیں آؤں گی آفس”

وہ روتی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی تھی آج اس نے آفس کی گاڑی میں جانے کی بجائے گھر جانے کے لئے رکشہ لیا تھا وہ ساری راستے بچوں کی طرح روتی رہی ۔۔۔۔جبکہ ہادی حیران پریشان اس کو جاتا دیکھ رہا تھا

گھر آئی تو ایک نیا تماشہ اس کا منتظر تھا

۔**************

“یہ کیا کر دیا میں نے وہ کیا سوچ رہی ہوگی میرے بارے میں ؟؟؟؟میری نیت غلط ؟؟؟؟”

“اللّه یہ کیا کر دیا میں نے ؟؟؟ وہ اب کبھی نہیں آئے گی میں نے اپنی پہلی محبت کو اظہار سے پہلے ہی کھو دیا”

وہ سر پکڑ کر اپنے آفس میں بیٹھ گیا تھا ماں کی مسلسل کال پر وہ کوٹ کندھے سے لٹکاۓ اب گھر کے لئے نکلا تھا

۔**************

زوہیب اور سعدیہ دبئی پہنچ گئے تھے زوہیب نے آتے ہی سعدیہ کو گھر چھوڑ کر اپنے آفس کا رخ کیا تھا جہاں بہت سے مسائل اس کے منتظر تھے

سعدیہ نے ریسٹ کی بجاۓ اس بے ترتیب گھر کو ترتیب دینا شروع کیا تھا

عورت کو گھر اور شوہر کے علاوہ کچھ بھی نہیں چاہیے ہوتا ۔۔۔۔سعدیہ کو آج یہ دونوں نعمتیں یک مشت مل چکی تھیں اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا