Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 15

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 15

دن کے دس بج رہے تھے جب ہادی کی آنکھ کھلی ہانی ابھی بھی سو رہی تھی وہ ویسے بھی سائیکائیٹری کی دوا لے رہی تھی جس کے استعمال سے مریض لمبی اور پر سکون نیند سوتا ہے

ڈاکٹر نے اس کی مینٹل ہیلتھ کے پیش نظر تین ماہ کا کورس تجویز کیا تھا جس کے دوران وہ ماں بننے کا رسک نہیں لے سکتی تھی

یہی وجہ تھی کہ اسے تین ماہ کے لئے حمل روکنے والا انجکشن لگا دیا گیا تھا اس بات کا فیصلہ ڈاکٹر نے اس کی جسمانی اور ذہنی حالت کو دیکھ کے کیا تھا اجازت نامے پر ہادی کے دستخط کے بعد ہی یہ انجکشن لگایا گیا تھا جو کہ اس کے بارے ایک لفظ تک نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔جیسے کہ عام طور پر ہمارے گھر کے مرد خود کو بیوی کی صحت سے لاتعلق ہی رکھتے ہیں ۔۔۔۔وہ جانتے ہیں تو بس اتنا کہ جو ڈاکٹر نے کر دیا ہے اس کے بعد اب ایک خاص عرصہ تک بچہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔فکر ختم ہوئی ۔۔۔۔بیوی اس سب کے بعد کس اذیت سے گزرے گی یہ سوچنا ان کا مسئلہ تھوڑی ہے ۔۔۔

(ایسا کوئی بھی حمل روکنے کا طریقہ عورت کا ہاتمونل سسٹم بری طرح متاثر کر سکتا ہے سو میں سے دس عورتیں ہی ایسی ہونگی جن کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا ہوگا ورنہ عورت ان طریقوں سے ایک نئی ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہو جاتی ہے حد سے زیادہ بلیڈنگ اور ایک ماہ میں دو سے تین بار آیام آنا،وزن کا تیزی سے بڑھ جانا،بات بات پر حد سے زیادہ غصہ آنا،جسم کا پھول جانا،بالوں کا وقت سے پہلے سفيد ہوجانا اور بالوں کا تیزی سے جھڑنا،ڈیپریشین،ہارمونزکی بیماریاں قصہ مختصر عورت جسمانی لحاظ سے مفلوج اور ذہنی طور نيم پاگل ہوجاتی ہے ۔۔۔۔اور اکثر وہ بتائی گئی معیاد پوری ہو جانے کے بعد عورت بانجھ ہو چکی ہوتی ہے یا پھر ایک پیچیده اور مہنگے علاج سے گزرنے کے بعد دوبارہ ماں بنتی ہے جو کہ دوبارہ صرف عورت کے لئے ہی اذیت ناک اور تکلیف ده عمل ہوتا ہےان جديد طریقوں سے انکار جاہلیت نہیں سمجھ داری ہے)

ہانی بہت کمزور لگ رہی تھی تین دن میں ہی اس کی رنگت ڈھل چکی تھی وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔۔

ہادی کی شادی نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

ہادی کو جی جان سے اس کمزور لڑکی پر پیار آیا تھا اس نے محبت سے اس کا ماتھا چوما تھا جس پر وہ بیدار ہوئی تھی

“ہادی میں فریش ہو جاؤں پھر ناشتہ کرکے رابی کے پاس چلتے ہیں میں اسے بتانا چاہتی ہوں آپ صرف میرے ہیں ۔۔۔صرف میرے”

ہانی نے اپنے جگہ جگہ کینولا اور مختلف خون کے سیپل لینے سے نیلے ہوۓ کمزور ہاتھوں میں ہادی کے دونوں ہاتھ تھام کر گرم جوشی سے کہا تھا

“میں تمہارا ہی ہوں جان ۔۔۔۔۔اتنی جلدی کیا ہے وہاں جانے کی،میرے پاس آؤ۔۔۔”

وہ محبت سے اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر سہلانے لگا تھا وہ کسی معصوم بچے کی طرح خوش ہو رہی تھی

“ہانی جانتی ہو تمہارا ہادی تم سے کتنا پیار کرتا ہے ؟”

وہ خلوص سے بولا تھا

“بھلا مجھے کیسے پتہ”

وہ شرارت سے کندھے اچکا کر بولی تھی

“بہت زیادہ میری جان بستی ہے تم میں ہانی ۔۔۔۔۔ہادی عشق کرتا ہے تم سے ۔۔۔۔بے پناہ ۔۔۔۔۔محبت ۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤں کیا کروں اپنی سانس کے لئے؟؟؟؟”

ہادی جنونی ہوا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کیسے ہانی کو اپنی چاہت کی شدت بتائے

“اللّه آپ کو میری عمر بھی لگا دے ہادی ۔۔۔۔آپ کا کہہ دینا ہی کافی ہے ۔۔۔۔اگر آپ کی ماں کی صحت کا خیال نا ہوتا تو یقینأ اس لڑکی کو طلاق دینے کا کہتی ۔۔۔۔۔”

وہ اداس ہوئی تھی

“چھوڑ دوں گا اسے ہانی ۔۔۔۔فلحال مجھے کسی تیسرے کا ذکر نہیں سننا ۔۔۔۔میں صرف تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔پوری طرح ۔۔۔۔”

ہادی نے ہانی کو محبت سے پُچکارہ تھا

“ان کو خوش رکھیں ۔۔۔ان سے صرف ان کی ہی باتیں کریں ان کے موڈ کا ہر وقت خیال رکھیں ۔۔۔ان کو اداسی اور تنہائی سے دور رکھیں ۔۔۔منفی خیال اور سوچیں ان کو دوبارہ خود کشی کی طرف لے کر جا سکتں ہیں اور اس بار ان کا بچ پانا اتنا آسان نہیں ہوگا مسڑ ہادی ۔۔۔۔یہ ایک لمبے عرصے تک اکیلے پن اور ڈپریشن کا شکار رہی ہیں ۔۔۔جس سے ان کے برین کا اچھا خاصا نقصان ہو چکا ہے ۔۔۔۔یہ دوائیاں ان کو ویسے تو ساری عمر ہی لینی پڑے گی مگر چونکہ یہ نیولی میرڈ ہیں تو آپ ایک بچہ پیدا كرلیں تا کہ یہ خود سے آپ کے رشتے کو مظبوط سمجھنے لگ جائیں ۔۔۔۔اور پھر اس بچے کی خاطر یہ دوبارہ اس طرف نا جایئں ۔۔۔۔۔بچے کے پیدا ہوتے ہی ہو سکتا ہے ان کو یہ دوائیاں ہم دوبارہ فورا ہی شروع کروا دیں ۔۔۔۔بہرحال یہ بہت حساس ہو چکی ہیں ان کا دل مزيد کچھ بھی کھونے کی ہمت اور صلاحیت نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔ان کو ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔سادہ الفاظ میں مسڑ ہادی آپ کی مسز کا دل اور دماغ دنیا کی تلخیوں سے لڑتے لڑتے تهک چکا ہے ۔۔۔۔”

ڈاکٹر کی باتیں ہادی کے کانوں میں گونجیں تھیں ۔۔۔

“میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا ہانی ۔۔۔میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔”

وہ ہانی کے زرد پڑتے جگہ جگہ نیلے پڑتے ہاتھوں کو چومتا ہوا

نم آنکھوں سے اسے پُر سکون کر رہا تھا ۔۔

“ہادی ۔۔۔۔آپ نہیں جانتے آپ میرے لئے کیا ہیں ۔۔۔۔میرے جینے کا مقصد ۔۔۔۔۔میری سانسوں کی وجہ ۔۔۔۔خدا رسول کے بعد ۔۔۔۔میں نے آپ کو بے پناہ محبت کی ہے ہادی ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔میں آپ کو بانٹ نہیں سکتی ۔۔ یہ آپ کی ہانی کے بس میں ۔۔۔۔بس میں نہیں ہے ۔۔۔ میرا خون جلنے لگتا ہے جب میں آپ کو اس لڑکی کے قریب سوچتی ہوں ۔۔۔۔۔”

وہ ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی تھی ۔۔۔

“میں صرف تمہارا ہوں ہانی ۔۔۔کیسے ثبوت دوں ؟؟؟؟میں نہیں قریب ہوا رابی کے بس ایک کمرے میں سوئے ضرور تھے ہم وہ بھی میں صوفے پر سویا تھا،میری آنکھوں میں دیکھو اور خود بتاؤ یہ آنکھیں تمہارے علاوہ کسی کو دیکھ بھی سکتی ہیں ؟؟؟”

ایک آنسو ہادی کے گال سے بہہ کر گردن تک گیا تھا

“آپ کو یاد ہے ہماری وہ پہلی ملاقات ؟؟؟تب بھی مر جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔میں بہت تهک گئی تھی ۔۔۔۔اور زندگی کا بوجھ نہیں اٹھایا جا رہا تھا ۔۔۔۔بس پھر جب سے آپ سے محبت ہوئی تب سے پھر جینے کی وجہ ملی تھی ۔۔۔۔مگر آپ کو رابی کے ساتھ دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔ہادی ۔۔۔۔۔”

وہ پھر سے رو دی تھی

اب کی بار ہادی نے اسے باہوں میں بھر کر فقط دلاسا دیا تھا وہ بولا کچھ نہیں تھا ۔۔۔

بیچاری ۔۔۔ عورت ۔۔۔۔۔مرد کی محبت کو زندگی ۔۔۔۔۔مرد کی محبت کو موت کا درجہ دینے والی ۔۔۔۔بیچاری عورت ۔۔۔۔

اگر کہیں لفظ بیچاری ۔۔۔لکھوں تو مطلب میرا میں ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔ہم سب ۔۔۔ عورتیں ۔۔۔۔ہوگا ۔۔۔۔

یہاں بیچارہ پن اس کی خالص جذباتیت ہے ۔۔۔ وہ اہمیت ۔۔۔۔وہ توجہ ۔۔۔وہ همدردی کے چند الفاظ ۔۔۔۔وہ محبت اور مہربان نظر ہے ۔۔۔۔جو اسے پورے دن کے اختتام پر اپنے شوہر سے چاہیے ہوتی ہے جو اگر مل جائے تو کوئی دکھ،دکھ نا لگے ۔۔۔۔۔عورت روتے روتے دل سے مسکرا دے ۔۔۔۔مگر ایسا کب ہوتا ہے ۔۔ یہ تو فلموں ڈراموں میں ہوا کرتا ہے نا ۔۔۔۔

مرد غلطی پر ایک گھنٹے تک لگاتار باتیں سنا سکتا ہے ۔۔۔۔۔مگر جہاں تعریف یا شاباشی کی بات ہو وہاں خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا جاتا ہے ۔۔۔

بھئ تعریف کی بھی کیوں جائے یہ تو عورت کا فرض تھا نا ؟؟؟

فرض کی ادائیگی پر سراہنا کیسا ؟؟؟؟؟

بیچاری ہانی ۔۔۔۔ہادی کو مکمل طور اپنانا چاہتی تھی ۔۔۔۔

ہانی روتے روتے سو چکی تھی ۔۔۔۔ہادی ۔۔۔اس کی اس حالت پر بہت زیادہ پریشان ہوا تھا ۔۔۔اس کے ساتھ نے ہانی کو بستر پر ڈال دیا تھا ۔۔۔۔اب ہانی موت اور زندگی کے درمیان میں کھڑی تھی ۔۔۔

رابی کا کیا ردعمل ہوگا وہ ایک الگ مسئلہ تھا ۔۔۔

ہادی نے موبائل اٹھایا اور رابی کا نمبر ملایا ۔۔۔

دوسری طرف نمبر ابھی تک بند آرہا تھا اب رابی کی فکر ہوئی تھی اپنا رویہ اور اس کا مرجھانا سب یاد آیا تھا ۔۔

“آخر اس معصوم لڑکی کا کیا قصور تھا ؟؟؟؟”

ہادی کے ضمیر نے اس سے سوال کیا تھا

وہ باہر نکل کر اب ہوٹل انتظامیہ کو فون ملا رہا تھا

“ہیلو روم نمبر 24 میں مسز ہادی ہیں میری وائف آپ ذرا ان کو ناشتہ پہنچا دیں اور پھر مجھے بتائیں میں ذرا باہر آیا ہوں کام سے،جی ۔۔۔می ویٹنگ”

وہ فون بند کر کے اب دوسری طرف سے کال کا منتظر تھا

لگ بھگ پندرا منٹ بعد ہوٹل مینجر کی کال آئی تھی

“سر انہوں نے ناشتہ واپس بھجوا دیا ہے ان کا کہنا ہے وہ سو رہی ہیں ان کو کوئی بھی تنگ مت کرے”

“جی ٹھیک ہے”

ہادی کو ڈر تھا کہیں وہ ماں کو سب نا بتا دے شکر ہے اس کا نمبر بند ہے اگر آن ہوتا تو پاکستانی نمبر دیکھ کر ان کو پتہ چل جاتا ۔۔۔۔یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔”

ہادی ہانی کو سوتا چھوڑ کر جلدی سے ایک سم لینے گیا تھا اپنا پاک کا نمبر بند کر کے وہ نیا نمبر اس نے ایکٹو کیا تھا جبکہ واٹس ایپ پر وہ ماں سے آسانی سے رابطہ کر سکتا تھا ۔۔۔۔

جب تک وہ آیا ہانی نہا کر چینج کر چکی تھی وہ تیار تھی

دونوں نے ناشتہ منگوا کر کیا اور اسلام آباد کے لئے نکل گئے

وہ راستے میں تھے جب واٹس ایپ پر صبیحہ بيگم کی کال آنے لگی تھی

“السلام علیکم ماں کیسی ہیں ؟؟؟؟”

هادی کی آواز سے محبت عیاں تھی

“ٹھیک ہوں ۔۔۔بس رات زرہ طبیعت بگڑ گئی تھی تو ہسپتال میں رکنا پڑا ۔۔۔مگر اب ٹھیک ہوں ۔۔۔۔میری بیٹی کیسی ہے ؟؟میری بات کرواؤ”

“ماں ۔۔۔۔میں بس اگلی فلائٹ لے کر واپس آرہا ہوں آپ بیمار ہیں اور ہم ادھر مزے کریں ۔۔۔۔بس ڈن ہوگیا ۔۔ “

ہادی سچ میں کافی پریشان ہوا تھا

“ارے نہیں بیٹا ۔۔۔۔ٹھیک ہوں میں اگر تم نے ایسا کیا تو ناراض ہو جاؤں گی ۔۔۔چلو میری بہو سے بات کرواؤ اب ۔۔۔”

“ماں دو منٹ تک کرواتا ہوں”

وہ کال کاٹ چکا تھا

“ہانی ماں سے رابی بن کر بات کرو،کال ملا رہا ہوں”

اس نے خوشی سے اثبات میں سر ہلایا تھا

“السلام علیکم ماں ۔۔۔۔آپ ۔۔۔کیسی ہیں ؟؟؟؟ہادی نے بتایا آپ کی طبیعت خراب ہے ؟؟؟”

ہانی ماں کی آواز کو ترسی ہوئی بهرائی آواز میں بولی تھی

“ارے تم رو کیوں رہی ہو بیٹا اور آواز بدلی کیوں لگ رہی ہے تمہاری ؟؟؟تم ٹھیک ہو ؟ہادی نے تنگ تو نہیں کیا ؟؟”

صبیحہ بيگم پریشان ہوگئی تھیں

“بس ماں آپ کی آواز سن کر دل بھر آیا میرا ۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں”

وہ آنسو صاف کرتی ہوئی ضبط سے بولی تھی

“اچھا چلو میری بچی ایسے بلاوجہ روتے نہیں ہیں میں کدھر جا رہی ہوں ۔۔۔بس مہینے بھر کی تو بات ہے بیٹا ۔۔۔پھر تو میں اپنی بیٹی کو اپنی نظروں کے سامنے رکھوں گی ۔۔۔”

صبیحہ بيگم دل کی سچائی سے بولی تھیں

“ماں ۔۔۔۔آئی لو یو سو مچ ۔۔۔ آپ میری بھی ماں ہو نا ؟؟ “

ہانی نے اب روتے ہوۓ پوچھا تھا جس پر صبیحہ بيگم بھی آبدیدہ ہوئی تھیں

“آئی لو یو مور ۔۔۔ میری بیٹی ۔۔۔۔بس اب ایسے روتی رہو گی تو میری طبیعت سچ میں بگڑ جائے گی ۔۔۔”

“ہادی کو فون دو اس کے کان کھینچوں جو تمہیں رونے دے رہا ہے”

“جی ماں دیتی ہوں”

ہانی نے فون ہادی کو دیا تھا

“ہاں جی ماں ۔۔۔”

میری بہو کو اچھا سی جگہ پر لے جا کر کھانا کھلاؤ اور مجھے اس کی ہنستی مسکراتی کی پک بھیجو ۔۔۔”

صبیحہ بيگم نے ہادی کی پریشانی میں اضافہ کیا تھا

“جی ماں ابھی ڈرائیو کر رہا ہوں پھر بھیج دوں گا تصویر”

“اپنا بہت سا خیال رکھیں دوبارہ طبیعت خراب ہوئی تو فورا اطلاع دیجیے گا ماں”

“ٹھیک ہے بیٹا اللّه حافظ”

فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔اب یہ تصویر والی نئی مصیبت آن پڑی تھی شام ہونے کو تھی جب وہ رابی کے پاس ہوٹل پہنچے تھے راستے میں وہ سفر کے دوران ایک جگہ رک کر کھانا کھا چکے تھے

ہادی نے ایک اور کمرہ بک کروایا اور ہانی کو وہاں ٹھہرا دیا

“میں رابی سے بات کر کے آتا ہوں تمہیں اس سے ملوانے تم تب تک فریش ہو جاؤ رات کا کھانا تینوں ساتھ میں کھاۓ گے”

ہادی ہانی کو مطمئین کر کے رابی کے کمرے میں آیا تھا جہاں مسلسل دستک دینے پر بھی دروازہ نہیں کھولا گیا تھا

آخر ہادی کو کاؤنٹر پر جا کر دوسری چابی لانی پڑی

دروازہ کھلنے پر ہادی نے دیکھا رابی دونوں کانوں میں ہینڈفری لگاۓ لیٹی ہوئی تھی

“یار یہ کیا بدتمیزی ہے کب سے دروازہ ناک کر رہا ہوں فون وہ تمہارا بند آ رہا ہے کل سے؟؟؟؟”

وہ رابی کے دونوں کانوں سے ہینڈ فری کھینچ کر نکال کر پھینک کر غصے سے بولا تھا جس پر وہ خوفزده ہوئی تھی

“اب چپ کیوں ہو ؟؟؟؟

وہ پھر سے چیخا تھا جس پر رابی سہم کر سر گھٹنوں میں دے کر رونے لگی تھی ہادی اپنی حرکت پر پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا

“ارے ۔۔۔میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔۔۔۔رابی میں ایسا بلکل نہیں ہوں ۔۔ پلیز مجھ سے ڈرو مت ۔۔۔۔بس پریشان ہوں ۔۔۔اچھا چلو معاف کردو آئندہ تم سے ایسے بات نہیں کروں گا پرامس۔۔۔چلو کان پکڑتا ہوں اب تو معاف کردو پلیز رابی ۔۔۔پھر تم میری اچھی وائف نہیں ہو ؟؟”

وہ بس اسے نارمل کرنا چاہتا تھا جو وہ اب ہو رہی تھی

“مجھ سے آج تک ایسے کسی نے بھی بات نہیں کی ہادی ۔۔۔”

وہ آنسو صاف کرتی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی

“میں نے بھی آج تک ایسے کسی لڑکی سے بات نہیں کی رابی ۔۔ بس ۔۔۔تم میرا موڈ نہیں جان پاتی بس اسی لئے تمہیں پتہ نہیں چلتا کہ کب میرے آگے چپ رہنا ہے اور کب کیسے بی ہیو کرنا ہے ۔۔۔۔کچھ وقت گزرے گا تو ہم ایک دوسرے کو بنا کچھ بتائے سمجھنے لگے گے میں برا لڑکا نہیں ہوں بس کچھ پریشان ہوں آج کل ۔۔۔سارا غصہ تم پر نکال دیا سوری رابی ۔۔ “

وہ سچ میں پشیمان لگ رہا تھا

“چلیں ہم دوستی کر لیتے ہیں آپ اپنی ہر پریشانی مجھ سے شیر کریں میں وعدہ کرتی ہوں بیوی نہیں دوست بن کر آپ کا ساتھ دوں گی،مجھے بھی لگتا ہے ہمیں یہ نیا تعلق شروع کرنے سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھ لینا چاہیے ۔۔۔۔آپ اپنی پسند نا پسند ۔۔۔سب مجھے بتائیں ۔۔۔۔اور میں آپ کو ۔۔۔۔۔ہم یقینأ بہت اچھے دوست بن سکتے ہیں ہادی ۔۔۔”

فرینڈز ؟؟؟؟

وہ ہاتھ بڑھا کر گرم جوشی سے بولی تھی ہادی کو وہ لڑکی بہت سچی اور معصوم لگی تھی اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھاما تھا

“چلیں اب مجھے بتائیں میرے دوست ہادی کو کیا پریشانی ہے ؟؟؟”

وہ آگے ہو کر برابر پر آ کر بیٹھی تھی

“سب بتاؤں گا ابھی چلو فریش ہو جاؤ کھانا کھاتے ہیں بہت بھوک لگی ہے مجھے تم تیار ہو جاؤ میں آتا ہوں”

“جی ہادی”

وہ پر سکون سی الماری سے کپڑے نکالنے کے لئے آگے بڑھی تھی

ہادی ہانی کے پاس آیا تھا جو نہا دھو کر اب تیار کھڑی تھی وہ پہلے سے کافی فریش اور پر سکون لگ رہی تھی

“بہت پیاری لگ رہی ہو ڈنر کینسل “

ہادی شرارت سے روم کا لاک کرتا ہوا اسے سر تا پير دیکھتا ہوا مسکرایا تھا

“جی نہیں ہادی ۔۔۔مجھے بہت بھوک لگی ہے”

ہانی اچھے سے دوپٹہ خود پر گھما کر بولی تھی

“تو کھا لیں گے کھانا بھی،کدھر جا رہا ہے کھانا ؟؟”

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے چھیڑتا ہوا بولا تھا

“ہادی ۔۔۔”

وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی تھی

“جی ہادی کی جان مذاق کر رہا تھا چلو ۔۔۔مجھے بھی بہت ۔۔۔۔بھوک لگی ہے”

“مگر دو منٹ میری بات سنو بیٹھ جاؤ”

وہ فورا سنجیدہ ہوا تھا

“مجھے کچھ وقت دو میں ایسے دو دن كی بیوی کو دوسری شادی اور اپنی محبت کا نہیں بتا سکتا ۔۔۔وہ نہیں برداشت کرے گی اتنی بڑی سچائی ۔۔۔وہ فورا ماں کو بتادے

گی اور ان كی طبیعت آج کل ویسے بھی چھڑی ہوئی ہے ۔۔۔میں اس کے ساتھ کوئی جسمانی تعلق نہیں رکھوں گا بس کچھ دن دے دو ۔۔۔۔مجھے اسے سمجھنے دو ۔۔۔تا کہ میں اس حساب سے اسے اعتمادمیں لے کر یہ سب بتا سکوں ۔۔۔تب تک ماں کی طبیعت بھی سنبھل جائے گی ۔۔۔ایک وہ ہی ہے جو ماں کو منا کر تمہیں میری زندگی میں عزت سے شامل کروا سکتی ہے فلحال ہم دونوں کو اس کی ضرورت ہے ۔۔۔موقع کی نزاکت کو سمجھو ۔۔۔اسی میں ہمارا فائدہ ہے اور وہ ۔۔۔ضرور ہماری مدد کرے گی وہ دل کی بری نہیں لگتی بہت سادہ سی ہے”

وہ اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر التجائیہ انداز میں کہہ رہا تھا

“بہت محبت جاگ رہی آپ کے دل میں اس کے لئے واہ ۔۔۔۔”

ہانی نے ہاتھ چھڑوایا تھا

“ایسی بات نہیں ہے ہانی ۔۔۔میں نے یہ سب فقط ماں کی زندگی کے لئے کیا ہے یاد رکھو اگر ان کو میری وجہ سے کچھ ہوا تو میں کسی کا نہیں رہوں گا ۔۔ میں اپنی ماں سے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں ۔۔۔تم اس کے بعد آتی ہو،اگر ایسی بات ہے تو چلو آؤ میں ابھی اسے سب بتا دیتا ہوں لیکن اگر وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی اور ماں کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار صرف تم ہوگی ہانی ۔۔۔میں ایسا کرنے سے اچھا عاشق ضرور بن جاؤں گا مگر اپنی ہی ماں کا قاتل بھی ۔۔۔اور قاتل کبھی بھی اچھا انسان نہیں ہوتا باقی رشتے بعد میں آتے ہیں”

لہجہ دو ٹوک تھا

“ہادی میں آپ کو بانٹ نہیں ۔۔۔۔۔سک۔۔۔۔۔تی ۔۔۔”

وہ تھک کر بستر پر گرتے ہوۓ بهرائی آواز میں بولی تھی

“میں نہیں بٹ رہا ہانی ۔۔ ایک پل کے لئے سوچو رابی بھی ایک عورت ہے کسی کی بیٹی ۔۔ کسی کی بہن ہے ۔۔۔اس کا اس سب میں کیا قصور ہے میں پھر بھی ابھی تک تمہاری وجہ سے اسے بیوی کا درجہ نہیں دے رہا ۔۔۔اور نا ہی کبھی دوں گا اور کیا چاہتی ہو مجھ سے کیسے اعتبار دلاؤں تمہیں آخر؟؟؟ میں تم سے محبت ضرور کرتا ہوں مگر میں اس معصوم لڑکی کو بھی ذلیل نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔مجھے کچھ وقت دو ۔۔۔۔میں بہت مجبور ہوں۔۔۔اگر تم عورت ذات کبھی ہماری جگہ پر آ کر دیکھو تو جانو ہم تم سے زیادہ مجبور ہوتے ہیں رشتوں میں توازن بناتے بناتے ہم سب کی نظروں میں مجرم بن جاتے ہیں “

ہادی سر پکڑے بنا اسے دیکھے بول رہا تھا وہ واقعی بہت مجبور لگ رہا تھا

ہانی کو اپنا رویہ زیادہ جذباتی لگا تھا وہ اب ہادی کو منا رہی تھی

دونوں ڈنر کرنے باہر آئے تھے

ہادی نے بہت کم کھایا تھا وہ بس زیادہ کھانے کی ایکٹنگ کرتا رہا اسے چونکہ رابی کے ساتھ بھی تو کھانا کھانا تھا

ہانی کے ساتھ کھانا کھا کر وہ اسے دوائی دے کے جلدی واپس آنے کا کہہ کر رابی کے پاس آیا تھا جو اب بلکل تیار کھڑی تھی وہ کافی خوش اور پر سکون لگ رہی تھی اور حسین تو وہ تھی ہی ۔۔۔

“کیسی لگ رہی ہوں فرینڈ ؟؟؟”

رابی کسی ماڈل کی طرح ادا سے کھڑی ہو کر بولی تھی

“کمال است ۔۔۔۔۔۔۔والله ۔۔۔”

ہادی نے باقاعدہ ہاتھ سے اشارہ کر کے ٹھرکی انداز سے کہا تھا

“مجھ سے دوستی کروگی؟؟؟”

وہ قہقہ لگا کر بولا تھا

“نہیں ۔۔۔۔میری امی نے مجھے منع کیا ہے چھچھورے لڑکوں سے دوستی کرنے سے،اب چلیں ہادی میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا”

“نمبر ہی دے دو،رات کو مسڈ کال کروں گا هاهاهاهاها ۔۔۔”

ہادی پیٹ پکڑ کر هنسا تھا رابی بھی لوٹ پوٹ ہوئی تھی

“ہادی تو آپ نے بھی یہ کام کیے ہیں ؟؟ٹو بیڈ۔۔۔۔”

رابی نے ہادی کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر افسوس کیا تھا

“ارے نہیں ۔۔یار ۔۔ مگر سب پتا ہے مجھے ۔۔۔”

ہادی آنکھ مار کر کھل کر هنسا تھا

وہ دونوں ہںستے مسکراتے کھانے کی ٹیبل پر آئے تھے ویٹر نے حیرانی سے ہادی کو ایک بار پھر بہت توجہ سے مینیو کارڈ پڑھتے دیکھا تھا

اس بار ہادی نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا

لفظ “دوستی” نے دونوں میں بہت خوشگوار تعلق بنادیا تھا

“ہادی ۔۔۔کہیں گھومنے چلیں ؟؟؟”

کھانے کے بعد ٹیبل سے اٹھتے ہوۓ رابی نے کہا تھا

“نہیں دوست ابھی ایک کام سے جا رہا ہوں صبح آؤں گا تمہیں کمرے میں چھوڑ کر بس نکلنے لگا ہوں”

وہ موبائل پر وقت دیکھ کر بولا تھا جس پر رابی کو اداسی ہوئی تھی مگر وہ خاموش رہی

وہ اسے کمرے میں چھوڑ کر ہانی کے پاس آیا تھا جو اس کے انتظار میں ہلکان ہورہی تھی

آخر اس کا انتظار ختم ہوا تھا ۔۔۔

دوسری طرف رابی شیشے میں کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی وہ اپنے خوبصورت لگنے اور ہادی کے اس طرح اسے نظر انداز کر کے جانے پر تھوڑی حیران تھی ۔۔۔

کچھ تھا جو اس کو سوچنے پر مجبور کر رہا تھا

آج شاید پہلی بار اسے زوہیب کی یاد نہیں آئی تھی وہ ہادی کے ساتھ گزرے دوستی کے ہلکے پھلکے پلوں کو سوچتے ہوۓ سو چکی تھی ۔۔۔

ایک نئے احساس کا آغاز ہوا تھا ۔۔۔

دنیا کا خوبصورت احساس ۔۔۔

دوستی ۔۔۔۔