Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 16
Rate this Novel
Weran Zindagi Episode 16
ہادی اور ہانی کے درمیان اس آنکھ مچولی کے کھیل کو پچیس دن ہونے کو تھے اس دوران ہادی ایک بار بھی رابی کے ساتھ رات میں نہیں رکا تھا وہ روز ایک نیا بہانہ بناتا اور ہانی کے پاس چلا جاتا ۔۔۔
ہاں مگر وہ دوست ہونے کا فرض بہت اچھے سے نبهارہا تھا وہ دن میں اسے گھمانے بھی لے جایاکرتا اسے اس کی پسند کی چاٹ بھی کھلا لاتا وہ اتنے میں ہی خوش تھی ۔۔۔۔اس پورے عرصہ میں اس کا دل ہادی کے ساتھ پر جوش تھا اس نے زوہیب کی یاد کو بہت آسانی سے جھٹکا تھا ۔۔۔
گھر والوں کا فون آتا وہ بھی رابی کی طرف سے پر سکون تھے اس کا ثبوت یہ تھا کہ اس نے کسی سے بھی زوہیب کے متلعق کچھ بھی نہیں پوچھا تھا ۔۔۔
کیا واقعی اپنے دل کی پہلی دھڑکن کی آواز بھلا دینا اتنا آسان ہوتا ہے ؟؟؟؟
“نہیں ۔۔۔۔۔بلکل نہیں ۔۔۔۔۔محبت مرتے دم تک کسی خوشبو کی طرح دل میں مہکتی ہے ۔۔۔۔۔موسم ہو یا کوئی پرانا گانا ۔۔۔۔انسان ماضی میں چلا جاتا ہے ۔۔۔۔وہ لمحے ۔۔۔۔وہ باتیں ۔۔۔۔وہ قسمے ۔۔۔وہ وعدے ۔۔۔۔وہ چھپ چھپ کر ملنا ملانا سب حال سے زیادہ صاف نظر آنے لگتا ہے ۔۔۔انسان اس ماضی میں ایسا غرق ہوتا ہے کہ اپنے آج پر شک ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔”
مگر رابی خود کو ابھی تک دھوکہ دینے میں کامیاب ہوئی تھی
“آج اتنے دن ہو گئے ہیں میں نے آپ کو یاد نہیں کیا زوہیب”
وہ انگلیوں پر دن گن کر خود سے مخاطب ہوئی تھی “میں آپ کو بھلا دوں گی ایک دن ایسا ضرور آئے گا میں اپ کو بس یہ کر کے ہی دکھاؤں گی”
وعدہ خود سے کیا جا رہا تھا
“ہادی آج پورے چار دن بعد واپس آرہے ہیں ایسا کرتی ہوں کچھ خاص تیار ہوتی ہوں آج”
وہ خوشی سے کپڑے نکالنے اٹھی تھی
وہ بلیک ساڑھی پہنے ناقابل بیان حد تک خوبصورت لگ رہی تھی
ایک نظر خود پر ڈال کر اب وہ ہادی کا نمبر ملا رہی تھی
“لگتا ہے ڈرائیو کر رہے ہیں ۔۔۔چلو تب تک گرما گرم چاۓ پی لیتی ہوں ہال میں جا کر ویسے بھی موسم کافی زبردست ہے ۔۔۔آج ہادی سے کہوں گی مجھے مری لے کر چلیں جتنی آج یہاں بارش ہو رہی ہے وہاں ضرور سنو فالنگ ہو رہی ہوگی”
وہ انہی سوچوں میں مگن ہال میں آئی تھی جہاں معمول سے زیادہ گہماگہمی تھی
وہ چاۓ کا آرڈر دے کر بیٹھ گئی تھی جب ایک دم سے ہال میں موجود گہماگہمی میں اضافہ ہوا تھا رابی جو ہادی کو فون کر کے موبائل کان سے لگا کر بیٹھی تھی اس صورتحال پر وہ بھی مین ڈور کی طرف متوجہ ہوئی تھی جہاں سے تین بندے بھاگتے ہوۓ سٹریچر لے کر کمروں کی طرف گئے تھے
“مسز ہادی بیہوش ہوگئی ہیں ہر کوشش کے باوجود ہوش میں نہیں آرہی ہادی صاحب رات بھی ان کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے تب بہتر ہو گئی تھیں اب پھر طبیعت بگڑ گئی ہے”
“وہ کروڑ پتی ہادی ؟؟؟جو دو دو خوبصورت لڑکیوں کو دولت کے زور پر دبا کر بیٹھا ہے ؟؟”
پاس کھڑے ویٹر نے ازلی خباثت سے دوسرے کو کہا تھا
“ہاں وہ ہی ۔۔۔۔یار خود بھی بہت خوبصورت مرد ہے وہ شاندار آدمی ۔۔۔۔دولت کے بغیر بھی وہ حسینائیں بہت آسانی سے اس کے جال میں پھنس سکتی تھیں ۔۔۔۔زندگی تو آج کی تاریخ میں ایک وہ ہی جی رہا ہے ۔۔۔”
دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر کھسیانی ہنسی ہنسے تھے
رابی کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچے گرچکا تھا آنسو گلے میں اٹک گئے تھے
“یار روم میں ہی رہا کرو یہی کھانا منگوایا کرو میں نہیں چاہتا کہ میری حسین بیوی کو میرے علاوہ کوئی دیکھے”
ہادی کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی
وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتی نیچے سے موبائل اٹھا کر لمبے لمبے سانس لیتی بیٹھ گئی تھی
“میڈم آپ کی چاۓ”
ویٹر کی آواز پر اس نے نظریں اٹھائی تھی جس سے سامنے کا منظر اسے صاف نظر آیا تھا
ایک لڑکی سٹریچر پر بیہوش پڑی تھی ہادی بوکھلایا ہوا تیزی سے مددگار لڑکوں کے ہمراہ اسے باہر لے کر جا رہا تھا
یہ منظر دیکھ کر رابی کا سر چکرایا تھا اس کے بعد کیا ہوا اسے یاد نہیں
جب وہ ہوش میں آئی تو وہ اپنے کمرے میں اکیلی لیٹی تھی کچھ وقت بعد ایک لڑکی اس کے پاس آئی تھی
“اب آپ کیسی ہیں مسز ہادی ؟؟؟”
اس نے مسکرا کر پوچھا تھا
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی اس نے موبائل پر ہادی کا نمبر ملايا تھا
“ہیلو سر اپ کو وائف ہوش میں آ چکی ہیں،جی ۔۔ جی ۔۔ میں آپ کی بات كرواتی ہوں”
وہ رابی کے پاس آئی تھی
“نہیں کرنی بات میں نے ان کو بتا دیں”
وہ بهرائی آواز میں بولی تھی
ہادی جو کہ اس کی بات سن چکا تھا کال کاٹ چکا تھا وہ لڑکی بھی فلحال باہر چلی گئی تھی
“یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
“اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے زوہیب کو میری قسمت میں نہیں لکھا میں نے شکوہ نہیں کیا ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں نے ہادی کو ۔۔۔۔۔دل سے قبول کیا ۔۔۔۔پھر اب یہ سوتن ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ دھاڑے مار مار کر رو رہی تھی اس نے بیڈ پر موجود ہر چیز اٹھا کر نیچے پھینک دی تھی
“کیسے برداشت کروں اتنا بڑا دھوکا یا اللّه ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ کھڑی ہو کر چیخی تھی جس سے
سر ایک بار پھر بری طرح چکرایا تھا وہ ایک بار پھر بیہوش ہوئی تھی
جب وہ ہوش میں آئی تو وہ ایک ہسپتال میں تھی اس کے ہوش میں آتے ہی نرس نے ہادی کو اندر بلايا تھا
“رابی ۔۔۔۔تم اب کیسی ہو ؟؟؟”
ہادی اس کے ہاتھ پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تھا جس پر رابی نے منہ دوسری طرف پھیرا تھا
“مجھے اپنی امی کے گھر جانا ہے میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی”
وہ روتے ہوۓ بولی تھی
“ایسے مت کہو رابی ۔۔۔۔تم تو میری دوست ہو نا ؟؟؟تم اپنے دوست کو کیسے چھوڑ سکتی ہو ؟؟؟”
“اگر آپ مجھے اپنی دوست سمجھتے تو مجھے ضرور اس لڑکی کے ساتھ اپنے رشتے کے متعلق بتاتے ۔۔۔۔مجھ سے چھپاتے نہیں”
“آپ نے تو مجھے دوستی کے رشتے میں بھی دغا دیا ہے،شوہر تو کبھی اپ بنے ہی نہیں”
رابی کے رونے میں شدت آئی تھی
“میں تمہیں سب بتا دوں گا رابی پلیز تم خود کو ایسے تکلیف مت دو،”
ہادی اس کے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گیا تھا جبکہ وہ منہ موڑے رو رہی تھی
“مجھے امی سے بات کرنی ہے مجھے گھر جانا ہے”
رابی نے آنسو صاف کرتے ہوۓ بیٹھ کے کہا تھا
“میں نے فلحال تمہارے اس کزن کو بلايا ہے ایک وہ ہی ہے جو تمہارے گھر پر ساری بات سنبهال سکتا ہے ۔۔۔وقار ابھی نا سمجھ ہے ۔۔۔اور آنٹی انکل ۔۔۔۔جس پوزیشن پر ہیں ۔۔۔ان سے تمہارا رونا برداشت نہیں ہوگا ۔۔۔۔اور ۔۔۔میں ۔۔۔میں رابی تمہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا”
ہادی نے رابی کے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھ کر نم آنکھوں سے کہا تھا
“اچھا ۔۔ اور وہ بیچاری لڑکی ؟؟؟؟وہ ؟؟؟”
رابی کی آنکھیں غصے سے لال ہوئی تھیں
“میں ۔۔۔اسے بھی نہیں چھوڑ سکتا رابی اس کا میرے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں”
یہ بات سن کر رابی پھیکی ہنسی مسکرائی تھی۔ ۔۔۔
وہ کچھ کہنے کو تھی جب زوہیب وہاں آیا تھا ایسا لگ رہا تھا وہ بھاگتا ہوا آیا ہے اس کی سانس پھول رہی تھی
“گڑیا تم ٹھیک ہو نا ؟؟؟؟”
زوہیب رابی کے پاس آ کر تیزی سے بولا تھا جس پر رابی کے خشک آنسو تیزی سے بہنا شروع ہو گئے تھے
“زوہیب ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔اموں کے پاس لے جایئں”
رابی منہ پر ہاتھ رکھ کر بری طرح رو دی تھی
اتنے میں کمرے میں ڈاکٹر آئی تھی
“مسٹر ہادی یہ میڈیسن یوز کروائے اپنی مسز کو ان کا بی پی پروپر مانیٹر کریں ۔۔۔یہ اس طرح دوبارہ بڑھا تو مسلہ بن سکتا ہے ۔۔۔ان کی ڈائیٹ پر خاص توجہ دیں باقی سب ٹھیک ہے”
وہ رابی کی رپورٹس اور سلپ پکڑا کر باہر نکل گئی تھی
“چلو گڑیا”
زوہیب نے ہادی سے کوئی بھی بات نہیں کی تھی شادی والی بات وہ فون پر ہی جان چکا تھا
“میں تمہیں جلد ہی لینے آؤں گا رابی”
ہادی نے رابی کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا
“طلاق”
“طلاق بھیج دیجیے گا،میں واپس نہیں آؤں گی”
رابی نے وثوق سے کہا تھا
“زوہیب میری بیوی اور بچے کا خیال رکھنا میں تمہیں امانت سونپ رہا ہوں”
ہادی رابی کی رپورٹس زوہیب کو تهما کر بولا تھا
“میں اس کی میڈیسن گھر دے جاؤں گا تم ابھی اسے لے جاؤ”
ہادی نے رابی کو خود سے لگا کر اس کا ماتھا چوما اور تیزی سے نکل گیا
رابی ہادی کی بات سن کر واپس بیڈ پر بیٹھ گئی تھی وہ بے بسی سے زوہیب کو دیکھ رہی تھی
وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر پھر سے رو دی تھی
“یا اللّه یہ کیسی آزمائش ہے؟؟؟؟؟؟؟”
“چلو رابی ۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا چلو گھر چلتے ہیں”
زوہیب نے اپنے مخصوص انداز میں گلاسز ٹھیک کیئے اور رابی کو سہارہ دے کر کمرے سے باہر لے آیا ۔۔۔
۔************
جیسے ہی ہانی كی طبیعت سنبھلی ہادی ہانی کو واپس ہوٹل لایا تھا
“ہانی میں بہت زیادہ تھک گیا ہوں”
ہادی سر پکڑے پریشانی سے بولا تھا
“ہادی ۔۔۔۔میں ۔۔۔بس اتنا چاہتی ہوں کہ آپ رابی سے کبھی بھی کوئی ازداواجی تعلق نا بنائے۔۔۔باقی ۔۔۔مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس سے ۔۔۔”
ہانی خود غرضی سے بولی تھی
“یار ۔۔۔۔بیوی ہے وہ میری ۔۔۔۔۔چاہے زبردستی کی ہی مگر ۔۔۔۔۔۔تم خود عورت ہو کر ایک عورت کے لئے ایسا کیسے سوچ سکتی ہو ؟؟؟؟”
ہادی افسوس اور غصے کے ملے جھلے تاثرات لئے بول رہا تھا
“بس ۔۔۔یہ آپ نہیں سمجھیں گے ہادی ۔۔۔آپ یہ سمجھ سکتے تو اللّه عورت کو بھی ایک وقت میں چار شوہروں کی اجازت دے دیتا ۔۔۔۔”
“چلو ٹھیک ہے ہانی ڈاکٹر نے تمہیں مکمل ریسٹ اور پر سکون رہنے کا کہا ہے تم سو جاؤ ۔۔۔۔مہینہ ہونے والا ہے میں نے تمہارے لئے فلحال الگ گھر کا انتظام بھی کرنا ہے ۔۔۔پھر رابی کو لے کر لاہور ۔۔۔۔ہاں تمہیں بتانا بھول گیا ۔۔ رابی کو لاہور بھجوا چکا ہوں ۔۔۔کل جب تمہاری طبیعت بگڑی تھی اور میں تمہیں لے کر جا رہا تھا اس نے سب دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے ۔۔۔۔سمجھ نہیں آتی ماں کو کیا جواب دوں گا ۔۔۔ “
“بری طرح پھنس گیا ہوں ۔۔۔نا تم خوش ہوتی ہو ۔۔۔۔اور وہ ۔۔۔۔۔الگ چلی گئی ہے ۔۔۔ ماں کو جب سب پتہ چلے گا تو ان کی طبیعت الگ سے بگڑے گی ۔۔۔افف میرے خدایا ۔۔۔۔۔۔میں تو کبھی کسی رشتے میں نا
Bانصاف نہیں ہوا پھر آج میں اس طرح اکیلا کیوں رہ گیا ہوں ؟؟؟؟؟”
ہادی بیڈ سے اٹھ کر اب دور صوفہ پر جا بیٹھا تھا
وہ دونوں پاؤں اوپر صوفے پر رکھ کر اپنا سر گھٹنوں میں دے کر بیٹھ گیا تھا
“ہادی ۔۔۔۔آپ ماں سے بات کر کے چھوڑ دیں نا رابی کو ۔۔۔بس پھر سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔وہ آپ کی ماں ہیں آخر ایک انجان لڑکی كی خاطر آپ کو چھوڑ تھوڑی دیں گی ؟؟”
ہانی نے مسئلے کا حل نکالا تھا
“یار اسے چھوڑنا اتنا آسان نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔”
ہادی نے تھکا سا جواب دیا تھا
“مطلب ؟؟؟؟آپ نے وعدہ نہیں نبهايا اپنا ؟؟؟؟”
ہانی چیخی تھی
“ارے ہر وقت تو تمہارے ساتھ ہوتا تھا پھر اس سوال کی کیا تک بنتی ہے ؟؟؟؟”
ہادی ہانی کے پاس آیا تھا
“یاد رکھیں اگر تو ایسا نا ہوا تو میں ۔۔۔ میں آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاؤں گی ۔۔۔۔آپ کا کوئی ڈاکٹر ۔۔۔۔کوئی ہقسپٹل مجھے روک نہیں پائے گا اس بار”
وہ ہادی کو پیچھے دکھیل کر نفرت سے بولی تھی
ہادی کے سامنے ایک نئی مشکل سر اٹھا کر شان سے کھڑی ہو گئی تھی ۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے ہمارے بیچ ہانی میری جان ۔۔۔۔چلو میرے پاس آؤ”
ہانی نيم پاگل لگ رہی تھی اس کی جنونیت آپ اس کے چہرے پر واضح طور پر عیاں تھی
