Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 5

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 5

صبح کا وقت تھا سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے سعدیہ حسب عادت ہر کام میں ہاتھ بٹا رہی تھی مگر پروین بيگم نے اس کی ایک بھی نا مانی تھی وہ اسے اچھے سے تیار کروا کر ميز پر لے کر آئی تھیں زوہیب بھی ہمراہ تھا

“ارے رابی اب تک کیوں نہیں اٹھی۔۔۔۔ جاؤ قار زرا لے کر آؤ اسے”

پروین بيگم نے سعدیہ کو پراٹھا اور آملیٹ دیتے ہوۓ کہا تھا

اتنے میں رابی جمائی روکتی سب میں آ کر بیٹھی تھی

“اموں بہت بھوک لگی ہے جلدی سے ناشتے دیں مجھے”

رابی نے بنا کسی کو بھی دیکھے کہا تھا

زوہیب نے پروین بيگم سے پہلے اپنی پلیٹ رابی کے آگے رکھی تھی

“یہ لو میری گڑیا”

وہ خلوص سے بولا تھا

رابی نے ایک نظر سب پر ڈال کر چپ چاپ ناشتہ کرنا شروع کیا تھا

“واہ آپی یہ تم ہی ہو ؟؟؟اتنی چپ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں ؟؟؟”

وقار نے رابی کو چٹکی کاٹ کر آہستہ سے کہا تھا اس پر بھی وہ خاموش رہی۔۔۔۔۔ ناشتہ اٹھایا جا چکا تھا اب پروین بيگم ٹی۔وی لاؤنچ میں سب میں آ کر بیٹھی تھیں جہاں رابی کے علاوہ سب موجود تھے وہ ہینڈ فری لگا کر چھت پر جا چکی تھی آج موسم اچھا تھا بادل گہرے تھے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی

“بیٹا پھر کیا ارادے ہیں کہاں لے کر جا رہے ہو سعدیہ کو گھمانے ؟؟؟”

“چچی دبئی سے صبح ہی کال آئی تھی کچھ مسئلے چل رہے ہیں بس کل کی ٹکٹ کروا کر واپسی کا ارادہ ہے،سعدیہ تم اپنی تیاری دیکھ لو وہاں بہت گرمی ہے تم ایسا کرو کچھ دیر تک میرے ساتھ چلو تھوڑی گرمی کی شاپنگ کروا دوں”

اس نے یک مشت دونوں کو مخاطب کیا تھا

“جی کپڑے ہیں میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاس”

سعدیہ یہ بولنا چاہتی تھی مگر جھوٹ بولنے میں نقصان اس کا اپنا تھا کیوں کہ عرصہ ہوا تھا اسے لان کے کپڑے لئے اس نے خاموشی سے سر ہلایا تھا

“ٹھیک ہے بیٹا تم سعدیہ کو دبئی میں ضرور گھمانا پھرانا،کاروبار کے چکر میں سعدیہ کو نظر انداز نا کرنا،میں رابی کو کہتی ہوں آپ دونوں کے ساتھ چلنے کو اسے ساری اچھی مارکیٹس کا پتہ ہے”

“آنٹی میں خود کہہ دیتی ہوں کدھر ہے وہ ؟؟؟”

سعدیہ نے اٹھتے اٹھتے پوچھا تھا

“بیٹا اوپر گئی ہے وہ چھت پر،میں زرا کام دیکھ لوں”

سعدیہ کو اوپر واک کرتی مزے سے میوزک سنتی رابی نیچے سے نظر آگئی تھی وہ اس کے پاس اوپر آئی تھی رابی نے ہینڈ فری نکال کر سعدیہ کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا

“سعدیہ آپی دیکھیں کتنا مزے کا موسم ہو رہا ہے،پتہ ہے ایسے موسم میں میرا دل کرتا ہے مجھے پنکھ لگ جائیں اور میں اڑڑڑڑڑڑ ۔۔۔۔۔۔جاؤں”

رابی دوپٹہ پھیلا کر جھوم کر بولی تھی

“رابی اللّه تمہیں سچ میں پھنکھ لگا دے،تم بہت خوش نصیب ہو”

سعدیہ اداس سی بولی تھی

“میں کہاں سے خوش نصیب ہوں جب سے ہوش سنبھالا ہے اموں کی باتیں سن رہی ہوں،میری ہر خوشی میں نقص نظر آتا ہے ان کو”

“بہت ہی تنگ ہوں میں قسم سے،مگر میرا گزارا بھی نہیں اموں کے بغیر جس دن دو نقط نا سنائیں کھانا نہیں ہضم ہوتا مجھے اتنا ڈھیٹ کردیا ہے “

“هاهاهاهاهاها”

وہ ایک بار پھر دل سے ہنسی تھی

“یہی خوش نصیبی ہے تمہاری گڑیا”

“آپ بھی گڑیا کہیں گی مجھے ؟؟”

وہ ایک دم سنجیدہ ہوئی تھی

“جی ۔۔۔۔۔زوہیب کی گڑیا میری گڑیا”

ھوہ رابی کا ہاتھ محبت سے پکڑ کر بولی تھی

“ماں باپ کی ڈانٹ کتنی بھی سخت ہو رات کی نیندیں نہیں اڑاتی،تکیہ نہیں بھگوتی،کیوں کہ اس میں محبت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔غیروں کی اونچی آواز بھی جینے کا حق چھین لیتی ہے”

“یتیمی اور مسكینی وہ گناہ ہے جس کی سزا ہر انسان دینا اپنا حق سمجھتا ہے،گھڑی کی ٹک ٹک بھی کسی کوڑے ۔۔۔۔کسی چابک کی مانند لگتی ہے”

سعدیہ آبدیدہ ہوئی تھی

“ارے سعدیہ باجی اب تو بدل گیا نا سب زوہیب بھائی جیسے ذمہ دار اور محبت کرنے والے انسان آپ کے همسفر بن گئے ہیں”

رابی نے اسے پیار سے پچکارا تھا

“چلو میں تمہیں لینے آئی تھی کل ہم دبئی جا رہے ہیں،میرے پاس گرمی کے کپڑے بہت کم ہیں وہ لینے کے لئے جا رہے ہیں میں اور زوہیب اور تم میرے ساتھ چلو گی”

سعدیہ نے آنسو صاف کرتے ہوۓ مسکراکر کہا تھا

“دبئی ؟؟؟؟؟؟؟مگر ایسے کیسے؟؟؟”

سعدیہ نے رابی کے ردعمل پر حیرانگی سے دیکھا تھا

“میرا مطلب ہے کل رات تک تو ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا بتایا زوہیب بھائی نے ؟؟؟اور ابھی دن ہی کتنے ہوۓ ان کو پاکستان میں آئے ہوۓ ؟؟؟”

رابی نے ہونٹوں پر زبان پھیر کر بات کو بمشکل سنبھالا تھا

“وہ کچھ مسئلہ ہوگیا ہے کاروبار میں ان کا وہاں ہونا ضروری ہے،چلو نیچے چلتے ہیں تم تیار ہو جاؤ”

سعدیہ نے نیچے جاتے ہوۓ اسے کہا تھا

جانے کی بات پر رابی کا دل بجھ سا گیا تھا وہ بے دم سی چلتی ہوئی نیچے آئی تھی بے دلی سے تیار ہو کر وہ گاڑی میں آ کر بیٹھی تھی

مختلف دوکانوں سے زوہیب نے سعدیہ کو ہزاروں کی خریداری کروائی تھی اب اس نے گاڑی ایک جگہ روک دی تھی رابی جو اپنی سوچوں میں غرق تھی گاڑی رک جانے پر حال میں واپس آئی تھی

“سب لے لیا ہے میں نے زوہیب اب کچھ نہیں رہتا”

سعدیہ جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی وہ فورن مسکرا کر بولی تھی

“ہاں مگر ہماری گڑیا کی چاٹ تو رہتی ہے نا ؟؟؟”

وہ رابی کی طرف پیچھے دیکھ کر بولا تھا

“جی ۔۔۔۔زوہیب بھائی”

وہ پھيكی مسکراہٹ کے ساتھ اتنا ہی بول پائی تھی

موسم جو صبح کا ہی خراب تھا اب بوندا باندی شروع ہو چکی تھی

“بارش ۔۔۔۔۔۔۔۔”

رابی فورن باہر نکلی تھی وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر بارش کے ننھے قطرے مٹھی میں بھر رہی تھی

“سعدیہ اندر بیٹھی ہاتھ باہر نکال کر موسم کا مزہ لے رہی تھی جبکہ زوہیب بھی باہر نکلا تھا

بارش تھوڑی تیز ہوئی تھی

رابی بارش میں مگن کھڑی تھی جبکہ زوہیب اپنے گيلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اس کے پاس آیا تھا

“آج تو پکوڑے کھانا بھی بنتے ہیں نا گڑیا ؟؟؟وہ گھر جا کر کھلاؤ گی يا یہی کھالیں ؟؟؟”

رابی نے اپنے گیلے چہرے سے زوہیب کی طرف دیکھا تھا

“آپ کل مت جایئں زوہیب ۔۔۔۔بھائی پلیز ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ابھی مینٹلی تیار نہیں ہوں”

وہ اپنی اس اچانک کی بے تکی فرمائش پر خود بھی حیران ہوئی تھی

زوہیب نے حیرانگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا وہ رو رہی تھی اس کے چہرے پر ساری نمی بارش کی بوندوں کی نہیں تھی ۔۔۔۔۔جو اس کی آنکھوں میں وہ پڑھ چکا تھا اس کا مطلب شاید رابی ابھی خود بھی نہیں جانتی تھی

“زوہیب ؟”

سعدیہ کی آواز نے وہ سکتہ توڑا تھا

“جی ؟؟؟۔۔۔۔۔جی ۔۔۔زوہیب کی جان ؟؟”

وہ جواب سعدیہ کو دے رہا تھا مگر نظریں ہنوز رابی کی لال ہوتی آنکھوں پر تھیں

“پتہ ہے جب بھی بارش ہوتی تھی میں یہ خواہش کرتی تھی کاش کبھی ایسی بارش بھی ہو جب ہم ساتھ ہو اور آج یہ وقت آ گیا میں بہت خوش ہوں “

“چلو باہر آ جاؤ اس لمحے کو یاد گار بناتے ہیں ہماری محبت کی پہلی بارش”

زوہیب نے رابی کو يكسر نظر انداز کرتے ہوۓ دروازہ کھول کر سعدیہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا تھا وہ نحیف وجود گویا جینے لگا تھا وہ بھی اپنی زندگی کا مطلب جاننے لگی تھی

“چلو گڑيا چاٹ کا مزہ لیتے ہیں”

وہ رابی کو مخاطب کرتے ہوۓ فوڈ ایریا میں اندر کی طرف بڑھ گیا تھا جہاں لوگوں کا رش آج موسم کی مناسبت سے کافی زیادہ تھا رنگ رنگ کی خوشبوئیں ہوا میں گھل رہی تھیں جس سے بھوک کو اور اشتعال آرہا تھا

وہ تینوں ایک سائیڈ ٹیبل پر بیٹھ چکے تھے رابی خود کو بمشکل نارمل کیئے ہوۓ تھی وہ اب سی سی کرتی چاٹ کھارہی تھی جبکہ اس کا ساتھ سعدیہ نے بھی دیا تھا

زوہیب سعدیہ کو خوش دیکھ کر دل سے خوش نظر آ رہا تھا سعدیہ کے لئے یہ سب بلکل کسی خواب کی مانند تھا

زوہیب کو سعدیہ میں اتنا مگن دیکھ کر حسد تو بلکل نہیں ہوا تھا وہ دونوں کی خوشی سے نا خوش نہیں تھی مگر سچ تو یہ ہے وہ خوش بھی نہیں تھی ۔،۔۔۔۔۔۔کچھ تھا جو اس کی بے چینی کی وجہ تھا دماغ مسلسل اس رویے کی تردید کر رہا تھا مگر دل تھا کہ دھرنا دے کر بیٹھا تھا ۔۔۔

بارش تیز ہو گئی تھی لوگ بہت خوش تھے کیوں کہ ابرِرحمت کافی ہفتوں بعد کھل کر برسا تھا ۔۔۔

مٹی کی بھینی بھینی خوشبو ہر طرف پهيل چکی تھی جَل تَھل کا سماں تھا باہر بھی اور ان تینوں نفوس کے دلوں میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔

شروعات ہو یا اختتام دل بے چین ہی ہوا کرتا ہے ۔۔۔۔۔سعدیہ اور زوہیب کا دل اس خوبصورت رشتہ سے خود کو مکمل ہونے پر بے چینی کی حد تک پر سکون محسوس کر رہا تھا جبکہ رابی کا دل آج شاید پہلی بار اپنے دھڑکنے کا ثبوت دے کر شدت سے بے چین ہوا تھا ۔۔۔

۔**”***********”

“مامی آج تو موسم خراب ہے دل کر رہا ہے چھٹی کرلوں،گھر بیٹھ کر کچھ پکا کر کھاتی ہوں”

ہانی یہ بات صرف سوچ سکتی تھی اتنے میں آفس کی گاڑی نے اپنے مقررہ وقت پر ہارن دیا تھا وہ عبایہ پہنے تیار کھڑی تھی وہ مامی کو بتا کر جلدی سے گاڑی میں بیٹھی تھی

کچھ دیر میں اب وہ آفس میں تھی آج اس کو آفس میں ایک ہفتہ ہو چکا تھا اب کچھ کچھ کام اس کو سمجھ آنے لگا تھا اور ہادی نے اس پر کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالی تھیں آج ان دونوں کو لاہور سے اسلام آباد ایک ضروری میٹنگ کے لئے شام تک پہنچنا تھا

“السلام علیکم سر گڈ مارننگ”

“وعلیکم السلام”

ہادی نے فون پر کسی سے بات کرتے ہوۓ مختصر کہا تھا اب وہ کال کاٹ کر بیٹھ گیا تھا آج اس خاص میٹنگ کے لئے ہادی کی تیاری بھی خاص تھی وہ روز سے زیادہ جاذب ِ نظر لگ رہا تھا

“سر آج بارہ بجے ہماری اسلام آباد کی فلائٹ ہے اس سے پہلے آپ کو تاج بلڈرز سے ٹینڈر کے بارے میں ڈیل فائنل کرنی ہے اس کے بعد آپ کو اپنی مام کو کال کرنی ہے دوائی کا پوچھنا ہے اور اس کے بعد آپ کافی ۔۔۔۔”

“مس ہانی مام اب ٹھیک ہیں اب دن والی دوائی اسٹاپ کروا دی ہے ڈاکٹر نے صبح ان کو دوائی دے کر آ رہا ہوں،آپ بہت پیار سے میری مام کی دوائی ڈیلی مجھے یاد كرواتی ہیں آئی لائک اٹ ویری مچ”

وہ چیر گھماتا ہوا اپنے خاص انداز میں بولا تھا

“اِٹس مائی ڈیوٹی سر”

وہ کندھے اُچکا کر بولی تھی

مسڑ عابد ناک کر کے اندر آۓ تھے

“سر اسلام آباد میں تیز بارش اور طوفانی موسم کی وجہ سے فلحال تمام فلائٹ ڈیلے ہیں،آپ کو ویٹ کرنا پڑے گا یا پھر آپ اگر ابھی بائے روڈ جاتے ہیں تو یہاں سے آپ کو ابھی نكلنا ہوگا”

عابد صاحب نے اپنی ڈیوٹی پوری کی تھی

“یہ میٹنگ پہلے ہی مام کی طبیعت کی وجہ سے ایک بار کینسل کروا چکا ہوں اگین ان کو انکار نہیں کر سکتا ہم ابھی نکلتے ہیں”

وہ اپنا ضروری سامان لے کر نیچے گاڑی کی طرف آیا تھا ہانی بھی کچھ فائلز کے ہمراہ پیچھے آئی تھی

“ہانی وہاں کا موسم ایسے ہی خراب رہا تو یا تو ہمیں اگین بائے روڈ آنا ہوگا یا رات وہی رکنا پڑے گا دونوں صورتوں میں آپ گھر صبح ہی جا پائیں گیں”

ہادی گاڑی کا دروازہ کھلنے کے لئے ہاتھ رکھ کر بولا تھا

“میں گھر بتا دیتی ہوں سر”

ہانی پیچھے کا دروازہ کھول کر بولی تھی

“مس ہانی آپ بھی آگے ہی بیٹھیں ورنہ لوگ مجھے آپ کا ڈرائیور سمجھیں گے”

“جی سر”

ہانی بے دلی سے آگے بیٹھ گئی تھی

ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ابھی بارش آئی نہیں تھی کالے بادل ڈیرہ جما کر بیٹھ گئے تھے لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں یہ موسم کسی خوبصورت خواب جیسا ہی تھا

سفر شروع ہوا تھا ہانی نے ماموں کو فون کر کے آگاہ کر دیا تھا اب وہ پُر سکون سی آنکھیں بند کئیے سر سیٹ پر رکھ کر لیٹ گئی تھی

باہر بوندا باندی شروع ہو چکی تھی گاڑی موٹر وے پر چڑھ گئی تھی اب موسم اور بھی حسین لگ رہا تھا ہادی نے گاڑی چلاتے ہوۓ بے دھیانی میں آنکھیں بند کئیے اس مجبور لڑکی کو دیکھا تھا جو اس کی آج تک کی ہر سیکرٹری سے الگ تھی صرف کام کی بات کرنے والی،مخصوص پیشہ وارنہ لہجہ اپنائے ہوۓ وہ لڑکی بہت معصوم سی لگی تھی ہادی کو اس کے اندر کی بے بسی اور اداسی اس کے چہرے پر ہر وقت موجود نظر آتی تھی

کسی بھی قسم کے مصنوعی آرائش سے وہ پاک چہرہ بہت حسین تھا اس کی کالی موٹی آنکھیں،مناسب خوبصورت ہونٹ اور اس کا گورے اور سانولے کے درمیان والا صاف اور پر کشش رنگ کسی طرح سے بھی معمولی نہیں تھا اس کی مجبوری ضرور عام تھی مگر وہ خود اس عبائے اور سادگی میں بھی بہت خاص تھی ۔۔۔

ایک پل کے لئے ہادی کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا باہر کا موسم اس منظر کو اور بھی بے چین بنا رہا تھا

ہانی نے اپنے چہرے پر کسی کی آنکھوں کی تپش محسوس کی تھی اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دی تھیں ہادی نے فورا اپنی نظر کا زاويہ بدلا تھا

وہ آنکھیں ملستی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی اب وہ فائل کھول کر آج کی میٹنگ کے پوائنٹس دیکھ رہی تھی ساتھ ساتھ وہ ہادی سے ڈسکس بھی کر رہی تھی ہادی تو بس ہاں ناں میں جواب دے کر اس کا پاکیزہ چہرہ دیکھنے کا بہانے ڈھونڈ رہا تھا

ہانی کی وہ حِس جو اللّه نے خاص عورت کو اپنے بارے میں مرد کی سوچ پرکھنے کے لئے دی ہے وہ خاص سینسر اس کے دل و دماغ میں بجنے لگا تھاوہ فورا بولی تھی

“اس نے فائل بند کردی تھی سر اگر آپ کو برا نا لگے تو میں پیچھے بیٹھ جاؤں ذرا آبادی میں میرا مطلب ہے مین سٹی میں جایئں گے تو میں آگے بیٹھ جاؤں گی”

“Yeah sure”

وہ دل کے ناں ناں کرنے کے باوجود گاڑی روک کر بولا تھا

ہانی بارش میں جلدی سے پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی تھی اب وہ قدرے پر سکون تھی

ہادی نے کلر کہار پہنچ کر وہاں کی مشہور طعام گاہ میں گاڑی روک دی تھی جیسے جیسے اسلام آباد کے قريب کا ایریا آ رہا تھا بارش زور پکڑ رہی تھی

“ہانی باہر ئیں کھانا کھاتے ہیں”

ہادی نے گاڑی روک کر نرمی سے کہا تھا

ہانی نے صبح ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا تھا اب ٹھنڈے موسم کی وجہ سے بھوک نے اور بھی زور پکڑا تھا وہ بھی جلدی سے باہر آئی تھی

بارش کا اندازہ اندر بیٹھ کر نہیں ہو رہا تھا مگر باہر نكلنے پر اس کی تیزی کا پتہ چلا تھا

وہ روڈ سے مین ایریا کا جتنا فاصلہ تھا وہ دونوں تقريبا بھیگنے کو تھے دونوں کپڑے جھاڑتے چیئرز پر بیٹھے تھے کھانے کا آرڈر دے دیا گیا تھا

“سر کچھ اور لیں گے آپ ؟؟”

ویٹر نے کھانا اٹھاتے پوچھا تھا

“نہیں ۔۔۔۔ہانی آپ کچھ لیں گی ؟؟”

ہادی نے ٹشو سے منہ صاف کرتے پوچھا تھا

“چاۓ”

بے اختیار ایسے موسم میں ہر لڑکی کی زبان پر آیا ورد گونجا تھا

“ایک کافی،ایک چاۓ”

اب دونوں چسکیاں بھرتے موسم سے لطف اندوز ہو رہے تھے

“میں آتا ہوں”

ہادی ،ہانی سے دور جا کر اب ایسے موسم میں اکثر لڑکوں کا پسندیدہ کام ۔۔۔۔تمباکو نوشی ۔۔۔۔سگریٹ سلگا رہا تھا

اب وہ ہانی کے پاس آیا تھا ہانی چاۓ پی چکی تھی دونوں گاڑی کی طرف تیزی سے گئے تھے ہانی آگے بیٹھی تھی

اسلام آباد جا کر میٹنگ اتٹنڈ کرنے کے بعد وہ دو کمرے بک کر کے سونے لیٹ گئے تھے

ہانی دن بھر کی تھکی تھی اس مہنگے ہوٹل کا نرم بستر اسے گویا لوری سنا رہا تھا وہ جلدی سو گئی تھی

جبکہ ہادی اپنے کمرے میں لیٹا نیوز دیکھ رہا تھا مگر دل و دماغ ہانی میں الجھا ہوا تھا

دل اسے دیکھنے کی بے وقت فرمائش کر رہا تھا