Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 11
Rate this Novel
Weran Zindagi Episode 11
آج رابی کی مایوں تھی گھر رشتہ داروں سے بھرا ہوا تھا رابی کو پيلا جوڑا زبردستی بدلوا کر پروین بيگم کچھ دیر میں ہلکا پھلکا تیار ہو کر باہر اس کے لئے بنائی گئی مخصوص جگہ پر بیٹھ جانے کی سختی سے تلقین کر کے خود کھانے کا انتظام دیکھ رہیں تھیں
رابی نے ماں کا دیا تازہ پھولوں سے بنا زیور بے دلی سے پہن لیا تھا اب وہ شیشے میں کھڑی خود کو غصے سے دیکھ رہی تھی اسے اپنی اس بیوقوفی پر رہ رہ کر شدید غصہ آ رہا تھا مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا
وہ ایک طویل ٹھنڈی آہ بھر کر اب کمرے کے دروازے تک آئی تھی ایک رشتہ دار لڑکی اسے خوشی سے کھینچ کر سب میں لے آئی تھی اب جی جان سے ڈھولکی پیٹی جا رہی تھی
اس کی نظر بار بار زوہیب کو ڈھونڈ تھی جو کہیں نہیں تھا
فنکشن ختم ہو چکا تھا مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا تھا ۔۔۔وہ نا امید سی اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی تھی اگلے دن اس کی مہندی تھی آج اسے خاص طور پر تیار کروایا گیا تھا وہ قیامت ڈھاتی اسٹیج پر بیٹھی تھی جو گھر کی چھت پر بنایا گیا تھا چونکہ سب سادگی سے کیا جا رہا تھا لہذا بس قريبی رشتہ داروں کو ہی بلایا گیا تھا جن کی تعداد اتنی ہی تھی کہ گھر میں ہی مایوں اور مہندی کی تقریب کی جا سکتی تھی جبکہ بارات کے لئے ایک اچھے میرج ہال میں بندوبست کیا گیا تھا
سب نے باری باری رابی کی ہتھیلی پر مہندی لگا کر رسم کی تھی
پروین بيگم بار بار رابی کی نظروں کو دیکھتیں جو بس زوہیب کو تلاش رہی تھیں
وہ اداس سی اپنی بیٹی کی خوشیوں اور آبادی کی دعا کر رہی تھیں
زوہیب گلے میں دوپٹہ ڈالے سب میں آ کر بیٹھا تھا وہ نارمل نظر آنے کے لئے موبائل نکال کر خود کو مصروف شو کررہا تھا جب ایک رشتہ دار لڑکی اس کے پاس آئی تھی
“ارے زوہیب بھائی آج آپ کی گڑیا کی مہندی ہے آپ رسم نہیں کریں گے ؟؟؟
وہ زبردستی زوہیب کو کھینچ کر رابی کے ساتھ بیٹھا گئی تھی
رابی کا دل ڈوب رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے کو تھی مگر دوسری طرف فوراً پروین بيگم اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی تھیں انہوں نے اس کی کمر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کو حوصلہ دیا تھا
زوہیب نے اس کے ہاتھ پر مہندی لگائی تھی
اس رسم کی ویڈیو کے بعد اب تصویریں بنائی جا رہی تھیں
“اللّه تمہیں ہمیشہ آباد رکھے ۔۔۔۔گڑیا”
وہ کہہ کر جلدی سے اٹھ کر سب سے دور آ کر کھڑا ہو گیا تھا
ایک دم اسے اپنے گلے میں جھولتا دوپٹہ پھندہ لگا تھا جیسے اس نے اتار کر اب ساتھ پڑی کرسی پر رکھ دیا تھا
“یہ مجھے کیا ہو رہا ہے اللّه”
“وہ کل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کسی اور کی ہو جائے گی وہ تو صرف میری گڑیا ہے نہ؟؟؟پھر کسی اور کی کیسے ؟؟؟؟کیسے ہو سکتی ہے وہ ؟؟؟؟؟؟”
“میں کیسے رہوں گا اس کے بغیر پوری زندگی ؟؟؟؟؟؟”
“مگر یہ سب کیسے روکوں ؟؟؟؟”
چاچا کی عزت مٹی ہو جائے گی وہ کس کس کو میرے اور اپنی بیٹی کے کردار کی گواہی دیں گے ؟؟؟؟!”
وہ اسی کشمکش میں تھا جب شفیق صاحب اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے تھے
“بیٹا میں بہت خوش ہوں اللّه نے عزت سے میری بیٹی کو اپنے گھر کا کرنے کا وسیلہ بنا دیا،اب میں سکون سے مر سکتا ہوں”
وہ نم آنکھوں سے زوہیب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہہ رہے تھے
“اللّه آپ کو میری عمر بھی لگا دے چاچا،گڑیا بہت خوش رہے گی انشااللہ”
زوہیب نے اس اپنائیت کا حق ادا کیا تھا جو طوفان اس کو منہ کھولنے پر مجبور کرنے کو تھا ادھر ہی تھم گیا تھا
۔**************
صبیحہ بيگم کا گھر بھی سادگی کے نام پر بھانت بھانت کے دور نزدیک کے رشتہ داروں سے بھرا ہوا تھا لڑکے اور لڑکیاں ہادی کو مختلف رسموں میں کب سے الجھاۓ ہوۓ تھے
آج مہندی کا فنکشن تھا جديد لباس پہنے لڑکیاں نئے پرانے گانوں پر مہارت سے رقص کرتی کسی بھی انڈین رقاصہ کم نہیں لگ رہی تھیں
صبیحہ بیگم بہت خوش لگ رہیں تھیں ہادی کو موسیقی کا شور قیامت آنے کی نوید صور پھونکنے کے مترادف لگا رہا تھا وہ بڑی مشکل سب سے جان چھڑوا کر گاڑی لے کر باہر آیا تھا پورا دھیان ہانی میں تھا
وہ لڑکی جو اس کی منکوحہ تھی اور اس بات کا قانونی اور شریعی حق رکھتی تھی کہ اسے اس کے دوسرے نکاح کی خبر ہو
دل و دماغ كی جنگ میں ضمیر نے اسے سب بتانے کا فیصلہ سنایا تھا
وہ بنا کسی کی پروا کیے ہانی کے دروازے پر تھا جہاں سے شور کو آواز آرہی تھی کچھ لوگوں کے مل کر غصے میں چیخنے کی آواز ۔۔۔
اس کا دل کسی انجانے خطرے کی گھنٹی بجارہا تھا
دروازہ کھٹکھٹانے کی دیر تھی اس کا ماموں دروازے پر تھا
“ہانی نے بلایا ہے تمہیں ؟؟؟؟”
“اتنا فاسٹ کنیکشن ؟؟؟واہ ہانی ۔۔۔۔واہ ۔۔۔ “
اس نے صحن میں روتی ہوئی ہانی کی طرف دیکھ کر حقارت سے کہا تھا جو ہادی کو دیکھتے ہی بھاگ کر اس کے سینے سے جا لگی تھی
“ہادی یہ لوگ زبردستی میرا نکاح اس نشئ سے کر رہے ہیں،جب میں نے کہا ہادی نے مجھے عزت سے اپنے پاس ركهنے کے آپ کو ہر ماہ
پیسے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے تو مجھے کہنے لگے کہ میں نکاح کرلوں بس اس کی بیوی بن کر ادھر ہی رہوں،پانچ لاکھ میں بیچا ہے مجھے اس بوڑھے جووری کے ہاتھ”
اب وہ بری طرح رونے لگی تھی
“تم نے ان کو یہ نہیں بتایا تم میرے نکاح میں ہو ؟؟؟؟؟”
ہادی دہاڑا تھا
“نہیں ۔۔۔۔ “
ہانی نے روتے ہوۓ کہا تھا
“کیوں ؟؟؟؟؟”
“آپ نے منع جو کیا تھا ہادی”
وہ آنسو صاف کرتی ہوئی ایک بار پھر رو دی تھی
نکاح کے بات پر وہ بوڑھا نشی جواری اپنا پیسوں والا تھیلا مامی سے کھینچ کر اور دیکھ لوں گا کی دھمکی دے کر چلا گیا تھا
اس کے جاتے ہی ماموں اور مامی ذرا نرم پڑے تھے اور اب وہ ہادی کو لوٹنا چاھتے تھے
“ارے داماد جی آجاؤ اندر بیٹھو،نيک بخت چاۓ روٹی کا بندوبست کرو”
ماموں نے بے غیرتی اور ڈھٹائی کا نیا ریکارڈ بنایا تھا
“مجھے کچھ نہیں کھانا پينا میں ہانی کو اب یہاں ایک لمحہ بھی نہیں رہنے دوں گا چلو ہانی اپنا ضروری سامان لو”
ہادی غصے سے بولا تھا
ہانی نے اپنا ضرور سامان ایک بیگ میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکل آئی جہاں وہ دونوں لالچی میاں بیوی اس کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ رہے تھے
“تم جب چاہے ہانی کو ساتھ لے جایا کرنا مگر اس کو ہمارے گھر سے اس طرح مت لے کر جاؤ ہم لوگوں کو کیا جواب دیں گے یا پھر کل دن کی روشنی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اس کو دوبارہ نکاح کر کے لے کر جاؤ”
مامی نے ایک بار پھر چال چلی تھی وہ اس خفیہ نکاح کے پیچھے چھپی ہادی کی دکھتی رگ جانتی تھی اس کا تیر نشانے پر جا لگا تھا ہادی نے لچک دکھائی تھی
“میں فلحال ہانی سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتا ہوں”
“کچھ دیر تک واپس چھوڑ جاؤں گا”
ہانی جو اس کے ساتھ جانے پر خوش ہوئی تھی بیگ کمرے میں رکھ کر اداس سی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
ہادی اسے ایک ہوٹل میں لے کر آیا تھا
اب وہ اس بند کمرے میں ایک بيڈ پر ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے ہانی اس سے کسی شرارت کی امید رکھے شرم سے لال ہو رہی تھی
مگر اس کے بر عکس ہادی اس کو بنا دیکھے بس اپنے پیروں میں موجود جوتوں کو دیکھ رہا تھا
“ہانی۔۔۔”
ہادی نے اس کو آج پہلی بار گلے میں دوپٹہ ڈالے اپنے اتنے قریب دیکھا تھا
“جی ۔۔۔۔ہانی کے دل کے مالک “
ہانی نے سانس بھر کر آہستے سے شرما کر کہا تھا
“ایک اجازت دے دو”
ہادی اس کا ہاتھ پکڑ کر قریب ہوتا ہوا بولا تھا
“اجازت ہے”
ہانی نے فورا کہہ کر دوپٹے کا گھونگھٹ بنایا تھا
“انکار تو نہیں کروں گی نا اور نا ہی میرا ساتھ چھوڑوگی ؟؟؟”
ہادی مدہوش ہوتا اور قریب آیا تھا
“نہیں۔۔۔۔۔ہانی آپ کی ہوئی”
“مجھے دوسری شادی کی اجازت دے دو”
ہادی اس کے کان کے پاس آ کر سرگوشی میں بولا تھا جیسے ہانی نے مذاق سمجھا تھا
“دی اجازت”
ہانی شرما کر اٹھ گئی تھی ہادی کو حیرانی ہوئی تھی اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس واپس بیٹھایا تھا
“واقعی دی اجازت،سہہ لوگی سوتن؟؟؟”
ہادی نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر لال ہوتی آنکھوں سے کہا تھا
“ہاں ۔۔۔۔۔۔اور کوئی امتحان ؟؟؟ہادی صرف ہانی کا رہے گا آپ چار شادیاں بھی کر لیں”
جواب میں فخر اور غرور تھا جس کے بعد ہادی خود کو روک نہیں پایا تھا ۔۔۔۔۔
“ہادی آپ بھی عجیب ہیں یہ پہلی رات کو دوسری شادی کی اجازت لے کر کون رومانس کرتا ہے اپنی نئی نویلی دلہن سے ؟؟؟”
ہانی واش روم سے نکل کر اپنا گیلا چہرہ خشک کرتی ہوئی پوچھ رہی تھی جبکہ ہادی ماں کی مسلسل آتی کال سے پریشان تھا
آخر اس نے بیسویں بار لگاتار آتی کال اٹھا لی تھی وہ ہانی کو چپ رہنے کا اشارہ کر کے اب بولنا شروع ہوا تھا
“السلام علیکم ماں ۔۔۔۔میں جانتا ہوں کہ میں ہی دولہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ بارات کتنے بجے جانی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بہت وقت ہے ابھی تو آپ کی بہو لانے میں۔۔۔۔۔۔ آجاؤں گا تب تک ۔۔۔۔۔۔۔۔بس ایک دوست کے ساتھ ہوں تھوڑی دیر میں آتا ہوں،لو یو سو مچ ماں”
وہ الفاظ تھے کے بارود ہانی کے پیروں سے زمین سرک گئی تھی اپنا سب ہادی کے حوالے کر چکنے کے بعد جو پہلی خبر اس کی منتظر تھی وہ اس کے شوہر کی دوسری شادی تھی وہ بیہوش ہوتے ہوتے بچی تهی وہ چکرا کر نیچے بیٹھ گئی تھی ہادی نے بھاگ کر اسے سنبهالا تھا
“ہادی آپ ؟؟؟؟؟؟؟سچ میں اجازت ہی مانگ رہے تھے جیسے میں كی کوئی شرارت سمجھی تھی ؟؟؟؟؟؟؟”
“مطلب اپ مجھے چھوڑ دیں گے ؟؟؟؟پھر کیوں کیا میرے ساتھ یہ سب ؟؟؟؟؟میں غلط سمجھی تھی مگر آپ تو سچ جانتے تھے نا پھر کیوں میرے قریب آۓ آپ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ درد کی انتہاہ پر تھی
“ہانی ۔۔۔ہانی میری جان میری بات سنو بلکل ریلکس ہو جاؤ میرا ارادہ بس تمہیں یہ سب بتا نے کا ہی تھا میں فقط اسی لئے تمہیں یہاں لایا تھا،اور اگر یہ سب ہو بھی گیا تو کیا غلط ہے اس میں تم میری بیوی ہو میں حق رکھتا ہوں تم پر”
ہادی نے اسے اٹھا کر بیڈ پر بیٹھایا اور پانی دے کر نرمی سے سمجھا رہا تھا وہ ذرا سنبھلی تو ہادی نے اسے پوری بات سنا دی جیسے سن کر وہ ہادی کے سینے میں سر دے کر کافی دیر تک بچوں کی طرح بلک بلک
کر روتی رہی ۔۔۔
“ہادی میری ایک شرط ہے”
ہانی تهک کر سیدھی ہو کر بولی تھی
“کل آپ کی بارات میں میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی میں اپنی زندگی کو کسی اور کا ہوتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔مجھے شاید کبھی بھی یقین نہیں آئے گا”
وہ ایک بار پھر رونے لگی تھی
“ایسے خود کو اذیت مت دو ہانی میری جان میں مجبور ہوں ۔۔۔۔جانتی ہو میں نے اب تک اس کا چہرہ تک نہیں دیکھا ماں نے اس کی جو تصویریں واٹس ایپ کی تھیں میں نے بنا دیکھے ڈیل کر دی”
“میں تمہیں کسی صورت نہیں چھوڑوں گا ہانی کسی صورت بھی نہیں ،ہمیشہ یاد رکھنا وہ لڑکی بس میری منکوحہ بن کر رہے گی میں اسے کبھی اپنی بیوی کا درجہ نہیں دوں گا”
“بس کچھ وقت گزرنے دو میں سب ٹھیک کردوں گا ہانی اپنے ہادی پر بھروسہ ہے نا ؟؟؟”
وہ بے بسی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا
“شادی کے بعد آپ کی ماں پھر اولاد کی خواہش نہیں کریں گی تو تب کیا کریں گے آپ ایک بار پھر مجبور ہو کر اس کے پاس چلے جایئں گے ؟؟؟؟؟”
ہانی پہلی بار چیخی تھی
“کہہ دوں گا اب یہ تو اللّه کے کام ہیں اب اس میں کیا کر سکتا ہوں میں”
ہادی کے لئے جواب بہت آسان تھا
“ارے واہ ۔۔۔تو کیا وہ گونگی ہے وہ اپنے گھر والوں اور اور آپ کی مام کو بتاۓ گی نہیں ؟؟؟؟”
“تب کی تب دیکھیں گے،دیکھو ہانی مام ہارٹ پیشنٹ ہیں اور آج کل ان کی طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہیں ہے بس ان کی ضد کو ٹالنا ان کی ۔۔۔۔۔۔موت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔علاج چل رہا ہے وہ جیسے ہی سٹیبل ہوئی میں سب بتا دوں گا پھر اس کی مرضی وہ ہمارے ساتھ رہے یا مجھ سے طلاق لے لے ۔۔۔مگر یہ طے ہے تم میری آخری سانس تک میری بیوی ہی رہو گی،مامی کو رقم دے دوں گا وہ تمہیں اب تنگ نہیں کریں گی جہاں اتنے عرصے گزارہ کیا ہے کچھ ماہ اور کرلو بس،پھر صرف ہم ہونگے اور ہمارے بچے”
انداز سراسر منت سماجت والا تھا
“ٹھیک ہے مگر میری شرط اپنی جگہ برقرار ہے”
وہ اٹھ کر اپنا بے لچک فیصلہ سنا کر اب عبایہ پہن رہی تھی
“ٹھیک ہے تمہیں شاپنگ کرواتا ہوں،ڈرائیور بھیجا تو ماں کو خبر ہو جائے گی تم میرے گھر آجانا یہ پیسے رکھو اوبر کروا کر آجانا ۔۔۔۔۔ماں نے ویسے بھی تمہیں نہیں دیکھا کل کافی زیادہ لوگ ہونگے کسی کو بھی شک نہیں ہوگا تم پر ۔۔۔۔”
ہادی اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر اس کے ساتھ چل کر باہرآیا تھا ایک بڑے مال سے وہ اسے جدید موبائل،سم،کریڈٹ،نیٹ سروس اور کل کے لئے اپنے سرکل کے حساب سےمہنگے کپڑے دلا کر گھر چھوڑ آیا تھا
جب وہ گھر آیا تھا کافی رات بیت چکی تھی سب گہری نیند میں تھے وہ بھی جاتے ہی سو گیا تھا اب ہانی سب جانتی تھی ایک بڑا پتھر اس کے ضمیر سے ہٹ چکا تھا ۔۔۔
وہ پر سکون سا سو گیا تھا ۔۔۔
وہ مرد تھا نا بيک وقت دو عورتوں کو تسخیر کر کے بھی پر سکون ۔۔۔۔دوسری طرف ہانی دل پر زندگی کا سب سے اذیت ناک بوجھ لے کر گھر آئی تھی ۔۔۔
آج کے بعد سے شاید پوری زندگی اسے اب فقط شب بيداری میں کاٹنی تھی ۔۔
دوسری عورت کا کرب کیا ہوتا ہے ایک مرد یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکتا ۔۔۔
وہ تو شک کے نام پر یا تو بیوی کے ہاتھ پاؤں توڑ دیتا ہے یا بد چلن قرار دے کر باپ کے گھر بھیجوا دیتا ہے یا پھر کھڑے کھڑے طلاق ۔۔۔۔۔
خود وہ کسی کے ساتھ رنگے ہاتھوں بھی پکڑا جائے تو بھی بے قصور ٹھہرایا جاتا ہے ۔۔۔بھئ مرد جو ہوا ۔۔۔۔کیا ہوا جو کسی اور کے ساتھ پکڑا گیا تو ۔۔۔۔تو بھی ساتھ ہونے والی عورت کو ہی بے باک کہہ کر قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے ۔۔۔پھر بھی سہنا دونوں طرف کی عورتوں کو ہی پڑتا ہے ۔۔۔بیوی اور محبوبہ ۔۔۔
آج بھی یہی ہوا تھا ایک طرف ہانی پر سوتن لا کر بھی وفاداری ثابت کی جا رہی تھی تو دوسری طرف اس انجان لڑکی کو انسان کی لسٹ میں سمجھا ہی نہیں جا رہا تھا
اس کی مرضی اس کی عزت سے ہادی کو کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ تو بس ایک کٹھ پتلی تھی جیسے وہ جو کہتا وہ كرتی ۔۔۔۔
واہ رے عورت تیری قسمت ۔۔۔۔۔
مرد ہر رشتے میں عورت کو عورت سے لڑوا کر خود معصوم،صلح جو اور معتبر بن جاتا ہے ۔۔۔
عورت عورت کے ساتھ لڑ لڑ کر ختم ہو جاتی ہے ۔۔
۔****************
وہ پارلر کے ویٹنگ ایریا میں بیٹھا رابعہ کا منتظر تھا وہ دلہن بنی باہر آئی تھی آنسو فوراً آنکھوں میں بھر گئے تھے كاجل سی بھری آنکھیں چندیا سی گئی تھیں وہ آج بھی اسی عام سے حلیے میں مصروف سا بیٹھا تھا ۔۔۔
آنکھوں کے گرد ہلکے شب بيداری کا پتہ دے رہے تھے شیو بڑھی ہوئی ۔۔۔۔۔تھکا چہرہ ۔۔۔وہ رابی کو دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں عینک ٹھیک کرتا کھڑا ہوا تھا
رابی آج کے دن بھی اس شخص کے حد درجہ صبر اور ڈھٹائی پر حیران نہیں تھی ۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے لہنگا تھامے دلہن بنی بھی اجڑی لگ رہی تھی ۔۔۔
اس نے لڑکی کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا تھا وہ اس کے قریب آیا تھا ہاتھ میں سفید کام والی چادر پکڑے جیسے اسے اوڑھا کر گھر لے کر جانا تھا
“آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ایسے کیسے مجھے ۔۔۔۔۔۔سب کچھ جانتے بوجھتے ۔۔۔۔۔”
وہ ایک ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر روتے ہوۓ بمشکل بول پائی تھی
“دیکھو۔۔۔۔گڑیا۔۔۔۔۔۔”
“مت کہیں مجھے گڑیا ۔۔۔۔۔آپ مجھے گڑیا گڑیا کہتے رہے اور مجھے توڑ دیا ۔۔۔۔۔نہیں ہوں میں گڑیا ۔۔۔۔جیتی جاگتی سانس لیتی انسان ہوں میں ۔۔۔”
وہ دبی آواز میں چیخی تھی
“شششش۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چاچی بار بار فون کر رہی ہیں بارات راستے میں ہے گڑڑڑ ۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔”
زوہیب نظريں چرا کر بولا تھا
“شرم ۔۔۔۔شرم تو نہیں آ رہی نا آپ کو اپنی محبت کو کسی اور کی جھولی میں ڈال رہے ہیں ؟؟؟”
“میں تم سے محبت نہیں کرتا رابی ۔۔۔۔میں اپنی حصے کی محبت کر چکا ہوں بہت پہلے اپنی بیوی سے ۔۔۔۔اور تم جانتی بھی ہو پورے دس سال بڑا ہوں میں تم سے اور شادی شدہ بھی”
وہ سمجھاتے ہوۓ بولا تھا
“تھے ۔۔۔۔۔آپ شادی شدہ تھے ۔۔۔۔اور سعدیہ باجی آپ کی بیوی تھیں ۔۔۔فقط بیوی ۔۔۔آپ کے مرحوم والدین کی پسند سے لائی گئی بیوی ۔۔۔۔۔۔۔مرحومہ بیوی”
“میں نہیں روک پائی آپ سے خود کو محبت کرنے سے خدارا ۔۔۔۔۔ابو سے بات کر کے روک دیں یہ شادی”
وہ زوہیب کے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی ۔۔۔
“میں ایسا نہیں کروں گا گڑیا ۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔ایسا کرنے کی پوزیشن میں بلکل نہیں ہوں ۔۔۔۔۔شادی تمہیں یہیں کرنی پڑے گی ۔۔۔”
وہ اس کو خود سے الگ کرتا ہوا اس کے سر پر چادر دیتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
“میں انکار کردوں گی ۔۔۔۔۔”
وہ روتے روتے بولی تھی ۔۔۔
“میں ۔۔۔۔اسے چھوڑ کر چلی جاؤں گی”
وہ خاموش رہا
“میں ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔اس کو کبھی شوہر کا حق نہیں دے پاؤں گی ۔۔۔زوہیب پلیز میرے دل پر رحم کریں ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں بہت مجبور ہوں ۔۔۔پلیز ۔۔”
وہ ہاتھ جوڑ کر زوہیب کے پیروں میں بیٹھ گئی تھی زوہیب بت بنا کھڑا رہا ۔۔۔کچھ دیر بیٹھا رہنے کے بعد رابی نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا وہ سپاٹ چہرہ لیے کھڑا تھا ۔۔۔
“آپ کو میری کسی بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا نا ۔۔۔تو میں اپنی جان دے دوں گی”
اس بات پر زوہیب نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا
“اگر تو تم نے ایسا کرنے کا سوچا بھی گڑیا تو تم سے پہلے میں اپنی جان لے لوں گا ۔۔۔بس اتنا یاد رکھنا”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اب اسے تیزی سے کار کی طرف لے جا رہ تھا ۔۔۔
“آپ کیوں لینے آئے ہیں مجھے گھر میں کوئی اور نہیں تھا جو میرا زخم کریدنے آپ خود آگئے ہیں آپ ؟؟؟؟”
وہ ہاتھ چھڑوا کر چیخی تھی
“میں تمہیں جی بھر کر دیکھنا چاہتا تھا،میں چاہتا تھا کہ سب سے پہلے تمہیں ایسے میں ہی دیکھوں آج آخری بار ۔۔۔۔پھر تو تم کسی کی بیوی ۔۔۔۔۔۔۔”
“میں اپنی ۔۔۔۔صرف اپنی گڑیا کو دیکھنا چاہتا تھا”
وہ گاڑی پر سر رکھ کر اب روتے ہوۓ کہہ رہا تھا جس پر رابی کا دل بند ہونے کو تھا ۔۔۔
“مطلب آپ مجھ سے ؟؟؟”
سوال بے یقینی میں ڈوبا ہوا تھا
“نہیں ۔۔۔۔گڑیا ۔۔۔۔میں نہیں کرتا تم سے محبت بس گود میں پالا ہے تمہیں تو تھوڑا جزباتی ہوگیا ہوں بیٹھو دیر ہو رہی ہے”
وہ آنسو صاف کر کے اسے اندر زبردستی بیٹھا کر گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا
“ایک دن ضرور ایسا آئے گا آپ میری محبت کا اقرار خود کریں گے زوہیب ۔۔۔”
رابی نے دل میں سوچا تھا ۔۔۔۔۔
دوسری طرف ہادی شیروانی پہنے کسی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا جبکہ اس کا دل ویران تھا ۔۔۔۔وہ پھيكی مسكراهٹ لیئے ماں کی خوشی میں خوش دکھائی دینے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔۔
سب میں کھڑی ہانی اپنا رونا بمشکل روک کر اس کو دیکھ رہی تھی وہ بہت حسین لگ رہی تھی وہ کسی طرح بھی ہادی کی نئی بیوی سے کم نہیں لگنا چاہتی تھی مہنگے کپڑوں اور دیگر لوازمات میں ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنی کھڑی تھی مگر اس کی نظر فقط ہادی پر ٹکی ہوئی تھی ۔۔۔
وہ ضبط کی انتہاہ پر تھی ۔۔۔
سب نے دولہے کو روایتی پگڑی پہنانے کی رسم کر رہے تھے ۔۔۔
ہادی نے ہانی کی طرف دیکھ کر لمبی سانس لی تھی اس سب میں اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا سب اتار کر ہانی کا ہاتھ پکڑ کر یہاں سے بھاگ جاۓ ۔۔۔
اب سب گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے ۔۔۔۔
ہادی ہانی کو خود ایک گاڑی میں بیٹھا کر خود بھی دوسری گاڑی میں ماں کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
مون سون ۔۔۔۔۔ہاۓ ظالم بارش بھی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔
رابی،زوہیب،ہادی اور ہانی کی دلی کیفیت سوچ کر یہ گانا سنیں ۔۔۔۔
“تم کو بھی ہے خبر ۔۔۔۔مجھ کو بھی ہے پتہ ۔۔۔۔ہو رہا ہے جدا ۔۔۔دونوں کا راستہ ۔۔۔۔ دور جا کے بھی مجھ سے ۔۔۔تم میری یادوں میں رہنا ۔۔۔۔۔”
کبھی الوداع نا کہنا ۔۔۔۔۔۔
کبھی الوداع نا کہنا ۔۔۔۔۔۔
