Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 17 (Last Episode)

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 17 (Last Episode)

“رابی میری بچی ۔۔۔۔۔تم ملک سے باہر گئی ہی نہیں اور ہمیں بتایا تک نہیں ؟؟؟؟؟؟پتہ نہیں اور کیا کیا سہتی رہی ۔۔۔۔”

پروین بيگم رابی کے پاس بیٹھی بار بار اسے گلے سے لگا کر پھر سے رونے لگ جاتیں ۔۔۔۔

“اموں ۔۔۔زوہیب مجھ سے ملے تھے میں نے سوچا آپ کو بتا دیا ہوگا”

رابی کروٹ بدل کر لیٹ گئی تھی

“زوہیب بیٹا تم جانتے تھے سب پھر ہمیں کیوں اندھیرے میں رکھا ؟؟؟؟”

شفیق صاحب ٹوٹے ہوۓ لہجے میں آنکھیں ملتے گویا ہوۓ تھے وہ بھی نازو پلی اکلوتی بیٹی کی بربادی پر آبديده تھے

“چاچو میں نے سوچا میاں بیوی کا معاملہ ہے اس میں ہمارا پڑنا مناسب نہیں ۔۔۔۔اور تب گڑیا بھی اس فیصلے میں ہادی کے ساتھ شامل تھی”

زوہیب شرمندہ سا بولا تھا

“بہرحال اب میری بیٹی مزید ایک لمحہ بھی اس شخص کے ساتھ نہیں گزارے گی میں کل ہی خلع نامہ تیار کرواتا ہوں وہ امیر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میری بیٹی خرید سکتے ہیں وہ۔۔۔میری بیٹی بہت انمول ہے ایسے اس شخص کا کھلونا نہیں بننے دوں گا ۔۔۔۔رابی کا باپ ابھی زندہ ہے”

شفیق صاحب اب خود کو رونے سے روک نہیں سکے تھے پروین بيگم اٹھ کر ان کے پاس بیٹھ گئی تھیں وہ بھی رو رہی تھیں

“آپ کی طبیعت بگڑ جائے گی ۔۔۔۔۔ایسے اپنا دل تھوڑا مت کریں ۔۔۔۔”

وہ دوپٹہ منہ پر رکھ کر رو کر بولی تھیں

“زوہیب تم ابھی کال ملاؤ وکیل کو میں ابھی کے ابھی بات ختم کروں گا کل کا انتظار نہیں ہوگا مجھ سے”

شفیق صاحب آنسو پونچھ کر بولے تھے

“ارے ایسے کیسے رابی کے اباں ؟؟؟آپ کی بیٹی امید سے ہے۔۔۔۔ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔”

اس بات پر وہ مزيد رو دی تھیں

“امید سے ہے تو کیا ؟؟؟تم کل ہی جا کر ختم کروا دو یہ بچہ ۔۔۔۔اس دهوکے باز کا بچہ نہیں پیدا کرے گی میری معصوم بیٹی ۔۔۔”

شفیق صاحب کرب سے چلا اٹھے تھے اس بات پر رابی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی

“نہیں ابو ۔۔۔۔میں ایسا نہیں کر سکتی یہ قتل ہے ۔۔۔اس سب میں اس معصوم کا کیا قصور جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں ۔۔۔۔”

وہ تکلیف سے چیخی تھی

“یہ میرا بھی بچہ ہے ۔۔۔میری جائز پہلی اولاد ۔۔۔۔میں اسے ضرور پیدا کروں گی،مگر یہ طے ہے میں ہادی سے الگ ہو جاؤں گی،اس نے میرا اعتبار ۔۔۔۔۔ایک دوست ہونے کا مان ۔۔۔ سب پاش پاش کر دیا ۔۔ . میں ۔۔۔۔ اپنے ہاتھ سے اس کی شادی اس کی محبت سے کروا دیتی ۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ بس ایک بار دوست بن کر مجھ سے سچ تو کہتا ۔۔۔ “

رابی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔

“اتنا آسان نہیں ہوتا رابی ۔۔۔شوہر کو دوسری عورت ميسر کرنا ۔۔۔ تم تب بھی اسے چھوڑ دیتی ۔۔۔”

ماں نے اس کو اپنے ساتھ لگا کر سہلایا تھا

“میں اس اذیت سے پل پل گزری ہوں اموں ۔۔۔۔میں اسے اس اذیت سے آزاد کر دیتی اموں ۔۔۔۔قسم سے ۔۔۔ شاید اسی سے میری اذیت کم ہو جاتی ۔۔۔”

وہ زوہیب كی طرف شکایتی نظروں سے دیکھ کر بولی تھی جس پر زوہیب نے ہڑبڑا کر سب کی طرف دیکھا تھا مگر سب رابی کے لئے اس قدر پریشان تھے کہ کسی نے اس كی بات پر خاص توجہ نہیں دی تھی

شفیق صاحب،وقار اور زوہیب کمرے سے چلے گئے تھے

“بیٹا ۔۔۔باپ کی بات مان لو ۔۔۔۔بچے سے خود کو آزاد کرو اور اپنے بارے میں کچھ سوچو۔۔۔۔تم کیا اب باقی كی زندگی اس کی اولاد کے لئے وقف کروگی ؟؟؟؟؟”

پروین بيگم بیٹی کی محبت میں خود غرضی سے گویا ہوئی تھیں

“اب اس بات کا کیا مطلب ہے اموں ؟؟؟؟”

رابی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری تھی

“میں زوہیب کو منا لوں گی تمہارے لئے ۔۔۔۔میں مزيد تمہیں اس طرح ویران نہیں دیکھ سکتی۔۔۔مطلب صاف ہے میرا ۔۔۔”

آج جب پہلی بار رابی کو اپنی محبت کو پانے کی امید نظر آئی تھی مگر دل اس بات پر پوری طرح خوش نہیں ہوا تھا

اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتی اس کا فون بجنا شروع ہوا تھا

“اموں ان کو بتا دیں میں نے نہیں کرنی ان سے بات”

وہ ہادی کا نمبر دیکھ کر غصے سے ماں کو فون تهما کر بولی تھی

“وعلیکم السلام”

“میری بیٹی نے تم سے کوئی بھی بات نہیں کرنی چھوڑ دو اس کا پیچھا”

پروین بيگم نے کال اٹھا کر دکھ بھری آواز میں کہا تھا

“آنٹی پلیز فون رابی کو دیں وقت کم ہے”

دوسری طرف التجاء ہی التجاء تھی

“بیٹا کرلو بات کہہ رہا ہے کوئی ضروری بات ہے”

پروین بيگم اس کی درخواست پر نرم پڑی تھیں

“جی میں سن رہی ہوں”

رابی کا لہجہ اور آواز سراسر جان چھڑانے والی تھی

“ماں کو سیریس ہارٹ اٹیک آیا ہے ان کی حالت تشویشناک بتائی ہے ابھی میری ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے میں اسلام آباد ہوٹل سے چیک اوٹ کر کے لاہور کے راستے پر ہوں ۔۔۔۔ بس لاہور میں داخل ہو رہا ہوں آدھے گھنٹے تک تمہارے پاس آ رہا ہوں تم تیار رہو”

ہادی کی آواز سے اس کی تکلیف کا اندازہ رابی کو بخوبی ہوا تھا وہ خود بھی بہت پریشان ہوگئی تھی

“آپ پریشان مت ہو ۔۔۔اللّه بہتر کرے گا ہادی ۔۔۔ماں کو کچھ بھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔میں آپ کا ویٹ کر رہی ہوں”

رابی نے بات مکمل کر کے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا تھا پروین بيگم جو ساری بات سن چکی تھیں وہ بھی پریشان ہو گئی تھیں

“تم منہ ہاتھ دھو لو بیٹا کپڑے نکالتی ہوں میں تمہارے”

رابی نے اس بات پر فوری عمل کيا تھا وہ تیار ہو کر ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھی تھی جہاں شفیق صاحب اور زوہیب سر پكڑے اس مسئلے پر پریشان بیٹھے تھے

اتنے میں دروازے پر ہارن کی آواز سنائی دی تھی وقار نے جا کر دروازہ کھولا اور ہادی کے آنے کی اطلاع دی

شفیق صاحب جو کہ اس کے آنے کی وجہ سے انجان تھے وہ غصے سے دانت پسنے لگے تھے غصے نے ان کے ناتواں بوڑھے وجود پر کپکپی طاری کر دی تھی

“آپ بیٹھ جایئں چاچا میں خود دیکھتا ہوں اس دھوکے باز کو”

زوہیب کو بھی تاؤ آیا تھا وہ برہم ہوتا ہوا کھڑا ہوا تھا رابی بھی کھڑی ہوئی تھی

“میں نے بلایا ہے ان کو ابو ۔۔۔ان کی امی کی طبیعت خراب ہے”

“تو تمہیں کیا ضرورت ہے ابھی بھی رشتہ داریاں نبهانے کی گڑیا ؟؟؟”

زوہیب نے پلٹ کر فوراً کہا تھا

“میں ابھی بھی ہادی کی بیوی ہوں زوہیب ۔۔۔۔اس بچے کا باپ بھی وہ ہی ہے ۔۔۔۔اور دوسری بات ان کی امی نے ہمیشہ مجھے میری اپنی اموں سے زیادہ محبت دی ہے وہ مجھے ان کے ساتھ نہیں دیکھیں گی تو ان کی طبیعت اور بھی بگڑے گی ۔۔۔اور میں کم از کم ایک ماں سے اپنی تکلیف کا حساب نہیں لے سکتی ۔۔۔”

زوہیب اس نئی گڑیا کو دیکھ کر سٹپٹا گیا تھا

“ابو میں جاؤں ؟؟؟؟”

“جی ۔۔۔۔۔مگر زوہیب کو بھی ساتھ لے جاؤ ۔۔۔۔یہ تمہیں واپس لے آئے گا”

شفیق صاحب نے دونوں کو جانے کا اشارہ کیا تھا

رابی پیچھے اور زوہیب ہادی کے ساتھ آگے بیٹھ گیا تھا

“اللّه خیر کرے گا یار ۔،۔۔تم حوصلہ رکھو ۔۔۔۔”

زوہیب نے ہادی کی حالت دیکھ کر بے اختیار کہا تھا جس پر ہادی نے نم ہوتی آنکھیں صاف کی تھیں

ہادی کی آنکھیں بری طرح لال ہو رہی تھیں وہ لوگ ہسپتال پہنچے تو ہادی نے رابی کا ہاتھ پکڑا اور آئی سی یو کی طرف لے کر بھاگا ۔۔۔۔۔جس حق سے وہ اس کا ہاتھ تھام کر اس قدم سے قدم ملا کر چلی تھی زوہیب کو وہ سب ذرا بھی اچھا نہیں لگا تھا وہ سب اسے بری طرح بے چین کر گیا تھا ۔۔۔ زوہیب رابی کو اس کے ساتھ جاتا دیکھ کر آج پہلی بار تکلیف محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔آج پہلی بار وہ اسے خود سے دور ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔

“آپ اندر چلیں جائیں وہ کب سے آپ دونوں کی منتظر ہیں”

نرس نے ان کو دیکھتے ہی کہا تھا وہ دونوں تیزی سے اندر گئے تھے جہاں ان کو بہت سی برقی مشینوں میں جھگڑا ہوا تھا

ان دونوں کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی

“ماں ۔۔۔۔۔یہ سب کیسے ہوا ؟؟؟آپ کی طبیعت کب سے خراب تھی آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟؟؟”

ہادی نے روتے ہوۓ ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا تھا

صبیحہ بيگم نے رابی کے چہرے کو اپنا ہاتھ ہادی کے ہاتھ سے نکال کر چھوا تھا

“میری بچی ۔۔۔۔تم خوش ہو نا ہادی کے ساتھ ؟؟”

وہ اکسیجن ماسک ہٹا کر بہت مشکل سے بولی تھیں جس پر رابی نے روتے ہوۓ سر ہلادیا تھا

“آپ بس جلدی سے ٹھیک ہو جایئں ماں ۔۔۔”

رابی نے ان کا ہاتھ چوم کر روتے روتے کہا تھا

“ہادی ۔۔۔۔تم خوش ہو رابی کے ساتھ ؟؟؟”

وہ ہادی کی طرف متوجہ ہوئی تھیں

“جی ماں ۔۔۔رابی ایک بہترین دوست اور ایک بہترین بیوی ہے . . . . . میں بہت خوش ہوں ۔۔۔۔آپ بس گھر آجائیں…بس ۔۔۔۔اور آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا میں ۔۔۔”

“ہادی کا کوئی بھی نہیں آپ کے سوا ماں ۔۔۔آپ کو پتہ ہے نا ؟؟؟پلیز ۔۔۔ جلدی سے ٹھیک ہو جایئں یہ سب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ۔۔ “

ہادی تڑپ کر کیسی چند سال کے بچے کی طرح ضد کرکے رو رہا تھا

وہ بار بار ماں سے فوراً ٹھیک ہونے کی ضد کرتا اور پہلے سے زیادہ شدت سے رونے لگتا رابی اس ہادی کو پہلی بار دیکھ رہی تھی جو اس کا شوہر ہادی بلکل نہیں تھا ۔۔۔۔یہ تو بس ایک بچہ تھا جس کی ماں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی اور وہ اسے کسی بھی قیمت پر بچانا چاہتا تھا

رابی کو اس معصوم ضدی بچے پر جی جان سے پیار آیا تھا اس نے غیر ارادی طور پر اٹھ کر ہادی کو گلے لگایا تھا جس پر وہ اور شدت سے رونے لگا تھا

“ماں آپ دادی بننے والی ہیں”

رابی نے ہادی سے خود کو الگ کر کے صبیحہ بيگم کا ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھ کر روتے ہوۓ کہا تھا جس پر صبیحہ بيگم اس تکلیف میں بھی کھل اٹھی تھیں انہوں نے رابی کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا تھا پھر دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ پکڑ کر جابجا چوما تھا

“میرے ہادی کا بچہ ۔۔۔”

وہ اب رابی کے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر اپنا ہاتھ چوم رہی تھیں

“رابی ۔۔۔تم ہادی کا بہت خیال رکھنا ۔۔۔۔اسے کبھی تنہا مت ہونے دینا ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔ . ۔۔میں ۔۔۔۔۔۔نے ۔۔۔۔۔۔۔بہت ۔۔۔۔۔۔۔۔تکلیفوں ۔۔۔۔۔ ں ں ۔ ۔۔۔سے اسے بن باپ کے ۔۔۔۔۔پا۔۔۔۔۔۔۔۔لا ۔۔۔۔۔۔ہ ۔۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔۔۔”

الفاظ اب ٹوٹ رہے تھے وہ رو رہی تھیں

مشین کی بيپ بجنا شروع ہوئی تھی جس پر ڈاکٹر فوری طور پر بھاگ کر آگئے تھے ان دونوں کو

زبردستی باہر نکال دیا گیا تھا

صبیحہ بيگم کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں ۔۔۔۔کچھ لمحے لگے تھے ۔۔۔۔۔ہاں کچھ لمحے ۔۔۔۔۔وہ زندگی کی جنگ ہار چکی تھیں ۔۔۔۔

“سوری۔۔”

ٹکا سا جواب دے کر ڈاکٹر اپنا فرض ادا کر کے جا چکا تھا

“نہیں ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔میری ماں میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی رابی ۔۔۔۔وہ تو میرا آخری اثاثہ تھیں ۔۔۔۔۔وہ اتنا بڑا دھوکا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟وہ جانتی ہیں میں ان کے بغیر نہیں جی سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔نہیں سکتیں ۔۔۔۔”

ہادی کی حالت غیر ہو رہی تھی رابی کے لئے اس کو سنبهالنا مشکل ہو رہا تھا

وہ کبھی اپنا سر اور کبھی اپنے ہاتھوں کے مکے بنا کر دیوار پر افسوس سے مارتا ۔۔۔۔

زوہیب جو دور بیٹھا تھا ہادی کے شور پر وہاں آیا تھا

“ہادی ایسے مت کریں ۔۔۔۔میں آپ کو ایسے نہیں دیکھ سکتی پلیز ۔۔۔”

رابی ہادی کو زبردستی خود سے لگا کر روتے ہوۓ بول رہی تھی

ہادی تکلیف سے بیہوش ہو چکا تھا

“ہادی ؟؟؟؟؟؟؟”

رابی کچھ اور سمجھ کر چیخی تھی

“ہادی ۔۔۔۔بات کریں مجھ سے ۔۔۔۔زوہیب دیکھیں ۔۔۔۔ڈاکٹر ؟؟؟؟ڈاکٹر ؟؟؟؟میرے ہسبنڈ کو دیکھیں پلیز ۔۔۔۔یہ بول کیوں نہیں رہے؟؟؟”

وہ بھاگ کر ڈاکٹر کے کیبن میں آئی تھی ڈاکٹر ان کے ہمراہ آئے تھے

ہادی کو فورا طور ایمر جنسی روم میں شفٹ کر کے ٹریٹمنٹ دیا گیا تھا

“شدید ذہنی صدمے سے یہ بیہوش ہوگئے ہیں کچھ وقت لگے گا یہ بلکل ٹھیک ہو جایئں گے مسز ہادی آپ ہمت کریں”

ڈاکٹر نے ہادی کا ہاتھ پکڑ کر لگاتار روتی رابی کو حوصلہ دیا تھا

زوہیب چپ چاپ یہ سب دیکھ رہا تھا

“میں انتظامات دیکھتا ہوں”

زوہیب رابی کو بتا کر باہر آ گیا تھا

۔************

آج صبیحہ بيگم کو گئے تیسرا دن تھا پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا

ہانی کو پہلے دن ہی ہادی نے اطلاع دے کر بلوالیا تھا

ہادی مردوں میں ویران سا بیٹھا ہوا تھا جہاں افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا ماں کی جدائی نے دو دن میں ہی اس کی کمر توڑ ڈالی تھی وہ صدیوں کا بیمار لگ رہا تھا

ہانی قران پاک پڑھنے والوں میں سپارہ پڑھ رہی تھی جبکہ رابی آنے جانے والوں کے کھانے پینے اور ديگر مَن گھڑت رسموں کی تكميل کے انتظامات دیکھ رہی تھی

بیچ بیچ میں وہ رونے بیٹھ جاتی ۔۔۔۔پھر ہمت کر کے آئے گئے کو دیکھنے لگتی ۔۔۔

ان تینوں دن رابی نے ہر ذمہ داری صحیح معنوں میں بیٹی اور بیوی بن کر نبهائی تھی۔ ۔۔۔

اب رات کا وقت تھا ماسواۓ کچھ بہت قريبی رشتہ دار خواتین کے سب لوگ جا چکے تھے وہ سب سو رہی تھیں

ہال میں شفیق صاحب،زوہیب،پروین بيگم رابی ہانی اور ہادی موجود تھے

“ماں باپ بہت بڑی نعمت ہیں ہادی بیٹا ۔۔۔۔اکثر اس کی قدر اس کے چِھن جانے کے بعد ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔مگر تم خوش نصیب ہو کہ تم نے ان کی زندگی میں ہی ان کی بہت قدر کی ۔۔۔۔اور ان کی خوشی کے لئے اپنی پسند کو قربان کر کے ہماری بیٹی سے مجبورأ شادی کی ۔۔۔۔مگر چونکہ تمہاری یہ مجبوری نہیں رہی تو ۔۔۔۔۔”

طویل وقفہ ۔۔۔۔۔

“اب جب کے سارے رسومات ادا ہو چکے۔۔۔۔ہم رابی کو لے کر جا رہے ہیں ہادی ۔۔۔۔۔اور ویسے بھی تم اس غم کی گھڑی میں اکیلے نہیں ۔۔۔۔۔تمہاری دوسری بیوی تمہارے ساتھ موجود ہے ۔۔۔۔”

ہادی نے رابی کی طرف دیکھا تھا جو سر جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ہانی نے ہادی کی نظروں کا تعاقب کیا اور فوراً بولی

“جی بلکل انکل آپ اپنی بیٹی کو لے جائیں ۔۔۔۔ہادی ان کو بہت جلد طلاق بھجوا دیں گے”

اس بات پر سب کو ہی بہت حیرانی ہوئی تھی

“میں یہ فیصلہ رابی پی چھوڑتا ہوں ۔۔۔۔میرے گھر کے دروازے اس کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں”

“ہر ماہ ۔۔۔۔اس کے اخراجات بھیج دیا کروں گا ۔۔۔۔یہ یہاں رہے ۔۔۔چاہے تو وہاں آپ کے پاس ۔۔۔یہ میری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔آپ کو کبھی بھی میری ضرورت ہوئی آپ مجھے بتا سکتے ہیں ۔۔۔”

ہادی نے آہستہ سے یہ سب کہا تھا اس پی ہانی مزيد سیخ پا ہوئی تھی

“اس سب کا کیا مطلب ہے ہادی ؟؟؟؟اب جب سب ختم ہو سکتا ہے اتنی آسانی سے ۔۔۔۔پھر اب رابی کے گھر والوں کی موجودگی میں یہ قصہ ختم کیوں نہیں کر رہے اس کو طول دینے کا مطلب ؟؟؟؟؟”

ہانی بد لحاظی سے بولی تھی

“میں تم سے محبت کرتا ہوں ہانی یہ سچ ہے ۔۔۔مگر یہ بھی سچ ہے جس طرح رابی نے میرے ماں کے آخری وقت میں ان کو خوش کیا ۔۔۔۔۔ ان کا آخری سفر آسان کیا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ایک بیوی اور بہو کا فرض نبها کر مجھے سنبهالا ہے مجھے رابی سے عقیدت ہو گئی ہے ۔۔۔۔میں اسے کبهی نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔۔ہاں اگر وہ خود مجھ سے الگ ہونا چاہے تو ۔۔۔۔۔۔میں اس کے اس فیصلے میں عزت اور احترام کے ساتھ اس کا ساتھ دوں گا”

ہادی بنا کسی کو دیکھے نہایت شکستہ لہجے میں بولا تھا

“ہادی ۔۔۔۔”

رابی اٹھ کر ہادی کے پاس آکر بیٹھی تھی

“میں جا رہی ہوں ۔۔۔آپ کو ماں کی آخری بات یاد ہے نا ؟؟؟آپ ۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔اپنا بہت سا خیال رکھیں گے ۔۔۔۔ماں کی خاطر ؟؟؟؟”

رابی نے ایک بار پھر دوست ہونے کا فرض بخوبی نبهایا تھا وہ جاتے جاتے

بھی اس کا مرہم بنی تھی ۔۔۔۔وعدہ ؟؟؟”

وہ ہادی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر حق سے بولی تھی

ہادی اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں دبا کر رو دیا تھا

“ہم دوست تھے اور رہیں گے ٹھیک ہے ؟؟؟”

رابی بھی ہادی کی اس بات پر سر ہاں میں ہلاتی ہوئی رو دی تھی

“تم بہت اچھی دوست ہو رابی ۔۔۔۔۔کاش میں نے تمہیں اس طرح دھوکا نہ دیا ہوتا سب بتا دیا ہوتا ۔۔۔۔ تو آج تم سے نظریں ملانے کے قابل ہوتا ۔۔۔”

“تم ماں کو بہت پسند تھی رابی ۔۔۔۔تم بھی چلی جاؤگی تو ۔۔۔۔۔۔ماں زیادہ یاد آئے گی مجھے۔۔۔۔اس وقت تم میرے پاس ماں کی آخری نشانی ہو “

ہادی کی اس بات پر ہانی نے جھپٹ کر رابی کا ہاتھ ہادی کے ہاتھ سے نکالا تھا

“میں ہوں اپنے ہادی کے پاس تم جا سکتی ہو ،ہو سکے تو کبھی فون بھی مت کرنا میرے شوہر کو تمہارے پاس یہ سب رشتے ہیں مگر میرے ہاتھ ہادی کے بغیر بلکل خالی ہیں چاہو تو خود دیکھ لو ۔۔۔۔ یہ دیکھو”

ہانی نے دونوں ہاتھ پهيلا کر روتے ہوۓ کہا تھا

“بہت خوش نصیب ہو تم ہانی جسے تم چاہو اور وہ ہی انسان آپ کو بھی اتنا ہی چاہتا ہو ۔۔۔۔ سب رشتے اپنی جگہ مگر ۔۔۔۔اس انسان کا ساتھ اور ۔۔۔۔محبت پانا بہت بڑی عطا ہوتی ہے رب كی ،میری طرف سے بے فکر رہنا ۔۔۔اللّه تمہیں خوش رکھے”

“ہادی کبھی میرا نہیں تھا ہانی ۔۔۔۔کبھی اس کی محبت پر شک مت کرنا ۔۔۔۔اللّه حافظ”

رابی نے ہانی کو گلے لگایا اور زوہیب کی طرف دیکھا جو اس کے اندر کے خالی پن اور اس جملے کی وجہ جانتا تھا ۔۔۔

وہ سب رابی کو لے کر گھر آ گئے تھے

۔***********

بچے کی وجہ سے رابی کی اکثر طبیعت خراب رہتی اسے ہر وقت قے ہوتی وہ پورا وقت سو کر گزارتی زوہیب سے بات کا وقت بہت کم ملتا وہ اپنے کام میں مصروف رہتا دوسرا اب سب بدل گیا تھا

رابی پہلے کی طرح اس سے بات کرنے کے بہانے نا بناتی ہاں مگر اب زوہیب اکثر اس سے ملنے کی کوشش کرتا مگر وہ کوئی خاص رسپانس نا کرتی ۔۔۔

اس بچے نے سب بدل دیا تھا

رابی کی سوچوں کا مرکز اب صرف یہ بچہ تھا وہ بس اسی کی باتیں کرتی اور ہر وقت اس کی خریداری کرتی ۔۔۔

اس نے لڑکا لڑکی دونوں کی بھرپور شاپنگ کر رکھی تھی

اس پورے عرصہ نے ہادی نے ایک بھاری رقم ہر ماہ رابی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی تھی جس کا استعمال اس نے حق سے کیا تھا ۔۔۔

پورا عرصہ بڑی تیزی سے گزر رہا تھا

“اموں کب جان چھوٹے گی اس تکلیف سے آخر کیا بات ہوتی ہے آپ کی ہر بار ڈاکٹر سے میری ہر رپورٹ بھی آپ اپنے پاس ہی رکھ لیتی ہیں”

وہ پیٹ پکڑ کر ماں کے پاس کچن میں آ کر بہت مشکل سے کرسی پر بیٹھی تھی

“سب ٹھیک ہے رابی بس اب کسی بھی وقت ہسپتال جانا پڑ سکتا ہے ۔۔۔جیسے ہی طبیعت خراب ہو فورا بتانا”

پروین بيگم نے روٹی توے پر ڈال کر کہا تھا

ایسی ہی ایک شام تھی جب رابی کی طبیعت خراب ہوئی تھی ڈاکٹر کی دی ہوئی تاریخ سے تین دن پہلے ہی اس کی طبیعت بری طرح بگڑ گئی تھی اسے ایمرجنسی میں ہسپتال لایا گیا تھا

“آخر مسئلہ کیا ہے ؟؟؟چھ گھنٹے ہو گئے ہیں ابھی تک اب لوگ چکر ہی کاٹ رہے ہیں ؟؟؟؟”

پروین بيگم نرس پر غصہ ہو رہی تھیں جو بوکھلائی سی لیبر روم سے باہر آئی تھی

“پیشنٹ کے ہسبنڈ کو بلائیں ان سے اجازت نامے پر دستخط لینے ہیں جلدی کریں خون بہت بہہ چکا ہے مریض کی جان خطرے میں ہے”

نرس بم گرا کر اندر چلی گئی تھی

“شفیق صاحب نے فورا ہادی کو فون کیا تھا اور ساری صورت حال سے آگاہ کیا تھا

“میں ادھر ہی ہوں بس ابھی آیا”

ہادی کو پانچ منٹ ہی لگے تھے وہاں آنے میں ڈاکٹر کو باہر بلايا گیا تھا

“آپ کی مسز اور آپ کے دونوں بچوں میں سے ہم صرف کسی ایک کو بچا سکتے ہیں یہ فارم فل کر دیں،اور بلڈ کا ارینج کریں بلڈ بنک میں ان کے گروپ کی جسٹ دو بوتلیں موجود تھیں جو ہم پہلے ہی آپ لوگوں کو بنا بتائے مریض کو زندہ رکھنے کے لئے لگا چکے ہیں مگر اب مزيد دو بوتلوں کی اشد ضرورت ہے وقت کم ہے”

ٹونز کا سن کر ہادی کا دل خوشی سے بھر گیا تھا مگر پھر اسے لمحہ ہی لگا تھا فیصلہ کرنے میں اور وہ بولا

“میری مسز کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ڈاکٹر ۔۔۔۔اولاد میری قسمت میں ہوئی تو پھر مل جائے گی ۔۔۔”

ہادی نے فارم پر دستخط کرتے ہوۓ کہا تھا

“اگر میں غلط نہیں تو آپ وہ ہی ہیں نا کل جن کی مسز کا آپریشن کر کے یوٹرس ریمو کیا گیا ہے بےبی کا زہر پھیل گیا تھا اور یوٹرس کو بھی نقصان ہوا؟؟؟”

ڈاکٹر نے کچھ یاد کرتے ہوۓ کہا تھا

“جی ۔۔۔۔۔”

ہادی نے آہستہ سے دکھی لہجے میں جواب دیا تھا

“آپ بہت اچھے انسان ہیں ہادی آپ کی دونوں بیویاں بہت خوش نصیب ہیں،چلیں آپ بلڈ کا ارینج کریں”

ڈاکٹر کہہ کر اندر چلی گئی تھی

شفیق صاحب اور پروین بيگم حیران پریشان ہادی کو دیکھ رہے تھے جنہوں نے اس کا دل جیت لیا تھا

“اب کیسی ہے ہانی بیٹی ؟؟؟”

شفیق صاحب نے ہادی کو گلے لگا کر پوچھا تھا

“اپنی گود ہمیشہ کے لئے اجڑ جانے پر ایک لڑکی کیسی ہو سکتی ہے انکل بہت سٹرس میں ہے جیسے نیند سے

جاگتی ہے اس کو سنبهالنا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے اسے ماں بننے سے منع کیا تھا مگر وہ نا مانی ۔۔۔۔ابھی ۔۔۔۔پانچ ماہ ہی ہوۓ تھے کہ ۔۔۔۔۔۔یہ سب ہو گیا ۔۔۔۔۔بہت کوشش كی ڈاکٹر نے کہ اتنا بڑا قدم نا اٹھا ناپڑے مگر ۔۔۔۔اگر وہ بچہ دانی نا نکالتے تو وہ مر جاتی اس زہر سے مستقل بیمار رہتی یا شاید مجھے مکمل اولاد بھی دے دیتی کبھی کیوں کہ دوائیوں کے لمبے عرصہ تک کے استعمال سے بھی وہ ٹھیک ہو جاتی مگر اس میں اس کی جان کا رسک اور شاید والی بات تھی ۔۔۔۔اور میں اولاد کی خاطر اسے اذیت میں نہیں رکھ سکتا تھا ۔۔۔”

“میں خون کا بندوبست کرتا ہوں”

وہ چلا گیا تھا مگر شفیق صاحب اور پروین بيگم کو مشکل میں ڈال چکا تھا

ہادی اور رابی کا بلڈ گروپ میچ ہو چکا تھا ہادی نے رابی کو خون دیا تھا

“وہ سب کی دعائیں تھیں یا ہادی کی ہانی کے صحت کے معاملے میں کی گئی اعلی ظرفی کا انعام ۔۔۔۔رابی اور دونوں بچے اب خطرے سے باہر تھے اللّه نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی سے ہادی کو نواز دیا تھا

ڈاکٹر خود نرس کے ساتھ دونوں بچے باہر لے کر آئی تھی جن کو دیکھ کر ہادی ادھر ہی سجدے میں گر گیا تھا

وہ بری طرح رو رہا تھا اسے دیکھ کر پروین بيگم اور شفیق صاحب بھی آبدیدہ ہوۓ تھے

“میری مسز کیسی ہیں کیا میں ان کو دیکھ سکتا ہوں؟؟؟؟”

ہادی نے بچوں کو دیکھے بغیر اٹھ کر فورا کہا تھا

“جی مگر وہ ابھی بیہوش ہیں آپ ان سے بات نہیں کر سکتے”

ہادی ان کے ساتھ اندر گیا تھا جہاں رابی بیہوش پڑی تھی ہادی نے اس کے ہاتھوں اور چہرے کو کافی دیر روتے ہوۓ چوما تھا اب وہ باہر آیا تھا

بچوں کو باری باری نانا نانی سے لے کر گود میں اٹھایا تھا

وہ اب بھی رو رہا تھا بچوں کو فلحال پِیڈز کے پروفیسر ڈاکٹر کے پاس نرسری بھیج دیا گیا تھا

ہادی کو آج ماں کی یاد شدت سے آئی تھی وہ مسلسل رورہا تھا وہ گاڑی میں جا کر مٹھائی لایا اور پورے ہسپتال میں بانٹتا گیا اس نے نچلے طبقے ہاتھ بھر بھر کے نوٹ دیے تھا وہ روتا رہا لوگ اس کی اس خوشی پر حیران تھے

رابی ہوش میں آ چکی تھی اس نے اٹھتے ہی اپنی امی سے اس سے دو بچوں کی بات چھپانے پر شکایت کی تھی

“بیٹا بچیاں اکثر پہلی پہلی بار میں ویسے ہی گھبرا جایا کرتی ہیں بس اسی لئے ۔۔۔تم سے یہ بات چھپائی تا کہ تم نارمل رہو ۔۔،”

“امی ہادی نہیں آۓ؟؟؟”

“بیٹا وہ ادھر ہی تھا اسی نے تمہیں بروقت خون دے کر نئی زندگی دی ہے”

اس کے بعد پروین بيگم نے ہانی کے آپریشن والی پوری بات بھی اسے بتا دی تھی جس پر اسے کافی دکھ ہوا تھا

اس پورے وقت میں رابی کو ایک بار بھی زوہیب کا خیال نہیں آیا تھا

وہ بدل گئی تھی ۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں تھا ۔۔۔۔اسے اس کی اولاد نے بدل دیا تھا ۔۔۔۔۔

ہم جس معاشرے اور مذہب سے تعلق ركهتے ہیں اس میں ایک عورت ایک وقت میں صرف کسی ایک مرد کی بیوی ہی ہو سکتی ہے ۔۔۔محبت کے نام پر کسی غیر مرد کا تصور “زنا” کی حیثیت رکھتا ہے ۔۔۔۔

نکاح خوشی سے ہو یا نا ہو اس کے بعد کسی اور کا خیال بھی اس عورت پر حرام ہے ۔۔۔۔۔

ایک بیٹی ۔۔۔۔ایک بہن ۔۔۔۔ایک لڑکی محبت کے نام پر جهنڈے گاڑ سکتی ہے ۔۔۔۔۔مگر ایک بیوی ۔۔۔۔ایسا کرے گی تو وہ اس کے دنیا و آخرت دونوں میں تباہی کا باعث بنے گی ۔۔۔۔

ہم مسلمان عورتیں ہیں ہمیں محبت کے نام پر اپنے شوہر ۔۔۔اپنے بچوں کے باپ سے بےوفائی نہیں سکھائی گئی . . . . .

اکثر اولاد میاں بیوی کے بیچ کا خلاء پر کر کے شیطان جو کہ مختلف انسانوں اور رشتوں کی صورت ان کے درمیان جدائی ڈالنے آتا ہے اس کا راستہ بند ہو جاتا ہے ۔۔۔

ہادی کے نکاح میں ہو کر زوہیب کو اظہار محبت کرنا ۔۔۔اس کو سوچنا ۔۔۔یہ سب محض شیطانی وسوسے تھے جن کا ایک مسلمان عورت کی شادی شدہ زندگی میں کوئی گنجائش نہیں ۔۔۔۔

اولاد نے اس کا راستہ روک دیا تھا ۔۔۔

سچ تو یہ ہے ۔۔۔عورت ۔۔۔۔۔کسی بھی مذہب سے ہو وہ بےوفا ہو سکتی ہے ۔۔۔مگر ایک ماں ۔۔۔۔۔سانپ کی بھی ہو تو وہ اپنی اولاد کی ڈھال بن جایا کرتی ہے ۔۔۔وہ کبھی بے وفا نہیں ہوتی ۔۔۔وہ اولاد کی خاطر خود کو دفن کر دیا کرتی ہے محبت تو بہت ثانوی سا جذبہ ہے ۔۔۔۔

ایک عورت اپنے شوہر کو چھوڑ سکتی ہے اس سے نفرت کر سکتی ہے ۔۔۔مگر ایک عورت اپنے بچوں کے باپ کو نا چھوڑتی ہے نا ہی اس سے نفرت کرتی ہے ۔۔۔۔وہ پوری زندگی اس شخص کی باندی بن کر گزار دیتی ہے ۔۔۔۔فقط اولاد كی خاطر ۔۔۔۔کیوں کہ یہ سچ ہے ۔۔۔۔شوہر کتنا بھی برا انسان ہو چور ہو ڈاکو ہو نشہ کرتا ہو وہ اولاد کو پھر بھی باپ کی حیثیت سے عزیز ہوتا ہے اور ان کا سائبان ہوتا ہے ۔۔۔وہ سب کچھ ہو کر بھی اپنی اولاد کی چھت بن جایا کرتا ہے ۔۔۔

کہتے ہیں نا درخت کسی کڑوے پھل کا بھی ہو تو اس كی چھاؤں پھر بھی میٹھی ہی ہوا کرتی ہے ۔۔۔

وہ ایک ہی انسان شوہر کے روپ میں اس عورت کے لئے دو مطلب رکھتا ہے ۔۔۔

ہادی ہانی کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ابھی بھی سر گھٹنوں میں دے کر رو رہی تھی اور ہادی

اسے محبت سے سمجھا رہا تھا

“ہادی میں ۔۔۔۔ساری زندگی ایسے کیسے گزاروں گی ؟؟؟کوئی بھی مجھے ماں نہیں کہے گا ۔۔۔۔۔”

“یا اللّه ۔۔۔۔۔۔”

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی

“ہادی ۔۔۔۔آپ نے رابی کو طلاق تو نہیں دی نا آپ اسے واپس لے آئیں یہ مجھے ضرور اس کی بد دعا لگی ہے ۔۔۔میں نے اس سے ایک بیوی کا حق چھینا تھا ۔۔۔اللّه نے مجھے اسی بات كی سزا دی ہے ۔۔۔۔میں آپ کے ساتھ ہو کر بھی بنجر رہ گئی ہوں”

کسی نے ہانی کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا

“کس نے کہا تم بنجر رہو گی ؟؟؟”

“یہ ماں بولیں گے تمہیں ہانی ۔۔۔”

رابی ویل چیئر پر پروین بيگم کے ساتھ ہانی کے کمرے میں آئی تھی دونوں بچے اس کی گود میں سو رہے تھے

“ہادی یہ ہانی کی گود میں دے دیں”

ہادی نے دونوں بچے ہانی کی گود میں پکڑا دیے تھے ہانی نے پاگلوں کی طرح ان کو چوما تھا

“یہ کس کے بچے ہیں رابی ؟؟؟”

“یہ ہم تینوں کے بچے ہیں ہانی۔۔۔۔”

رابی آرام سے اٹھ کر اس کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی تھی

“یہ آپ کے بچے ہیں ہادی کیا واقعی ؟؟؟”

وہ روتے ہوۓ بولی تھی

ہادی نے اثبات میں سر ہلایا تھا

“یہ مجھے بھی ماں بولیں گے نا رابی ؟؟؟؟تم سچ کہہ رہی ہو نا ؟؟؟؟”

وہ کرب اور خوشی کی انتہاء پر تھی

“جی بلکل ۔۔۔۔۔ہم دونوں ان کی مما ہیں”

“میں اکیلی ان دونوں کو نہیں سنبھال سکتی کیا تم دوست بن کر ان میں سے ایک کی ذمہ داری پکی پکی لے لو گی پلیز ہانی ؟؟؟؟بیٹا لوگی یا بیٹی ؟؟؟”

رابی بہت خلو ص سے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھ رہی تھی

“اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیشک تو رحيم ہے ۔۔۔کسی بھی بندے پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔۔۔”

وہ دونوں ہاتھ دعا کے انداز میں جوڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی

ہادی نے رابی کو آہستہ سے ہاتھ پکڑ کر “شکریہ دوست” کہا تھا ۔۔۔۔

اس طرح تین ویران دلوں نے ایک ہو خود کو آباد کر لیا تھا ۔۔۔

۔*************

تین سال بعد ۔۔۔۔

“رابی میں ارحہ اور ارحم کے ساتھ ہوں تم جاؤ ہادی کب سے بلا رہے ہیں تمہیں”

ہانی دونوں بچوں کا فیڈر بناتے ہوۓ مزے سے چاٹ کھاتی رابی کو یہ تیسری بار کہہ چکی تھی

“اچھا جاتی ہوں بھئ رات میری ادھر ہی ہے آج جلدی کس بات کی ہے تمہیں ہانی سکون سے چاٹ کھانے دو مجھے ۔۔۔ایک تو صبح سے شام کردی چاٹ لا کر دینے میں ۔۔۔”

“رابی تم آ رہی ہو کہ میں سو جاؤں ؟؟؟”

ہادی کا میسج رابی پڑھ کر رابی شرارت سے ہنسی تھی

“سو جایئں میں آج ہانی اور بچوں کے ساتھ سوؤں گی”

“اچھا تو میں بھی ادھر ہی سو جاتا ہوں پھر”

ہادی میسج پڑھ کر ادھر ہی آ گیا تھا اور بيڈ پر بچوں کے ساتھ ہی لیٹ گیا تھا

“اتنی مشکل سے سوئے تھے ہادی ۔۔۔۔چلو رابی جاؤ بھی تم دونوں”

ہانی نے واقعی تنگ ہو کر کہا تھا جس پر وہ دونوں اٹھ گئے تھے ۔۔۔

“آئ لو یو ہانی”

ہادی نے ہانی کو فلائنگ کس دے کر جاتے جاتے کہا تھا

“آئی لو یو بوتھ اف یو،اب نظر نہ آنا تم دونوں ادھر”

ہانی واپس بچوں کی طرف متوجہ ہوئی تھی

“جب میری باری ہوتی ہے مجھے شام سے ہی بھیج دیتی ہے مگر خود ادھر بیٹھی رہتی ہے یا اللّه کتنی اچھی دوست دی ہے مجھے ۔۔۔۔”

وہ ان دونوں کو هنستا مسكراتا جاتا دیکھ کر دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کر رہی تھی ۔۔۔

دوسری طرف زوہیب دوبارہ دبئی شفٹ ہو گیا تھا جہاں ایک انڈین مسلمان لڑکی سے وہ شادی بھی کر چکا تھا ۔۔۔

رابی کی ہادی کے پاس مستقل واپسی کے وقت وہ اسے وہ سب کہہ دینا چاہتا تھا جو وہ ہمیشہ سے سننا چاہتی تھی مگر اس نے اس کو اس بات کا موقع ہی نہیں دیا تھا ۔۔۔

وہ صحیح معنوں میں اس دن اسے چھوڑ کر گئی تھی ۔۔

وہ جاتے ہوۓ پروین بيگم کو یہی کہہ کر گیا تھا کہ اب وہ کبھی پاکستان نہیں آئے گا ۔۔

ایک بزدل انسان ایک ویران زندگی ہی ڈیزرو کرتا ہے جو وہ اب جی رہا تھا ۔۔۔۔۔۔