Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 10
Rate this Novel
Weran Zindagi Episode 10
“رابی کیا بات ہے بیٹا ہر وقت اپنے کمرے میں کیوں بند رہنے لگی ہو ؟؟؟کافی دن سے میں تمہیں نوٹ کر رہی ہوں”
پروین بيگم پریشان سی موبائل میں مصروف بیٹھی رابی کے پاس بیٹھ کر پوچھ رہیں تھیں
“هاهاهاهاها”
رابی نے موبائل پر ہنوز نظریں جمائے قہقہ لگایا تھا وہ مسلسل ہنستی رہی یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں پانی آ کر اب اس کا چہرہ بھگونے لگا تھا پروین بيگم مزيد پریشان ہوئی تھیں
“کیا بات ہے رابی ؟؟؟؟تمہاری آنکھیں اور قہقہ ایک دوسرے کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے ؟؟؟”
وہ رابی کو جھنجھوڑ کر اب غصے سے پوچھ رہی تھیں
اب وہ ماں کے گلے لگ کر باقاعدہ رونے لگی تھی
“اموں میری شادی کردیں”
وہ روتے ہوۓ مسلسل بول رہی تھی
“کس سے ؟؟؟؟”
پروین بيگم نے اسے خود سے الگ کیا تھا
“کسی سے بھی،بس جلد از جلد،میرا دم گھٹتا ہے یہاں،مجھے سانس نہیں آتا،مجھے کھلی فضا میں سانس لینا ہے”
وہ عجیب سے لہجہ لئے پروین بيگم کو حیران کر رہی تھی
“چپ کر جاؤ تمہارے باپ نے سن لیا تو جیتے جی مر جائے گا وہ،بند کرو یہ بکواس”
پروین بيگم نے بھی وہ ہی کیا تھا جو ہر بیٹی کی ماں ایسے حالات میں کیا کرتی ہے بیٹی کی تکلیف وہ تنہائی میں بھی پوچھنے سے ڈر رہی تھی انھیں اس کی پسند ،اسکی محبت سے کوئی سروکار نہیں تھا وہ تو بس باپ اور بھائی کی عزت کی پرواہ تھی۔۔۔۔۔ اس کی خوشی اسکی تکلیف تو کسی کھاتے میں تھی ہی نہیں ۔۔۔۔
اس کی بات کا مطلب وہ ہی نکالا گیا تھا جو ہمارے ہاں ہر بار نکالا جاتا ہے کہ اب اس لڑکی کو گھر میں رکھنا ٹھیک نہیں وقت آ گیا ہے کہ اب اسے شادی کے نام پر شوہر اور سسرال میں پهنسا کر اس کی عقل ٹھکانے لگائی جائے ۔۔۔۔
رابی بیڈ پر شدید تکلیف سے بکھر کر کسی تسبیح کے دانوں کی طرح موتی موتی ہوگئی تھی مگر افسوس اسے اس کی اپنی ماں نے بھی سمیٹنے کی کوشش نہیں کی تھی وہ بس اس کا بکھرا وجود دنیا والوں سے چھپا لینا چاہتی تھیں وہ بھاگ کر اب دروازہ بند کر کے کمرے سے باہر جا چکی تھیں
وہ تو اس کے ارادے خود سے بھی چھپا لینا چاہتی تھیں ۔۔۔
وہ پریشان سی خود کو گھر کے کاموں میں مصروف کرنا چاہتی تھیں مگر رابی کا ٹوٹا دل ان کی توجہ کا مرکز تھا
اب وہ بے صبری سے زوہیب کا انتظار کرنے لگی تھیں جو اپنی گاڑی میں صبح کا نکلا اپنے آفس کے ضروری کام نپٹا رہا تھا گھر میں ایک وہ ہی تھا جس سے پروین بيگم تسلی سے رابی کے متعلق بات کر سکتیں تھيں
رات کا کھانا کھا کر سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے جب پروین بيگم زوہیب کو اپنے پاس بلانے آئی تھیں وہ ان کے ساتھ چھت پر آیا تھا
“بیٹا میں بہت پریشان ہوں آج تمہاری جگہ وقار کا بڑا بھائی ہوتا تو خدا جانتا ہے میں یہ بات اس سے کرتی”
ہمارے ہاں کی جانے والی ایک اور بڑی غلطی کہ، اپنے بڑے بیٹے کو اتنے اختیار نہیں دیئے جاتے مگر جب اپنا بیٹا بڑا نا ہو تو دوسرے کے بیٹے کو ضرور بیٹا سمجھ کر اپنے فیصلے کی ہر ڈور اس کے ہاتھ میں تهما دی جاتی ہے
اور اس بات کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے کہ کزن بھائی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔جب گھر میں جوان بیٹی موجود ہو تو کسی کو کزن کے نام پر گھر کا حصہ نہیں بنانا چاہیے ۔۔۔۔مگر افسوس آج کل پہلے کزن كے نام پر نامحرم کو بھائی بنا کر گھر میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور بعد میں قصور وار صرف اولاد کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔۔۔
“کیا بات ہے چاچی ؟؟؟”
اس پر پروین بيگم نے رابی کی تمام حالت بتائی تھی جیسے سن کر زوہیب کا دل کیا وہ چلوں بھر پانی میں ڈوب مرے ۔۔۔مگر وہ اس عورت کو کیسے بتاتا کہ وہ انسان جیسے وہ اپنا بیٹا مان کر اپنی بیٹی کی حالت بتا رہی ہے اس کا ذمہ دار وہ ہی تو تھا ۔۔۔
وہ اب یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس سے لڑکے کا اتا پتا پوچھو ۔۔۔
وہ چپ چاپ روتی ہوئی پروین بيگم کو فقط دیکھ رہا تھا
“آپ پریشان مت ہوں میں خود بات کرتا ہوں رابی سے”
وہ تیزی سے سیڑھی اتر کر رابی کے کمرے میں آیا تھا جہاں وہ زندہ لاش کی طرح بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی
“آپ یہاں سے چلیں جایئں ورنہ میں اموں کو آپ کا نام بتا دوں گی”
وہ بنا زوہیب کی طرف دیکھے غصے سے بولی تھی
“گڑیا۔۔۔۔”
زوہیب بے بس سا محض اتنا بول پایا تھا
“ٹوٹ گئی آپ کی گڑیا”
وہ اسے باہر کی طرف دکھیل کر دروازہ بند کرتے ہوۓ بهرائی ہوئی آواز میں بولی تھی
سب ایک جگہ موجود ہو کر بھی اس مسئلے کو نا تو ڈسکس کر پا رہے تھے حل کرنا تو بعد کی بات تھی ۔۔۔وہ ہی جو اکثر ہمارے ہاں ہوا کرتا ہے ۔۔۔
“حقیقت سے انکار”
تینوں نفوس بس اندر ہی اندر گھٹ رہے تھے اس بات کو پندرا دن ہونے کو تھے جب پروین بيگم کو میریج بیورو سے کال آئی تھی وہ فیملی کو ملوانے آنے کا کوئی وقت اور دن چاہ رہے تھے پروین بيگم نے فلحال ان کو شام تک ٹال کر فون بند کیا تھا وہ رابی کے پاس آئی تھیں جو ہینڈ فری لگائے آنکھیں بند کیئے لیٹی ہوئی تھی
“تم اتنی حد سے بڑھ جاؤ گی یہ میں نے سوچا تک نہیں تھا”
پروین بيگم نے اس کی ہینڈ فری نکال کر غصے سے کہا تھا
“اسی لئے تو کہتی ہوں میری شادی کردیں میری بھی جان چھوٹ جائے گی آپ سے اور آپ کی مجھ سے،خیر اب میری کس حرکت پر حیران ہیں؟؟؟”
وہ باغی انداز میں موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوۓ پوچھ رہی تھی
“میریج بیورو سے کال آئی تھی ،کس نے دیا ان کو ہمارا پتہ ؟؟؟؟”
“میں نے اور ان کو کل ہی بلا لیں،آپ کے شوہر اور بیٹے کی عزت کے لئے اچھا ہوگا ورنہ میں پنکھے کے ساتھ لٹک کر اپنی جان دے دوں گی،اور میں کچھ بھی کروں گی اس گھر سے جانے کے لئے”
اس کی آنکھوں میں آتا پانی بھی لال لگ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا پورے جسم کا خون آنکھوں میں اتر آیا ہے
“رابی میری بیٹی آخر کیا ہو گیا ہے ایسا۔۔۔۔۔۔۔ تم ہم سے اتنی تنگ کیوں ہو؟؟؟”
پروین بيگم اب بے بس سی ہر ماں کی طرح دوپٹہ چہرہ پر رکھے بچوں کی طرح رو رہی تھیں
“میں آپ سب سے نہیں خود سے تنگ ہوں اموں”
اتنے میں زوہیب روم میں آیا تھا
“اور اموں مجھے کسی مرد کا ساتھ دركار ہے یہی میری عمر کا تقاضہ بھی ہے”
وہ کسی زخمی شیرنی کی طرح پھنکارتی ہوئی زوہیب کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی
زوہیب کے اس ایک جملے نے کسی کی بیٹی کے زندگی کا مطلب بدل دیا تھا وقت ریت کی طرح تیزی سے اس کے ہاتھ سے پهسل رہا تھا
“دیکھو بیٹا کسی باتیں کر رہی ہے اپنی ماں سے”
پروین بيگم زوہیب کو دیکھ کر اور شدت سے رونے لگی تھیں
“چاچی آپ جایئں میں بات کرتا ہوں گڑیا سے”
زوہیب نے چاچی کو اٹھا کر باہر بھیجنا چاہا تھا
“مجھے کسی سے کوئی بھی بات نہیں کرنی،کل دوپہر کا وقت دے دیں ان لوگوں کو میں تیار ہو جاؤں گی”
وہ دروازہ کھول کر دونوں کے جانے کی منتظر تھی
“میری بیٹی کو دیکھو کیا ہوگیا ہے یہ ایسی تو بلکل بھی نہیں تھی زوہیب”
بیچاری ماں روتی ہوئی زوہیب کے ساتھ باہر نکلی تھی
“میرے بس میں کچھ نہیں ہے اموں،میرا دل مر گیا ہے”
وہ دروازہ بند کر کے ادھر ہی نیچے بیٹھ کر دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر تڑپ کر چیخی تھی
زوہیب پروین بيگم کو اپنی گاڑی میں بیٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لایا تھا ڈاکٹر نے بی_پی کے لئے کچھ انجکشن ڈرپ میں ڈال کر ان کو دو گھنٹے بعد گھر بھیج دیا تھا گھر آنے پر ایک نیا تماشہ ان کا منتظر تھا
وقار بیٹھا رو رہا تھا اس کا کہنا تھا آپی بلا وجہ میرے ساتھ بری طرح لڑی ہے
پروین بيگم نے اسے سمجھا کر اپنے کمرے میں بھیج دیا تھا وہ شفیق صاحب کے پاس آئی تھیں اور انھیں کل کے مہمانوں کی آمد کی اجازت لی تھی جو انہوں نے تھوڑے انکار کے بعد دے دی تھی وہ خود بھی گھر پر رک گئے تھے
اگلی صبح مہمان آگئے تھے فیملی کافی اچھی تھی اور مختصر بھی ۔۔۔
رابی اچھے سے تیار ہو کر ان کے سامنے بیٹھی تھی ان کو ایسی ہی کم عمر بہو کی تلاش تھی اور ان کو شادی کی جلدی بھی تھی وہ بس سادگی سے سب کرنا چاھتے تھے ان کا کہنا تھا وہ ریسیپشن پر پورے شہر کو دعوت دے کر اس شادی کی خبر دینا چاھتے ہیں
“اگلے ماہ کی کوئی ڈیٹ دے دیں؟؟؟”
لڑکے کی ماں جو ہر طرح کی تسلی کر کے آئی تھی فورا بولی تھی رابی اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی تھی زوہیب نے اس بیوقوف لڑکی کو دیکھ کر سر افسوس میں ہلایا تھا جو صرف اس کے ایک جملے کی وجہ سے اپنی پوری زندگی جوے کی طرح داؤ پر لگا رہی تھی
پروین بيگم اور شفیق ان سے دو دن کا وقت مانگ کر ان کو رخصت کر چکے تھے ان کو لڑکا بہت خوبصورت اور سٹائلش لگا تھا اب بس ان کے متعلق کچھ ضروری معلومات کرنا باقی تھا
شفیق صاحب نے پروین بيگم کو اس کی تصویر دے کر رابی کے کمرے میں بھیجا تھا جو اپنا دوپٹہ جیولری سب پورے کمرے میں یہاں وہاں پھینک کر بال کھولے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی
“بیٹا یہ تصویر دیکھ ۔۔۔۔۔”
ماں نے تصویر آگے کی تھی جس پر وہ چیخی تھی
“اموں ہاں بول دو،نہیں دیکھنی میں نے تصویر،آپ چلی جایئں مجھے اکیلے چھوڑ دیں”
“بیٹا آخر بات کیا ہے تمہیں کیا پریشانی ہے ؟؟؟کیوں کنویں میں آنکھیں بند کر کے کودنا چاہتی ہو ؟؟؟”
وہ پاس آ کر محبت سے پوچھ رہی تھیں
رابی بس سب بتانے کو تھی وہ اپنی بے قصور ماں کو ایسے اذیت نہیں دینا چاہتی تھی مگر اتنے میں زوہیب کمرے میں آ گیا
اسے دیکھتے ہی اس کا رنگ غصے سے لال ہوا تھا
“اموں بس شادی کرنی ہے مجھے آپ ان کو ہاں بول دیں اور جتنی جلدی کی ڈیٹ ہو دے دیں”
وہ کہہ کر واش روم چلی گئی تھی
آخر دو دن کے بعد تسلی بخش معلومات ملنے پر جواب ہاں میں دے دیا گیا تھا اور ڈیٹ بھی ۔۔۔ چونکہ دونوں خاندان اچھے گھر سے تھے لہذا تیاری کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا
رابی اب پہلے کی طرح گھر والوں میں اٹھ بیٹھ رہی تھی ہاں مگر زوہیب سے وہ اب کتراتی کوئی بات نا کرتی ۔۔۔
پندرا دن اسی طرح گزر گئے تھے تیاری زوروں شور سے ہو رہی تھی
ایسا ہی ایک دن تھا زوہیب اپنے کمرے میں بیٹھا کام کر رہا تھا جب وہ اس کے کمرے میں آئی تھی
“آجاؤ گڑیا”
وہ محبت سے بولا تھا وہ چپ چاپ آ کر بیٹھ گئی تھی
“کیسی جا رہی ہے تیاری ؟؟؟میری گڑیا خوش ہے نا ؟؟؟”
“زوہیب ؟؟”
سوال پر سوال ہوا تھا
“جی گڑیا ؟؟
وہ گلاسز ٹھیک کرتا متوجہ ہوا تھا
“آپ ۔۔۔۔۔۔۔آپ مجھے یاد ۔۔۔۔۔۔کریں گے ؟؟؟؟”
سوال رک رک کر کیا گیا تھا
“ہاں بلکل تم میری اكلوتی گڑیا جو ہوئی”
جواب لچک سے پاک تھا
“آپ کو سعدیہ باجی کی قسم میں آپ کو کبھی بھی اچھی نہیں لگی ؟؟؟؟کوئی ایسا وقت جب آپ کا دل بے چین ہوا ہو ؟؟؟؟”
وہ ازلی موڈ میں آئی تھی
“گڑیا اب تو کم از کم یہ باتیں مت کرو ان سے کیا ملے گا تمہیں ؟؟؟؟”
“کیوں اذیت دیتی ہو خود کو ؟؟؟؟”
انداز سمجھانے والا تھا
“اس اذیت کا کیا جو مجھے آپ نے ساری عمر کے لئے دے دی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟میں کسی اور کی کیسے ہو سکتی ہوں ؟؟؟؟؟؟؟؟”
رابی اذیت کی آخری حد پر تھی اس کی آواز میں کانٹے چبھ رہے تھے
“آپی ؟؟؟امی بلا رہی ہیں”
وقار کمرے کا ماحول جانچے بنا بتا کر ادھر ہی بیٹھ گیا تھا رابی جلدی سے آنسو صاف کرتی باہر آ گئی تھی
“گڑیا کاش ۔۔۔۔۔تم میرے عمر کی ہوتی یا میں تمہاری عمر کا ۔۔۔۔۔۔۔”
زوہیب نے تهک کر سوچا تھا
دن تیزی سے گزر رہے تھے
“یہ دیکھو رابعہ
اپنی شادی کا جوڑا پہن کر دیکھاؤ مجھے ۔۔۔۔”
“اور پانی بھی دو مجھے،بہت بھیڑ تھی بھئ بہت كهپی ہوں آج ۔۔۔”
رابعہ اپنی ماں کے ہاتھ سے شاپر پکڑے مورت بنی کھڑی تھی”
“ارے پانی دو نا اور پہن کر دکھاؤ اسے ۔۔۔۔دن کتنے رہ گئے ہیں شادی میں کل سے تم مایوں بیٹھ جاؤ گی ۔۔۔پھر تو میرا کام اور بھی بڑھ جائے گا ۔۔۔اکیلی ہی كهپتی رہوں گی پھر ۔۔۔”
رابعہ نے اب بھی کوئی حرکت نہیں کی تھی
وہ تو جیسے سُن ہے رہی نہیں تھی پروين بيگم نے تنگ آ کر خود ہی پانی پیا تھا وہ واپس آ چکی تھیں مگر رابعہ اب بھی پتھر بنی شاپر پکڑے کھڑی تھی
“ارے کیا ہوا ہے ایسے کیوں کھڑی ہو بت بنی ؟؟؟”
ماں نے پریشانی سے اس کو ہاتھ سے پکڑ کر ہلایا تھا جس پر وہ چیخ کر روئی تھی
“امی آپ بند کر دیں یہ سب میں ۔۔۔۔۔میں نہیں نبھا پاؤں گی یہ زبردستی کی شادی ۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی زوہیب کے بغیر ۔۔۔۔۔۔امی میں بہت مجبور ہوں ۔۔۔۔۔۔امی ۔۔۔۔۔۔۔”
شاپر اس کے ہاتھ سے نیچے گِرا تھا وہ اپنے دونوں خالی ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
“بکواس مت کرو تمہارا بھائی گھر پر ہے سن لیا تو منہ توڑ دے گا وہ تمہارا”
“امی ۔۔۔۔۔میرا دل بند ہو جائے گا ۔۔۔۔۔خدا کے لئے میرے دل کی حالت کو سمجھیں ۔۔۔۔میں بہت محبت کرتی ہوں زوہیب سے ۔۔۔۔میں اس کے علاوہ کسی اور کی ہو بھی کیسے سکتی ہوں ؟؟؟؟؟؟؟
“اس میں تو جان بستی ہے میری امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں نہیں بھلا سکتی اسے امی ۔۔۔۔۔۔یہ جوڑا کفن لگ رہا ہے مجھے امی ۔۔۔۔۔میں زوہیب سے بہت ۔۔۔محبت ۔۔۔۔”
پروين بيگم نے اس کے منہ پر زور سے ہاتھ رکھ دیا تھا
“سب طے ہو گیا ہے رابعہ ۔۔۔۔اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔ تیرے باپ نے زبان دے دی ہے ۔۔۔شادی کی ڈیٹ تک فکس ہو چکی ہے کل مایوں ہے تمہاری پرسوں مہندی ۔۔۔۔۔پھر نکاح اور رخصتی ۔۔۔۔”
“نہیں ۔۔۔۔۔۔امی ۔۔۔۔۔۔۔میرا دل بند ہو جائے گا امی ۔۔۔۔۔۔میں کہاں جاؤں ؟؟؟؟؟؟؟؟”امی میں برباد ہو جاؤں گی ۔۔۔۔نہیں مار سکتی اپنے دل کو امی ۔۔۔۔قیامت ۔۔۔۔۔آ جائے گی ۔۔۔۔۔”
“زوہیب ؟؟؟؟؟؟”
“یہ کیا کہہ رہی ہو رابی ؟؟؟؟؟”
پروین بيگم پر گویا بم گرا تھا وہ نام جان کر سر پکڑ رہ گئی تھیں
“پہلے کیوں نہیں بتایا رابی ؟؟؟؟یہ سب تماشہ کس لئے کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
“تم نے اپنے ساتھ ہمیں بھی کہیں کا نہیں چھوڑا اب ساری عمر کے لئیے یہ نام اپنے دل میں دفن کردو ورنہ تیرے ماں باپ زندہ درگور ہو جایئں گے رابی تجھے خدا رسول کا واسطہ ہے”
“تم نے اپنی مرضی سے اس رشتے کے لئے ہاں بولا تھا اب اپنے باپ کو رسوا مت کرو اس کے پاس عزت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے رابی یہ میرے ہاتھ دیکھو”
وہ باقاعدہ رابی کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گئی تھیں
رابی تکلیف سے بیہوش ہو گئی تھی ۔۔۔۔
محبت سے دستبرداری “قیامت” کا دوسرا نام ہے لوگوں ۔۔۔۔۔۔
“جس تن لاگے سو تن جانے”
۔**************
جب سے ہادی ہو کر گیا تھا مامی کا رویہ ہانی کے ساتھ کافی اچھا تھا
وہ خود بھی ہادی کے بارے اب دل سے سوچنے لگی تھی آج کافی ہفتے ہونے کو تھے وہ ملنے نہیں آیا تھا آج صبح سے ہانی کا دل بے چین تھا ایک گهبراہٹ تھی جو اسے صبح سے گھیرے ہوۓ تھی
اسی کشمکش میں تھی جب مامی نے اسے ہادی کے آنے کی اطلاع دی تھی
وہ آج اچھے سے خود کو آئینے میں دیکھ کر شرماتی ہوئی اس کمرے میں آئی تھی ہادی آج بھی دنیا کا خوبصورت انسان لگ رہا تھا وہ سر نیچے کیے بیٹھا ہوا تھا
“السلام علیکم”
ہانی نے آہستہ سے کہا تھا
“وعلیکم السلام”
جواب میں ناامیدی کی رمق واضح تھی
“کیسی ہو ؟”
“آپ کے سامنے ہوں آپ بتائیں کیسی ہوں ؟”
ہانی نے آج پہلی بار بات بڑھائی تھی
جواب میں پھیکی مسکراہٹ ملی تھی
“ہانی ۔۔۔۔۔مجھ سے محبت کرتی ہو ؟؟”
سوال میں پياس تھی
“ہممممم۔۔۔۔۔ہوں ۔۔۔۔”
جواب تسلی بخش ملا تھا جو شرما کر دیا گیا تھا
“مجھ سے نکاح کر سکتی ہو ؟؟؟؟صرف اس بات کا گواہ رب ہوگا ور ہم دونوں ؟؟؟تم یہی رہوگی ہم میں میاں بیوی والا کوئی رشتہ نہیں ہوگا میں بس یہ تسلی چاہتا ہوں کہ تم صرف میری ہو ؟؟؟”
ہادی پاس ہوا تھا
“مگر آپ كی مام کو اگر پتہ چل گیا تو ؟؟؟”
“وہ تم مجھ پر چھوڑ دو ،میرے لوٹنے کا انتظار کب تک کر سکتی ہو ؟؟؟”
سوال میں ہادی کے من چاہے جواب كی التجا تھی
“جب تک زندہ ہوں ہادی”
ہانی نے آج اس کا ہاتھ خود سے تهاما تھا
“چلو چلتے ہیں مامی سے بات کر چکا ہوں میں”
ہانی عبایہ پہن کر اس کے ساتھ کوٹ آئی تھی نکاح کے بعد گاڑی میں ہادی بیٹھا اسے کافی دیر تک حسرت سے دیکھتا رہا پھر اسے اس کے گھر چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔
ہانی آج خوش تھی بہت خوش دنیا کا ایک خوبصورت مرد اس کا شوہر تھا ۔۔۔
