Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 14

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 14

رابی جیسے ہی تیار ہو کر باہر نکلی وہ سی گرین کام والی لانگ فراک میں خوبصورت ميک اپ جیولری اور خاص کر گڑيا والے ہیئر سٹائل میں کانچ کی گڑیا جیسی نازک اور حسین لگ رہی تھی

“اللّه اتنی بڑی ہیل،ہادی ہاتھ پکڑیں میں گرنے والی ہوں بس”

وہ بمشکل چل کر اس کے پاس آئی تھی اس کو دیکھ کر ہادی پلکیں جھپکنا بھول گیا تھا وہ حد سے زیادہ حسین لگ رہی تھی عنقریب ہادی اپنے حواس کھونے کو تھا کہ ماں کے فون نے اس کا تسلسل توڑا تھا جو ان دونوں کی تصویر مانگ رہی تھیں جو ہادی نے رابی کو اپنے قریب کر کے بنا کر بھیج دی تھی اب وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے گاڑی تک لایا تھا

تھوڑی ہی دیر میں اب وہ شہر کے سب سے مہنگے ہال میں پہنچے تھے

سب رابی کی خوبصورتی پر ایک بار پھر ششدر رہ گئے تھے

ولیمہ کی تقریب میں رابی جس ہستی کی نگاہ کی منتظر تھی وہ اسے ابھی تک نظر نہیں آیا تھا آخر اس کے انتظار کی حد ختم ہوئی تھی اس نے وقار سے آہستہ سے پوچھا تھا جس نے ان کی طبیعت کی خرابی وجہ بتائی تھی

باقی کی تقریب اس نے بجھے ہوۓ دل سے گزرای تھی

ہادی بار بار رابی کو دیکھتا ۔۔۔۔۔۔ہسپتال میں لیٹی ہانی کی یاد نے اسے ایک بار بھی بے چین نہیں کیا تھا ۔۔۔

تقريب کا اختتام ہوا اب وہ دونوں گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے تھے

رابی ملک سے باہر جانے سے پہلے زوہیب کو ایک بار دیکھنا چاہتی تھی اور وہ یہی آخری موقع تھا مگر وہ نہیں آیا تھا اس کا دل بری طرح رونے کو چاہ رہا تھا ۔۔۔

دوسری طرف رابی کو دیکھ دیکھ کر ہادی کے پسینے چھوٹ رہے تھے

اسی دوران ہانی کی کال نے اس کے خیالات میں خلل ڈالا تھا

وہ جیسے ابھی ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا گاڑی ایک طرف روک کر وہ نیچے اتر گیا تھا رابی کو اس سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی وہ آنکھیں موندے بیٹھی ہوئی تھی

“ہیلو ہادی آپ کہاں ہیں ؟؟؟آپ ؟؟؟؟آپ ابھی تک آئے کیوں نہیں اپنی ۔۔۔۔اپنی ہانی کو دیکھنے ؟؟؟؟”

ہانی خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بے بسی سے بهرائی آواز میں بولی تھی

“میں ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔تھوڑا مصروف ہوں ہانی ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔جیسے فری ہوا آتا ۔۔۔۔۔آتا ہوں”

“نئی بیوی کے ساتھ ؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ چلا کر پوچھ رہی تھی

“ہاں ۔۔۔نہیں ۔۔۔ہانی ۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔میں صرف تمہارا ہوں ۔۔۔۔”

“آپ اس کو سب بتا کر میرے پاس آ جایئں ورنہ میں اپنی جان لے لوں گی ہادی”

وہ جنونی انداز میں بولی تھی جس پر ہادی کو گھبراہٹ نے آگھیرا تھا

“میں ۔۔۔آتا ہوں ہانی ۔۔۔پلیز ایسا کچھ مت کرنا میں آ رہا ہوں بس ایک گھنٹہ دو مجھے”

وہ تیزی سے کال کاٹ کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا تھا

رابی شاید سو چکی تھی

گاڑی دوبارہ رکنے پر رابی نے آنکھیں کھولی تھیں

“ہادی یہ تو کوئی ہسپتال لگ رہا ہے ادھر ہم کیوں آئے ہیں ؟”

وہ جمائی روکتی پر سکون سی پوچھ رہی تھی

“ایک دوست داخل ہے ادھر میں اسے دیکھ کر آتا ہوں تم ادھر ہی بیٹھو”

وہ کہہ کر تیزی سے نیچے اتر گیا تھا رابی نے اس کے جاتے ہی زوہیب کو کال ملائی تھی جبکہ دوسری طرف سے نمبر مصروف آ رہا تھا

آخر پانچویں کال پر فون اٹھا لیا گیا تھا

“السلام علیکم گڑیا کیسی ہو”

آواز میں بوجھل پن واضح تھا

“آپ آج آئے کیوں نہیں زوہیب ؟؟؟”

وہ مزيد آنسو روک نہیں پائی تھی

“کیا کرتا آ کر گڑیا ؟؟؟؟بس ذرا طبیعت خراب تھی”

اس نے بات کو سنبھالا تھا

“جھوٹ ۔۔۔۔۔پھر سے جھوٹ ۔۔۔اور کتنے جھوٹ بولیں گے آپ زوہیب ؟؟؟؟مان کیوں نہیں لیتے آپ کو مجھ سے محبت ہے ۔۔۔۔کیا چلا جائے گا آپ کا ؟؟؟؟کہہ دیں نہ ۔۔۔۔۔”

وہ اب رو دی تھی

“نہیں ہے مجھے تم سے محبت ۔۔۔رابی ۔۔۔۔خود کو زبردستی میرے دل پر مسلط مت کرو ۔۔۔۔اپنا گھر بساؤ ۔۔۔”

کال کاٹ کر اب زوہیب فون بند کر کے سائیڈ پر رکھ چکا تھا

“او خدایا ۔۔۔۔کیا کروں اس بیوقوف لڑکی کا”

وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

دوسری طرف رابی زور قطار رو رہی تھی

“کیسے دل کو راضی کروں ؟؟؟؟ہادی میرے پاس آئے تو شاید مجھے صبر آجائے ۔۔۔۔اور میرا دل زوہیب کو بھول جائے ۔۔۔۔ایسے ہی گھر بساتی ہے عورت ۔۔۔۔ہے نہ؟؟؟ “

سوال خود سے کر کے جواب بھی خود سے سوچ کر اب وہ آنسو صاف کر کے بیٹھ گئی تھی مگر دل غم سے بھرا ہوا تھا

ہادی بھاگ کر ہانی کے کمرے میں آیا تھا جہاں ڈاکٹرز اس کے گرد جمع تھے اس کو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا تھا فلحال اسے ملنے سے روک دیا گیا تھا اور مریض کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا تھا

ڈاکٹر کے مطابق ہانی کو شدید پینک اٹیک ہوا تھا ہادی شکستہ قدم چلتا ہوا واپس گاڑی میں آگیا تھا

جہاں رابی اب بھی آنکھیں بند کیے بیٹھی ہوئی تھی

کچھ دیر میں وہ گھر آ چکے تھے

دونوں کپڑ ے تبدیل کر کے اب بيڈ پر موجود تھے ہادی نے آنکھوں پر بازو رکھا ہوا تھا وہ ہانی کی وجہ سے سخت پریشان تھا

“ہادی ۔۔۔”

رابی قریب ہو کر ہادی کا ہاتھ پکڑ کر لیٹ گئی تھی

“همممم ۔۔۔”

رابی نے بنا کوئی مزاحمت کے بس اتنا کہا تھا

“آپ مجھ سے شادی کر کے خوش ہیں ؟؟؟”

وہ اپنے سوال پر خود بھی حیران ہوئی تھی جس پر ہادی نے اس کی طرف دیکھا تھا جو اب بھی قیامت ڈھا رہی تھی اس کے دل کی دھڑکن بری طرح بےترتیب ہوئی تھی

“کس نے کہا یہ تم سے رابی ؟؟؟”

وہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر مدہوشی میں بولا تھا

بس پھر آگے وہ ہی ہوا تھا جو ایک وفادار مرد سے امید کی جا سکتی ہے یا اس بیچارے سے ہو سکتا تھا ۔۔۔۔نفس کی پرستش۔۔۔۔۔

ایک طرف ہادی اپنی نئی زندگی کا آغاز کر رہا تھا تو دوسری طرف ہانی زندگی اور موت کے بیچ جھول رہی تھی ۔۔۔۔

مرد اور عورت کے وفا اور محبت کے پیمانے کا تعین اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ۔۔۔

رابی نے خود کو مکمل طور ہادی کے حوالے کر کے گویا اپنا واپسی کا دروازہ بند کیا تھا جو زوہیب کسی صورت کھولنے کو تیار نہیں تھا اس نے دماغ کی مان کر دل کو شکست دی تھی شوہر کا حق ادا کر کے اس کا دل پر سکون سا ہوا تھا کچھ وقت ۔۔۔ کم از کم فلحال وہ زوہیب کی یاداور ساتھ کو فراموش کر کے مات دینے میں کامیاب ضرور ہوئی تھی ۔۔۔۔

عورت خود کو آباد کرنے کے چکر میں پہلی کوشش کے طور پر اپنا سب کچھ لٹا کر گویا خود کو برباد کرتی ہے ۔۔۔۔پھر کہیں جا کر اسے اپنی آبادی کی امید نظر آتی ہے ۔۔۔۔

رابی سو چکی تھی جبکہ ہادی کو اب ہانی کا خیال آیا تھا وہ ٹیرس پر جا کر اب مامی کو مسلسل کال ملا رہا تھا ساتھ ساتھ وہ سگریٹ سلگا رہا تھا مگر مامی شاید سو چکی تھی ۔۔۔آخر تهک کر وہ بھی رابی کے پہلو میں سونے لیٹ گیا تھا

صبح کے سات بج رہے تھے جب ہادی کی آنکھ کھلی تھی

اسے فلائٹ کا وقت یاد آیا تھا اس نے جلدی سے رابی کو اٹھا کر فریش ہونے بھیجا تھا وہ کچھ دیر میں ہی اس کے سامنے تیار کھڑی تھی

وہ دونوں ماں کو اللّه حافظ بول کر اب گاڑی میں بیٹھ گئے تھے

“ہم کہاں جا رہے ہیں ہادی ؟؟؟یہ راستہ ایئر پورٹ کا تو نہیں ۔۔۔”

رابی نے اپنے گیلے بالوں کو کندهوں پر پھیلاتے ہوۓ کہا تھا

“اسلام آباد”

“وہ اصل میں ماں نہیں جانتی کاروبار میں کچھ سیریس ایشوز ہیں میں اس طرح ایک ماہ کے لئے ملک سے باہر نہیں جا سکتا ۔۔۔۔ہم یہاں اسلام آباد میں ہی ایک اچھے سے ہوٹل میں رکیں گے ماں کو یہی لگے گا ہم باہر ہیں بیچ بیچ میں میں لاھور بھی جاؤں گا ٹھیک ہے ؟؟؟”

ہادی نے ڈیش بورڈ سے سگریٹ سلگانے کے لئے لائٹر نکالتے ہوۓ رابی کو دیکھ کر پوچھا تھا

“مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس میں ہادی مگر سگریٹ سے مجھے بہت قے آتی ہے”

وہ مسکرا کر بولی تھی

“سوری ۔۔۔۔رابی ۔۔۔اچھا نہیں پیتا”

ہادی نے سگریٹ واپس رکھا تھا اسے اس بات سے ہانی کی یاد شدت سے آئی تھی

“رابی اپنا سیل فون آف کردو ماں کو یہی لگنا چاہیے ہم فلائٹ میں ہیں”

ہادی نے اپنا سیل فون آف کرتے ہوۓ کہا تھا

پانچ سے سات گھنٹے کی ڈرائیو پر اب وہ اسلام آباد کے ایک مشہور اور مہنگے ہوٹل میں تھے یہاں کا موسم ابر آلود تھا بارش بس آنے کو تھی

“تم سامان اَن پيک کرو میں آتا ہوں”

ہادی نے باہر آ کر اپنا سیل آن کر کے فلائٹ موڈ پر کیا اور ہانی کا نمبر نکال کر اب وہ ہوٹل کے نمبر سے اس کا نمبر ملا رہا تھا

“ہیلو ہانی ؟؟؟؟”میری جان کیسی ہو تم ؟؟؟؟”

آواز میں تڑپ تھی

“وہ سو رہی ہیں آپ کون بات کر رہے ہیں ؟؟؟ایسے مریض کو اس طرح اکیلا کون چھوڑ کر جاتا ہے ؟؟؟؟”

وہ جو بھی تھی بہت غصے میں تھی

“میں ۔۔۔ان کا شوہر ہوں”

ہادی شرمندہ سا بولا تھا

“ان کو اب گھر کے پر سکون ماحول کی ضرورت ہے بہتر ہے ان کی جگہ چینج کروایں آج ان کو ڈسچارج کر دیا جائے گا،میں ان کی نرس ہوں جو ان کے ساتھ ایک خاتون تھی وہ کل کی گئی ابھی تک نہیں لوٹیں عجیب لوگ ہیں آپ سب”

“اچھا میں شہر سے باہر ہوں رات تک آتا ہوں آپ پلیز ان کا بہت سا خیال رکھیں”

کال بند کر کے ہادی اب سخت پریشان تھا وہ کمرے میں آیا اور لیٹ گیا رابی کپڑے الماری میں لگا رہی تھی

“ہادی ریسٹ کر لیں پھر باہر چلیں گے مجھے بارش بہت پسند ہے ۔۔۔۔اور بارش میں چاٹ کھانا ۔۔۔۔اور بتاؤں مجھے کیا کیا پسند ہے ؟؟؟”

وہ کام چھوڑ کر ہادی کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی ہادی کے سارے اعصاب شل ہونے کو تھے رابی کا ایک ایک لفظ اسے غصہ دلا رہا تھا جو بھی تھا ہانی کو اس نے شدت سے چاہا تھا وہ اسے اس حالت میں چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا

“ہادی ؟؟

رابی نے اس کی ٹانگ پر ہاتھ رکھ کر اسے مخاطب کیا تھا

“اسٹاپ اٹ پلیز میرے سر میں درد ہے”

ہادی چلایا تھا رابی اس حرکت پر سکتے میں آئی تھی وہ گھبرا کر پیچھے ہوئی تھی

“میں کام سے جا رہا ہوں کل آؤں گا واپس تم چاہو تو باہر جا کر موسم انجوئے کر سکتی ہو۔۔۔۔کھانا جب کھانا ہوا روم سروس کو کال کر کے منگوا لینا ورنہ ہال میں جا کر سب میں بیٹھ کر کھا لینا ۔۔۔۔

صبح موبائل آن کرنا اور ماں کا فون آیا تو یاد رکھنا یہاں رات کا وقت ہے ۔۔۔۔۔کہنا سب ٹھیک ہے سفر اچھا رہا ہم سو رہے ہیں ہم بعد میں بات کرتے ہیں اوکے ؟؟؟”

وہ موبائل اور والٹ ٹیبل سے اٹھاتے ہوۓ بنا اسے دیکھے بول رہا تھا

آنسو اس کی آنکھوں میں ٹھہر گئے تھے وہ دم سادے اسے دیکھ رہی تھی

“میں جلدی میں ہوں آ کر بات کروں گا رابی بائے”

وہ کہہ کر جلدی سے باہر نکل گیا تھا دروازے کے بند ہونے کی آواز نے رابی کا ٹرانس توڑا تھا آنسو زور قطار چہرہ بھگونے لگے تھے

“میں نے ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا جو اتنا غصہ آ گیا ہادی کو ؟؟؟؟”

سوال خود سے کیا تھا

بیشک ہر عورت اپنی زندگی کا آدھا حصہ شوہر کی بد اخلاقی پر اپنی غلطی ڈھونڈنے۔۔۔۔۔ اور باقی کی پھر نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ کے ارادوں پر گزار دیتی ہے ۔۔۔۔جب ساری زندگی گزر جاتی ہے اور جوانی ڈھل جاتی ہے پھر جا کر اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کے شوہر کی فطرت،عادت اور تربیت میں ہی بد تہذیبی کا عنصر موجود تھا وہ بلا وجہ ہی اپنی ساری زندگی کسی مجرم کی طرح معافی تلافی کرتے ہوۓ گزار چکی ہے ۔۔۔۔

یہ بھی سچ ہے عورت ہمیشہ اپنی محبت کو بھلا کر اپنے شوہر کو سب کچھ مان لیتی ہے مگر یہ بھی سچ ہے وہ اس کے شوہر کا نفرت آمیز رویہ ہی ہوتا ہے جو اسے بار بار ماضی میں دکھیلتا ہے ۔۔۔اسے یہ باور کرواتا ہے کہ اس نے اپنی محبت سے دستبردار ہو کر بہت بڑی غلطی کردی ہے ۔۔۔

اس کی شادی من چاہے شخص سے ہوتی تو وہ اس طرح ویران نا ہوتی ۔۔۔

آج بھی ہادی کی بے تکی ڈانٹ نے رابی کو زوہیب کی یاد دلا دی تھی ۔۔۔

” میری گڑیا کیسے چپ ہوگی ؟؟؟”

زوہیب کی آواز کسی مرهم کی طرح کانوں میں رس گھولنے لگی تھی

“زوہیب ۔۔۔آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا بلکل بھی اچھا نہیں کیا میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی”

وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر اب پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھی بادل زور سے گرجے تھے رابی آنسو صاف کر کے روم لاک کر کے باہر آئی تھی

جہاں اس کی نظر دو آدمیوں کے ساتھ کھڑے زوہیب پر پڑی تھی

“اب تو آپ ہر جگہ نظر آنے لگے ہیں زوہیب”

وہ آنسو صاف کرتی ہوئی پاس سے گزررہی تھی جب اس کے کانوں میں وہ جملہ سنائی دیا تھا

“زوہیب صاحب آپ کی یہ میٹنگ بھی سکسیس فل رہی۔۔۔بہت لکی جا رہے ہیں آپ آج کل”

کسی نے گرم جوشی سے مبارک باد کے ساتھ کہا تھا

“ایسا بھی نہیں ۔۔۔۔کچھ کھویا بھی ہے ۔۔۔۔سب ساتھ ساتھ چل رہا ہے”

مذاق کے انداز سے ادا کیا گیا یہ جملہ زوہیب کی طرف سے تھا جس پر سب نے اجتماعی قہقہ لگایا تھا

رابی کو کسی خواب کی طرح یہ سب لگا تھا دوسری طرف بارش نے بھی زور پکڑا تھا بہت سے لوگ اب بارش کی ویڈیوز بنا کر لطف اندوز ہو رہے تھے

زوہیب بھی اب ان دو بندوں سے رسمی سلام دعا کر کے اب ایک طرف کھڑا اداسی سے بارش کو دیکھ رہا تھا

“میں نے وہ کھویا جو میرا تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔

آپ نے وہ کھو دیا جو صرف آپ کا تھا “

بهرائی ہوئی آواز زوہیب کے پاس سے آئی تھی

“گڑيا تم ؟؟؟؟ادھر ؟؟؟؟ہادی کدھر ہے ؟؟؟؟”

زوہیب بری طرح پریشان ہوا تھا

“چلے گئے وہ کوئی آفس کا کام تھا”

وہ آنسو صاف کرتی تحمل سے بولی تھی

“مگر ۔۔۔تم تو ۔۔۔باہر ؟؟؟؟”

“جی وہ ہم نہیں گئے”

اس سوال پر اس نے ہادی کی بات دوہرائی تھی

“ارے اچھا . . ۔۔۔تم نے تو میری جان ہی نکال دی،ذمہ دار بزنس مین ہے ہادی ماشاءالله ۔۔۔تم بہت لکی ہو گڑیا،کھانا نہیں کھایا میں نے چلو کچھ آرڈر کرتے ہیں”

رابی کے کچھ کہنے سے قبل وہ اسے ہال کی طرف لے گیا تھا

کھانا خاموشی سے کھایا گیا ویٹر کھانا اٹھانے آیا زوہیب کے بل دینے پر وہ یہ کہہ کر چلا گیا آپ کے روم کی بکنگ ہے تو بل ایک ساتھ ہی چیک اوٹ کے بعد ادا ہوگا

“آپ یہاں کیسے ؟؟؟”

“میٹنگ تھی،اچھا گڑیا میں چلتا ہوں تم بھی جاؤ جیسے یہ ویٹر مجھے ہادی سمجھا میں نہیں چاہتا کہ کوئی ہمیں دیکھے اور کچھ غلط سمجھے،اپنا خیال رکھنا،میں صبح چلا جاؤں گا لاہور”

وہ اپنا ليپ ٹاپ بیگ اٹھا کر بولا تھا

“زوہیب ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔ابھی بھی آپ سے محبت ۔۔۔”

وہ اٹک اٹک کر بولی تھی

“تم کسی کی بیوی ہو رابی اس جملے پر اب بس اسی کا حق بنتا ہے خوش رہو اللّه حافظ”

رابی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھیں وہ شخص اس کو جاتا ہوا دھندلا نظر آیا تھا کچھ دیر وہ ہادی کے اس تلخ لہجے کے متعلق سوچتی رہی ،روتی رہی ،پھر وقت دیکھا جو رات کے بارہ بتا رہا تھا وہ شکستہ قدم چلتی ہوئی کمرے میں آ کر لیٹ گئی تھی ۔۔۔

دوسری طرف ہادی تھکا ہوا دوبارہ لاہور پہنچا تھا جہاں ہانی اس کی منتظر تھی

وہ ہادی کو دیکھتے ہی رونے لگی تھی وہ ہادی کو سر تا پير چھو کر صرف اپنی ملكيت ہونے کا اطمینان کر رہی تھی ۔۔۔

(بیوقوف عورت بھلا کبھی کوئی مرد بھی کسی عورت کو مکمل ملا ہے ؟؟؟؟وہ تو قدرتی طور پر بٹا ہوا ہے کہیں ماں باپ بہن بھائیوں تو کہیں یار دوستوں تو کہیں روزگار اور کہیں دوسری عورت کے ساتھ ۔۔۔۔۔)

“ارے پورا کا پورا صرف تمہارا

ہی ہوں یار چلو اب کسی ہوٹل میں چلتے ہیں کل اسلام آباد لے کر جاؤں گا رابی کے پاس”

وہ تنک کر بولا تھا

“ابھی لے چلیں مجھے رابی کے پاس میں اسے بتا دینا چاہتی ہوں آپ سرف میرے ہیں”

وہ ہادی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر جنونی انداز میں بولی تھی

“ابھی نہیں میں حد سے زیادہ تهک گیا ہوں مجھے ریسٹ کرنی ہے ورنہ پاگل ہوجاؤں گا”

وہ سر پکڑ کر بولا تھا

ہانی خاموشی سے اس کے ساتھ ہوٹل میں چلی آئی تھی