Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 4
Rate this Novel
Weran Zindagi Episode 4
گھر پہنچ کر پروین بيگم نے فوری طور پر گیسٹ روم کو پھول منگوا کر اسے وقار کی مدد سے سجايا تھا جبکہ زوہیب شفیق صاحب کے پاس ڈرائنگ روم میں بیٹھے یہاں وہاں کی باتیں کر رہے تھے سعدیہ رابی کے کمرے میں بیٹھی رابی کی نا ختم ہونے والی کھانے پینے کی باتیں مسکرا مسکرا کر سن رہی تھی
“سعدیہ باجی آپ کو پتہ ہے مجھے کھانے میں بہت کچھ پسند ہے مگر مجھے خود سے کچھ بھی پكانا نہیں آتا “
“ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔دے تالی”
رابی خوش دلی سے قہقہ لگا کر سعدیہ کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولی تھی
“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔بس کردو پاگل لڑکی میں اور نہیں ہنس سکتی ۔۔۔۔مار ڈالو گی کیا ؟؟”
سعدیہ اس کی ہٹ دهرمی پر لوٹ پوٹ ہو کر بولی تھی
“ارے آپ کیوں مرنے لگیی ؟؟؟ابھی ابھی تو ہم نے جینا شروع کیا ہے”
زوہیب جو کچھ دیر سے دونوں کی باتوں پر دروازے میں کھڑا محض مسکرا رہا تھا اب اندر آتے ہوۓ بولا تھا
زوہیب کی نظروں کا مکمل محور سعدیہ تھی جو شرما کر اپنا عروسی دوپٹہ سنبهالنے لگی تھی رابی کی ہنسی اڑن چھو ہوئی تھی وہ زوہیب کو سعدیہ میں مگن دیکھ کر وہاں سے باہر نکل گئی تھی
“آپ بھی نا بچی کے سامنے تو تھوڑا لحاظ کر لیتے۔۔۔۔وہ کیا سوچتی ہوگی؟”
سعدیہ نے نظریں مزيد جھکا کر آہستہ سے کہا تھا
“سعدیہ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ تم کتنی خاص،کتنی اہم ہو میرے لئے،میں تمہاری ساری محرومیوں کو ختم کر دینا چاہتا ہوں”
“میرا بس چلے تو پوری دنیا کہ آگے چیخ چیخ کر اپنا اظہار محبت ریکارڈ کرواؤں”
زوہیب قريب آکر بولا تھا اس سے پہلے کے وہ سعدیہ کا ہاتھ تھامتا پروین بيگم کمرے میں ناک کر کے داخل ہوئی تھیں
“ماشاءالله،ماشاءالله ۔۔۔میری بہو تو چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہے،چلو بیٹا آپ کا کمرہ تیار ہے ، کچھ رسم بھی ہے سب آپ دونوں کے منتظر ہیں”
وہ سعدیہ کا ہاتھ زوہیب کے ہاتھ میں دے کر ساتھ چلنے کا اشارہ کرکے باہر نکلی تھیں
وہ دونوں گیسٹ روم کے پاس پہنچ کر رک گئے تھے وہاں وقار اور رابی دوپٹے کا ایک ایک سرا پکڑے اندر جانے کے لئے رقم مانگ رہے تھے
“انکل مجھے پورے پانچ ہزار چاہیے،پھر اندر جانے دوں گی سعدیہ باجی کے ساتھ”
رابی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر چہک کر بولی تھی
“ارے ایسے کیسے؟؟بیٹا بس ہزار ہزار دے دوجان چھوڑواؤ ان سے”
شفیق صاحب زوہیب کو محبت سے دیکھ کر بولے تھے
“کیوں بھئی؟؟؟میں تو نہیں لیتی ایک ہزار”
رابی ناراض ہوتے ہوۓ بولی تھی
“یہ لیں جناب آدھے آدھے کر لیں بس ہماری بيگم صاحبہ کو ہمیں اندر لے جانے دیں”
زوہیب نے اپنا والٹ نکال کر رابی کے ہاتھ میں دونوں ہاتھوں سے ادب سے تهمایا تھا
سعدیہ کا رنگ شرم سے لال ہوا تھا وہ خدا کا شکر دل ہی دل میں ادا کرتی ہوئی زوہیب کو دیکھ رہی تھی
رابی کچھ لمحے زوہیب اور سعدیہ کو دیکھتی رہی
“نہیں اس کی ضرورت نہیں”
والٹ واپس دے کر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی
“پوری افلاطون ہے یہ لڑکی،کب کیا کرے گی کچھ سمجھ نہیں پاتی میں،چلو بیٹا آپ لوگ اندر چلو میں دیکھتی ہوں اس نيم پاگل کو”
پروین بيگم دروازہ اندر کی طرف کھول کر بولی تھیں
“اور میرے پیسے ؟؟؟”
وقار نے منہ بسور کر کہا تھا
“یہ والٹ لے لو اپنا حصہ لے کر باقی گڑیا کو دے دینا”
زوہیب نے والٹ آگے کرتے ہوۓ پیار سے کہا تھا
“ارے کوئی ضرورت نہیں چل میں تجھے دیتی ہوں ایک ایک ہزار دونوں کا آپ لوگ اندر چلو سعدیہ تھک گئی ہوگی “
پروین بيگم نے والٹ واپس زوہیب کو تهما کر کہا تھا
زوہیب سعدیہ کو لے کر اندر چلا گیا تھا جبکہ پروین بيگم وقار کے ساتھ رابی کے کمرے میں آئی تھیں وہ واش روم میں تھی نل چلنے کی مسلسل آواز آ رہی تھی
“لگتا ہے پاگل لڑکی اس وقت نہانے گھس گئی ہے،چلو تم بھی چلو اپنے کمرے میں میں بھی زرا عشاء پڑھ لوں،بہت درد ہے آج ٹانگوں میں سوچا تھا آج رابی سے مالش کرواؤں گی مگر ۔۔۔۔۔۔۔”
پروین بيگم تھکاوٹ کا اظہار کرتی ہوئی بولی تھیں
“اموں ۔۔۔۔پ پ پ ۔۔پیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دے دوں گی صبح دونو ں کو رابی مت بنو وقار ۔۔”
پروین بيگم جھنجھلا کر بولی تھیں
وہ دونوں رابی کے کمرے کا دروازہ بند کر کے جا چکے تھے
رابی شاور کے نیچے اسی جوڑے میں گم سم بیٹھی تھی
“زوہیب بھائی ایک عرصے سے سعدیہ باجی کے نکاح میں ہیں پھر آج تو یہ ہونا ہی تھا پھر مجھے یہ بے چینی کیوں ہو رہی ہے آخر ؟؟؟؟”
“زوہیب بھائی تو مجھے اپنی چھوٹی بہن،گڑیا کہتے ہیں بچپن میں مجھے گود میں کھلایا ہے تبھی ان کا لمس تھوڑا بے چین کر گیا مجھے ۔۔۔۔۔شاید یہی وجہ ہوگی ۔۔۔۔۔ہممممم ۔۔۔۔۔شاید ۔۔۔۔۔۔مگر سعدیہ باجی مجھے ان کے ساتھ کیوں اچھی نہیں لگ رہیں ؟؟؟؟”
“میں ان سے کم عمر اور زیادہ خوبصورت ہوں کم از کم یہ حسد تو نہیں ہے ۔۔۔۔پھر ؟؟؟؟!”
“یا اللّه ۔۔۔۔۔یہ کیا ہو رہا ہے مجھے سعدیہ باجی تو پہلے بہت دکھی زندگی گزار چکی ہیں یہ زوہیب بھائی ان کی زندگی کی پہلی اور آخری
خوشی ہیں ۔۔۔۔۔میں بس اب ان کا بہت سارا خیال رکھوں گی ۔۔۔۔سعدیہ باجی کا بھی اور انکل کا بھی ۔۔۔۔”
“میں اب بلکل فضول نہیں سوچوں گی،مجھے کوئی مسئلہ نہیں ان دونوں کے ہاتھ پكڑنے سے بس ہاں ۔۔۔یہی فائنل ہے اب”
وہ تیزی سے اٹھی تھی شاور بند کر کے نائٹ سوٹ پہنے وہ پر سکون سی سونے لیٹی تھی ۔۔۔مگر دھیان بار بار گیسٹ روم کی طرف چلا جاتا
“آخر مجھے اعتراض کس بات پر ہے ؟؟؟؟؟؟”میاں بیوی ہیں وہ تو اس میں عجیب کیا ہے ؟؟؟؟میں کیوں اتنا سوچ رہی ہوں ؟؟؟؟”
وہ بالوں میں ہاتھ پهنسا کر بے بسی سے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی
وہ سلیپنگ پل کھا کر دوبارہ سونے لیٹی تھی جس سے وہ جلد ہی اس اذیت سے آزادی پا کر سو گئی تھی
۔*****************
“مامی سات بج گئے ہیں میری گاڑی آ گئی ہوگی میں نکل رہی ہوں،دروازہ بند کر لیں”
ہانی چادر میں خود کو اچھے سے چھپاتے ہوۓ جاتے جاتے بولی تھی
“اچھا ہانی بات سن میری؟”
“جی مامی ؟؟؟”
“جتنی دیر بھی تیرا باس تجھے روکے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں بس میری بیٹی تم نے دن رات محنت کرنی ہے،بس اس کی ہاں میں ہاں ملانی ہے اس کی خوشی میں کوئی کثر نہیں رکھنی،نئی نئی نوکری ہے ابھی سے خوش رکھنا تا کہ تنخواہ بڑھا دے تیری اچھا؟؟تم سمجھ رہی ہو نا میری بات ہانی ؟؟؟”
مامی رازداری سے اپنا دوپٹہ کان کے پیچھے کرتی مخصوص زنانہ انداز میں پوچھ رہی تھی
“ج ۔۔۔۔ج ۔۔۔ جی ۔۔۔۔۔اچھا”
ہانی مامی کی باتوں کا مفہوم سمجھ کر چکراتے چکراتے بچی تھی وہ گھٹی آواز میں گلے میں آنسوؤں کا گولہ دبا کر بمشکل بول پائی تھی
اتنے میں باہر کھڑی آفس کی گاڑی نے اپنی آمد کی خبر ہارن دے کر دی تھی
ہانی اس میں آ کر بیٹھ گئی تھی
لگ بھگ آدھ گھنٹے میں وہ آفس پہنچی تھی پرسنل سیکرٹری کے کیبن میں وہ آ کر بیٹھ گئی تھی اسے کرنا کیا ہے وہ سمجھنے سے قاصر تھی وہ بال پوائنٹ ہاتھ میں پکڑ کر گھما رہی تھی جب ٹیبل پر پڑا پی۔ٹی۔سی۔ایل بجا تھا اس نے ریسیور اٹھا کر السلام علیکم بولا تھا دوسری طرف ہادی تھا جس نے اسے اپنے آفس میں بلايا تھا
وہ فورا اندر آئی تھی
“السلام علیکم سر ۔۔۔۔”
“وعلیکم السلام مس ہانی گڈ مارننگ”
ہادی نے مسکرا کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا اب وہ کسی کو کال ملا رہے تھے کچھ دیر میں عابد صاحب ایک لڑکی کے ہمراہ اندر آئے تھے جس نے ہاتھ میں کچھ پکڑا ہوا تھا
“مس ہانی یہ آپ ان سے لے لیں یہ آپ کے لئے ہیں ابھی بھی ان میں سے کوئی آپ پہن کر اپنا پہلا آفس کا دن سٹارٹ کر سکتی ہیں”
ہانی نے اٹھ کر اس لڑکی کے ہاتھ سے وہ خوبصورت،عمدہ اور جديد مگر سادہ عباۓ لئیے تھے وہ مختلف رنگوں کے دس عباۓ تھے
“اور باقی آپ آفس کی چھوٹی چھوٹی لوازمات خود ہی سمجھ جائے گی کچھ مس طوبہ آپ کو سیکھا دیں گی،آپ ان کے ساتھ جائیں،آج ہماری دس بجے ایک جگہ میٹنگ ہے پھر وہاں آپ کو میرے ساتھ جانا ہے ایک ہفتہ آپ کو بس سب دیکھنا اور سیکھنا ہے اس کے بعد میری ہر میٹنگ کی سر دردی صرف آپ کی ہوگی کلیئر مس ام ہانی ؟؟؟”
“جی سر”
ہانی پر جوش سی بولی تھی
وہ مس طوبہ کے ساتھ آئی تھی جس نے اسے کچھ چیزیں بتائی تھیں ایک گھنٹہ وہ ادھر کام سمجھ کر دوبارہ اپنے کیبن میں آ کر بیٹھی تھی وہ عبایا بھی پہن چکی تھی
“یا اللّه میں روز کے سوٹ بدلنے سے کتنی پریشان تھی اس تیرے بندے نے میرا مسئلہ حل کر دیا”
وہ خوبصورت سٹالر سے حجاب کيے پر سکون سی بیٹھ گئی تھی
“سر دس بجے سے پہلے کافی پیتے ہیں بھجوا دینا”
طوبہ کی بات یاد آئی تھی اس نے اس کی دی ہوئی ڈائری سے نمبر ملایا تھا
“لڑکا کچھ دیر پہلے ہی گیا ہے اس کے باپ کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے”
دوسری طرف سے کچن میں موجود بندے نے اسے مطلع کیا تھا
“باس کو خوش رکھنا”
مامی کی آواز کانوں میں گونجی تھی
وہ جلدی سے اٹھ کر تھوڑی آگے جا کر سائیڈ پر موجود چھوٹے سے کچن میں آئی تھی جہاں ہر سامان موجود تھا وہ کافی بنا کر خود ہی ہادی کے آفس آئی تھی
“سر آپ کی کافی”
“بہت اچھے وقت پر لائی ہیں ابھی جو میٹنگ ہے اس کا بہت پریشر ہے مجھ پر سر پھٹ رہا تھا”
ہادی نے فورا کافی کا مگ منہ کو لگایا تھا
“ارے واہ کیا کافی بنائی آج تبریز نے،ساری تھکاوٹ کھینچ لی میری مزہ آ گیا”
“سر وہ ۔۔۔۔یہ ۔۔۔”
اس سے پہلے کہ ہانی بات مکمل کرتی ہادی نے اسے میٹنگ کی فائل دے کر اسے پڑھنے کو کہا تھا
ہانی ادھر ہی موجود صوفہ پر بیٹھ کر آج کی میٹنگ کے پوائنٹس سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی جو کچھ سمجھ آرہے تھے کچھ اوپر سے گزر رہے تھے وہ پریشان سی ہادی کو دیکھ رہی تھی جو وائٹ ڈریس شرٹ پہنے کرسی پر نيم دراز سا کافی پی رہا تھا اور چیر بھی گھما رہا تھا
“چلیں مس ہانی ؟؟؟”
وہ تیزی سے اٹھا اور اپنا کوٹ پہن کر اب گلاسسز لگاتا ہوا ہانی سے مخاطب تھا
“جی سر”
وہ بھی اٹھی تھی
وہ دونوں ساتھ ہی نیچے آئے تھے
“میری شروع سے عادت ہے میں نے ہر کام کے لئے ورکر رکھا ہے مگر اپنی گاڑی میں خود ہی ڈرائیو کرتا ہوں”
وہ اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا اس نے آگے کا دروازہ ہانی کے کھولا تھا
ہانی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی ہادی نے حسب عادت تھوڑی دیر بعد سگریٹ دانتوں میں دبا کر لائٹر نکالا تھا
ہانی کو شروع سے ہی سگریٹ سے شدید مسئلہ تھا مگر وہ خاموش رہی ہادی مزے سے کش لیتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا
“سر گاڑی روک دیں”
ہادی نے فوری اس بات پر عمل کیا تھا
ہانی نے تیزی سے اتر کر قے کی تھی
ہادی پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا
“آپ ٹھیک ہیں کسی ہسپتال لے چلوں ؟؟؟”
“نہیں ۔۔۔بس ۔۔۔مجھے سگریٹ سے ایسا ہو جاتا ہے اب ٹھیک ہوں”
ہادی شرمندہ سا اب گاڑی کے چاروں دروازے کھول کر ائیر فریشنر کر رہا تھا
“آپ پہلے بتا دیتیں ہانی”
وہ اندر بیٹھنے کا اشارہ کر کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا
باقی کا سفر خاموشی سے گزرا تھا
میٹنگ کی جگہ پر پہنچتے پہنچتے اور واپسی تک رات کے آٹھ بج چکے تھے میٹنگ شہر سے دور ایک ہوٹل میں تھی
“میں آپ کو گھر چھوڑ آؤں گا آج”
ہادی نے رِسٹ واچ پر نظر ڈال کر کہا تھا
“کچھ کھائیں؟؟”
وہ اتر کر پیک کھانا گاڑی میں ہی لایا تھا کھانا کھا کر وہ جلدی سے باہر گیا تھا
ہانی آرام آرام سے کھانا کھاتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب اس کی نظر ہادی پر پڑی تھی جو گاڑی سے دور ایک چیئر پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا ہانی کو اس احترام پر عجیب سی خوشی ہوئی تھی اس کے لب بے سبب مسکرا دئیے تھے
