Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 7

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 7

ہانی گھر آئی تو دروازہ پہلے ہی کھلا تھا ایسا لگ رہا تھا بس اسی کا انتظار کیا جا رہا تھا

ممانی سر باندھ کر روتی ہوئی ملی تھی

“ہانی شکر ہے تم آ گئی ہو بس جلدی سے اپنے باس سے ایڈوانس تنخواہ لے کر آ ،ابھی جا واپس”

“ویسے بھی مہینہ کچھ دنوں میں پورا ہونے والا ہے”

مامی نے بے بسی سے کہا تھا

“کیا مطلب مامی ہوا کیا ہے ؟؟؟آپ ایسے رو کیوں رہی ہیں ؟؟؟”

“ماموں ٹھیک ہیں ؟؟؟”

ہانی پریشانی سے بے ہوش ہونے والی تھی وہ بیگ نیچے رکھ کر بے جان سی آہستہ سے بولی تھی

“گڈی دے ماری ہے کسی نے ان میں دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں میرا بھائی ہسپتال لے کر گیا ہے ان کو”

“مجھے کہا ہے فوری آپریشن ہوگا پیسوں کا بندوبست کر ۔۔۔ میں ترے انتظار میں بیٹھی ہوں ہانی کچھ کر ۔۔۔۔ہاۓ میرے سر دا سائیں ۔۔۔۔ “

وہ اب جاہل عورتوں كی طرح سر میں خاک ڈال کر پیٹ رہی تھی

ہانی جو اپنے حساب سے اپنی عزت کی حفاظت کی جنگ آج فتح کر کے وہاں سے بچ نکلی تھی دوبارہ خود کو قيد محسوس کرنے لگی تھی

اس نے بیگ سے آفس کا موبائل نکال کر ہادی کا نمبر ملایا تھا جو پہلی رنگ پر اٹھا لیا گیا تھا

“ہاں ۔۔۔۔۔ہانی بولو ۔۔۔۔میں سن رہا ہوں ۔۔ “

ہادی کی سانس پھولی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا میلوں سے دوڑ کر آیا تھا

“سر ۔۔۔۔مجھے آپ سے ملنا ہے آپ مجھے آفس کی گاڑی بھیجوادیں ابھی”

ہانی کی آواز کسی کنویں سے آئی تھی

“میں خود آتا ہوں”

ہادی جو گھر کے راستے پر تھا اب اس نے ہانی کے گھر کی طرف جانے والی سڑک پر گاڑی ڈالی تھی

کچھ ہی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی تھی

ہانی اسی آفس والے حلیے میں گم سم چارپائی پر بیٹھی تھی جبکہ مامی نے بھاگ کر دروازہ کھولا تھا وہ ہادی کو اندر لے آئی تھی

ہانی نے ہنوز نیچے دیکھ رہی تھی مامی نے اندر سے کرسی لا کر ہادی کو بیٹھا کر ساری بات روتے ہوۓ خوش آمدی لہجے میں بتائی تھی

ہادی نے اسی وقت پچاس ہزار کا چیک لکھ کر مامی کو تهما دیا تھا

مامی مختلف سستے جملے بول کر ہادی کی مشکور ہو رہی تھی ہانی بنا کوئی بات کئیے چپ چاپ اندر چلی گئی تھی

ہادی بھی گھر آ گیا تھا

اندر جا کر ہانی نے وضو کر کے عصر کی نماز ادا کی تھی اب وہ سجده کر کے دھاڑے مار مار کر رو رہی تھی

“میں بک گئی اللّه” اب میں ہادی سر کا ہاتھ نہیں جھٹک سکتی،وہ مان بھی آج چھن گیا مجھ سے”

بس یہی الفاظ تھے جو وہ درد کی شدت سے ادا کرتی اور اس کے رونے میں تیزی آ جاتی ۔۔۔

انسان بہت نا شکرا ہے وہ ہمیشہ اپنے شیطانی وسوسوں کی بنیاد پر رب کی رحمت کو جانجتا ہے وہ رب جو اس آسمان اور زمین کو ساتھ ملنے نہیں دیتا الگ رکھے ہوۓ ہے تو اس رب کے لئے اس گوشت پوست کے انسان کے مسائل بھلا کیا معنی رکھ سکتے ہیں؟؟؟؟مگر انسان اپنی عقل ناقص پر انحصار کر کے پریشان رہتا ہے ۔۔۔۔

ہانی نہیں جانتی تھی اللّه نے اس کی ہر دکھ پر مرحم کا بندوبست کر دیا ہے ۔۔۔

ہاں یہ سچ تھا وہ اب ہادی کا ہاتھ جھٹکنے کا حق کھونے والی تھی ۔۔۔

وہ رو دھو کر کچن میں کھانا کھانے آئی تھی مامی اب شاید ہسپتال جا چکی تھی گھر میں راجو اور سونی کے ساتھ کچھ محلے کے بچے کھیل رہے تھے

سالن بنانے کی اجازت ہانی کو نہیں تھی مگر شام ہونے کو تھی جب مامی واپس نا آئی تو بچوں کے بار بار کھانے کے مطالبے سے تنگ آ کر اس نے دال چڑھا دی تھی

رات کے دس بج رہے تھے جب مامی ماموں کا ہاتھ پكڑے مسکراتی ہوئی اندر آ رہی تھی ماموں کو سر پر پٹی بندھی تھی ایک ٹانگ بلکل ٹھیک تھی جبکہ دوسری میں بھی ایک جگہ پٹی بندھی تھی جس سے صاف پتہ چل رہا تھا ٹانگ ٹوٹی نہیں ہے بس ہلکی سی چوٹ ہے

ہانی ہکی بکی دونوں کو دیکھ رہی تھی اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتی مامی خود سے بولی تھی

“وہ دراصل ان کے ساتھ جو بندہ تھا وہ حالت ان کی تھی مجھے غلط بتایا گیا تھا،چل ہانی ماموں کے لئے یخنی چڑھا دے یہ لے دیسی مرغا لائی ہوں”

وہ شاپر پکڑا کر ماموں کے ہمراہ اندر چلی گئی تھی

ایک لمبی سانس کھینچ کر ہانی یخنی چڑھانے کچن میں آئی تھی

وہ سب کام نپٹا کر سونے لیٹیتھی مامی سے رقم کی واپسی کا مطالبہ بلکل فضول تھا کیوں کہ وہ رقم اس ماہ کی تنخوا سے بس پانچ ہزار زیادہ تھی جو ویسے ہی مامی کو دینی ہی تھی اس نے چند دن تک لہذا ۔۔۔۔کچھ کہنا فضول تھا

وہ جان گئی تھی وہ جتنی بھی کوشش کر لے رب کا لکھا نہیں ٹل سکتا ۔۔۔۔وہ سب اللّه پر چھوڑ کر پُر سکون سی سو گئی تھی

اگلی صبح وہ حسب معمول تیار ہو کر آفس کی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی

آفس میں وہ آج کے دن کی ٹاسک فائل لے کر ہادی کے کمرے میں آئی تھی

“السلام علیکم گڈ مارننگ سر”

“وعلیکم السلام”

“میرے ساتھ آئیں ہانی”

وہ کہہ کر باہر نکل گیا تھا ہانی دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے پیچھے نکلی تھی

جب تک وہ نیچے پہنچی وہ گاڑی سٹارٹ کر کے فرنٹ ڈور کھولے اس کا منتظر تھا ہانی چپ چاپ بیٹھ گئی تھی کافی دیر بے مقصد

گاڑی گھمانے کے بعد اس نے ایک جگہ گاڑی سائیڈ پر لگا دی تھی وہ ہانی کی طرف اب بنا کسی آڑ کے دیکھ رہا تھا

ہانی کل والی مامی کی حرکت کے بعد اب بس اپنی قسمت اللّه پر چھوڑ چکی تھی وہ بس اپنے ہاتھ ایک دوسرے میں پھنساۓ بظاہر پُر سکون سی بیٹھی تھی مگر دل میں طوفان چل رہا تھا

“ہانی ؟؟؟مجھ سے شادی کروگی ؟؟؟”

سوال اتنی بے قراری سے پوچھا گیا تھا کہ ہانی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے وہ باقاعدہ رونے لگی تھی

“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تمہیں اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں”

سوال کی وضاحت کی گئی تھی

ہادی نے ایک بار پھر ہانی کا ہاتھ پکڑا تھا اس بار ہانی نے بنا کوئی مزاحمت کے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر اپنا سر ہاں میں ہلا دیا تھا

“میں جلد ہی ماں سے بات کرتا ہوں،میں ایک لمحہ بھی تمہارے بغیر نہیں گزار سکتا”

وہ ہی محبت کے وعدے قسمے ۔۔۔۔جن کے الفاظ ازل سے نہیں بدلے بس ان کا اظہار کرنے والی زبان سچی یا جھوٹی ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔ارادے ۔۔۔نیت ۔۔۔۔اور جذبات کی تاثیر ،مگر ضرور بدلتی ہے ۔۔۔۔

ہادی اب دوبارہ ہانی کو آفس لایا تھا خود وہ واپس گھر آیا تھا

۔****************

آج زوہیب کو گئے پانچ مہینے ہو چکے تھے رابی نے خود کو بی_اے کی تیاری میں مصروف کر لیا تھا وقت اپنی ڈگر پر گزر رہا تھا گرمی کی جگہ اب سردی نے لے لی تھی اب شام میں اچھی خاصی ٹھنڈ ہونے لگی تھی

رابی بنا پنکھا لگاۓ اپنے کمرے میں بیٹھی پڑھ رہی تھی جب پروین بيگم کی گھبرائی آواز اس کے کانوں میں ٹکڑائی تھی

“کیا کہتے ہیں ڈاکٹرز ؟؟؟بیٹا یہاں لے آؤ یہاں کروالے گے علاج تم پریشان مت ہو سعدیہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی،ایسا ہو جاتا ہے زچگی میں،گاؤں میں تو آج تک کوئی نہیں مرا اس سے بهلی چنگی پھر رہی ہیں عورتیں”

پروین بيگم کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے مگر وہ زوہیب کو حوصلہ دے رہی تھیں کچھ وقت ایسے ہی گزرا اب پروین بيگم فون بند کر کے باقاعدہ رونے لگی تھیں

“اموں کیا ہوا ہے سعدیہ باجی کو ؟؟؟”

رابی نے ماں کو جنجھوڑ کر پوچھا تھا

“حمل تھا ۔۔۔۔۔۔ساتھ چھوٹی سی رسولی بھی بن رہی تھی ڈاکٹر کہتے بچے کے ساتھ ہی نکال دیں گے ۔۔۔۔مگر آج وہ پھٹ گئی ہے اس کے زہر سے بچہ بھی مر گیا ہے ۔۔۔ساتھ ہی سعدیہ کی حالت بھی خراب ۔۔۔۔بے ہوش ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے آپریشن سے سب باہر نکال دیا ہے مگر جو باقی کی رپورٹس ہیں وہ بھی اچھی نہیں آئی۔۔۔۔سعدیہ کمزور ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے بس دعا کا کہا ہے”

پروین بيگم اب منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر تکلیف سے رونے لگی تھیں

رابی کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے ٹھہر گئی تھی کاٹو تو چھری پر خون کا ایک قطرہ نا لگے ۔۔۔۔اس کا رنگ سفید ہوچکا تھا وہ الٹے قدم اپنے کمرے میں چلی آئی تھی کنڈی لگا کہ وہ گھبرائی سی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی

وہ رونا چاہتی تھی مگر آنسو آج اس پر مہربان نہیں تھے اس کا دل ایسے بھاری تھا مانو پوری دنیا کا بوجھ اس پر رکھ دیا گیا تھا

اس نے خود کو زور سے ہاتھ پر کاٹا تھا وہ تکلیف سے رونا چاہتی تھی مگر اس کو درد محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا

اتنے میں ایک بار پھر پروین بيگم کا موبائل بجا تھا جسے فورا اٹھا لیا گیا تھا فون پر جو بھی بتایا گیا تھا اس کا جواب پروین بيگم نے محض چیخ کر دیا تھا

“ہاۓ میری سعدیہ”

رابی بھاگ کر باہر گئی تھی جہاں پروین بيگم بے ہوش پڑی تھیں رابی نے فون کان کو لگایا تھا

“ہیلو؟؟؟”

“گڑیا میری سعدیہ نہیں رہی”

زوہیب نے بهرائی آواز میں کہا تھا جسے سن کر رابی نے چیخ ماری تھی

“میں نے یہ نہیں چاہا تھا”

وہ پاگلوں کی طرح چیختی اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی اب وہ واش روم کو بھی لاک کر کے ادھر بیٹھ گئی تھی

“اب اللّه کی پولیس آئے گی مجھے پکڑ کر پھانسی دے گی،مگر اللّه آپ تو جانتے ہیں نا میں نے زوہیب بھائی کو کبھی مانگا نہیں تھا پھر سعدیہ باجی کو کچھ ہو جائے ؟؟؟!یہ تو میں نے کبھی نہیں چاہا “

وہ دھاڑے مار مارکر اب رو رہی تھی

“میری بہنوں جیسی سعدیہ باجی ؟؟؟؟؟؟؟؟”

“میں آپ کو کیسے واپس لاؤں ؟؟؟؟؟”

“میں اب کبھی زوہیب بھائی کو یاد کر کے نہیں روں گی بس آپ واپس آ جایئں”

وہ بری طرح تڑپ رہی تھی کافی وقت ایسے ہی گزرا تھا پھر اسے بیہوش پڑی ماں کا خیال آیا تھا وہ جلدی سے باہر آئی تھی جہاں کوئی نہیں تھا شفیق صاحب انھیں گھر داخل ہوتے ہی اس طرح دیکھ کر فورا ہسپتال لے کر گئے تھے جبکہ وقار کو ٹینٹ والے کے پاس بھیجا تھا کیوں کہ ان کو زوہیب فیکٹری میں مطلع کر چکا تھا

رابی اب برآمدے میں بیٹھ کر درود شریف کا ورد کرنے لگی تھی

“اللّه سب ٹھیک کر دے گا”

وہ خود پر غلط سلط دوپٹہ اڑھتی خود کو تسلی دے رہی تھی

پروین بيگم کا بی_پی بڑھنے کی وجہ سے وہ بےہوش ہوئی تھیں ڈرپ اور کچھ انجکشن لگا کر ان کو گھر بھیج دیا گیا تھا

میت دو دن تک آنی تھی مگر تمام رشتہ داروں کو آگاہ کر دیا گیا تھا لوگ شام تک شفیق صاحب کے گھر پر جمع ہو چکے تھے

سعدیہ کے بھائی اور بھابھی بھی آ چکے تھے دونوں بھائی ایک دوسرے کو گلے لگا لگا کر تکلیف سے روتے مگر دل کو صبر نا آتا آج دونوں بھابھیاں بھی دل کھول کر رو رہی تھیں

انسان بہت عجیب ہے جب تک ہم زندہ ہوتے ہیں ہم اپنی بے گناہی میں قرآن پر بھی ہاتھ رکھ دے تو کوئی دل سے ہمیں اچھا نہیں مانتا مگر جیسے ہی کوئی مر جاتا ہے اس کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں فقط اس کی اچھائیوں کا ذکر کیا جاتا ہے اچھا کہلوانے کے لئے مرنا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔۔۔

جب تک سعدیہ زندہ تھی بھابھیاں اسے بھیج کر بھی پر سکون نہیں تھیں بات بات پر اس کے بارے زہر اگلتیں ۔۔۔۔مگر آج اس کا ہر گناہ دھل گیا تھا ان کی نظر میں ۔۔۔

آج وہ دل سے دکھی تھیں ۔۔۔

دو دن بعد سعدیہ کو میت گھر کے دروازے پر تھی جنازہ ادھر دبئی میں ہی پڑھا کر کفن پہنایا جا چکا تھا میت کو اب بس فورا دفنانا مقصود تھا کیوں کہ اب میت کو مزيد رکھنا کسی طرح بھی مناسب نہیں تھا سعدیہ کا تابوت اس کے بھائیوں کے بے حد اسرار پر گھر کے صحن میں رکھ دیا گیا تھا دونوں بھائی اس کے چہرے والے شیشے کی جگہ پر ہاتھ پھیر کر چوم چوم کر دیوانہ وار رو رہے تھے

“چلی گئی میری بیٹی جیسی بہن دیکھ لو اچھی طرح پھر نا کہنا تم نے دبئی رقم بھیجی ہے اسے ؟؟؟؟؟دیکھ لو کرلو تسلی ؟؟؟؟؟؟”

بڑے بھائی اپنے بیوی کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہے تھے جس پر بھابھی بھی زور دے کر رونے لگی تھی

رابی کسی سہمے ہوۓ بچے کی طرح دیوار سے لگ کر بیٹھی ہوئی تھی

وقار اس کے پاس آیا تھا آپی آپ بھی دیکھ لو پھر لے کر جانے لگے ہیں سعدیہ باجی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے”

وہ منہ پر بازو رکھ کر رونے لگا تھا

زوہیب ایک طرف سر جھکا کر بے آواز رو رہا تھا رابی نے ان کی طرف دیکھا تھا وہ بجلی کی تیزی سے ان کے پاس آئی تھی ان کے گلے لگ کر وہ اونچی اونچی رونے لگی تھی وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھے اب بھی بے آواز رو رہا تھا

“زوہیب بھائی میری سعدیہ آپی چلی گئی آپ نے روکا کیوں نہیں ان کو ؟؟؟؟؟؟؟؟”

رابی کی حالت غیر ہو رہی تھی اب سب میت کو لے کر جانے كی بات کر رہے تھے زوہیب رابی کے سر پر دوپٹہ دے کر اٹھ گیا تھا

رابی اب ہاتھ جوڑ جوڑ کر سعدیہ کی میت کے پاس بیٹھی معافی مانگ مانگ کر رو رہی تھی اس کو تابوت کھول کر اس کا نیلا پڑتا چہرہ بھی دیکھایا گیا تھا وہ پر سکون سی ابدی نیند سو رہی تھی ۔۔۔

شام کا وقت ۔۔۔۔

كلمہ شہادت اَللّٰهُُ اَكْبَر کی صدا شفیق صاحب کے گھر سے گونجتی ہوئی قریبی آبائی قبرستان کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔

رابی بیہوش ہو چکی تھی اس کے لئے فوری ڈاکٹر کو گھر پر ہی بلایا گیا تھا ۔۔۔۔

سعدیہ جیسے چپ چاپ ان کی زندگی میں آئی تھی ویسے ہی خاموشی سے جا چکی تھی ۔۔۔۔

ہمارے ساتھ کچھ بھی کسی کی وجہ سے نہیں ہوتا،کیوں کہ سب مقدر کی باتیں ہیں اور جو اس میں لکھا جا چکا ہے وہ بھلا کوئی انسان کیسے چھين سکتا ہے ۔۔۔۔کوئی قسمت میں نا لکھا ہو تو وہ کسی صورت نہیں ملتا چاہے ہر روکاوٹ ختم بو جائے ۔۔۔

اب یہی ثابت ہونا تھا سعدیہ تو کبھی رابی اور زوہیب میں روکاوٹ تھی ہی نہیں ۔۔۔

ساری بات مقدر کی ہے ۔۔۔۔۔وقت كی ہے ۔۔۔۔۔آج وقت نے پھر سے نئی چال چلی تھی ۔۔۔۔

سب کی قسمت بدلنے والی تھی ۔۔۔۔ ہم فقط مہرے ہیں ۔۔۔۔یہی ثابت ہونا تھا ۔۔۔۔