Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 8

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 8

سعدیہ کے قُل کے ختم کے بعد زوہیب واپس چلا گیا تھا وہ بری طرح ٹوٹ چکا تھا یہاں پاکستان میں، جہاں سے سعدیہ کا خمیر اٹھا تھا اس کے لئے یہاں مزيد اس کی مختصر یادوں کا بوجھ اٹھانا نا ممکن ہوچکا تھا سب نے اسے یہاں رہ کر اس کا غم بانٹنے کا بہت کہا تھا مگر کوئی بھی اس کی ذہنی اور دلی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا

رابی سے سعدیہ کی تدفین کے بعد سے زوہیب کا ایک بار بھی سامنا نہیں ہوا تھا وہ قُل کا ختم ہوتے ہی قبرستان سے ہی چپ چاپ رات کی فلائٹ لے کر دبئی آ گیا تھا

شفیق صاحب اور پروین بيگم کو بھی اس نے ایئر پورٹ پہنچ کر فون پر مطلع کیا تھا گو کہ وہ اپنے جلدی واپسی کے ارادے سے سعدیہ کی تدفین کی شام کو ہی آگاہ کر چکا تھا

پروین بيگم رابی کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں جب ان کو زوہیب کے جانے کی خبر ملی تھی رابی نے پُر سکون سا ہو کر یہ سب سنا تھا

سعدیہ باجی کی موت نے رابی کو ہلا کر رکھ دیا تھا زوہیب کے جانے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا

انسان کو اللّه نے بہت سخت پیدا کیا ہے کوئی ہمیں کتنا بھی عزیز ہو اس کے ساتھ ہم مرتے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔کم از کم یہ زخم اللّه بہت جلدی بھر دیتا ہے ۔۔

سعدیہ مٹی کے ساتھ مٹی ہو گئی تھی مٹی کے اوپر موجود انسان واپس اپنی زندگی میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔

اس سب میں نقصان صرف سعدیہ کا ہی ہوا تھا جو اس ایک بار ملنے والی قیمتی زندگی سے اپنے حصے کی بہت مختصر خوشی لے کر گئی تھی باقی کے سب لوگ کچھ ہفتوں کے سوگ کے بعد اب واپس زندگی کی طرف لوٹ آئے تھے

اسی میں پورا سال گزر چکا تھا ۔۔۔

اس ایک سال نے رابی کو مکمل طور بدل کر رکھا تھا وہ بات بات پر رولا ڈالنے والی رابی اب ہر وقت سنجیده رہتی وہ اب گھر کا ہر کام ماں کے ساتھ مہارت سے کرتی وہ بہت کم بحث کرتی اگر یہ کہا جائے کہ پورا گھر اسی نے سنبھال رکھا تھا تو یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا ۔۔۔

اسی دوران اس کا بی_اے بھی مکمل ھو چکا تھی

دوبارہ سے مون سون شروع ہو چکا تھا آج پہلی بارش متوقع تھی رات سے ہی موسم میں ٹھنڈک آ چکی تھی گہرے بادل آسمان پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے تھے

عصر کا وقت تھا رابی ماں کو چاۓ دے کر چھت پر آئی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی ساتھ ہی آندھی شروع ہوئی تھی رابی کی نظر دروازے پر کھڑے شخص پر پڑی تھی جو آنکھوں کو دھول سے بچانے کے لئے اپنا بازو منہ پر رکھے کھڑا تھا

وقت واپس جا چکا تھا رابی نے اس کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کیا تھا وہ دروازہ کھولنے کی بجاۓ سیڑھی میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی گویا ایک بار اس کے لئے دل کا دروازہ خود بخود کھلا تھا

“ارے دروازہ کیوں نہیں کھول رہی رابی؟؟”

پروین بيگم آندھی میں اپنا دوپٹہ اڑنے سے بچانے کے لئے اپنے سر پر گھوما کر ایک نظر ہوا سے اڑتے ہوۓ دوپٹے کے ساتھ کھڑی رابی پر ڈال کر دروازے کھولنے آگے آئی تھیں

ساتھ ہی بارش شروع ہوئی تھی دروازے کھلتے ہی ہوا کا ایک ٹھنڈاجھونکا آنے والے کے ساتھ اندر آیا تھا

“السلام علیکم چاچی”

زوہیب پروین بيگم سے مخاطب ہوا تھا جو اسے دیکھ کر جی اٹھی تھیں

“کیسی ہو گڑیا؟؟”

زوہیب رابی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کا چھوٹتا دوپٹہ اس کے سر پر دے کر اندر گیا تھا بارش تیز ہو گئی تھی رابی اندر جانے کی بجاۓ واپس چھت پر آئی تھی آج کافی عرصے بعد اس کا دل آزادی سے دھڑکا تھا

ایک عجیب سا احساس اسے سرشار کر رہا تھا اللّه نے اسے اس شخص سے نوازا تھا جو آج وہ مکمل طور پر اس کا تھا

صرف اس کا ۔۔۔۔۔وہ بارش میں جھومتی ہوئی کافی دیر اسے پانے کی خوشی کا جشن مناتی رہی ۔۔۔

لگ بھگ ایک گھنٹہ ہونے کو تھا وہ نیچے آئی تھی جہاں مکمل خاموشی تھی وہ اپنے کمرے میں جا کر حلیہ درست کر کے کچن میں آئی تھی جہاں اموں رات کا کھانا دیکھ رہی تھیں

“اموں ؟؟کیا بنانا ہے ؟؟”

“اچار گوشت اور مٹن پلاؤ”

اموں نے فریج سے گوشت نکالتے ہوۓ کہا تھا

“میں دونوں چیزیں بنالوں گی اموں،زوہیب بھائی کدھر ہیں ؟؟”

“وہ سونے لیٹ گئے ہیں ،پکا اکیلی بنا لو گی ؟؟؟”

“جی اموں”

وہ آج عرصے بعد چہک کر بولی تھی

“ٹھیک ہے بیٹا بارش تھم گئی ہے میں ذرا گلی کی دوکان سے سلاد کا سامان لے آؤں”

وہ کچن سے نکل گئی تھیں

رابی نے کسی ماہر شیف کی طرح ایک خاص ترتیب سے کھانا بنانا شروع کیا تھا

“یہ واقعی میری گڑیا ہے ؟؟؟”

وہ مگن سی چاول دھو رہی تھی جب زوہیب کی آواز دروازے سے آئی تھی

رابی نے کوئی بھی جواب دیے بغیر “میری گڑیا” پر دل میں گدگدی محسوس کی تھی وہ انہیں دیکھ کر محض مسکرائی تھی

“کیا بن رہا ہے بھئ؟؟بہت بھوک لگی ہے”

زوہیب ڈائنگ کی چیئر کھینچ کر بیٹھ گیا تھا

“اچار گوشت اور مٹن پلاؤ”

رابی نے چاول دم پر لگاتے ہوۓ بتایا تھا

“واوو مزیدار یہ دونوں چیزیں میری مرغوب ہیں”

زوہیب جوش سے کہا تھا

“وہ آپ کو یاد نہیں آتیں ؟؟”

رابی نے سامنے بیٹھ کر زوہیب کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا

“تمہیں میں زندہ لگتا ہوں گڑیا ؟؟؟میں دفن ہو گیا ہوں اس کے ساتھ ہی،بس اللّه کی دی عمر کاٹ رہا ہوں”

وہ اداس سا بولا تھا

“ایسا مت کہیں ہو سکتا ہے اللّه نے آپ کو یہ سانسیں اسی لئے دے رکھی ہو کیوں کہ کوئی اور آپ کو سوچ کر جی رہا ہو”

رابی بنا پلک جھپکاے نڈر سی بولی تھی

“میرا بچہ زندہ ہوتا تو شاید ۔۔۔،۔۔۔تمہاری بات مان لیتا ۔۔۔۔گڑیا”

زوہیب اٹھ کر جانے کے لئے مڑا تھا

“میں ۔۔۔۔آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بے بس ہوں ۔۔۔۔۔۔زوہیب”

رابی کہہ کر دوسری طرف منہ کر کے بظاہر کام میں مصروف ہوگئی تھی

رابی کا ” زوہیب” کے ساتھ” بھائی” کا لفظ تلف کرنا زوہیب کو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگا تھا وہ جلدی سے اپنے کمرے میں آیا تھا

وہ جو اپنا سارا کاروبار دبئی سے پاکستان شفٹ کر کے اب یہاں کچھ دن رہنے آیا تھا اس انجانی صورت حال سے پریشان حال سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

اسے رابی سے اس قدر بے باک اظہار کی امید بلکل نہیں تھی

رات کا کھانا بہت اچھے ماحول میں کھایا گیا تھا

زوہیب اور وقار ایک ہی کمرے میں سو رہے تھے

شفیق صاحب نے زوہیب کو اب یہیں رہنے کی سختی سے تاكيد کی تھی اور اپنی ناراضگی کی دھمکی دی تھی

زوہیب صبح کا ناشتہ کر کے اب بائیک نکال کر اپنے لئے ایک گاڑی دیکھنے شوروم جا رہا تھا جبکہ وقار اور شفیق صاحب فیکٹری جا چکے تھے

“زوہیب بیٹا رابی کو بالوں کی کٹنگ کروانی ہے تھوڑی آگے جا کر ایک پارلر ہے اسے وہاں اتار دینا زوہیب جتنا اس لڑکی سے دور رہنا چاہتا تھا وقت اتنا ہی اسے نزدیک کر رہا تھا اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا رابی بڑی سی چادر لیے اس کے پیچھے بیٹھ چکی تھی

اموں اندر جا چکی تھیں

“جہاں رکنا ہوا بتانا گڑیا”

زوہیب نے ہمیشہ کی طرح نرمی سے کہا تھا

“جی زوہیب ۔۔۔۔”

رابی نے اپنا ہاتھ کندھے سے ہٹا کر زوہیب کی کمر پر رکھ کر کہا تھا

زوہیب کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی جا بجا پارلر آرہے تھے مگر رابی آنکھیں بند کیے پرسکون سی زوہیب کے کندھے پر سر رکھے بیٹھی ہوئی تھی

“کہاں اترنا ہے تم نے گڑیا ؟؟؟میں لیٹ ہو رہا ہوں”

زوہیب نے تنگ آ کر بائیک ایک سائیڈ پر لگا کر نسبتأ غصے سے کہا تھا

“جہاں آپ وہاں میں،کہیں نہیں اترنا میں نے زوہیب،ایک بار آپ کو الگ ہونے دے دیا میں نے خود سے اب بس موت ہی مجھے آپ سے الگ کر سکتی ہے،سنا آپ نے زوہیب ؟؟؟؟”

رابی اتر کر اس کے رو برو کھڑی ہو کر برھم ہوتے ہوۓ بولی تھی

“یہ کیا بكواس ہے رابی ؟؟؟؟”

آج شاید پہلی بار زوہیب نے رابی کو گڑیا کی جگہ رابی کہا تھا

“یہ بکواس نہیں ہے،یہ ‘محبت’ ہے زوہیب جو میرے دل نے صرف آپ سے کی ہے،یہ میرے بس میں نہیں ہے ۔۔۔۔مجھے اپنا لیں ۔۔۔۔میں نے ٹوٹ کر آپ سے محبت کی ہے ۔۔۔۔مجھے اپنے پیروں کی دھول بنا لیں مگر خود سے الگ مت کریں”

وہ قریب آتے ہوۓ جنونی انداز میں بولی تھی جس پر زوہیب نے اسے کھڑا چھوڑ کر بائیک سٹارٹ کر کے آگے بڑھا لی تھی

رابی نے مسکرا کر جاتے ہوۓ زوہیب کو دیکھا تھا جو کچھ دور جا کر بے بس سا واپس آیا تھا اس نے بائیک روک دی تھی رابی نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوۓ اسے آئی لو یو کہا تھا

زوہیب نے محض لمبی سانس کھینچ کر بائیک شوروم کی طرف لی تھی

۔*******************

“السلام علیکم ماں”

ہادی نے ماں کے گرد بازو حمائل کر کے ان کا ماتھا چوما تھا

“وعلیکم السلام بیٹا”

“آج بہت خوش لگ رہا ہے میرا بیٹا ؟؟؟”لگتا ہے کوئی ڈیل فائنل ہوئی ہے جو بہت اہم تھی ہادی انڈسٹریز کے لئے”

“نہیں ماں،ایسی ڈیل فائنل ہوئی ہے جو ہادی کے لئے بہت زیادہ اہم تھی”

“ماں ہادی نے جس لڑکی کو دل و جان سے چاہا تھا اس نے ہاں کردی ہے آپ بس میری شادی كی تیاریاں کریں”

ہادی بنا پنکھ کے بس اُڑ رہا تھا صبیحہ بيگم کا رنگ بھی اسی حساب سے اڑا تھا

“کون ؟؟؟”

وہ سنجیده ہوئی تھیں

“ماں وہ میری سیکرٹری ‘ام ہانی’

آخر وہ ہی ہوا تھا جس کا ڈر تھا صبیحہ بيگم نے آج زندگی میں پہلی بار ہادی کو تھپڑ رسید کیا تھا جو ہادی کے ہر سوال کا جواب تھا

وہ چپ چاپ کمرے سے باہر آ گیا تھا گاڑی بے مقصد سڑکوں پر دوڑاتا ہوا وہ سگریٹ کی دو ڈبیہ پھونک چکا تھا

اس کی ہر پل جان دیتی ماں کو اس کی زندگی کے اتنے اہم انتخاب پر اعتراض ہوگا یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا

وقت دیکھا جو کہ آفس سے چھٹی کا تھا وہ ہانی کو پوری بات بتا کر اپنے ساتھ کی یقین دیہانی کروانا چاہتا تھا

وہ آفس پہنچا تو عابد صاجب نے انھیں ہانی کا استعفیٰ تهما دیا تھا

جبکہ صبیحہ بيگم اپنے آفس میں بیٹھی تمام بزنس کی فائلز منگواکر ان کی ورق گردانی کر رہی تھیں

یہ سب ہانی سے جبراًن کروایا گیا تھا ہادی یہ جان چکا تھا

ہادی کی محبت کی کلی کھلنے سے پہلے ہی مسل کر پھینک دی گئی تھی

آج پورا ہفتہ ہوگیا تھا ہانی کو آفس سے فارغ کیے صبیحہ بيگم نے ایک تجربہ کار چالیس سالہ ایک خاتون کو ہادی کی سیکرٹری مقرر کیا تھا جو اپنے کام میں ماہر تھی وہ تمام امور

ہانی سے بھی زیادہ اچھے انداز سے ادا کر رہی تھیں

آفس کے کسی بھی معاملے پر ہانی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ہاں مگر ہادی کے دل کے معاملات بہت خراب جا رہے تھے

اس نے سگریٹ کا استعمال حد سے زیادہ کر دیا تھا

ہانی کے لالچی گھر والوں کا خیال اسے الگ سے پریشان کیئے رکھتا ۔۔۔۔۔

صبیحہ بيگم کے ساتھ وہ اب بھی پہلے کی طرح محبت سے ہی ملتا وہ ہادی کی اس پسند کو بہت معمولی لے رہی تھیں جو کوئی بھی آنے والی عورت ہو سکتی تھی ۔۔۔

ان کے نزدیک ہانی محض ہادی کے کسی کمزور لمحے کی پیداوار تھی جیسے وہ محبت سمجھا تھا انہوں نے ہانی کو ایک لالچی اور بد کردار لڑکی سمجھا تھا جس نے ان کے جوان خوبصورت بیٹے کو اپنی جوانی میں مدہوش کر کے پھنسایا تھا جیسے ہادی بہت جلد بھول جاتا ۔۔۔۔

وقت تیزی سے گزر رہا تھا آج ہانی کو گئے مہینہ ہوا تھا ہادی کا زخم آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ تھا آخر دل کے ہاتھوں تنگ آکر ہادی ہانی کے دروازے پر آیا تھا

دروازہ مامی نے کھولا تھا جو ہادی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی اور اسے فورا اندر آنے کو کہا تھا ہانی بچوں کو پڑھا کر اب اپنے کمرے میں سستانے لیٹی تھی جب اس کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی

“راجو سونے دو نہیں ہے تمہاری گیند ادھر”

ہانی نے بنا دیکھے مامی کے بیٹے کی سرزنش کی تھی اب پھر سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تھی

“ہانی ؟؟؟”

“میری جان ؟؟؟”

ہادی ہانی کی چار پائی پر بیٹھ کر اس کے چہرے پر آئی لٹوں کو ہٹا کر بے چین سا بولا تھا

ہانی نے اس کا ہاتھ جھٹک کر دروازے کی طرف دوڑ لگائی تھی جو کہ مامی نے باہر سے بند کر رکھا تھا

“آآآ پ ؟؟؟؟؟؟یہاں ؟؟؟؟”

ہانی ہانپتی ہوئی اپنے گرد اپنا دوپٹہ گھماتی بولی تھی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں

“پلیز مجھ سے مت ڈرو میرا ایسا ویسا کوئی ارادہ نہیں ہے ہانی میری جان بس تمہیں دیکھنے آیا تھا تمہیں بتانے آیا تھا میرا انتظار کرنا”

“تم گھر سے کہیں کام پر مت جانا تم میری امانت ہو تمہاری مامی سے کہا ہے ہر ماہ ان کو رقم مل جایا کرے گی بس تمہیں گھر پر سکون سے رہنے دیں،اتنی سی گزارش کرنے آیا ہوں”

“مام کو منا لوں گا میں،تب تک صرف میری رہنا”

ہادی کسی بچے کی طرح دروازے كو پاس سہمی بیٹھی ہانی کے پاس آلتی پالتی مار کر بھیگے ہوۓ لہجے میں بول رہا تھا

“تم سے دستبرداری میرے بس میں نہیں ہی میری جان،میں نے تم سے عشق کیا ہے ہانی”

“صرف میری رہنا”

وہ ہانی کو ایک طرف ہونے کا اشارہ کر کے اب مامی کو دروازہ کھولنے کا کہہ رہا تھا جس نے اس ملاقات کے بیس ہزار لیئے تھے

ہانی حیران پریشان اپنے بے مول ہونے پر مامی کے بارے میں سوچ رہی تھی جسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا کہ ہادی اس رقم کے بدلے اس بند کمرے میں اس کے ساتھ کس حد تک جا سکتا تھا

تذلیل سے ہانی کی آنکھیں لال ہوئیں تھیں

ہادی اس کے چہرے کو ہلکے سے چھو کر آنکھیں مسلتا کمرے سے باہر آ گیا۔۔۔۔

یہ وہ بزنس ٹائیکون ہادی تو بلکل نہیں تھا جیسے پوری دنیا جانتی تھی یہ تو ایک ٹوٹا ہوا انسان تھا جس کا دل بری طرح زخمی تھا جس کی زندگی کا مقصد بس اس کے مرحم کی تلاش تھی ۔۔۔