Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 3

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 3

ہانی کو ڈرائیور ایک پرانے محلے میں چھوڑ کر چلا گیا تھا گلی میں موجود کچھ لوگوں نے ہانی کو اتنی خوبصورت گاڑی سے اترتا دیکھ ایک دوسرے کو حیرانگی سے دیکھا تھا ان کی نظروں میں فقط کھوج تھی جو ہانی کو سر تا پير دیکھ کر وہ کر رہے تھے ۔۔

ہانی نے دوپٹہ اور اچھے سے اپنے گرد لپیٹ کر اپنے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تقریبأ دس منٹ بعد دروازہ اس کے ماموں نے کھولا تھا انہوں نے ناگواری سے اسے دیکھ کر اندر آنے کا راستہ دیا تھا

“ارے اندر کدھر آرہی ہیں میڈم جی ؟؟؟؟جاب ملی ؟؟؟؟؟”

مامی نے ہانی کو آڑے ہاتھوں لیا تھا

“جی ۔۔۔۔۔مامی ۔۔۔۔۔۔کل سے سات بجے جاؤں گی”

اس کے ساتھ ہی ہانی نے ہادی کے ساتھ ہوئی جاب کی نوعیت کے حوالے سے ساری باتیں دونوں کے گوش گزار کر دی تھیں جیسے سنتے ہی دونوں کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی تھی

“ارے واہ ۔۔۔۔میری بیٹی ۔۔۔۔چلو تم منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا گرم کرتی ہوں ۔۔۔۔۔پنتالیس ہزار ۔۔۔۔ہاۓ او ربا ۔۔۔۔۔۔”

مامی خوشی سے ہانی کے سر پر ہاتھ رکھتی کچن کا تالا کھولنے گئی تھیں

ہانی نے لمبی سانس کھینچ کر ماموں کی طرف دیکھا تھا جو شرمندہ سے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہے تھے

“اتنا بھی کافی ہے ماموں”

ہانی نے دل میں سوچا تھا وہ اپنی فائل لیے اپنے کمرہ کم ,اسٹور زیادہ نما کمرے میں گئی تھی اب وہ وضو کر کے نماز پڑھنے بیٹھ گئی تھی

“یا اللّه توں تو جانتا ہے ۔۔۔۔میں کتنی مجبور ہوں اس جاب کے لئے ۔۔۔۔۔وہ شخص جیسا بھی ہے اسے میرے حق میں اچھا ثابت کرنا ۔۔۔۔یا اللّه میں اپنی عزت تیرے حوالے کرتی ہوں ۔۔۔۔میری عزت کی حفاظت کرنا ۔۔۔۔یا اللّه ۔۔۔۔ بس تیرا ہی آسرا ہے ۔۔۔۔۔یا اللّه عزت اور پردے کی زندگی کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں چاہتی ۔۔۔۔یا اللّه ۔۔۔۔میری مدد فرما ۔۔۔۔”

وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر جائے نماز اٹھا کر باہر آئی تھی

جہاں مامی ایک چھابی میں ایک روٹی کے ساتھ تھوڑا سا اچار ڈال کر اس کی منتظر تھی ہانی رات کی بھوکی تھی اس نے جلدی سے مامی کے ہاتھ سے کھانا لے کر بسمہ اللّه پڑھ کر کھانا شروع کیا تھا

روٹی اس کی بھوک سے بہت کم تھی وہ ہر نوالے کے ساتھ پانی کا ایک گھونٹ بھرتی تا کہ پیٹ بھر سکے ۔۔۔

“اچھا ہانی ۔۔۔۔کھانا کھا کر تم تھوڑا ریسٹ کر کے پھر سونی اور راجو کو پڑھا دینا آج کل امتحانات ہونے والے ہیں ان کے ۔۔۔۔ہیں ۔۔۔ میں زرا کام دیکھ لوں”

مامی کہہ کر اٹھ چکی تھیں وہ کھانا کھا کر کچھ دیر سستانے لیٹ گئی تھی ۔۔۔

۔*************

“دیکھیں ۔۔۔سعدیہ آپ لوگوں کی امانت ہے ۔پانچ سال ہو گئے ہمیں آپ کی امانت سنبهالتے سنبهالتے اب جا کر اگر آپ لوگوں کو خیال آ ہی گیا ہے تو بس دیر نا کریں آج ہی اس کو اپنے ساتھ لے جایئں بھئی ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں”

بڑی بھابھی نے تابوت پر گویا آخری کیل ٹھونکا تھا ان کی بات ہی حرف آخر سمجھی جاتی تھی۔سعدیہ دو بھائیوں کی اكلوتی بہن تھی ان کی سعدیہ سے محبت میں کوئی کمی یا شک نہیں تھا مگر نند کتنی بھی اچھی ہو وہ بھابھیوں کو اپنی پرسکون زندگی میں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ازلی نفرت اپنی عروج پر تھی ماں باپ کی موت کے بعد سے اس کے لبوں پر خاموشی کا جو قفل لگ چکا تھا وہ بھابھیوں کے روز روز کے ہتھ کنڈوں سے بھی نہیں ٹوٹا تھا وہ چپ چاپ ہر بتایا جانے والا کام کرتی اور اپنے کمرے میں قران پاک لے کر بیٹھ جاتی۔زوہیب سے اس کی کوئی دلی وابستگی نہیں تھی ہوتی بھی کیسے؟جو شخص منکوحہ کے نام پر ہر ماہ ہزاروں اس کے بھائیوں کو بھیج کر اپنا فرض ادا کر رہا تھا اس کے لئے بھی وہ ایک ان چاہا بوجھ ۔۔۔۔۔ان چاہی ذمہ داری ہے،وہ یہ بات مان چکی تھی۔

وہ گھر کے پرانے کپڑے پہنے ہوۓ تھی جو کہ اپنی معیاد کب کی پوری کر چکے تھے گھر میں سعدیہ کے علاوہ ہر فرد آج زوہیب اور اس کے چاچا چاچی کی آمد سے واقف تھا اگر کوئی بے خبر تھا تو وہ سعدیہ تھی جسے آج فجر کے بعد سے گھر کے ہر کام میں الجھادیا گیا تھا وہ اس وقت بھی کچن میں ابتر حلیہ میں کھڑی سارا کھانا تیار کر کے بریانی کو دم لگا کر اب کچن صاف کر کے برتن دھو رہی تھی جب اس کی چوٹی بھابھی کی پندرہ سالہ بیٹی جو کے کافی اچھے سے تیار ہوئی تھی اس کے پاس آئی تھی

“امی کہہ رہی ہیں جا کر نہا لو،اور جو جوڑا وہ نکال کر رکھ آئی ہیں وہ پہن کر تیار بھی ہو جاؤ”

سچ کہا ہے کسی نے کس سے کیسا رویہ رکھنا ہے بچہ اس بات کا فیصلہ اپنے بڑوں کو دیکھ کر کرتا ہے،سعدیہ کے ساتھ ہر کسی کا رویہ نوکروں والا تھا بچے بھی اپنی اکلوتی پھپھو کو گھر کا فقط نوکر سمجھتے تھے جس سے جیسا بھی رویہ رکھا جا سکتا تھا

شروع شروع میں بھائیوں کو اعتراض ہوا تھا مگر پھر آہستہ آہستہ گھر کا سکون بنا رہے اور سعدیہ کو کم سے کم ذلیل کیا جائے وہ یہ سوچ کر چپ کر گئے تھے سعدیہ نے اپنے بھائیوں کو بیویوں کے آگے مجبور مان کر اپنے دل سے امید اور توقعات کا ہر صفحہ اکھاڑ پھینکا تھا

وہ پر سکون تھی،ہر بار امید کی موت انسان کو نا امید نہیں کرتی،شاید انسان بھول گیا ہے خدا کی ذات سے نا امیدی کفر ہے اس کی بنائی مخلوق سے نا امیدی تو صحیح معنوں میں زندگی کا نام ہے”

“ایسے کیوں دیکھ رہی ہو جاؤ”

بھائی کی بیٹی بد مزہ سی بولی تھی

سعدیہ نے آخری برتن کو دھو کر رکھا تھا وہ ماتھے پر آیا پسینہ دوپٹے سے صاف کرتی کچن سے باہر آئی تھی وہ کمرے میں آئی تھی جہاں ایک کام والا جوڑا بیڈ پر پڑا تھا وہ اس کی ماں نے اس کی بری کے لئے بہت پہلے بنا کر رکھا تھا جو ماں کے انتقال کے بعد سے اس کی ماں کے باقی ماندہ سامان کے ساتھ بڑی بھابھی کی تحویل میں تھا

ایک آنسو بہہ کر اس کے ہاتھ میں پکڑے جوڑے پر آ کر گرا تھا

اتنے میں دروازہ ناک ہوا تھا

“ارے ناک کیا کرنا بھئی شریعی منکوحہ ہے تمہاری چلو اندر کرلو بات جو بھی کرنی ہے میں تب تک کھانا دیکھ لوں”

چھوٹی بھابھی زوہیب کو اندر بھیج کر دروازہ بند کر کے جا چکی تھیں

“السلام علیکم”

زوہیب عینک ٹھیک کرتا بولا تھا

“وعلیکم السلام”

سعدیہ نے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولا تھا

“آیئں بیٹھیے”

وہ کرسی کھینچ کر بولی تھی

“سعدیہ میں آپ کو اپنے ساتھ لے کر جانے آیا ہوں،مجھے امید ہے کہ آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا”

زوہیب نے اس شکستہ حال لڑکی کو بغور دیکھ کر کہا تھا اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی وہ اٹھ کر اس کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا تھا

“سعدیہ میں ہر ماہ پچاس ہزار بھیج رہا ہوں صرف آپ کی ضروریات کی خاطر ،میری بیوی پھر بھی مجھے اس حلیے میں ملی گی وہ بھی آج کے دن میں ۔۔۔۔۔۔میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا”

وہ کمزور سی،پریشان حال لڑکی جس کی صحت کو گھر کے افراد کی زبانوں نے نگل لیا تھا وہ سپاٹ چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھی

زوہیب نے سعدیہ کا کمزور ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر دکھ سے کہا تھا

“اپنی چیز کی کسی اور کے سونپ کر اس کی حفاظت کی امید رکھنا بیوہ قوفی ہے زوہیب”

وہ خلاء میں دیکھ کر بولی تھی

“میں ۔۔۔۔میرا ارادہ تمہیں کچھ رسومات کر کے لے کر جانے کا تھا مگر اب مزيد تمہیں رسوا نہیں کروں گا میں بہت کچھ لایاہوں،تم وہ سب پہن کر آج میری دلہن بن کر میرے ساتھ جاؤگی،میں سب لے کر آتا ہوں”

وہ تیزی سے باہر گیا تھا اور سامان سے بھرا ہوا بیگ اس کے پاس لا کر رکھا تھا تم نہا لو میں گڑیا کو بھیجتا ہوں وہ تمہیں تیار کردےگی”

وہ کہہ کر ا یک بار پھر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا جا چکا تھا

رابی ڈرائنگ روم میں سب میں گم سم سی اپنی کلائی پر ہاتھ رکھ کر پر سکون سی بیٹھی ہوئی تھی

“گڑیا ادھر آؤ”

زوہیب نے اسے آواز دی تھی وہ ماں کے مثبت اشارے پر اٹھ کر اس کے پاس آئی تھی

“جی زوہیب ۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی”

“وہ سائیڈ والا کمرہ تمہاری سعدیہ بھابھی کا ہے ادھر جا کر بیٹھ جاؤ وہ نہا کر نكلتی ہیں تو ان کو میری دلہن بنا دو”

زوہیب اپنے مخصوص انداز میں عینک ٹھیک کر کے مسکرا کر بولے تھے

رابی کا دل نا جانے کیوں اس بات سے خوش نہیں ہوا تھا وہ بدلے میں مسکرا نہیں سکی تھی زوہیب دوبارہ سب کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا تھا رابی کبھی کمرے کو دیکھتی کبھی جاتے ہوۓ زوہیب کو اور کبھی اپنی پارہ لگی کلائی کو،وہ بے چین سی سعدیہ کے کمرے میں جا کر بیٹھ گئی تھی اپنے ہاتھ سے خریدہ ہوا سامان وہ بیگ سے نکال کر باہر رکھ رہی تھی جب سعدیہ تولیے میں بال لپیٹے باہر آئی تھی

“السلام علیکم سعدیہ آپی”

رابی محبت سے اس کمزور دبلی پتلی لڑکی سے گلے مل کر بولی تھی

“وعلیکم السلام رابعہ کیسی ہو ؟؟”

“میں بلکل ٹھیک ہوں آپی چلیں آج میں اپنے ہاتھ سے آپ کو مسز زوہیب بناؤں گی”

رابی نے دل سے سعدیہ کو کل کی شاپنگ والے کپڑے پہنا کر سولہ سنگھار کر کے دلہن بنایا تھا وہ بہت پیاری لگنے لگی تھی آج اسے غلامی سے آزادی ملی تھی ساری خوشی شاید اسی کی تھی ۔۔۔

“آپ یہاں بٹھیں میں اموں سے پوچھ کر آپ کو پھر باہر لے کر جاتی ہوں”

سعدیہ نے مسکرا کر رابی کی بات پر سر ہلایا تھا

“رابی بیٹا سعدیہ کو کہو کھانا لگا دے”

بڑی بھابھی نے تن کر کہا تھا

“بيگم آج وہ اس گھر سے جا رہی ہے آخری لمحے چل رہے ہیں کم از کم ابھی تو اس کو بخش دو”

بڑے بھائی نے قریب ہو کر ہمت دکھائی تھی جس پر بڑی بھابھی کا موڈ بگڑا تھا مگر وہ پی گئی تھیں

“زلفی اپنی بیوی کو بولو کھانا لگوا دیں”

بڑی بھابھی نے دیور کے کوٹ میں گیند ڈالی تھی جس پر اس کی بیوی کا بھی موڈ بگڑا تھا

بڑے بھائی نے اپنی بیوی،بھائی اور بھابھی کو اشارے سے باہر بلایا تھا

“شرم نہیں آتی تم دونوں کو زرہ بھی؟؟؟؟خود بھی اللّه نے بیٹیاں دے رکھی ہیں،ہر کام میری یتیم بہن سے ایسے لیتے رہے جیسے بس اس نے چٹکی بجاکر، کر دینا تھا ۔پھر بھی کبھی اس کا احسان ماننا تو دور کبھی اس گھر کے فرد ہونے تک کا مان اور عزت نہیں دی اور آج جب وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس گھر سے جارہی ہے تو آج بھی؟”

“تم دونوں اس کا پکایا ہوا کھانا تک ميز پر نہیں سجا سکتیں ؟؟؟”

دونوں خواتین کے لئے بڑے بھائی کا یہ حملہ بلکل غیر متوقعہ تھا وہ ایک دوسرے کو تھوک نگل کر دیکھ رہی تھیں

“تم دونوں عورتیں ہی ہو نا ؟؟؟؟؟”

وہ غصے سے دھاڑے تھے

“میں صرف اپنی بہن کے سکون کے لئے آج تک چپ تھا۔مجھے ڈر تھا کہ تم دونوں میری حمایت کی وجہ سے اس کا جینا مزيد نا حرام کردو،اب جیسے کہ وہ اپنے گھر ۔۔۔۔۔یہ گھر کیا یہ ملک چھوڑ کر جا رہی ہے تو اب ۔۔۔۔۔۔اس پر کیئے ایک ایک ظلم کا بدلہ تم دونوں کو دینا پڑے گا تیار رہنا”

بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا

دونوں خواتین کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں بھائی صاحب کا یہ روپ ان دونوں کے لئے بلکل نیا تھا وہ مزید کوئی بات کئيے تیزی سے کچن کی طرف بڑھ گئی تھیں

دروازے میں کھڑی سعدیہ نے اپنے بھائی کی اس محبت پر اپنا چہرہ بھیگا ہوا پایا تھا وہ مسکرا کر آنسو صاف کر کے کمرے میں آ کر بیٹھ گئی تھی

خاموشی سے کھانا کھایا گیا تھا رابی اپنا اور سعدیہ کا کھانا کمرے میں ہی لے آئی تھی

اب سعدیہ کی رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا

“یہ اماں جان کی میرے پاس تمہاری امانت ہے سعدیہ بیٹا،یہ رکھ لو”

بڑے بھائی نے دس لاکھ کا چیک ایک ہاتھ سعدیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے سعدیہ کے ہاتھ میں تھمایا تھا

“بھائی ۔۔۔۔۔۔۔اس کی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ نے اتنا عرصہ اپنے گھر میں رہنے دیا،یہ احسان ہی بہت ہے آپ ۔۔۔۔یہ پاس رکھیں۔”

سعدیہ نے سپاٹ چہرے لئے دونوں بھابھیوں کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا

وہ نظریں چرا گئی تھیں

بڑے بھائی نے زبردستی چیک سعدیہ کو تهما دیا تھا اب وہ دونوں بھائی بہن کے سر پر ہاتھ رکھے رو رہے تھے جبکہ دونوں بھابھیاں شرمندگی اور غصے کے ملے جلے تاثرات لئے ساری صورت حال خاموشی سے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔

زوہیب نے سعدیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی میں بیٹھایا تھا رابی کو سعدیہ کی قسمت پر جانے کیوں رشک آیا تھا ۔۔۔۔

زوہیب،سعدیہ اور رابی گھر کی کار میں جبکہ شفیق صاحب،پروین بيگم اور وقار نے گھر جانے کے لئے گاڑی منگوائی تھی