Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 13
Rate this Novel
Weran Zindagi Episode 13
ہادی جب سے رابی کو چھوڑ کر وہاں سے نکلا تھا وہ مسلسل ہانی کو کال ملا رہا تھا مگر وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی جس سے اس کی پریشانی میں اضافہ ہوا تھا
وہ تقريبأ گاڑی دوڑاتا ہوا وہاں پہنچا تھا حسب معمول پہلی دستک پر دروازہ کھول دیا گیا تھا
ہادی آج مامی کے منہ لگنے کی بجائے سیدھا ہانی کے کمرے میں آیا تھا جہاں وہ انہی رات والے کپڑوں میں بے سدھ لیٹی ہوئی تھی موبائل سائیلنٹ پر لگا ہوا تکیے کے نیچے پڑا تھا
“ہانی میرا فون کیوں نہیں اٹھارہی؟؟؟”
وہ ہانی کو اپنی طرف کر کے بولا تھا جو اس کی طرف پشت کر کے سو رہی تھی
“نہیں کھانا مجھے کھانا مامی ۔۔۔۔۔۔مجھے مرنا ہے”
وہ بنا آنکھیں کھولے غنودگی میں بڑ بڑائی تھی
ہادی نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا جو بخار کی تپش سے لال ہو رہا تھا وہ بری طرح پسینے میں شرابور تھی
ہادی بھاگ کر مامی کے پاس صحن میں آیا تھا
“کیا کھایا ہے ہانی نے وہ ٹھیک سے بات کیوں نہیں کر پارہی ؟؟؟؟؟”
وہ تڑپ کر چیخا تھا
“جب سے آئی ہے بری طرح رو رہی تھی کچھ نہیں کھایا نا ہی رونے کی کوئی وجہ بتائی ہے میں نے بہت کوشش کی کھانا اور دوائی کھلانے کی مگر نہیں مانی ۔۔۔۔اللّه جانے کیا ہوا ہے میری ہانی ایسی ضدی تو ہرگز نہیں تھی”
مامی نے شکایتی انداز سے ہادی کو جتایا تھا
“میں اس کو ہسپتال لے کر جا رہا ہوں،آپ اس کو بڑی چادر اوڑھا دیں”
مامی نے اس بات پر عمل کیا تھا
ہادی اس نيم بیہوش ہانی کو گود میں اٹھا کر گاڑی میں بیٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا مامی کو بھی ہانی کے ساتھ بیٹھا دیا تھا وہ جھول کر مامی پر آگری تھی اس کا سر مامی کی گود میں تھا
اب وہ ایک اچھے ہسپتال میں تھے جہاں ڈاکٹر نے ہانی کو فورا ڈرپ لگا دی تھی کیوں کہ اس کا بی_پی خطرناک حد تک لو تھا
کچھ ہی دیر میں اس کا جسم ٹھنڈہ ہوا تھا وہ اب پر سکون سی سو رہی تھی
اس کی سوجھی آنکھیں اس کے مسلسل رونے کا صاف پتا دے رہیں تھیں
ہادی کو اس کو اس حالت میں دیکھ کر خود سے نفرت ہوئی تھی
“ہانی مجھ جیسے خودغرض انسان کا ساتھ ڈیزرو ہی نہیں کرتی تھی،میں نے رات ایک خوبصورت لڑکی کے سنگت میں گزاری ۔۔۔۔۔رات بھر میں اس کو چھونے کے خمار میں رہا ۔۔۔۔ایک بار بھی اس معصوم کے دل کا خیال مجھے نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ ہانی کے بيڈ پر دونوں ہاتھ ٹکائے اپنا سر پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی دو تین گھنٹے ایسے ہی گزر گئے تھے
ڈاکٹر بار بار ہانی کو دیکھنے آتا ۔۔۔۔
“اس عمر میں عمومأ ایسا ہوتا نہیں ہے مگر ان کی حالت سے لگ رہا ہے یہ لمبے عرصے سے شدید ذهنی اذیت اور دباؤ کا شکار رہ چکی ہیں ۔۔۔۔اور آج ان کے اعصاب نے ان کی منفی سوچوں کا بوجھ اٹھانے سے صاف انکار کر دیا ۔۔۔۔ایسی حالت میں برين ہمرج،ہارٹ اٹیک یا یہ سیدھا سیدھا کومہ میں بھی جا سکتی تھیں ،ان کا ماحول بدلنے کی سختی سے ضرورت ہے ان کو پیار محبت اور کسی مہربان انسان کے ساتھ اور خاص توجہ کی اشد ضرورت ہے
کیوں کہ یہ زندگی سے منہ موڑ چکی ہیں ۔۔۔یہ تو آپ لوگ ان کو وقت پر نا لاتے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ یہ حرکت دوبارہ بھی کر سکتی ہیں ۔۔۔۔عام طور پر ۔۔۔۔۔خود کشی کرنے والا پہلی بار بچ جانے پر دوسری کوشش بہت جلدی کرتا ہے ۔۔۔۔ان کو سخت نگرانی کی ضرورت ہے”
ڈاکٹر بولتا چلا گیا اور ہادی حیران پریشان سب سنتا چلا گیا ۔۔۔۔اس کی شادی اس پر اتنا منفی اثر ڈالے گی ۔۔۔وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
“آپ کافی پڑھے لکھے لگتے ہیں پھر گھر میں اتنی مقدار میں نیند کی گولیاں کیوں رکھی ہوئی ہیں وہ بھی خاص سائکیٹری والی؟ ؟؟؟؟؟؟”
ہادی نے اس سوال پر مامی کی طرف دیکھا تھا جو منہ میں دوپٹے کی ایک سائیڈ چباکر رونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی
“وہ جی ۔۔۔۔ہانی ۔۔۔۔کو اکثر ٹینشن ہوتی تھی وہ یہ گولی کھا کر سو جاتی تھی ۔۔۔۔مگر جب سے ان سے شادی ہوئی تھی چھوڑ دی تھیں بلکہ پھینک دی تھیں ۔۔۔۔کل یہ نیا ڈبہ ہاتھ میں دیکھا تھا میں نے جب وہ واپس آئی تھی ۔۔۔میں نے سوچا ایک ہی کھانی ہوگی”
جواب سراسر جان چھڑانے والا تھا
ہادی ایک بار پھر شرم سے پانی پانی ہوا تھا
“ڈاکٹر صاحب ان کو گھر کب لے کر جا سکتے ہیں ؟؟؟”
“دیکھیں ۔۔۔ مسٹر ہادی یہ ان کے رسپانس پر منحصر ہے ۔۔۔۔ابھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا،ان کا خیال رکھیں “
ڈاکٹر اب جا چکا تھا
ہادی مامی کو ہانی کے پاس بیٹھا کر خود بازار سے کھانے پینے کی چیزیں اور فروٹس لے کر آیا تھا جو مامی سے دھلوا کر کمرے میں موجود چھوٹی سی فریج میں ركهوا دیئے تھے
شام کے چار بج رہے تھے جبکہ اس کو رابی کو لے کر پانچ بجے ہر صورت پالر پہنچنا تھا اس نے کمرے سے باہر جا کر رابی کا نمبر ملایا تھا جو ماں نے شادی سے پہلے ہی اسے بھیجا ہوا تھا مگر اس نے اس کا استعمال نہیں کیا تھا
فون دوسری رنگ پر اٹھا لیا گیا تھا
“ہیلو ؟؟؟ہادی میں نے ابھی ابھی ماں سے
آپ کا نمبر لیا تھا،آپ جلدی آ جایئں میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔۔بہت یاد آ رہے ہیں آپ مجھے ۔۔۔۔”
رابی نے پاس بیٹھے زوہیب کو جلایا تھا وہ لاڈ سے بچگانہ اواز کر کے بول رہی تھی جس پر زوہیب کو اس پاگل لڑکی کی عجیب محبت پر حیرانی ہوئی تھی وہ جان گیا تھا وہ جتنا اسے خود سے دور کرے گا وہ بیوقوف اتنی ہی ہادی کے پاس ہوتی چلی جائے گی اور ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب وہ صرف اپنے شوہر کی ہو کر رہ جائے گی ۔۔۔واپسی کا ہر دروازہ خود بخود بند ہوتا چلا جائے گا ۔۔۔۔
ہادی کو حیرت کا دوسرا دھچکا لگا تھا وہ گهبرا کر پاس پڑے بینچ پر بیٹھ گیا تھا
“آتا ہوں،فنکشن تو رات دس بجے ہیں نا رابی ؟؟؟میں سات بجے آجاؤں گا اتنا وقت بہت ہوگا تمہیں ریڈی
ہونے کے لئے”
“ارے اتنی بھی اب حور پری نہیں ہوں میں ۔۔۔آپ بھی نا ۔۔۔۔بس میری تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے”
رابی کو زوہیب کے چہرے پر جلن کے آثار یکھنے تھے جو ابھی تک نہیں تھے دوسری طرف ہادی کو اس کی ہر بات فلحال بلکل بکواس لگ رہی تھی
از ایوری تھنگ اوکے رابی ؟؟؟یہ سب کیا بولے جا رہی ہو ؟؟؟”
وہ تنک کر بولا تھا مگر رابی کا تو اس کے جواب میں کوئی انٹرسٹ تھا ہی نہیں وہ اپنے رو میں بولی تھی
“آ ۔۔۔۔۔لو یو ٹو ۔۔۔۔چلیں پھر جلدی آئیے گا ۔۔۔۔۔ویٹنگ ۔۔۔۔”
وہ بنا جواب کا انتظار کیئے فون رکھ چکی تھی جبکہ اسی وقت نرس نے ہادی کو ہانی کے ہوش میں آنے کی خبر دی تھی وہ رابی کی یہ بات سن ہی نہیں سکا تھا جب تک وہ فون کاٹ چکی تھی اور وہ فوراً اندر ہانی کے پاس گیا تھا
اب رابی لمبا سانس کھینچ کر فاتحانہ انداز میں زوہیب کو دیکھ رہی تھی جو ہاتھ سے تھمبز اپ کا سائن بنا کر وہاں سے اٹھ کر جانے کو تھا
“زوہیب؟؟؟”
اس کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا تھا
“میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں،میں واپس نہیں جانا چاہتی”
“میں نے بہت کوشش کی ہے سارا دن خود کو بہت سمجھایا ہے مگر دل نہیں مان رہا،میں کیا کروں؟؟؟؟”
اب وہ بچوں کی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر رو رہی تھی
زوہیب کو اس میں اب وہ چند سال والی گڑیا نظر آئی تھی جو جب بھی اداس ہوتی تو اپنی ضد منوانے کے لئے ایسے ہی رو دیا کرتی تھی
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا
“دیکھو گڑیا ۔۔۔۔تمہاری شادی ہو چکی ہے،اب یہ سب کوئی معنی نہیں رکھتا ۔۔۔ . یہ سب گناہ ہے اب ۔۔۔۔میری بات کو سمجھو ۔۔۔۔۔”
“آپ صرف ایک بار کہہ دیں آپ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں؟؟؟اور میرا ساتھ چاھتے ہیں؟؟؟؟”
وہ روتے روتے بولی تھی
“اس سے کیا ہوگا گڑيا؟؟؟”
“بس میرے دل کو سکون مل جائے گا کہ میری محبت یک طرفہ نہیں ہے،”
“تم اگر میری ہم عمر ہوتی تو میں تم سے ضرور شادی کر لیتا ۔۔۔۔ مگر رہی بات محبت کی تو اب تو نہیں کرتا ۔۔۔۔مگر ہاں میری ہم عمر ہوتی تو شاید ۔۔۔۔”
زوہیب نے انتہائی محفوظ جواب دیا تھا وہ اس سر پھری لڑکی سے کچھ بھی توقع فلحال کر سکتا تھا
“اس میں میرا کیا قصور ہے میں اگر آپ کی ہم عمر نہیں زوہیب دل یہ نہیں مانتا ۔۔۔۔”
وہ ایک بار پھر رو دی تھی اتنے میں پروین بيگم جو رات کی تیاری کرنے میں مصروف تھیں فارغ ہو کر وہاں آئی تھیں وہ رابی سے کم از کم اب اس بے حیائی کی امید ہرگز نہیں کر سکتی تھیں
“یہ کیا بک رہی ہو رابی؟؟؟؟؟”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر جنجھوڑ کر بولی تھیں
“اموں میرا دل ویران ہے”
“آپ کے خوبصورت داماد کے ساتھ سے بھی آباد نہیں ہوا،اموں میں بے بس ہوں مجھے واپس نہیں جانا،اس نے مجھے چھو لیا تو میں زوہیب کے قابل نہیں رہوں گی اموں مجھے بچا لو”
وہ ماں کے گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی
پروین بيگم بھی اب ساتھ رونے بیٹھ گئی تھیں
“کاش رابی میں بزدل نہ ہوا ہوتا تب،لوگوں کی بجائے میں نے تمہاری پرواہ کی ہوتی تو آج میرا غم تمہارا دل ویران نہ کرتا”
زوہیب کا دل کر رہا تھا ابھی اسے اپنی باہو میں بھر کر سارے زمانے سے چھپا لے ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔پھر ۔۔۔۔لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔۔۔وہی سوال ۔،۔۔
“دل تو میرا بھی ویران ہے رابی ۔۔۔۔”
اس نے بلک بلک کر روتی ہوئی اس معصوم اور سادہ دل والی لڑکی کو دیکھ کر خود سے کہا تھا جو آج اپنے ولیمے کے دن اس سے محبت کی بھیک مانگنے آئی تھی ۔۔۔
عورت محبت نہیں بھولتی ۔۔۔۔واقعی ۔۔۔۔عورت لاکھ بری سہی محبت کے معاملے میں وفا کا عنصر ہر طرح کی عورت کا خاصا ہے ۔۔۔
۔***********
“مامی ان کو کس نے بلایا ہے ؟؟؟؟ان کو کہیں یہاں سے چلیں جایئں”
ہانی جو ابھی ابھی ہوش کی دنیا میں آئی تھی ہادی کو دیکھ کر برہم ہوئی تھی ہادی نے مامی کو کمرے سے جانے کا اشارہ کیا تھا
“ہانی میری جان ایسا کیا کر دیا میں نے پلیز ایسا مت کہو،تم میری جان ہو”
ہادی اس پر جھک کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے تڑپ کر بولا تھا
“کیا کیا ہے آپ نے ؟؟؟؟؟یہ بھی میں بتاؤں ؟؟؟؟”
وہ چیخی تھی
“چھوٹی سی تھی ۔۔۔جب امی ابو چلے گئے۔۔۔تب سے
آپ سے شادی ہونے تک لوگوں کے تلخ رویوں نے مجھے بہت ذلیل کیا ہے ۔۔۔مگر کبھی زندگی اس طرح سے میرے لئے بوجھ نہیں بنی ۔۔۔۔مگر اب ۔۔۔آپ سے شادی کے بعد ۔۔۔۔ارے آپ نے تو مجھ سے جینے کا حق کیا ۔۔۔۔جینے کی وجہ بھی لے لی”
وہ منہ پر کینولا لگے ہاتھ رکھ کر بری طرح رونے لگی تھی
“کل جس طرح آپ ۔۔۔۔۔۔اپنی بیوی کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔آپ نے رات ۔۔۔۔۔کیسے گزاری ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے سب سمجھ آ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔”
وہ اب ہچکیوں سے رونے لگی تھی ہادی کے لئے ساری صورت حال بہت عجیب تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ ہانی کو کیسے تسلی دے ۔۔۔
“ہانی میری جان ایسا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔میں اب بھی صرف اور صرف تمہارا ہادی ہی ہوں قسم لے لو”
وہ شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا جس پر ہانی کے رونے کی شدت میں کمی آئی تھی
“آپ ۔۔۔۔واقعی سچ کہہ رہے ہیں ؟؟؟؟”
آنکھوں کے ساتھ اب اس کا چہرہ بھی سوجنے لگا تھا وہ اس بات پر خوش ہوئی تھی
“ہاں بلکل سچ ہادی کی جان”
“میں ۔۔۔۔میں آپ کو بانٹ نہیں سکتی ہادی”
(ہاے رے عورت کی کم عقل خواہش ۔۔۔۔۔۔اور مرد کے لئے نا ممکن وعدہ)
وہ بے بسی سے موتیوں کی طرح آتے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی تھی
“میں صرف تمہارا ہوں ہانی صرف تمہارا”
ہانی اس کا ہاتھ پکڑ کر آنکھیں بند کر کے پر سکون ہوئی تھی
پالر کی اپائنٹمنٹ ،رات کا ولیمہ ۔۔پھر کل پاک سے ٹیک آف ۔۔۔۔۔ہادی یہ سب ہانی کو بتا کر کرنا چاہتا تھا مگر ابھی وہ اس بات کو سمجھنے کی بلکل بھی پوزیشن میں نہیں تھی ۔۔۔وہ پریشانی کی انتہاہ پر تھا جب ماں کی کال نے اس میں چار چاند لگائے تھے
“السلام علیکم ماں؟؟؟”
“وعلیکم السلام ۔۔۔بیٹا ۔۔۔میں بہت خوش ہوں کہ تم نے آج میری بہو کو اتنی جگہ گھمایا ۔۔۔۔اچھا بہو جیسے ہی تیار ہو کر نكلتی ہے مجھے اس کی اور اپنی تصویر بنا کر بھیجو ۔۔۔سب سے پہلے میں نے دیکھنا ہے تم دونوں کو”
وہ اور بھی بہت کچھ بول کر ہنستی مسكراتی فون رکھ چکی تھیں
ہادی کو ایک مزيد حیرانگی کا دھچکا لگا تھا
ہادی رابی سے اس قدر سمارٹنس کی امید نہیں کر رہا تھا
وہ جان چکا تھا اس سے پہلے انہوں نے رابی کو ہی فون کیا ہے جس نے سچ جھوٹ بتا بتا کر ان کو خاصہ مطمئین کر دیا ہے
“رابی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ وفادار بھی ہے،کتنی اچھی بیویاں ملی ہیں مجھے مگر میں ہوں کہ ایک کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر پا رہا”
وہ سوئی ہوئی ہانی کو دیکھتا ہوا خود سے مخاطب ہوا تھا
“مامی میں ابھی جا رہا ہوں صبح آؤں گا،ہانی کو اچھے سے کھانا کھلا کر سلا دیجئے گا اور یہ کچھ پیسے رکھیں،ماموں کو بتا دیا ہے نہ کہ آپ رات ادھر ہی ہیں ؟؟؟”
وہ نوٹ تهماتا ہوا پوچھ رہا تھا
“ہاں بیٹا کوئی مسئلہ نہیں”
وہ نوٹ گنتے ہوۓ خوشی سے بولی تھی
ہادی اس لالچی عورت سے کام نکلوانے کا ڈھنگ جان چکا تھا
وہ ہانی کا ماتھا چوم کر باہر آیا تھا گھڑی سات بجا رہی تھی اس نے کچھ فروٹس اور مٹھائی لے کر رابی کے گھر کی طرف گاڑی لی تھی
وہ ہارن دے کر ابھی اترا ہی تھا کہ رابی خوش دلی سے باہر آئی تھی
“میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی تھی چلیں اندر چلیں”
وہ ہادی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ڈال کر چپک کر اندر لے آئی تھی
“یا اللّه کدھر پھنس گیا ہوں،یہ کیسی آزمائش ہے”
وہ رابی کے لمس پر تلملا اٹھا تھا
“ہادی یہ زوہیب ہیں ۔۔۔۔زوہیب بھائی”
ہادی زوہیب کے ساتھ ہاتھ ملا رہا تھا جب وہ بظاہر مسکراتی مگر تلخی سے بولی تھی
“ان کی ایک بہت خاص بات ہے ان کو بڑا ہی شوق ہے ماہان بننے کا ۔۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔۔”
رابی بے تکی بات پر خود ہی ہنسی تھی
ہادی نے اس بات پر کوئی خاص تاثر نہیں دیا تھا
“چلیں آنٹی انکل کچھ دیر میں ملتے ہیں پھر اگر آپ کی اجازت ہو تو میں رابی کو لے جاؤں ؟؟؟”
وہ وقت دیکھ کر سعادت مندی سے بولا تھا
“جی بیٹا ضرور”
شفیق صاحب نے شفقت سے کہا تھا
وہ دونوں کو پیار دے کر کمرے میں چلے گئے تھے سب سے مل کر وہ بھی جانے کے لئے اٹھ گئے تھے سب ان کو دروازے تک چھوڑنے آئے تھے
رابی نے ہادی کا ہاتھ گاڑی میں بیٹھ جانے تک پکڑ رکھا تھا وہ مسلسل زوہیب کو دیکھ رہی تھی
“ہاتھ چھوڑو اور بیٹھو”
آخر ہادی گاڑی کے پاس پہنچ کر بول اٹھا تھا
وہ شرمندہ سی بیٹھ گئی تھی
گاڑی چل پڑی تھی زوہیب کو سائیڈ مرر میں وہ اب بھی مسلسل دیکھ تھی بے اختیار آنکھوں میں ایک بار پھر نمی آئی تھی
