Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 1
Rate this Novel
Weran Zindagi Episode 1
“رابعہ ؟؟؟؟؟”
“ارے اٹھو بھی …..میں بازار جا رہی ہوں تمہارے ابو اور بھائی آتے ہی ہونگے فیکٹری سے۔۔۔۔ کھانا پوچھ لینا ان کو ۔۔۔۔پکا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔”
پروين بيگم بڑی سی چادر اوڑھ کر بٹوے میں رقم کا اطمینان کرتی ہوئیں جلدی میں بولی تھیں
“اچھا .۔۔۔آپ جایئں ۔۔۔۔”
رابعہ کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز کمفرٹر کے اندر سےآئی تھی
“اور اے۔سی بند کر دیا کرو ساری ساری رات بھی چلتا ہے ابھی دن میں پھر فل لگا کر لیٹ گئی ہو”
پروین بيگم ریموٹ سے اے۔سی بند کرتے ہوۓ غصے سے بولی تھیں
“توبہ ہے امی ۔۔۔۔۔۔مجال ہے جو بیٹی کو آرام کرتا دیکھ خوشی مل جائے آپ کو ۔۔۔میں سوچتی ہوں میری ساس کیا کرے گی ۔۔۔آپ نے تو کچھ ان کے لئے چھوڑا ہی نہیں ۔۔۔”
رابعہ کمفرٹر اپنے ارد گرد گھما کر سیدھا اٹھ کر بیٹھ گئی تھی
“چلیں جایئں اب ۔۔۔میں ابو اور بھائی کو دیکھ لوں گی ۔۔۔آپ جایئں اپنی دوست بشری کے پاس اور کریں شاپنگ ۔۔۔۔ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا اب کدو دال لینے کون دوستوں کے ساتھ جاتا ہے ۔۔۔۔”
رابعہ نے ماں کو دروازہ تک ہاتھ سے پکڑ کر لے جاتے ہوۓ تنک کر کہا تھا ۔۔۔
“جب تیرا اپنا گھر ہوگا نا پھر پوچھوں گی ۔۔ بچت کتنی ضروری ہے ۔۔”
پروین بيگم نے جوابی حملہ کیا تھا
“امی ۔۔۔اگر میرا شوہر فیکٹری کا مالک ہوا نا آپ کی طرح میں تو دس کی جگہ سو دے کر آؤں گی ۔۔ بیچارے سبزی والے کو جیسے آپ پانچ پانچ کے لئے ذلیل کرتی ہیں”
رابعہ نے اپنی دونوں چوٹیاں آگے کرتے ہوۓ مزے سے کہا تھا
“ابھی میں جلدی میں ہوں بشری میری راہ دیکھ رہی ہے آ کر زبان کاٹتی ہوں میں تمہاری۔۔۔۔ رابی جو اتنییییییییییی لمبی ہو گئی ہے”
پروین بيگم نے باقاعدہ ہاتھ سے ناپ کر کہا تھا
آآآآآآآں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
رابی نے زبان نکال کر دیکھائی تھی ۔۔۔
“میرا خیال ہے پہلے یہ کام زیادہ ضروری ہے”
پروین بيگم نے دوپٹہ سر سے اتارا اور دروازہ بند کرتے ہوۓ کہا تھا
“ارے ۔۔۔۔۔ارے نہیں اممو ۔۔۔۔چلیں سوری ۔۔۔۔”
رابی نے ان کو دوبارہ باہر کی طرف دھکیلا تھا
پروین بيگم بیٹی کو پیار کرتی ہوئی ہنستی ہوئی چلی گئی تھیں ۔۔
گھر کا ہر کام پروین بيگم خود کیا کرتی تھیں آج بھی رابی کے پاس میوزک سننے کے علاوہ کچھ کرنے کو نہیں تھا وہ دونوں کانوں میں ہینڈ فری لگا کر چھت پر آ گئی تھی اب وہ گانے سنتے ہوۓ مزے سے واک کر رہی تھی ۔۔۔
موسم اچھا تھا فلحال دھوپ نہیں تھی بادلوں نے سورج کے آگے دھرنا دے رکھا تھا ۔۔۔۔
بامشکل دس منٹ گزرے ہوں گے جب ایک پتھر رابی کی بازو کے ساتھ ٹکڑایا تھا
رابی نے نے گھبرا کر گھر کے دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں ایک خوبصورت نوجوان جس کی عمر لگ بھگ 35 سال ہوگی ۔۔۔اس نے رابی کو نیچے آنے کا اشارہ کیا تھا
رابی نے ہینڈ فری نکال کر دوپٹہ سر پر لے کر نیچے کا رخ کیا تھا وہ دروازہ کھول کر اب سامنے کھڑی تھی اس نے فقط سر ہلا کر اور آنکھوں سے آنے والے سے سوال کیا تھا
“السلام علیکم ۔۔۔۔گڑیا۔۔۔”
اس پر رابی نے اپنے ارد گرد دیکھ کر گڑیا کو ڈھونڈہ تھا سامنے کھڑا شخص اس کی معصومیت پر مسکرایا تھا
“میرا نام زوہیب ہے میں آپ کے تایا ابوکا اكلوتا بیٹا ہوں ۔۔۔۔دو دن ہوۓ دوبئی سے آیا ہوں ۔۔۔چاچو نے کہا میرے گھر کے ہوتے تم کسی ہوٹل میں نہیں روکوں گے ۔۔۔تم رابی ہو نا ؟؟؟”
“وعلیکم السلام ۔۔۔جی ۔۔۔”
رابعہ نے فورا جواب دیا تھا
“کیا میں اندر ۔۔آ سکتا ۔۔۔ ۔۔۔۔ہوں ۔۔۔”
زوہیب کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی رابی نے پیچھے ہٹ کر پورا دروازہ کھول دیا تھا
وہ اسے ٹی۔وی لاؤنچ میں بیٹھا کر فریج سے ٹھنڈی بوتل نکال کر لائی تھی ۔۔۔
بنا کسی گلاس کے بوتل دیکھ کر زوہیب نے حیرت سے رابی کی طرف دیکھا تھا جو آرام سے سامنے پڑے صوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ چکی تھی
زوہیب خود سے کچن سے گلاس اٹھا لایا تھا اسے کچن ڈھونڈنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا
“تم آج بھی بلکل نہیں بدلی گڑیا،وہ ہی لاپروائی”
وہ ایک سپ لے کر اسے سر تا پیر بچوں کی طرح پر سکون سا بیٹھا دیکھ کر بولا تھا
“لاپروائی کا تمغہ لے کر رابی گویا ہوش میں آئی تھی،ارے ۔۔۔۔باپ رے یہ میں نے کیا کر دیا ۔۔ چلیں اٹھیں ۔۔۔۔۔۔آپ کے پاس آخر کیا ثبوت ہے کہ آپ میرے تایا صفدر کے اکلوتے سپوت ہیں ؟؟؟جو منہ اٹھا کر میں نے آپ کو بیٹھا دیا ہے ۔۔۔۔واہ واہ ۔۔۔۔اپ کے بھی کیا کہنے اور آپ بیٹھ بھی گئے ۔۔۔۔اور تو اور کچن سے گلاس نکال کر بوتل بھی پی رہیں ہیں ۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی عقل پر ماتم کرنے لگی تھی
“امی نے کہا تھا ابو اور بھائی کے علاوہ کبھی بھی کسی میل کو گھر میں نا اندر آنے دینا ۔۔۔۔اور وہ بھی اکیلے میں خاص طور پر”
” ارے یہ کیا کر دیا ۔۔۔۔رابی ۔،۔۔تو تو گئی آج ۔۔۔امی نہیں بخشنے والی آج مجھے ۔۔۔”
وہ تیزی سے اٹھی اور زوہیب کے ہاتھ سے گلاس رکھ کر اسے جانے کا اشارہ کیا
وہ اپنا ایک مختصر سا بیگ اٹھا کر گھر سے باہر آ گیا تھا رابی نے کھٹاک سے دروازہ بند کیا تھا وہ ہینڈفری لگا کر دوبارہ اوپر جانے کو تھی جب دروازے پر گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی ساتھ ہی دروازے پر دستک ہوئی تھی
وہ دوپٹہ ٹھیک کرتی وہاں آئی تھی
“جی کون ؟؟؟کوئی نہیں گھر پر میرے علاوہ آپ جو بھی ہیں”
اپنی سمجھداری پر وہ دل ہی دل میں نہال ہوئی تھی
“دروازہ کھولیں آپی ہم ہیں”
رابی سے پانچ سال چھوٹے وقار کی آواز آئی تھی جو عمر میں 18 کے لگ بھگ تھا اس نے ایف۔اے کے امتحانات کے بعد تعلیم چھوڑ کر باپ کے ساتھ فیکٹری جانا شروع کر دیا تھا
رابی نے مزید اچھے سے دوپٹہ لے کر نہایت ادب سے دروازہ کھولا تھا ہینڈ فری چھپا کر اب وہ بہت شریفانہ انداز اپناۓ ہوۓ تھی
“آپی آ لینے دیں اج اموں کو آپ کی ٹیونگ تو آج میں کرواؤں گا نا”
وقار باپ اور زوہیب کے ہمراہ اندر آیا تھا باپ نے شفقت سے سر پر ہاتھ رکھا تھا جبکہ زوہیب نے اس کا پیلا پڑتا چہرہ دیکھ کر اپنے چہرے پر ہاتھ سے مسکرانے کا سائن بنایا تھا وہ تینوں اندر جا چکے تھے رابی بھی دروازہ بند کر کے اندر آ گئی تھی اب وہ سب کے لئے کھانا گرم کر رہی تھی
سالن اون میں رکھ کر وہ روٹی توے پر گرم کر رہی تھی جب وقار وہاں آیا تھا
“آپی یہ زوہیب بھائی ہیں اپنی سعدیہ باجی کے شوہر ۔۔۔۔ایک ہفتہ یہی گزارے گے”
وقار نے فریج سے پانی نکال کر پیتے پیتے گویا خبر دی تھی
“تو میں کیا کروں ؟؟؟”میری بلا سے”
رابی نے غصے سے کہا تھا
“اور اموں کو تم کیا بتاؤگے ؟؟؟یاد رکھنا میں منہ توڑ دوں گی تمہارا وقار ۔۔۔امو کو تو ویسے ہی میرے ساتھ چھتیس کا آکڑا ہے “
وہ اداس ہوئی تھی
“وہ تو وہ آتی ہیں توووووو۔۔۔۔ عدالت لگواتا ہوں میں”
وقار دوانگلیاں اپنی آنکھوں سے اس کی آنکھوں کی طرف بڑھا کر دیکھ لوں گا کا سائن بنا کر باہر نکلا تھا
“ارے ۔۔۔کہیں ۔۔۔زوہیب بھائی نے یہ تو نہیں بتا دیا میں نے ان کو اندر بیٹھا دیا تھا ؟؟ضرور ان کی ہی کرتوت ہے یہ ۔۔۔۔چل بچو ۔۔۔۔اس انکل جی کا بھی کچھ کرتی ہوں میں ۔۔۔بس ثابت ہو جائے ان پر یہ الزام ۔۔۔”
وہ حتمی فیصلہ کرتی اب کھانا لگا رہی تھی خاموشی سے کھانا کھایا گیا تھا وہ برتن سمیٹ رہی تھی اتنے میں پروین بيگم ایک ہاتھ میں شاپر پکڑے گرمی سے ہانپتے ہوۓ اندر آئی تھیں زوہیب کو دیکھ کر وہ خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھیں وہ بہت گرم جوشی سے ملی تھیں ۔۔
“ارے میرا بچہ ۔۔۔میری نائلہ کی آخری نشانی”
پروین بيگم اپنی مرحومہ بہن جو کہ رشتے میں ان کی جیھٹانی بھی تھیں ان کے ذکر پر آبدیدہ ہوگئی تھیں ۔۔۔
زوہیب نے ان کو اپنے ساتھ ہی بیٹھا لیا تھا رابی دونوں چوٹیاں گھوماتی ماں کے لئے ٹھنڈہ پانی لے کر آئی تھی
“بیٹا سعدیہ کی سناؤ اس سے مل لیا؟؟؟کیسی ہے وہ ماشاءالله بہت سعادت مند بچی ہے ۔۔۔بہت صابر ۔۔۔مجال ہے جو بھائی بھابھیوں کو ذرا بھی شکایت کا موقع دیتی ہو جب بھی جاتی ہوں کبھی بچوں کو پڑھا رہی ہوتی ہے کبھی گھر کا کوئی کام ۔۔۔۔۔آۓ ہاۓ….بن ماں باپ کی بچی ہے ۔۔۔بیٹا ہو سکے تو ساتھ لے جاؤ اس بار ۔۔۔۔۔بہت چپ چپ رہتی ہے ۔۔۔ساتھ لے چلو اب تو پانچ سال ہونے کو ہیں تمہارے نکاح کو ۔۔۔ہاں نہیں تو زوہیب بیٹا ؟؟؟”
پروین بيگم نے رابی کو لایا ہوا سامان لے کر جانے کا اشارہ کر کے زوہیب کو دیکھا تھا
“جی چاچی ۔۔۔۔بس اسی سلسلے میں پہلے آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں ۔۔۔۔میرے بڑے تو آپ ہی ہیں ۔۔۔میں چاہتا ہوں آپ کل میرے ساتھ چلیں بات شات کر کے سعدیہ کی رخصتی کروادیں ۔۔۔اس کے کاغذ بنوا چکا ہوں ۔۔۔دو سال سے بس کچھ نیا نیا کاروبار تھا، تب سارا وقت اس کو دینا ہی مناسب لگا تھا ۔۔۔مگر اب سب سیٹ ہے ۔۔۔الحمدللّٰه”
اس دوران رابی منہ پر ہاتھ پھیر پھیر کر وقار کو دھمکا رہی تھی وقار بدلے میں ابھی بتاؤں ابھی بتاؤں کر رہا تھا
“کل بیٹا ہم چلتے ہیں آپ کے ساتھ پھر ۔۔اپنی بہو کو لے کر آتے ہیں پروین تم زرہ تیاری دیکھ لو کپڑے وغیرہ ۔۔۔۔ابھی ریسٹ کرلو کھانا کھا لو پھر رابی کو ساتھ لے جاؤ ۔۔۔اپنی بھابھی کے لئے اپنی پسند کا کچھ اچھا لے لے گی ۔۔۔لڑکیوں کو ایک دوسرے کی پسند کا پتہ ہوتا ہے”
شفیق صاحب نے بیوی کو تاکید کی تھی جس پر انہوں نے خوشی خوشی اثبات میں سر ہلادیا تھا
“بیٹا ماں کو کھانا کھلا دو”
شفیق صاحب نے جنگلی بلی بنی رابی کا تسلسل توڑا تھا
“اچھا ابو”
وہ جلدی سے کچن میں گئی تھی پروین بيگم ہاتھ دھو کر کھانا کھانے بیٹھ گئی تھیں کھانا کھا کر سب کچھ دیر سستانے لیٹے تھے زوہیب وقار کے کمرے میں سو گیا تھا دو بجنے کو تھے جب رابی ان کو اٹھانے دروازہ میں کھڑی تھی وہ سادہ شرٹ اور ٹروزر پہنے جمائی روکتا باہر آیا تھا
“کیا بات ہے گڑیا؟؟”
“انکل ۔۔۔۔۔”
“جی گڑیا؟”
“بھئی بچی تھوڑی ہوں میں جو ہر وقت بس گڑیا گڑیا ۔۔۔۔رابعہ نام ہے میرا ۔۔۔آپ رابی بھی کہہ سکتے ہیں انکل”
وہ شرارتی سے انداز میں دونوں ہاتھوں سے چٹیاں ہلاتی بولی تھی
“اصل میں جب تم پیدا ہوئی تھیں نا تب میں دس سال کا تھا تم جب بھی روتی تھی میں چاچی سے لے کر تمہیں پورے گھر میں گھماتا اور تم میرے پاس آتے ہی چپ کر جاتی ۔۔۔تبھی امی کو میں نے کہہ دیا تھا یہ میری گڑیا ہے “
وہ محبت سے بتا رہا تھا
“مطلب میں آپ کا کھلونا تھی انکل ؟؟”
اس نے طنز کیا تھا
“نہیں گڑیا ایسا نہیں کہتے ۔۔۔سانس لیتا انسان کھلونا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔مجھے بھی گڑیا جیسی بہن چاہئیے تھی ۔۔۔مگر میرے بعد ھمارے گھر میں دوبارا کوئی خوشی ہی نہی آئی ۔۔۔بس پھر اللّه نے مجھے تمہیں دے دیا ۔۔۔”
وہ مسکرایا تھا
اس کی خالص سی مسکراہٹ نے ایک دم رابی کی دل کی دھڑکن تیز کردی تھی ۔۔۔
وہ بنا کوئی جواب دیئے بس ماں کا بازار جانے کا پیغام دے کر خود بھی عبایا پہن کر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
وہ چینج کر کے عینک ٹھیک کرتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا کیوں کہ وقار نے یہ کام آج انکو سونپا تھا ویسے شفیق صاحب ہی گاڑی چلاتے تھے مگر وقار بھی کبھی کبھی اپنا شوق پورا کر لیا کرتا تھا
شفیق صاحب گھر پر ہی رک گئے تھے
“تو چلیں گڑیا ؟؟”
وہ پیچھے رابی کو دیکھ کر محبت سے پوچھ رہا تھا
وہ محض ہوں کہہ کر کھڑکی کے باہر دیکھنے لگی تھی
“چلو بیٹا ۔۔۔میں اپنی بہو کے لئے اپنے سارے ارمان نکالوں گی آج”
پروین بيگم حسب عادت بٹوہ نکال کر بول رہی تھیں
“یہ رکھ لیں چاچی”
زوہیب نے اپنا کریڈٹ کارڈ پروین بيگم کو دیتے ہوۓ کہا تھا
“ارے نہیں بیٹا ۔۔۔۔میری بہو ہے تو میں جانوں اور وہ یہ کارڈ وارڈ رکھو تم اپنے پاس”
وہ برا مان کر بولی تھیں
“زوہیب بھائی ۔۔۔مجھے اور آپی کو آپ کروانا شاپنگ ۔۔۔آخر ہمارے بڑے بھائی کی شادی ہے”
وقار نے رابی کی طرف دیکھا تھا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“گڑیا ۔۔۔۔رکھو اسے”
وہ ناں ناں کرتی بھی ماں کے کہنے پر انکار نہیں کر پائی تھی وہ کارڈ ہاتھ میں پکڑ کر دل ہی دل میں خوش ہوئی تھی
۔*************
“ماں ۔۔۔۔”
ہادی ماں کے کمرے میں آیا تھا
“جی بیٹا کوئی کام تھا آپ کو ؟؟”
“جی وہ کچھ چیکس پر اپ کے سائنز کی ضرورت تھی نیو پروجیکٹ پر کام شروع کرنا ہے”
یہ محل نما کمرہ جدید طرز کے سامان سے مُزيّن اپنی مثال آپ تھا ۔۔۔ہر چیز قیمتی اور نایاب تھی
“ہادی بیٹا جو بھی ہے سب اپ کا ہی تو ہے پھر آپ کیوں سب کچھ اپنے نام کروا کر مجھے سائن کرنے کے اس جهنجھٹ سے آزاد نہیں کرتے”
صبیحہ بيگم ساڑھی کا پلو پکڑ کر اٹھ کر بیٹھ گئی تھیں
“نہیں ماں یہ پورا بزنس ایمپائر آپ نے ڈیڈ کے بعد اکیلے ہی کھڑا رکھا ہے اللّه آپ کو میرے سر پر ہمیشہ رکھے ۔۔۔مجھے بہت اچھا لگتا ہے اسی بہانے آپ بزنس کے سارے معاملات سے باخبر رہتی ہیں”
“یہ تو آپ کی محبت ہے ہادی بیٹا ۔۔۔۔”
وہ محبت سے ہادی کے چہرے پر پیار کرتے ہوۓ بولی تھیں
صبیحہ بيگم نہایت ہی شفیق خاتون تھیں بہت پیار و محبت کرنے والی انسان ۔۔۔۔ہادی کی جان اپنی ماں میں بستی تھی ۔۔۔وہ گھر آتے ہی ماں کا ہاتھ چوم کر سلام کرتا اور جاتے ہوۓ بھی یہی معمول ہوتا۔۔۔
اس وقت دوپہر کے ایک بج رہے تھے وہ خاص ان سائنز کے لئے گھر آیا تھا اب وہ دوبارہ آفس کے لئے سڑک پر تھا
وہ سگرٹ دانتوں میں دبا کر اب لائٹر کی تلاش میں ڈیش بورڈ کی طرف متوجہ ہوا تھا جانے کہاں سے ایک لڑکی بڑی سی چادر لیے اس کی گاڑی کے آگے آ کر رک گئی تھی اس نے تیزی سے سٹیرنگ کو گھوما کر اسے ٹکڑ لگنے سے بچا یا تھا وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی
“ارے مرنا ہی ہے تو کہیں اور جا کر مریں نا میری ہی گاڑی ملی تھی اس سعادت کے لئے ؟؟؟”
وہ چپ چاپ کھڑی ہاتھ میں فائل پکڑے غائب دماغی سے اسے دیکھ رہی تھی اس کی موٹی موٹی آنکھیں لال ہو رہی تھیں
“گونگی ہیں آپ ؟؟؟”
ہادی پاس ہو کر برہم ہوتا ہوا بولا تھا
“نہیں ۔۔۔۔نہیں تو ۔۔۔۔مجھے آج بھی جاب پر نہیں رکھا انہوں نے۔۔۔۔ماما مامی ۔۔۔۔مجھے گھر نہیں گھسنے دے گے ۔۔۔”
وہ خشک ہو نٹوں پر زبان پھیر کر خود كلامی میں بولی تھی
“کیا ؟؟؟؟”
“جاب؟؟؟”
“جاب چاہیے ؟؟؟”
“بس جاب کے لئے یہ قدم اٹھانے والی تھیں آپ محترمہ ؟؟؟”
“ہا ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔”
آنسو زور قطار اس کے نرم گالوں کو بھگو گئے تھے
“پلیز رونا بند کریں ۔۔۔۔چلیں بٹھیں میرے ساتھ ۔۔۔میں جاب دیتا ہوں آپ کو ۔۔۔۔”
ہادی کالا چشمہ آنکھوں پہ لگاتا ہوا تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا وہ آنسو صاف کرتی پیچھے پیچھے آئی تھی ۔۔۔
