Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 12
Rate this Novel
Weran Zindagi Episode 12
بارات آ چکی تھی شادی کی تقریب کا انتظام اچھے سے شادی ہال میں کیا گیا تھا
نکاح شروع ہو چکا تھا زوہیب اور وقار مولوی صاحب کے ساتھ رابی کے پاس برائیڈل روم میں آۓ تھے جہاں پروین بيگم اور کچھ اور بھی رشتے دار خواتین موجود تھیں
نکاح کے كلمات کے بعد مولوی صاحب کی طرف سے سوال ہوا تھا
“رابعہ شفیق ولد شفیق احمد آپ کا نکاح بعوض پچاس لاکھ حق مہر عبدلله ہادی والد نور محمد کے ساتھ کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟”
اس بات سے رابی کو گویا سانپ سونگھ گیا تھا وہ گم سم سی نظریں نیچے کیئے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی
بیٹا ؟؟؟
پروین بيگم نے بیٹی کو جگانا چاہا تھا
“میں تم سے محبت نہیں کرتا گڑیا”
“تمہیں مرد کی ضرورت ہے تمہاری عمر کا تقاضہ ہے،شادی کرلو”
زوہیب کے الفاظ رابی کے کانوں میں نئے سرے سے گونجے تھے
اس نے زوہیب کی طرف دیکھ کر قبول ہے بولا تھا زوہیب کی آنکھوں میں آتی نمی وہ دور سے بھی دیکھ سکتی تھی سب اسے گلے لگا کر مبارک باد دے رہے تھے وہ کسی سجی ہوئی مورتی کی طرح سپاٹ چہرہ لئے فقط زوہیب کو تَک رہی تھی
اس کی نظروں میں گلا اور شکایت تھی۔۔۔۔
آنسو کے نام پر نمی تک نہیں آئی تھی رابی کی جھیل جیسی آنکھوں میں ۔۔۔۔
وہاں بس انتقام ہی انتقام تھا ۔۔۔۔۔
نکاح کے چند الفاظ نے گویا اس کے جذبات پر بندھ باندھ دیا تھا ۔۔۔۔وہ اب پر سکون تھی وہ خود کو زوہیب سے چھیننا چاہتی تھی جو وہ کر چکی تھی ۔۔۔۔
مولوی نکاح مکمل کر کے اب ہادی کے پاس آیا تھا جو مسلسل ٹشو سے آتا پسینہ صاف کرتا سامنے بیٹھی ہانی کو بار بار دیکھ رہا تھا
نکاح شروع ہوا تھا
مولوی نے سوال کیا تھا جس کا جواب ہادی نے ہانی سے نظر چرا کر ہاں میں دیا تھا اب میوزک چلا دیا گیا تھا جس میں کوئی مقامی سنگر دونوں کا نام لے کر گاتے ہوۓ مبارک باد در رہا تھا
رابی کو اب ہادی کے ساتھ لا کر بیٹھا دیا تھا وہ دونوں ساتھ میں خوبصورت جوڑا کہلانے کے سارے ریکارڈ توڑ رہے تھے
ہادی کی بیوی کی اس قدر خوبصورتی دیکھ کر ہانی کا دل بند ہونے کو تھا ہال میں موجود ہر بندہ دونوں کے جوڑی پر عش عش کر اٹھا تھا
اب دونوں کو اسٹیج پر کھڑا کر کے فائر ورکس کیا جا رہا تھا
فوٹو گرافر نے ہادی کو اپنا ہاتھ ہانی کی کمر پر رکھنے کو کہا تھا
اسی دوران دونوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھا تھا ہادی نا چاھتے ہوۓ بھی اپنی نظر اس پر سے فورا ہٹا نہیں پایا تھا جبکہ رابی کو بھی وہ بہت خاص لگا تھا
زوہیب جو اسے ایسا ہی خوبصورت ہم عمر همسفر دلانا چاہتا تھا آج حقیقت کا سامنا بہت کٹھن لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے سانسوں کی روانی کی خاطر اپنی ڈریس شرٹ کے کچھ اوپر کے بٹن کھولنے پڑے تھے۔۔۔۔
یہ سب ہانی بھی دیکھ رہی تھی اپنی آنکھوں سے اسے کسی اور کا ہوتے دیکھنے کی ضد اسے بہت مہنگی پڑی تھی ۔۔۔
ہادی کی کچھ لمحوں کی نظر ہانی کا سب کچھ بہا لے گئی تھی ۔۔۔۔
ہانی کے اندر دل کا کوئی حصہ ٹوٹ کر الگ ہوا تھا مزيد یہاں رکنا بے موت مارے جانے کے مترادف تھا وہ چادر اوڑھ کر كيپ لے کر گھر کے لئے نکل آئی تھی ۔۔۔۔
وہ واپسی کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت اذیت ناک تھا ۔۔۔۔بلا شبہ ۔۔۔۔۔
کچھ دیر میں فوٹو گرافر مختلف پوزز میں ان کی تصاویر بناتا رہا پھر براتیوں کو کھانا کھلا کر رابی کو دعاؤں کے ساتھ روتے دھوتے رخصت کر دیا گیا ۔۔۔۔
گھر آنے تک رات آٹھ بج چکے تھے وہاں بھی کچھ رسموں کے ساتھ رابی اور ہادی کو خوش آمدید کیا گیا ۔۔۔
جب رابی کو کمرے میں لایا گیا تب تک گھڑی رات کے گیارہ بجا رہی تھی کمرہ بہت نفيس انداز میں سجایا گیا تھا
تھکاوٹ سے رابی کا برا حال تھا وہ بس جلد از جلد سونا چاہتی تھی وہ اسی ارادے میں بیٹھی بس آنے والے کی منتظر تھی جب صبیحہ بيگم کمرے میں آئی تھیں
“السلام علیکم میری بیٹی۔۔۔۔ میں آپ کی امی ہوں آج سے”
وہ رابی کا سر چوم کر بہت محبت سے بولی تھیں
رابی نے مسکرا کر بس سر ہلایا تھا
“آپ بہت خوبصورت ہو میں اپنے بیٹے کے لئے جیسی حسین بیوی چاہتی تھی آپ ہو بہو ویسی ہو ۔۔۔۔آپ ہادی کی ٹکر کی خوبصورت ہیں،میں بہت خوش ہوں میری جان ۔۔۔۔میں آپ سے کچھ نہیں چاہتی ۔۔۔بس میرے بیٹے کی زندگی خوشیوں سے بھر دو،گھر کا کوئی کام کچھ بھی آپ کی ذمہ داری نہیں جو دل میں ہو کریں بس میرا بیٹا مجھے خوش نظر آنا چاہیے ۔۔۔۔اتنی سی خواہش ہے ۔۔۔اسے آپ میری ادنٰی سی التجا سمجھیں یا ایک ماں کا حکم ۔۔۔۔”
وہ رابی کا ہاتھ باقاعده چوم کر بول رہی تھیں
“اور یہ آپ کے لئے منہ دکھائی ۔۔۔ایک ماں کی طرف سے”
ہیروں سے بنا ایک خوبصورت بھاری سیٹ وہ رابی کے آ گے ڈبے میں کرتے ہوۓ بولی تھیں جیسے دیکھ کر رابی کو اپنی قسمت پر رشک آیا تھا
“شکریہ ۔۔۔۔آنٹی ۔۔۔۔”
“آآ ہاں ۔۔۔۔۔ماں بولو ۔۔۔۔میں جیسے ہادی کی ماں ہوں ویسی ہی آپ کی ۔۔۔”
“اچھا میں اس نالائق کو بھیجتی ہوں”
وہ شفقت سے ایک بار پھر رابی کا سر چوم کر باہر نکل گئیں تھیں
“کیسا عجیب دوراہا ہے میرے اللّه ایک طرف زوہیب کی محبت سے دستبرداری کا سوگ ہے تو دوسری طرف اتنا خوبصورت ہم عمر شوہر اور اتنی اچھی ساس کا ساتھ ۔۔۔۔۔سمجھ نہیں آتی پلڑہ کس کا بھاری ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔کاش زوہیب ۔۔۔۔آپ مجھے اپنا لیتے ۔۔۔تو آج مجھے منافقت والی زندگی کا آغاز نا کرنا پڑتا ۔۔۔۔”
“مجھے یہ سب نہیں چاہیے زوہیب ۔۔۔۔بس آپ چاہیے تھے مجھے ۔۔۔۔”
آنکھیں بھگو کر اب آنسو گال پر آچکے تھے عورت کی زندگی میں پلڑہ ہمیشہ محبت کا ہی بھاری ہوا کرتا ہے ۔۔۔
مرد کی فطرت بہت عجیب بنائی گئی ہے ۔۔۔۔وہ محبت،دل لگی،دل چسپی،عادت،ضرورت،محبوبہ، مجبوری اور بیوی ان تمام عورتوں میں بہت اچھے سے فرق بنا کر اپنا وقت گزار لیتا ہے ۔۔۔۔وہ ان تمام عورتوں سے اپنی ضرورت پوری کرتا ہے ۔۔۔۔یہ اور بات ہے کہ محبت کے خانے میں وہ ایک کو ہی گنتا ہے مگر بیوقوف عورت سمجھ بھی نہیں پاتی اور وہ مرد کے ہاتھ استعمال ہو چکی ہوتی ہے ۔۔۔
عورت ان تمام درجوں میں فقط خسارے میں ہے ۔۔۔۔وفا کا خانہ مرد کے دل میں بنایا ہی نہیں گیا ۔۔۔۔
ہانی سمجھتی تھی ہادی وہ ہی فاصلہ برقرار رکھے گا جو وہ بتا رہا تھا مگر ایسا نہیں ہوا تھا ۔۔۔
خوبصورت لڑکی وہ بھی بیوی کی صورت کوئی بھی مرد نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔
(میں یہاں فرض کر کے یہ بھی لکھ سکتی تھی کہ ہادی بہت اچھا تھا اس نے رابی کو دیکھا تک نہیں چھونا تو دور لیکن میں فکشن نہیں لکھ رہی میں ایک سوشل کہانی لکھ رہی ہوں اور حقیقت کا عاشق اتنا شریف نہیں ہوتا وہ تو کتا ہوتا ہے جس کے نزدیک عورت ایک گوشت پوست کا ڈھیر اور ہڈی ہے ،یہ بات ان خواتین کے لئے جن کو اپنے محبوبہ بیوی ہونے کا گمان ہے ۔۔۔۔نکل آئیے اس غلط فہمی سے،سچ تو یہ ہے عورت کی کبھی کوئی جگہ ہوتی ہی نہیں ہے کوئی آپ کی جگہ نہیں لے گا میں اس فقرے کو نہیں مانتی ۔۔۔اپنی ناک کان اور آنکھیں کھول کر رکھیں)
ہادی کمرے میں آیا تو رابی کو آنسو بہاتا دیکھ وہ فورا اس کے پاس آ بیٹھا تھا
“آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”
“جی ۔۔۔میں تھک گئی ہوں ۔۔۔۔سونا چاہتی ہوں”
“چینج ۔۔۔۔کرنا ہے مجھے”
رابی نم آنکھوں میں اور بھی قیامت ڈھا رہی تھی
ہادی کو اس میں ہانی نظر آئی تھی اس نے مدہوش سا اس کا ہاتھ تھاما تھا اور منہ دکھائی میں اس کے گلے میں چین،ہاتھوں میں دو موٹے بھاری کنگن اور آنگوٹھی پہنائی تھی
رابی کے دل نے شدت سے زوہیب کو یاد کیا تھا وہ ہادی کے تیور جان کر اور بھی شدت سے اب رونے لگی تھی جس پر ہادی ہوش میں آیا تھا
وہ ہانی نہیں تھا وہ اٹھ کر دور ہوا تھا
“آپ چینج کر لیں اور سو جایئں”
رابی نے شکر کیا تھا وہ کپڑے بدل کر سونے لیٹ گئی تھی آج نیند اس پر بہت جلد مہربان ہوئی تھی ہادی بھی اس کے پہلو میں چینج کر کے سو گیا تھا
اب وہ ہانی کے متلعق سوچ رہا تھا
“اتنی خوبصورت بیوی ۔۔۔۔۔میں کب تک ہانی کا بهرم رکھ پاؤں گا کاش ہانی صرف تم ہی میری بیوی ہوتی”
وہ انہی سوچوں میں گم سو چکا تھا جب اس کی آنکھ کھلی رابی لاپرواہ سی اس کے پہلو میں سو رہی تھی اس کی خوبصورتی کسی طرح بھی معمولی نہیں تھی مگر وہ ہانی کا سوچ کر خود کو روک رہا تھا مگر وہ جانتا تھا یہ زیادہ دن ہونا ممکن نہیں ہے ۔۔۔
اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کر کے رابی کی آنکھ کھل گئی تھی جس پر ہادی فوراً سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا تھا
صبح کے آٹھ بج رہے تھے جبکہ ولیمہ رات کے آٹھ بجے تھا
رابی واش روم گئی منہ ہاتھ دھوۓ اب وہ اپنا موبائل ہاتھ میں پکڑے صوفے پر آ کر بیٹھ گئی تھی امی کی مِسڈ کال اور وقار کا مس یو کا میسج دیکھ کر اس کا دل بھر آیا تھا
وہ پورے کمرے کا جائزہ لینے لگی تھی کمرے میں موجود ایک ایک چیز اپنی قیمت کا پرچار کر رہی تھی ہادی آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا ۔۔۔۔ اس کمرے کے حساب سے واقعی اس کا مالک لگ رہا تھا
“زوہیب ۔۔۔۔”
دل سے ایک آہ نکلی تھی ۔۔۔۔
وہ پانی پی کر صوفہ پر ہی دوبارہ لیٹ گئی تھی
“آپ جاگ گئی ہیں تو چلیں ماں کے پاس چلتے ہیں پھر مجھے کام سے جانا ہے ولیمے تک آ جاؤں گا”
وہ جمائی روکتا ہوا واش روم جاتا ہوا رابی کو کہہ رہا تھا
“جی ۔۔۔”
ہادی خوبصورت ڈریسنگ کیے نہا کر باہر آیا تھا
“ماں نے آپ کے آج کے دن کے کپڑے بھی اندر آپ کی الماری میں رکھوائے ہوۓ ہیں آپ پہن لیں اور تیار ہو جائیں پھر چلتے ہیں ماں کے پاس”
“جس کلر کی میری شرٹ ہے ۔۔۔۔گرے ۔۔۔۔ویسی ہی منی فروک ہے امبروئیڈری والی وہ پہن لیں”
وہ بالوں میں برش کرتا اسے بتا رہا تھا جس پر رابی عمل کرکے باہر آئی تھی
اس کے لمبے گیلے بال ۔۔۔۔۔۔وہ ان کپڑوں میں رات سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی ہادی اس کو دیکھنے سے خود کو روک نہیں پا رہا تھا
“یہ آپ كی جیولری”
ایک سادہ سا گرے خوبصورت اینٹیک سٹائل کا سیٹ وہ اس کی طرف بڑھا کر بولا تھا
رابی ہلکا پھلکا تیار ہو کر اب گرے گلاس سٹون والی ہیل پہن کر
دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی
“میں تیار ہوں”
ہادی جو اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ایک دم اس کی آواز سے ہوش میں آیا تھا
دونوں کمرے سے نکل کر اب سیڑھیوں سے نیچے آرہے تھے صبیحہ بيگم خلاف معمول کمرے کی بجائے نیچے بیٹھی چاۓ پی رہی تھی ان کو دیکھتے ہادی نے اپنا بازو رابی کے گرد حائل کیا تھا جس پر رابی تھوڑی گھبرا گئی تھی
دونوں نے مسکراتے ہوۓ ان کو سلام کر کے جھک کے پیار لیا تھا
“جیتے رہو میرے بچوں”
انہوں نے پیار دے کر کچھ نوٹ ان دونوں سے وار کر نوکر کو دیئے تھے
“ماں میں شام تک آ جاؤں گا کچھ کام ہے”
ہادی جو اُڑ کر ہانی کے پاس جانا چاہتا تھا فوراً بولا تھا اس کا دل اج کا پورا دن ہانی کے ساتھ کسی اچھی جگہ گزارنے کا تھا مگر ۔۔۔۔
صبیحہ بيگم نے فورا نفی میں سر ہلایا تھا
“نہیں بیٹا ۔۔۔۔تم ایسا کرو رابی کو گھمانے لے جاؤ ۔۔۔پھر ماں باپ سے ملوا لاؤ۔۔۔پھر وہاں سے پالر ۔۔۔۔پھر ہال میں لے آنا رات تک ۔۔۔۔۔جس جگہ آپ دونوں کی آج کے دن کی اپائنٹمنٹ ہے آپ دونوں کے ڈریسسز بھی ادھر ہی ہیں لہذا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔”
ماں گھر رابی کو کل لے جاؤں گا ۔۔۔آج کچھ کام تھا ۔۔۔”
ہادی نے نرمی سے ماں کو سمجھانا چاہا تھا
“نہیں ۔۔۔بیٹا کل شام میں اپ دونوں ورلڈ ٹوور پر جا رہے ہو ایک ماہ کے لئے ۔۔۔۔۔سب تیاری ہو چکی ہے ۔۔۔۔میں بیگ تک ریڈی کروا چکی ہوں ۔۔۔”
صبیحہ بيگم کی بات سن کر دونوں کے پسینے چھوٹے تھے ۔۔۔
دونوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا مگر چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاۓ اب وہ ناشتے کا ویٹ کر رہے تھے جس کا آڈر صبیحہ بيگم نے دیا تھا
ناشتے کے بعد اب وہ باہر آ گئے تھے دونوں خاموش تھے
“رابی ۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔تم بول سکتا ہوں آپ کو ؟؟؟”
“جی ۔۔۔۔بول لیں ۔۔۔”
رابی نے فوراً جواب دیا تھا
“تمہیں آنٹی کے گھر چھوڑ آتا ہوں تم دن گزار لو میں پالر کے ٹائم تک آجاؤں گا ۔۔۔۔مگر ۔۔۔تم ماں کو یہی کہنا ہم پورا دن ساتھ تھے اوکے ؟؟؟”
ہادی نے ڈرتے ہوۓ رازداری سے پوچھا تھا
‘؟؟ “
“جی ۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔میں نہیں بتاؤں گی،آپ بے فکر رہیں”
رابی نے کچھ سوچ کر مسکرا کر کہا تھا
“تم بہت اچھی ہو رابی”
ہادی رابی کو دروازے پر چھوڑ کر ہانی کے پاس چلا گیا تھا
رابی اندر آئی تو سب ٹی_وی لاؤنچ میں خاموشی سے بیٹھے ہوۓ تھے
وہ بھاگ کر ماں کے گلے لگی تھی جس سے سب کی آنکھیں اسے دیکھ کر خوشی سے بھیگ گئی تھیں
“اموں دروازہ کیوں کھلا چھوڑا تھا پہلے تو ایسا کبھی نہیں کیا؟؟؟”
رابی زوہیب کی طرف دیکھ کر مطمئین سی بولی تھی
“اس گھر کی قیمتی چیز تو چلی گئی اب کیسا ڈر، بیٹا ہادی کیوں نہیں آے ؟؟؟”
ماں نے فکر مندی سے پوچھا تھا
“امی تھوڑا کام تھا ان کو شام تک آئی گے مجھے پالر لے کر جانے پھر ادھر سے ڈائریکٹ ولیمہ اٹینڈ کریں گے ۔۔۔۔کل اموں ہم ورلڈ ٹوور پر نکل رہے ہیں تو کہتے پورا دن گھر والوں کے ساتھ مزے کرو”
وہ ہر لفظ زوہیب کو جتا کر ادا کر رہی تھی وہ گلاسز ٹھیک کرتا اسے خوش دیکھ کر خوش لگ رہا تھا
سب رابی کو خوش دیکھ کر خوش تھے وقار اس کی پسند کی چاٹ لینے باہر گیا تھا ماں اس کی پسند کے کھانے بنانے کچن میں۔۔۔۔زوہیب اپنے کمرے میں ۔۔۔۔
رابی کو اپنے کمرے سے چھوٹی موٹی ضرورت کی چیزیں پيک کرنے ادھر بھیجا تھا وہ پيكنگ کرتی اچانک تیزی سے اٹھی اور زوہیب کے کمرے میں بنا ناک کیئے چلی آئی
“کیسی ہو گڑیا،بہت اچھا لگا تمہیں اس طرح خوش دیکھ کر”
وہ گھبرا کر فوراً بولا تھا جس پر رابی نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسيد کیا تھا
اب وہ بیٹھی رورہی تھی زوہیب منہ پر ہاتھ رکھے اس کی طرف پریشانی سے دیکھ رہا تھا
“نہیں ہوں میں خوش ۔۔۔۔۔۔وہ آپ نہیں ہیں ۔۔۔۔”
“آپ کو فرق پڑا۔۔۔۔۔؟؟۔؟میں نے ایک انجان شخص سے شادی رچالی مگر آپ کو ذرا بھی فرق نہیں پڑا؟؟؟؟؟؟”
وہ چیخی تھی
“رابی ۔۔۔۔۔کوئی سن لے گا ۔۔۔چپ کر جاؤ۔۔۔۔”
وہ آہستہ سے بولتا ہوا اس کے پاس بیٹھا تھا
“کل مجھے وہ اتنا دور لے کر جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔کیسے اپنی حفاظت کر پاؤں گی ؟؟؟؟؟؟زوہیب آپ کی محبت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔”
“میرا دل ویران ہے ۔۔۔۔یہ قیمتی کپڑے ۔۔۔یہ شان و شوقت اسے آباد نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔آپ کیوں نہیں سمجھتے ؟؟؟؟؟”
“وہ تمہارا شوہر ہے ۔۔۔۔تم پرحق رکھتا ہے ۔۔۔۔۔”
زوہیب نے اسے سمجھانا چاہا تھا
“افسوس آپ کو مجھے کھو کر بھی میری محبت کا احساس نہیں ہوا ۔۔۔۔۔”
وہ حقارت سے اسے دیکھتی اٹھ کر باہر نکل آئی تھی
