Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary NovelR50678 Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Last Episode)
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Last Episode)
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary
بول ہی رہا تھا کہ میرب اس کے بازوؤں میں جھول گئی ۔
فدی نے میرب کو اپنے بازوں میں اٹھا لیا
میری اٹھو میری
وہ مسلسل بولتا ہوا لمبےلمبےڈگ پڑتا گاڑی تک پہنچا
میررب کو گاڑی میں بٹھا کر اس نے گاڑی سٹارٹ کی
کچھ ہی دیر بعد وہ ہسپتال میں تھے
ڈاکٹر نے بتایا ڈیپریشن کی وجہ سے میرب بیہوش ہوئی ہے
ڈاکٹر نے میرب کو ایڈمٹ کرنے کا کہا لیکن فدی نے میڈیسن کے بعد
میںرب کو اٹھایا اور اپنے گھر لے آیا
اسے ڈر تھا کہ اگر وہ اسے ہسپتال میں رکھتا تو شاید میرب اسے دوبارہ چھوڑ کر چلی جاتی





حمزہ حیا کو لے کر گھر آیا حیا سیدھا اپنے کمرے میں آگئ اورکپڑے چینج کرنے کے بعد باہر جانے ہی لگی
کہ کمرے سے باہر حمزہ کی آواز آئی وہ کسی سے کال پر بات کر رہا تھا ۔
پریشان کیوں ہوتی ہو جیسے تم خوش ویسے میں خوش
تمہاری خوشی میں ہی تو میری خوشی ہے
اب جلدی سے سمائل دو
آ رہا ہوں تمہارے پاس ہی۔کہہ کر حمزہ نے کال کٹ کر دی
حیاتو حمزہ کی باتیں سن کر ہی اندر تک جال بن گئی
حمزہ پیچھے پلٹا تو حیاکھڑی تھی
حمزہ نے حیا کو یوں کھڑے دیکھ کر پوچھا
ایسے کیا کھڑی ہو
کہاں جا رہے ہیں آپ ؟
حیا نے اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا سوال تھوپا
تم سے مطلب ؟تم چاہتی تھی کہ میں تمہاری قریب نہ آؤ ۔خوش ہو جاؤ اب نہیں آؤں گا ۔
چلاگیا میں کسی اور کے پاس
جو مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اور فکر بھی
کہتے ہوئے حمزہ حیا کے اوپر جھکا
اورہاتھ اٹھا کر اس کے لبوں کے قریب لے جانے لگا
لیکن فوراّ ہی اپنا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس جی حیا کا گھر کا گال تھپتھپایا اور باہر نکل گیا
جا رہا ہوں پیار لینے
حمزہ نے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے اونچی آواز میں کہا
جب کے حیا کی آنکھوں میں نمی اور ا ترائی
________
حیا کافی دیر روتی رہی اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا ۔اب وہ کرے کیا ۔
حمزہ کا رویہ تو اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔کافی دیر رونے کے بعد اسے اچانک سے میرب کا خیال آیا
۔وہ اٹھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی میرب کے کمرے کی طرف گئی
۔لیکن میرب کمرے میں نہیں تھی ۔حیاوہی بیڈ پر بیٹھ گئی اور کافی دیر انتظار کرتی رہی
کہ میرب واش روم سے نکلے گی
لیکن جب کافی دیر بعد بھی میںرب۔ نا آئی تو حیا نے آگے بڑھ کر واش روم کا دروازہ کھولا ۔
تو وہا پہ کوئی بھی نہیں تھا ۔اب حیا کو پریشانی لاحق ہونے لگی
وہ بھاگتی ہوئی اپنے روم میں گئی اور موبائل اٹھا کر حمزہ کو بتانا چاہا
لیکن سکرین پر فدی کا میسج چمچما رہا تھا ۔حیا نے میسج پر اوکے کیا
۔میرب میرے پاس ہیں اور میں اسے لے کر اپنے ساتھ جا رہا ہوں پریشان مت ہوئیے گا ۔
میسج پر کر حیاکو سکون کا سانس آیا ۔اس نے دل ہی دل میں میرب اور فادی کو نہ جانے کتنی دعائیں دے ڈالی
۔ان کی خوشیوں کی دعا کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی
۔وہ ان کے بارے میں سوچتے ہوئے دوبارہ سے حمزہ پر آگئی اور اس کا رویہ ایک دفعہ پھر سے یاد آنے پر وہ رونے لگ گئی ۔
جب کسی بھی طرح تسلی نہ ہوئی تو حیا نے سوچا آج رات کو جب حمزہ آئے گا تو وہ تمام گلے شکوے دور کر دے گی
۔وہ اسے بتا دے گی کہ وہ اسے کسی اور کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی
۔یہی سوچ کر ہیا اٹھ کر قبڈ میں سے کپڑے ڈھونڈنے لگی ۔وہ آج پہلی بار خود کو حمزہ کے لئے سجانا چاہتی تھی





میرب کے آنے کا سب کو ہی علم ہو گیا تھا ۔اعظم مصطفی کے گھر پر ہی آکر سب میرب سے مل چکے تھے
۔میںرب کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ساجدہ بیگم کافی دیر میںرب کے پاس بیٹھی رہی
۔پھر فائزہ کے بلانے پر اٹھ کر چلی گئی ۔سب فدی سے امید لگائے بیٹھے تھے ۔سب کو امید تھی
فادی سب ٹھیک کر دے گا ۔اور خوشیاں ایس گھر میں واپس لوٹ آئیں گی
۔ایسی لئے صب فادی اور میرب کو چھوڑ کر چلے گئے ۔تاکہ فعدی سب سنبھال سکے
اور میںرب کو منا لے ۔انہوں نے خاص طور پر فادی کو بلا کر کہا تھا
اب میری بیٹی کو پریشان مت کرنا ۔اب اگر ایسا ویسا کچھ ہوا تو میری بیٹی نہیں تم اس گھر سے جاؤ گے
صبح سے رات ہونے آئ تھی ۔میرب ابھی تک دوائیوں کے زیراثر سو رہی تھی
۔فدی مسلسل کمرے میں ٹھل کر میرب کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔آخرکار میںرب کو ہوش آہی گیا
فدی میرب کو ہوش میں آتا دیکھ کر اس کی طرف لپکا ۔میرب کی ٹھیک سے آنکھیں کھلیں تو فادی کو اپنے اوپر جھکا ہوا پایا ۔
کیسی ہو میری اٹھو ۔فدی نے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اسے اٹھانا چاہا
۔میرب اٹھ کر بیٹھ گئی ۔میرب نے ایک نظر کمرے پر ڈالی اسے ایک پل لگا تھا سمجھنے میں
۔میرب فدی کو پیچھے کرتی ہوئی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جو کہ اس کے پیچھے کشن رکھ رہا تھا
۔میںرب کو اٹھتا دیکھ کر اس نے دوبارہ میرب کو پکڑ کر بٹھایا
کہاں جا رہی ہو ۔اس نے میرب کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
۔مرب نے نگاہیں چرا لی لی ۔اپنے گھر میںرب نے غصے سے جواب دیا ۔کون سے گھر فدی نے مزید پوچھا ۔جہاں بھی تم سے مطلب ؟
میںرب نے انتہائی غصے میں اپنا بازو اس کے گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے کہا
۔جسے فدی نے آزاد کر بھی دیا ۔مجھ سے مطلب نہیں تو اور کس سے ہوگا ؟میری بیوی ہو
تو میرے مرضی سے ہی رہوں گی نہ ۔
فادی نے اپنا حق جتاتے ہوئے کہا ۔تمہاری بیوی ہوں ضرور لیکن زیادہ دیر رہوں گی نہیں ۔
وہ فادی کو نظرانداز کرتے ہوئے دوسری جانب دیکھتے ہوئے بولی ؟میری نہیں تو پھر کس کی بیوی رہوں گی ؟وہ بھی کہاں چپ رہنے والا تھا میںرب کو تپانے میں وہ بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا
میرب واقع تپ چکی تھی ۔فدی اٹھا اور میرب کے سامنے جا کر بیٹھ گیا اور ہاتھ سے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا ۔جسے میرب نے جھٹک دیا
۔جس کی بھی لیکن تمہاری نہیں ۔میرب نے فادی کے انداز میں ہی اسے جواب دیا
۔اچھا پھر اپنی شادی پر بلاؤ گی ۔وہ اس کی طرف دیکھتا تپانے والے انداز میں بولا ا
ور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا میرا خیال تھا میں تمہیں منا لوں گا اپنا اعتراف جرم کر لونگا میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے
۔تم سے اچھا دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں۔تمھا رے بینا کچھ اچھا نہیں تھا لگتا
وہ اس کے چہرے کو اپنے قریب کرتے ہوئے محبت سے چور لہجے میں بولا لیییکن ۔![]()
![]()
![]()
جب تم میری بیوی رہو گی ہی نہیں تم نے فیصلہ کر لیا ہے تو میرا منانا بیکار ہے ۔![]()
ویسے ہی میری اتنی محنت بےکار جائےگی وہ اس کے چہرے کو دور کرتا ہوا معصومانہ شکل بناتے ہوئے بولا
۔میرب کادل ایک پل کے لئے پگلا جب وہ اعتراف جرم کر رہا تھا لیکن اگلے ہی پل اس کا فقرہ میرب کو غصہ دلانے کے لئے کافی تھا
میرب نے اسے پیچھے دھکیل کر دوبارہ سے اٹھنا چاہا ۔فدی نے اسے پکڑ کر دوبارہ سے بیڈ پر لٹایا
اور خود اس کے اوپر جھک گیا ۔تم نے میرا جواب نہیں دیا ؟کر لیا مجھے چھوڑنے کا فیصلہ ؟
وہ مرب کے چہرے کو چومتی لٹو کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے اس کے چہرے پر نظریں جما کر بولا ؟
ہاں کر لیا فیصلہ چھوڑو اب ۔میرب نے غصے سے اپنی نگاہیں پھیرتے ہوئے کہا
وہ اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا سکے ۔ٹھیک ہے پھر اپنی زبان بولومیری آنکھوں میں دیکھ کر مجھے اپنا فیصلہ سناؤں مان لوں گا سرجھکاکر ۔
وہ میرب کے رخسار کو چومتا ہوا بولا ۔میرب کے دل کی دھڑکنیں حددرجہ تیز تھی ۔آج اس کا اپنا دل ہی نا انصافی کرنے پر تلا ہوا تھا
وہ اس دشمن جاں کے حق میں بول رہا تھا
میرب نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ۔نہیں رہنا
وہ اپنے اسی انداز میں غصے سے بولی
۔فدی اسے چھوڑ کر اٹھنے لگا لیکن دوسرے ہی پل وہ مزید اس کے اوپر جھک گیا
۔میں نہیں مانتا پوچھو کیوں ۔وہ اس کے اوپر جھکا ہوا اس کے چہرے پر ہاتھ پھرتا ہوا بولا
جب کے میںرب کے دونوں ہاتھوں پر اس کی گرفت تھی۔کیوں ![]()
۔میرب نے زور سے چہرے کو ہلاتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو جھٹکنا چاہا اور غصے سے پوچھا ![]()
۔کیوں کے جب ہم شادی کرتے ہیں تو نکاح کے وقت تین دفعہ بولتے ہیں اور اسی طرح اس وقت بھی آپ اظہار نفرت تین دفاع کریں گی ۔
وہ اس کے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے بولا میںرب کے تو آوسان ختا ہوچکے تھے ۔
چلو دوبارہ سے آنکھوں میں دیکھو اور بولو تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی
۔اب کی۔ بار فادی کے لہجے میں کچھ ایسا تھا میرب اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو گئیں ۔
________
دونوں کی نگاہیں ملیں ۔محبت اپنی کامیابی کے جھنڈے گھار چکی تھی ۔
میرب نے دوسرے ہی پل نگاہیں چرا لی ۔سوچ لو میری اگر تم تین دفعہ اظہار نفرت نہ کر سکی
تو ساری زندگی میری محبت کے حصار میں رہنا ہوگا ۔میری ماننی ہو گی
اور مجھ پر اپنا حق بھی جتانا ہو گا ۔وہ اس کے لبوں پر محبت کی مہر لگاتے ہوئے بولا
۔میرب کے رخسار نازک کلی کی طرح سرخ پر چکے تھے ۔اب بولو کیا فیصلہ ہے تمہارا ۔
جانا چاہوں گی مجھے چھوڑ کر ؟وہ میرب کی آنکھوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا ۔
: میرب نے اپنے لرزتے وجود کو فادی کے کشادہ سینے میں چھپا لیا ۔فدی نے بھی اپنا حصار اور تنگ کر لیا






حمزہ صبح کا گیا ہوا تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا رات کے گیارہ بج رہے تھے
۔حیاحمزہ کا انتظار کر رہی تھی اور اس کا انتظار لمحہ با لمحہ مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔
اس کا دل مسلسل جل رہا تھا اور خون کے آنسو رو رہا تھا یہ سوچ سوچ کر کہ حمزہ کس کے ساتھ ہوگا
۔حیا نے ریڈ لانگ فراک ڈالی تھی نیٹ کے بازو اور ڈیپ گلے کے ساتھ وہ قیامت ڈھا رہی تھی
۔آنکھوں میں سرخ ڈورے دور رہے تھے ۔آنکھوں میں آنے والی نمی کو بار بار وہ اپنے ہاتھ سے رگڑ کر صاف کر دیتی
۔بار بار کال کرنے پر بھی حمزہ فون نہیں اٹھا رہا تھا گاڑی کی آواز آنے پر حیابھاگتی ہوئی گیٹ کی جانب آئی
۔حمزہ گاری میں سے نکل کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر کی جانب جا رہا تھا
۔دروازے میں کھڑی حیا پر نظر پڑتے ہی اس کی نظریں ساقط ہوگی ۔
وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی حمزہ اپنی نظریں ہٹانا بھول گیا ۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی حمزہ کے قریب ای کہا تھے؟ میں کب سے کال کر رہی تھی
۔حیا کی آواز پر حمزہ چونکا اور اپنی نظریں پھیرتے ہوئے بولا ۔کہاں ہونا تھا صبح تمہیں بتا کر تو گیا تھا ۔
وہ لاپرواہ سے انداز میں بولا ۔کس کے ساتھ تھے ہیااپنی آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے ضبط کرتے ہوئے بولی
۔تمہیں کیوں بتاؤں ؟سوال کے بدلے سوال کیا گیا ؟کیونکہ میں آپ کی بیوی ہوں
۔خیانے قدرے مضبوط لہجے میں کہا ۔اوہ اچھا لیکن مجھے تو کبھی فیلنگ نہیں آئ کہ تم میری بیوی ہو
نہ ہی کبھی تم نے مجھے احساس کروایا ہے ۔دور بھاگتی آئی ہوں ہمیشہ سے حمزہ اپنے قدم کمرے کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا حیا نے بھی اس کے پیچھے قدم بڑھائیں
۔وہ واپس پلٹا تو حیا اس کے بالکل قریب کھڑی تھی ۔حیا نے ایک قدم پیچھے لینا چاہا حمزہ نے اسے اپنے حصار میں لے لیا ۔
بتاؤ کبھی فیل کروایا ہے تم نے کہ تم میری بیوی ہو ؟میں کس کا ہوں حیاتمہارا یا کسی اور کا ؟بولو ۔![]()
حمزہ نے حیا کے آگے آئے ہوئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے پوچھا ۔م م میں حیا نے کچھ بولنا چاہا ہی تھا کہ حمزہ نے اس کے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ دی
شش
۔تم سے نہیں ہو گا حیا ۔میں نے آج تک اپنا دل اپنی فیلنگز سب تمہارے نام کی ہیں تم سے شیئر کیا ہے حیا میں تمہیں چاہتا ہوں ۔
تمہارا ساتھ چاہتا ہوں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں زندگی کا ہر لمحہ بھرپور طریقے سے تمہارے ساتھ انجوائے کرنا چاہتا ہوں
۔وہ حیا کی آنکھوں میں دیکھ کر محبت سے چور لہجے میں بول رہا تھا
حیا کے آنکھوں میں سے ایک آنسو ٹوٹ کر حیا کے رہسار پر بہنے لگا
۔رو لو ۔حمزہ نے حیا کے آنسو کو اپنے ہاتھوں کی پوروں میں جزب کرتے ہوئے کہا
۔کیونکہ تمہارے آنسو صاف کرنے کے لئے میں ہوں میں نے تمہیں کبھی رونے سے منع نہیں کیا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ تم میرے سامنے ھی رو گی
اور میرے لیے ہی رو گی ۔جوباتیں تم بتاتی نہیں میں وہ بھی محسوس کرتا ہوں ۔حمزہ نے حیا کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر اسے اپنے دل پر رکھا ۔
سنو کیا کہتا ہے میرا دل ؟میری فلنگز بتاتا ہے نہ میرا پیار بتاتا ہے نہ لیکن تم کیا سمجھو گی تم نے تو کبھی مجھ سے پیار کیا ہی نہیں
۔کہہ کر دوسرے ہی لمحے حمزہ نے اسے اپنے حصار سے آزاد کیا اور اس کا ہاچھروانے کے انداز میں اسے پیچھے کیا ۔حیا کا جسم لرز گیا
۔آنکھوں سے آنسو بے اختیار ہو گئے تھے لبوں میں کپکپاہٹ واظہح تھی ۔ویسے کیوں رو رہی ہو کیوں انتظار کر رہی تھی تم میرا ؟
حمزہ نے ٹیبل پر موبائل رکھا اور ہاتھ سے واچ اتارتے ہوئے پوچھا ۔ح حمزہ آپ غلط سمجھ رہے ہیں ۔کیا غلط سمجھ رہا ہوں ؟دوبارہ سے سوال پوچھا گیا ؟
حمزہ کی نظر دوبارہ سے حیاکے سراپے پر گی۔وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہے حیا کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا ۔اور حیا کے بالوں کو آگے کیا ۔
اتنا تیار کس کے لئے ؟جہاں تک میرا خیال ہے تم تو کبھی میرے لیے تیار بھی نہیں ہوئی
۔ہینا ۔وہ طنز پر طنز کر رہا تھا یا شاید حیا کو اکسا رہا تھا وہ کچھ تو بولے ۔آپ کے لئے ہوی ہوں تیار حیا نے کانپتے لبوں سے جواب دیا
حمزہ نے حیاکے کاندھے پر اپنے تھوڑی ٹکا دیں اور اس کے بازو پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک دم سے نیٹ کے کپڑے کو کھینچا اور وہ پھٹ گیا
۔حیا کا حلق خشک ہو گیا ۔حمزہ نے حیا کے پیٹ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔میرے لیے تیار ہوئی ہو کیونکہ تم میری بیوی ہو ؟کیا بیویاں صرف تیار ہی ہوتی ہیں ؟
شوہر کو ان کا پیار نہیں چاہیے ہوتا ؟حمزہ نے حیا کے کان کے ساتھ اپنے دہکتے لب لگاتے ہوئے بولا ؟
حمزہ نے اپنی گرفت اور مضبوط کی تھیں ۔چھ چھوڑے مجہے ۔حیا نے کانپتی ہوئی آواز میں وہ کہہ دیا جو نہیں کہنا چاہیے تھا ۔
حمزہ نے اسے دھکا دے کر خود سے الگ کیا۔خود صوفے پر بیٹھ گیا اور ٹانگیں ٹیبل پرٹیکا دی ۔جاؤ حمزہ نے سخت لہجے میں کہا ۔حیا نے آنکھیں بند کی
اور ایک لمبی سانس خارج کی ۔سوری میں ا آپ سے د دور نہیں جانا چاہتی ۔میں جانتی ہوں آپ سے زیادہ پ پیار مجھے کوئی بھی نہیں کرسکتا ۔
حیا نے آنکھیں بند کئے ہوئے بولا ۔دور نہیں جانا چاہتی تو پاس بھی تو نہیں آنے دیتی ۔حمزہ نے ٹیبل پر پڑا ہوا سگریٹ اٹھایا لائیٹر سے اسے سلگایا
اور اپنے لبوں کے بیچ رکھ لیا ۔آپ آ جائیں پاس میں منا نہیں کروں گی
۔خیانے تھوک اندر نگلتے ہوۓ کہا ۔اس کے اس معصومانہ انداز پر حمزہ قہقہ گونجا ۔
نہیں میڈم اب نہیں ۔میں آتا ہوں پاس اور آپ آنے نہیں دیتی اور زبردستی میں چاہتا نہیں ؟
اس لئے سمپل سی بات ہے آنا ہے تو آپ اے پاس نہیں آناتومیں جا رہا ہوں کسی اور کے پاس ۔حمزہ نے حیاکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
حیا کی تو جان پر بن آئی ۔آئیگی یا جاؤ کچھ دیر حیا آپ کو وہی پہ کھڑا دیکھ کر حمزہ نے پوچھا
۔لیکن حیا کا تو دماغ سن ہو چکا تھا اس نے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھایا تو حمزہ اٹھا اور اس کے پاس سے گزر کر جانے ہی لگا ۔
لیکن ایک پل کے لیے اس نے اپنے لب حیا کے کان کے قریب کرتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا ۔
گڈنایٹ سویٹ ڈیم ۔اور ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وہ آگے بڑھنے ہی والا تھا
حیا نے اسے کالر سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور ایک پل کی
تاہیر کیے بنا اپنے لباس کے لبوں پر رکھ دیے ۔
کچھ لمحوں کے بعد حیا حمزہ سے دور ہوئی اور اپنا صرف چہرہ حمزہ کے کشادہ سینے میں چھپا دیا
دونوں ہاتھوں سے اس نے حمزہ کے جیکٹ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا جسم لرز رہا تھا
۔آپ صرف میرے ہو ۔صرف میرے وہ روتے ہوئے بول رہی تھی حمزہ نے اس کے گرد مضبوطی سے اپنا حصار باندھ لیا ۔





جنوری کی دھوپ سب کو ھی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔ہر کوئی مسکرا رہا تھا ۔صبح ہوتے ہی میرب اور فدی ساجدہ بیگم کے گھر آ گئے تھے
۔حیا اور حمزہ کو بھی کال کر کے بلا لیا گیا ۔۔ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا ۔فائزہ حیا اور میرب کچن میں گسی ہوئی تھی ۔اور کتنی دیر لگے گی
فدی نے آواز لگائی ۔آ رہے ہیں بس فائزہ نے جواب دیا ۔لیکن ایک لمحے کے بعد ہی ان کی نظر کچن کے دروازے پر کھڑے فادی پر پڑھیں
۔کیا ہے یہاں کیوں کھڑے ہو فائزہ نے پوچھا میںرب نے بھی اس کی طرف دیکھا ۔
بھی آپ سب مجھے اس طرح گھور کیوں رہے ہو اب بندہ پانی پینے بھی نہیں آسکتا کیا
۔وہ منہ بناتے ہوئے بولا ٹھیک ہے پیلو پانی ۔فائزہ نے جواب دیا مجھے جلدی ہے اتنا ٹائم نہیں ہے میری۔
جلدی سے پانی نکال کر دو۔میری نے اسے گھورا اور بوتل میں سے پانی نکال کر اسے کلاس تھمایا
لیکن اس نے کلاس کی بجائے میرب کا ہاتھ تھام لیا۔میرب نے اسے گھورا اور اشارہ کیا چھوڑو
۔لیکن اس نے اسی مضبوطی سے میرب کا ہاتھ تھامے رکھا اور اس کے ہاتھ سے ہی پانی پیا
۔پانی پی وہ باہر نکل گیا ۔جب کےمیںرب کے چہرے پر لالی بکھر گئی
حیا تمہیں حمزہ بلا رہا ہے ساجدہ بیگم نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے حیا کو کہا
۔جی امی کہہ کر ہے حیا کمرے میں چلی گئی ۔کمرے میں پہنچی تو وہاں پہ کوئی بھی نہیں تھا ۔
حیا واپس پلٹنے لگی حمزہ کی آواز پر وہی رک گئی ۔حیا میرے کپڑے گندے ہو گئے تھے میں شاور لینے آیا تھا ۔ٹاول بھول گیا ہوں پلیز پکڑا دو
۔حمزہ نے تھوڑا سا سر باہر نکال کر کہا ۔حیا نے ٹاول پکڑا اور حمزہ کو پپکرانے لگی
لیکن حمزہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے اور کھینچنا چاہا ۔حمزہ نہیں حمزہ نہیں حیا نے آنکھیں بند کرلیں
اور ہلکی ہلکی آواز میں چللای ۔لیکن حمزہ اسے کہاں چھوڑنے والا تھا ۔وہ اسے کھینچ رہا تھا لیکن حیا بھی پورا زور لگا کر خود کو بچا رہی تھی
۔جی یا امی ای حیا نے اونچی آواز میں کہا۔ساجدہ بیگم کا سن کر حمزہ کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو حیا موقع پا کر بھاگ گئی
۔اسکی اسےکی شرارت پر حمزہ مسکرانے لگا ۔
ختم شد
