Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary NovelR50678 Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 02)
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 02)
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary
وہ پچھلے پندرہ منٹ سے کمرے میں اس کا انتظار کر رہا تھا ۔حیا ہمیشہ کی طرح ضد پر اڑی تھی
۔اور ابھی تک نیچے ہی تھی ۔وہ ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا بار بار اپنے ہاتھ پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھ رہا تھا ۔
اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا
۔اس نے ٹیبل پر پڑا ہوا اپنا موبائل اٹھایا ۔اور کمرے سے باہر نکل گیا
سیڑھیوں سے تیزی سے اترتا ہوا وہ اب حیا کے سر پر کھڑا تھا
۔حیا ابھی بھی اسی جگہ بیٹھی تھی ۔تمہیں سمجھ نہیں آتی بہری ہو کیا ۔؟
میں نے تمھیں کمرے میں آنے کا کہا تھا
۔وہ اسے گھورتا ہوا ایک ایک لفظ چپا چپا کر کہہ رہا تھا
۔پر ہی ایسے ہی بیٹھی اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی ۔
جیسے لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہوں ۔حمزہ کا غصہ حد سے بھر چکا تھا
۔اس نے ایک جھٹکے سے حیا کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا
اور اپنی اور کھینچ کر اس کے گیرد حصار باندھ لیا
۔حیا اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی
۔حمزہ کی یہ حرکت دیکھ کر وہ مچھلی بے آب کی طرح تڑپنے لگی ۔وہ اس کے حصار سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی
۔جس کو بہت ہی آسانی سے حمزہ نے ناکام بنا دیا
۔وہ غصے سے پھٹ پڑی۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ بھی لگانے کی ۔
میں نے پہلے بھی تمہیں وارن کیا تھا مجھ سے دور رہو ۔حمزہ کو اس کی سانسیں محسوس ہو رہی تھی
۔چھوڑو مجھے ۔وہ اپنے بازو آزاد کرواتے ہوئے بولی
۔حمزہ جو بہت غصے میں تھا
۔حیا کو اپنے قریب دیکھ کر اس کے تیور بدل گئے تھے ۔
اس نے ایک ہاتھ سے حیا کے بازو پکڑے اور دوسرے سے اس کے منہ پر آئے ہوئے بال ہٹاتے ہوئے بولا
۔میری ہمت کی بات کر رہی ہوں
۔ابھی بھی تمہیں میری ہمت دیکھنی ہے
۔میری ہمت کے بل بوتے پر ہی آج تم یہاں میرے سامنے میری بیوی کی صورت میں کھڑی ہوں
۔وہ آرام آرام سے بول رہا تھا
۔حیا کو ایسے لگ رہا تھا جیسے تپا ہوا لوہا کسی نے اس کے چہرے پر لگایا ہو
۔وہ چاہتے ہوئے بھی حمزہ کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا نہیں پا رہی تھی ۔اور ہمت دیکھنی ہے تو دکھاؤ ؟
حمزہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنے شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے کہا
۔جس پر حیا کا رنگ سرخ پر گیا ۔چھوڑو مجھے ورنہ میں خود کو کچھ کر لو گی
۔وہ غصے سے چلائی تھی
۔حمزہ نے اس پر گرفت ڈھیلی کر دی
وہ اسے دھکا دیتی ہوئی دو قدم پیچھے کھڑی ہو گئی
اور صوفے پر پڑا ہوا کشن اٹھا کر زور سے حمزہ کی طرف پھینکا
۔جسے باآسانی حمزہ نے کیچ کر لیا
حمزہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔جو حیا کا دل جلانے کے لئے کافی تھی
۔ایک اور کوشش کرلو کیا پتا اس دفعہ لگ جائے
۔وہ طنز کرتے ہوئے کشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
۔حیا اس کے قریب آئی اور حمزہ کا کالر پکڑ کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی کشن بہت چھوٹی چیز ہے کسی دن میرا بس چلا تو تمہیں گولی مار دوں گی
۔وہ اس کے دل پر انگلی رکھ کر بولی ۔حمزہ نے بات کو مکھی کی طرح اڑا دیا
۔اس کی نگاہیں حیا کے ہونٹوں پر اٹکی ہوئی تھی
۔خیا نے اسے گھورا اور کالر چھوڑ کر دو قدم پیچھے کھڑی ہوگئی
۔گولی سے کیا ہوگا جان تو تم پہلے ہی لے چکی ہو وہ ایکٹنگ کے انداز میں صوفے پر گرتا ہوا بولا ۔گھٹیا انسان
۔وہ بربراتے ہوئے کمرے سے نکل گئی ۔کھانا لایا ہوں لگاؤ گی کیا ۔یا وہ بھی مجھ بے چارے سے لگوانا ہے
۔پیچھے سے حمزہ نے اونچی آواز میں کہا ۔
جسے وہ ان سنی کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی








میری میری میئیری آجاو یار کہا رہ گئی ہو ۔وہ چھت سے نیچے جھانکتا چلا رہا تھا
۔لیکن مزید پانچ منٹ میری کے آنے کے کوئی آثار نہ پاکر وہ روم میں چلا گیا
۔جہاں عیشہ پہلے سے موجود تھی ۔کیا ہوا بھائی میری نہیں آئی ۔عائشہ نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
۔اسی وقت میرب کی آواز آئی ۔سسسسس ۔فدی اور عائشہ بھاگ کر باہر نکلے ۔
تو میرب جو اپنے چھت سے پھلانگ کر ان کی چھت پر آ رہی تھی ۔
جلدی میں ننگے پاؤں آنے کی وجہ سے اس کی پاؤں میں شیشے کا ٹکڑا لگ گیا تھا ۔فدی نے دیکھا
۔میرب زمین پر بیٹھی رو رہی تھی اور اس کے پاؤں سے خون نکل رہا تھا ۔وہ اور عائشہ اس کی طرف لپکے
۔کیا ہوا میرب اپی ۔عائشہ فکرمندی سے بولی ۔آپ ٹھیک تو ہیں نا
۔لیکن میرب مسلسل روئے جا رہی تھی
۔فدی اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔اور میرب کا پاؤں اپنے گھٹنے پر رکھا
۔اور جہاں چوٹ لگی تھی دیکھنے لگا
۔اسے کانچ کا ٹکڑا نظر آیا جسے اس نے آرام سے ہاتھ سے پکڑ کے نکال دیا
۔میرب نے درد میں فدی کے ہاتھ کو زور سے پکڑ لیا
۔کچھ نہیں مری ۔کچھ نہیں ہوا ۔دیکھو میں نے نکال دیا ہے ۔اب چپ کرو
۔وہ اس کے ہاتھ کو پکرے بچوں کی طرح اسے سمجھا رہا تھا
۔اٹھی آپی میں ۔فرسٹ ایڈ کٹ لے آئی ہوں
عائشہ اور فادی اسے پکڑ کر روم میں لے آئے
۔فادی نے اسے ٹیوب لگاکر اس کی پٹی کر دی تھی
اور اب وہ اسے گھورنے میں مصروف تھا ایسے کیا گھور رہے ہو میرب نے اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر پوچھا
۔دیکھ رہا ہوں تمہاری آنکھیں ہیں یا خراب ہو گئی ہیں ۔وہ غصہ کرنے والے انداز میں بولا
۔تھوڑی دیر پہلے تو پاس ہی تھی لیکن تمہاری آواز پر اتنی جلدی میں وہاں سے یہاں آئی تو راستے میں ہی کہیں گڑ گئی
وہ بھی بات کو مذاق میں اڑاتے ہوئے بولی
جس پر فادی اسے گھور کر رہ گیا
۔ان دونوں کے درمیان موبائل نے خلل ڈالا فدی نے موبائل دیکھا
جس کی ابھی ابھی بپ ہوئی تھی
موبائل دیکھ کار وہ فورا اٹھ گیا میری مجھے کام ہے میں بعد میں آتا ہوں
تم اپنا خیال رکھنا نیچے نہ اترنا میں فائزہ بھابھی کو یہی بھیج دیتا ہوں
وہ اسے ہدایت دیتے ہوئے باہر نکل گیا
__________
حمزہ آج بھی باہر جاتے ہوئے دروازہ لاک کر گیا تھا ہمیشہ کی طرح
۔اس کے جانے کے بعد حیا نے سکون کا سانس لیا اور بیڈ پر آ کر لیٹ گئی آنکھیں موندنے پر اسے رات میں ہونے والا واقعہ یاد آیا اس کے اندر غصے کی لہر دوڑ گئی
۔ایک دفعہ پھر سے اس کی آنکھوں کے سامنے سب گھومنے لگا (ڈیر پورا کرنے کے لئے آج بھی وہ میرب لوگوں کے گھر روک گئی تھی
جب کے اسکی امی فاطمہ بیگم گھر چلی گئی تھی حیا کی نسبت فرقان کے ساتھ طے تھی اور کچھ ہی دنوں میں ان کی شادی ہونے والی تھی حیا کی وجہ سے حمزہ لائبا عائشہ بھی وہی روکے تھے
وہ ناشتہ کر کے کچن سے روم میں جانے لگی پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر جیسے ہی وہ پپلٹی کسی چیز سے اس کا تصادم بری طرح ہوا ایک پل کے لئے تو حیا کا سر گھوم کیا ۔آ آ آ آ پ ۔حمزہ بھائی
۔وہ اتنا ہی بھول پائیں ۔جی میں ۔وہ دانت پیس کر بولا ۔حیا چوکہ پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی اب بھاگنے کی تیاری میں تھی
۔حمزہ بھائی میں آتی ہوں مجھے کام ہے یہ کہہ کراس نے ایک قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ حمزہ بول پڑا ۔
میڈم حیا آپ کو اس کام کے کتنے پیسے ملتے ہیں جی جی جی کیا مطلب ۔
وہ نا سمجھی کے انداز میں آپنی گول گول موٹی آنکھوں کو پھلاکر بولی ۔جن میں دنیا بھر کی معصومیت سمٹی ہوئی تھی ۔مطلب جو آپ سب کو بھائی بنا لیتی ہیں
وہاب بھائی حمزہ بھائی فادی بھائی ۔تو اس بھائی بنانے پر آپ کو کتنے پیسے ملتے ہیں
وہ آب اس کے سامنے آکر ہاتھ سینے پر باندھ کر اس پر نظر گار ے دانت پیس پیس کر بول رہا تھا ۔جی وہ امی جی کہتی ہیں کہ شادی
۔تو آپ شادی کر لی مجھ سے کم سے کم یہ بھائی والا لاجک تو آپ کا بند ہو
۔حیا جواب پھر سے اپنی وہی دلیل دے رہی تھی حمزہ نے درمیان میں ہی بات کاٹ کر اسے چپ کروا دیا
۔ک۔ ک ک کیا مطلب بھائی وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں جھگڑے ھوے بول رہی تھی
جو اس کی گھبراہٹ کا واضح ثبوت دے رہے تھے ۔مطلب یہ ہے کہ آپ یہاں بیٹھے میں آپ کو سمجھاتا ہوں میڈم حیا
۔وہ کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
۔نی نی نہیں بھائی ۔وہ اتنا ہی بولی ۔کے حمزہ نے دوبارہ کرسی کی طرف اشارہ کیا اور گھور نے لگا ۔
حیاچپ کر کے بیٹھ گئی ۔سامنے ہی دوسری کرسی پر وہ بھی براجمان ہو گیا ۔جی تو آپ مطلب سمجھنا چاہتی تھی
۔نی۔نی ج ج جی ۔حیا کو خود سمجھ نہیں تھا آرہا وہ کیا بولے ۔
حمزہ آب کرسی سے ٹیک لگائے دونو بازو سر کے پیچھے بندھے مضے سے اس کی گھبراہٹ کا لطف لے رہا تھا ۔کہاں پھانس گئی ہوں
۔حیا نے دل میں سوچا ۔کیا سوچ رہی ہوں حمزہ نے اسے سوچوں میں گم پا کر پوچھا
۔امی گھر پر اکیلی ہے ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی آپ یہ ڈیر کسی اور طرح پورا کروا لو ۔ لیکن مجھے گھر جانے دیں
۔وہ ڈرے ڈرے لہجے میں بولی ۔
حیا کی حالت دیکھ کر حمزہ اپنے نیچے والے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر مسکراہٹ پر قابو پانے لگا ۔تو ٹھیک ہے حیا میڈم
۔ڈیر پورا نہ کرنے کی ایک سزا ہوگی
وہ سزا پوری کرکے آپ چلی جانا ۔حیا کے کان کھڑے ہو گئے ۔
لگتا ہے یہ بارہ سنگھا آج اپنے بارہ سنگ مجھے مار کر ہی رہے گا ۔وہ دل میں سوچنے لگی مجھے منظور ہے شرط بتائی بھائی
۔حیا کے پھر سے بھائی کہنے پر حمزہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کے رہ گیا
وہ ایک لمبی سانس کھینچتے ہوئے بولا ۔
رکومیں آتا ہوں یہی بیٹھنا ۔جب تک میں اؤ نا یہاں سے ہلنا نہیں ۔
ورنہ میں سزا نہیں دوں گا بلکہ یہ ڈیر ہیں تمہیں پورا کرنا پڑے گا ۔
یہ کہتا ہوا وہ باہر نکل گیا ۔اور تقریبا بیس منٹ کے بعد وہ آیا
۔تو اس کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے ۔حیا ٹیبل پر سر رکھے اس کا انتظار کر رہی تھی
اسے دیکھ کر وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی ۔حمزہ آب اس کے سامنے بیٹھے کی بجائے اس کی کرسی کے پیچھے کھڑا ہو گیا
کاغذات ٹیبل پر رکھے اور کرسی کے دونوں طرف اپنے بازو رکھ لیے حیا کو گھبراہٹ سی ہونے لگی ۔حمزہ کی کربت اس کے ہوش اڑا رہی تھی
۔یہ کیا ہے بھائی ؟
وہ حلقہ سامن مینائی ۔یہ کچھ نہی ںہے
فضول سے پیپر ہیں بس ۔یہ 100 پیپرز ہیں ۔تم نے ان پر جہاں جہاں سگنیچر لکھا ہے وہاں وہاں سگنیچر کرتی جاؤ
۔جب پورے سو پیجز پر سگنیچر ہوگئے
تو تمہارا ڈیر ختم ہوجائے گا یہی ہے تمہاری سزا وہ اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بول رہا تھا
۔حیا کو اپنی جان نکلتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی اس نے پیپر کے ساتھ پڑے ہوئے پینسل اٹھائی اور جان چھڑانے کے چکر میں بنا دیکھے
جلدی جلدی سب پر سگنیچر کرتی گئی ۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی ان کاگذات پر سگنیچر کر کے اس نے ہمیشہ کےلیے اس باراسنگا کو اپنے پیچھے لگا دیا ہے ۔
حمزہ بھائی اب میں جاؤ ۔سگنیچرختم ہونے پر خوشی خوشی بولی ۔
بھائی اب میں جاؤ ۔اگر میڈم آپ کہیں تو میں آپ کو چھوڑ دوں
۔وہ اس کے سامنے آکر بولا ۔نہیں بھائی میں چلی جاؤں گی ۔یہ کہہ کر وہ کرسی سے اٹھ کر اندر کی طرف بھاگ گئی
۔بھائی ہاہاہا لاجک ختم بھائی والامیڈم
۔اس نے دل میں سوچا اور ایک دلفریب مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی


















میں تم سے ناراض ہو تم اتنے دنوں بعد کیوں آئے ہو تمہیں پتہ ہے میں نے تمھیں کتنا مس کیا ۔
وہ اداس سے لہجے میں بول رہی تھی سوری یار کشف ۔کچھ مصروفیات تھیں
جن کی وجہ سے نہیں اسکا ۔فادی نے کہا۔تو اب سزا کون بگتے گا ۔وہ ابرو اچکا کر بولی ۔بولو میری جان ۔آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر
۔فدی نے سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھک کر کہا ۔جس پر کشف کھلکھلا کر ہنس دی ۔کشف ایک لو بیگراونڈ لڑکی ہے۔
خوبصورت سنہری گھنگریالے بال سر ح و سفید رنگ کے ساتھ وہ کوئی شہزادی لگ رہی تھی آتے جاتے لڑکے اسے دیکھ رہے تھے
وہ شارٹ سی شرٹ اور جینس میں ملبوس تھیں ۔چلو پھر آج شاپنگ تمہاری طرف سے ۔
وہ چہک کر بولی ۔اوکے میری جان فدی نے مسکرا کر اس کی بات مان لی








حیا اپنے گھر آ چکی تھی اور اس کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھی
۔فائزہ اور میرب شادی سے ایک ہفتہ پہلے ہی آ گئے تھے فدی بھی ہر دوسرے دن چکر لگاتا رہتا
۔ہیلو فدی کہاں پہ ہوں میری فون پر پوچھ رہی تھی ۔میری دیکھ میں نے آب تیرا کوئی کام نہیں کرنا
۔اگر کام کے لئے فون کیا ہے تو چپ کرکے فون بند کردے شآباش ۔وہ آرام آرام سے بول رہا تھا جیسے ابھی نیند سے اٹھا ہوں
۔اٹھ جا کم کرن صرف یہ ایک لاسٹ کام کر دے ۔وہ بھی اسی کے لہجے میں بولی ۔
بولو کیا کام ہے فدی لائن پر آیا ۔
میرے گولڈن کلر کے شوز ہی گھر پر ہی رہ گئے ہیں کل مایوں ہے اور میں نے اب دیکھا ہے
وہ بیگ میں نہیں ہے پلیز دے جاؤ ۔
وہ التجائیہ لہجے میں بولی ۔میری یہ میرا احسان ہوگا یاد رکھنا ۔
حمزہ نے اسی طرف آنا ہے اس کے ہاتھ بیچ دوں گا تم بھی کیا یاد رکھو گی ۔
وہ جتانے والے انداز میں بولا ۔اوکے مسٹر بین کہہ کر میںرب نے فون کٹ کر دیا ۔
بہت سمائل کر رہی ہوں لگتا ہے فادی بھائی آرہے ہے ۔پاس کھڑی حیا ٰ نے شرارت سے کہا
۔حیانے گھور کر دیکھا ۔حمزہ بھائی آ رہے ہیں
۔اس نے حیا کے چہرے پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا اور آگے بھر گئی ۔یہ سن کے ہی حیا کے پسینے چھوٹ گئے
