Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 09)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

وہاب کلثوم بیگم کو لے کر ہسپتال میں پہنچا ۔ادھر آئے ماما آپ کے لئے ایک سرپرائز ہے ۔

کلثوم بیگم نے وہاب کی طرف دیکھا اور اس کے پیچھے کمرے میں چلی گیں

۔لیکن سامنے بیڈ پر لیٹے ہوئے حمزہ کو دیکھ کر ان کی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے

وہ حمزہ کی طرف لپکی جو انہیں ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا

۔کلثوم بیگم نے حمزہ کو گلے سے لگا لیا ۔اور نہ جانے کتنی دیر وہ بے آواز روتی رہی

وہاب نے اور حمزہ نے انھیں چپ کروایا حمزہ کو بار بار بوسہ دے کر وہ خود کو یقین دلاتی رہی

حمزہ کے ہونے کا خود کو ۔حمزہ کے سر پر چوٹ لگی تھی جو کہ اب ٹھیک ہو چکی تھی

بس تھوڑا سا سے زخم رہ گیا تھا جس پر پٹی لگی ہوئی تھی ۔

حمزہ نے انہیں ساری کہانی بتادی اپنی اور حیا کی ۔(ماما اس دن حیا کو لے کر میرب گھر چلی گئی

اگر میں تب سامنے آجاتا تو حیا جذبات میں آکر مجھ سے دور ہونے کا فیصلہ کرلیتی

اور شاید فائزہ بھابھی بھی اس کا ساتھ دیتی ۔میری حالت اس وقت ایسی نہیں تھی کہ میں سب حالات کنٹرول کرسکتا

۔ میں نے اسی لیے وہاب کو جھوٹ بولنے کا کھا ۔تاکہ حیا کو کچھ ٹائم مل جائیں

اور حالات بھی نارمل ہو جائیں ۔میں جانتا ہوں میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ہے ماما ۔

آپ مجھے معاف کر دیں ۔حمزہ نے کلثوم بیگم کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

۔جو مسلسل رو رہی تھی ۔مجھے میرا بیٹا مل گیا ہے آب مجھے اور کچھ نہیں چاہیے

۔میں حیا کو خود کر لے کر آؤں گی تم پریشان نہ ہو بیٹا فائزہ کو بھی میں سمجھا لوں گی

۔کلثوم بیگم نے حمزہ کو بوسہ دتے ھوے کھا کچھ ہی دیر بعد حمزہ گھر آ گیا

لائبہ کو بھی سختی سے تاکید کی گئی کسی کو بھی حمزہ کے بارے میں پتا نہ چلے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

علی۔ فائزہ ۔میرب جلدی آؤ ۔ساجدہ بیگم چلا رہی تھی ۔کیاہوا امی ۔علی جوامی کی آواز سن کر باگتا آیا تھا

۔اتنی دیر میں میرب اور فائزہ بی آگئی ۔ بیٹا تمہارے بابا جان کی طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ساجدہ بیگم نے پھولی ہوئی سانس میں بتایا

۔وہ سب کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔بابا جان بستر پر لیٹے ہوئے تھے

۔ان کا رنگ زرد ہو چکا تھا ۔علی سمجھ چکا تھا ۔بابا کی طبیعت بہت خراب ہے

وہ فورا کر میں ڈال کر ہسپٹل لے گیا ۔ڈاکٹر نے بتایا ہارٹ اٹیک کی علامت تھی ۔لیکن فوری طور پر ہاسپٹل لانے کی وجہ سے سچویشن کو سنبھال لیا کیا ہے

۔بابا کو گھر لے آئے تھے ۔میرب بابا کے پاس بیٹھے ہوئےروے جا رہی تھی ۔بابا اگر آپ کو کچھ ہوجاتا ۔

تو میں کیسے رہتی آپ کے بنا ۔وہ بچوں جیسی روتی ہوئی بول رہی تھی

۔حسن مصطفی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ان کے لیے بولنا بہت مشکل ہو رہا تھا ۔بیٹا مجھے ایک بات کہنی ہے ۔میری بات کا مان رکھ لینا

میں نے اور تمہارے چچا نے تمہارا اور فادی کا رشتہ طے کر دیا ہے ۔مجھے نہیں معلوم میری کتنی زندگی ہے

۔لیکن میں جلد سے جلد اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں

۔بابا بول رہے تھے ۔پر اس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا ۔بابا کی حالت کو دیکھتے ہوئے ۔

اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور بولی ۔بابا آپ جیسا چاہیں گے ویسا ہی ہوگا

کمرے کے باہر کھڑا افادی سب سن چکا تھا ۔وہ وہاں سے واپس پلٹ گیا

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

حسن مصطفی کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے جو دن با دن بگڑ رہی تھی ایک ہفتے بعد ہی فادی اور میرب کی مہندی کا فنکشن رکھا گیا

۔بھابھی آتے جاتے مرب کو چھیڑ رہی تھی ۔لیکن فادی کو تب سے چپ لگ گئی تھی

اس نے ہنسنا بھی بند کر دیا تھا ۔یہ بات میرب نے محسوس کی تھی

۔لیکن اس سے بات کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا ۔شادی کی تیاریاں عروج پر تھی

۔ہر طرف گہما گہمی کا ماحول تھا ۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

کشف پلیز بات کو سمجھو ۔یہ شادی میری مجبوری ہے ۔لیکن یقین رکھو میں میرب کو اس کا حق کبھی نہیں دوں گا

۔مجھ پر صرف تمہارا حق ہے ۔فادی ریسٹورینٹ میں بیٹھا کشف کو کب سے سمجھا رہا تھا

جو بس اسی زد میں تھی مجھ سے نکاح کرو ۔۔کشف تم سمجھ کیوں نہیں رہی ۔تایا جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔جیسے ہی سچویشن ٹھیک ہوگی

میں میرب کو طلاق دے کر تم سے شادی کر لوں گا مجھ پر یقین رکھو

۔ٹھیک ہے میں زیادہ انتظار نہیں کروں گی اتنی منتوں کے بعد آخرکار وہ مان گئی ۔فادی نے سکون کا سانس لیا

💖
💖
💖
💖
💖

ارے حیا بیٹا یہاں بے کیوں بیٹھی ہو۔کلثوم بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔

کچھ نہیں آنٹی بس میرب کا سامان سمیٹ رہی تھی ۔حیا نے سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا کلثوم بیگم بی چائے کا کپ پکڑے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔

حیا بیٹا میں جانتی ہوں تمہارے ساتھ جو بھی ہوا بہت غلط ہوا لیکن بیٹا آب زندگی ایسے تو نہیں گزرتی۔

تمیں آگے بڑھنا چاہیے ۔میں نے فائزہ سے بھی بات کی ہے ۔اس نے اپنی رضامندی دے دی ہے بس کہاں ہے تم سے پوچھ لوں

بیٹا اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو میری نظر میں ایک رشتہ ہے لڑکا بہت اچھا ہے میں اسے بہت اچھے سے جانتی ہوں وہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا

وہ نرم لہجے میں شائستگی سے اسے سمجھا رہی تھی جبکہ ان کی بات سن کر حیا کا رنگ اڑ گیا

۔پھوپھو آپ کو چاچو اعظم بلا رہے ہیں علی نے کمرے میں داخل ہو کر انہیں پیغام دیا ۔

کلثوم بیگم نے اٹھتے ہوئے اسے کہا

مجھے معلوم ہے بیٹا تم بہت فرمابردار بچی ہوں میرب کی رخصتی کے ساتھ ہیں ہم تمھاری رخصتی بھی کر دیں گے

۔وہ لڑکا مہندی میں رات کو آ رہا ہے تم اس سے مل لینا کلثوم بیگم نے ا معینی حیز مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا

اور باہر نکل گئی۔لیکن حیا کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے پیروں تلے زمین کھینچ لی ہو۔

___________

مہندی کا فنکشن آگیا حال میں بچوں کا شور تھا ہر کوئی ستائشی نظروں سے میرب اور فادی کو دیکھ رہا تھا

۔جیسے وہ ایک دونوں کے لیے ہی بنے ہوں ۔لیکن فادی کا دھیان کہی اور تھا

۔یہ بات میرب نے محسوس کی تھی ۔میرب لائٹ گرین اور یلو رنگ کی فراک میں بہت پیاری لگ رہی تھی

۔اس کے ساتھ بیٹھا فادی سفید کردتے میں ملبوث گلے میں گرین پٹکا لپیٹے

۔ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا ۔کچھ عورتیں ڈھولک بجا رہی تھی

اور بچے ناچ رہے تھے ۔سب نے مہندی لگائی میرب اور فادی کو ۔فادی تم بھی لگاؤ نہ میرب کو

۔بھابھی نے شرارت سے کہا ۔میرب نے شرم سے نگاھیں جھکا لی ۔فادی بھابھی کو گھورنے لگا ۔بھابھی نے ذرا بھی محسوس نہ کیا

اور مہندی لگوا کے ہی چھوڑی۔کشف ایک ادا سے سٹیج پر آئی ۔

اسنے مرب کو مہندی لگائی ۔میرب نے اس کی طرف دیکھا تو کشف کی آنکھوں میں پانی تھا

۔کاشف وہاں سے پلٹ کر نیچے اترنے لگی اور پلٹنے کے ساتھ ہی ہاتھ سے مہندی کا تھال اس نے نیچے گرا دیا

۔یہ حرکت فادی اور میرب دونوں دیکھ رہے تھے ۔کشف کے جاتے ہی فعدی بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا

۔جب کہ میرب حران نظروں سے ان کی طرف دیکھتی رہی اسے سمجھ نہیں تھا آرہا

چکر کیا ہے ۔وہ دور کھڑے فدی اور کشف کو دیکھتی رہی مہمانوں نے بھی ان کی یہ حرکت محسوس کی

۔وہ دونوں کافی دیر باتیں کرتے رہے۔حیا تم وہاں کیا کر رہی ہو ادھر آو میرب کو مہندی لگاؤ فایزا نے حیا کو بلایا ۔میں آتی ہوں

۔وہاب بھائی مجھے بلاکر گئے ہیں انہوں نے شاید کوئی بات کرنی تھی میں ان سے ایک دفعہ بات کر اؤ ۔کہہ کر حیا آگے بڑھ گئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حیا بیک سائیڈ پر وہاب کو ڈھونڈ رہی تھی ۔یہاں۔ تو کوئی بھی نہیں ہے

۔پھر وہاب بھائی نے یہاں کیو بلایا ہے

وو سوچ رہی تھی سامنے سے روشنی ای ۔ساتھ ہی میوزک بجنے لگا ۔

محبت برسا دینا توں ساون آیا ہے

تیرے اور میرے ملنے کا موسم آیا ہے

بلو کرتا وائٹ شلوار بازوں کو کہنیوں تک مورے

پاؤں میں کھڑی گہری مونچھوں تلے عنابی مسکراتے ہونٹ ہاتھ پہ بلیک واچ ڈالےسامنے حمزہ کھڑا نظر آیا

حیاساکت ہوگئی کائنات جیسے تھم گئی تھی آنکھیں پلک جھپکنے سے انکاری تھی

جیسے اسے ڈر ہو وہ پلک جھپکے گی اور حمزہ غائب ہوجائے گا

آنکھوں سے گرم سیال بہ رہا تھا وہ ۔قدم با قدم چلتے ہوئے اس کے قریب آیا

۔وہ تھوڑا سا جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اسکے قیمتی موتی چن لیے

بھیگے بھیگے تیرے لب مجھ کو کچھ کہتے ہیں

دل ہے خوشی میرا کے خیال ایک جیسے ہیں

روکو نہ آپ خود کو یوں سن لو دل کی بات کو

ڈھل جانے دو شام کو اور آ جانے دو رات کو

کتنا حسین یہ لمحہ ہے

قسمت سے میں نے چرایا ہے

۔اس کا لمس پاکر ہی حیا کا سکتا ٹوٹ گیا

۔حیا اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔حمزہ نے ایک گہری سانس کھینچ کر اس کے گرد حصار باندھ لیا

آج کی رات نا جانا توں ۔ساون آیا ہے

تیرے اور میرے ملنے کا موسم آیا ہے

سب سے چھپا کے تجھے سینے سے لگانا ہے

پیار میں تیرے حد سے گزر جانا ہے

اتنا پیار کسی سے پہلی بار آیا ہے

گانے کی آواز دونوں کی سماعت سے ٹکرا رہی تھی

۔حمزہ اسکی کمر تھپتھپانے لگا ۔کچھ لمھے اسے ہی گزرے ۔آج سلا ب لانے کا ارادہ ہے کیا

۔حمزہ نے اس کے سر پر بوسہ کرتے ھوے کھا ۔حمزہ کی آواز پر حیا اپنے ہوش و حواس میں پلٹی

۔حیا ایک جھتکے سے اس سے الگ ہوئی ۔اور ہاتھ بڑھا کر حمزہ کے لبوں کو چھوا ۔

جسے اس کے ہونے کا یکین یقین دلا رہی ہو خود کو ۔

حمزہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔میں یہا ہی ہوں مسز حمزہ

۔اور آپ کو چھوڑ کے اب کہی نہیں جانے والا ۔حیا نے شرم سے نگاہیں جھکالی ۔

حمزہ نے دوبارہ اسے حصار میں لینا چاہا حیا نے اس کے ہاتھ جھٹک دئے ۔

چھوڑ کے چلے گئے تھے نہ جاؤ اب بھی چلے جاؤ مرگی حیا ۔حیا نے نم آواز میں کہا آنکھوں میں نمی ایک دفعہ پھر سے اتر آئی

۔اور بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔پاگل لڑکی کواب منانا بھی پڑے گا ہائے رے میری قسمت

۔وہ بالوں کو ٹھیک کرتے ھوے بولا ۔اور حیا کے پیچھے چلا گیا ۔

حیا اسٹیج پر بیٹھی مہندی لگا رہی تھی میںرب کو ۔حمزہ بھی چلتا ہوا سٹیج کے قریب آگیا

۔اور حیا کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔حیا کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ تھی

۔حمزہ نے سب کے سامنے اس کا ہاتھ تھاما ۔اور اپنے ہاتھوں سے اس کے ہاتھ پر مہندی سے ہانیہ لکھا

۔حیا نے الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہوں یہ ہانیہ کون ہے ۔

حمزہ نے سرگوشی کے انداز میں اس کے قریب ہو کر کہا

۔حیا اور حمزہ کی بیٹی ھانیا ہی ہوگی نہ ۔حیا کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی

۔حیا وہاں سے اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔پیچھے سے تمام کزنز کی ہوٹنگ کی آواز آئی

مہندی کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا ۔فادی نے بھابی کو بلا کر کہا مجھے میرب سے بات کرنی ہے

اکیلے میں ۔جس پر بھابھی مان بھی گئی ۔اور میرب کو لڑکیوں کے پاس سے اٹھاکر آرام کرنے کے بہانے سے اوپر کمرے میں بھیج دیا

۔میرب کافی تھک گئی تھی سو ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کر اپنی چوڑیاں اتارنے لگی

اس کی نظر آئینے پر پڑی تو فادی اس کے پیچھے کھڑا تھا۔ فدی کو دیکھ کر میرب جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی

۔فادی میںرب کے قریب آیا میرب اسی کشمکش میں تھی اخیر فدی اسے کیا کہنا چاہتا ہے

تبھی فدی بولا ۔مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔میں یہ شادی نہیں کرسکتا تم اس شادی سے انکار کر دو ۔

میرب آسے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی ۔اسی اپنی سماعتوں پر یقین نہیں تھا ہورہا

۔کیا دیکھ رہی ہو بولو ۔تم انکار کردوں گی نہ ۔تم کیسے کر سکتے ہو ے یہ فادی ۔کل میرا نکاح ہے تمہارے ساتھ ۔

وہ آنکھوں میں حیرانگی کا سمندر لے کر بول رہی تھی ۔میں نہیں کرسکتی ایسا میں نے بابا جان سے وعدہ کیا ہے

۔فدی نے اس کی طرف قدم بڑھاے اس نے ایک جھٹکے سے مرب کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔

مرب فدی کی اس حرکت پر حیران رہ گئی فدی کی انگلیاں مرب کے بازوں میں دھنس رہی تھی

۔سسس مرب کے منہ سے آواز نکلی ۔میرب نے اپنے بازو آزاد کروانے کی کوشش کی اس کی گرفت سے

۔لیکن گرفت بہت مضبوط تھی ۔میں بہت مان سے آیا تھا تمہارے پاس ۔لیکن تم نے ہماری دوستی کا بھی مان نہیں رکھا

۔تم میرے نکاح میں تو رہو گئ۔لیکن مجھ پر تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا

۔میں تمہاری زندگی اتنی درد ناک بنا دوں گا کہ تم اس دن کو پچھتاؤ گی

۔میرب کی آنکھوں سے اشک رواں تھے ۔فادی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا

۔اور اسے دھکا دے کر خود سے دور کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔میرب و ہی زمین پر گر گئی

۔یا اللہ میں کیا کروں ۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔پلیز میری مدد کریں ۔وہ رو رو کر کہہ رہی تھی

یہ وہ فدی تو نہیں تھا جو کبھی اسکا بوہت اچھا دوست ہوتا تھا ۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

رات کو 3 بجے سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گے ۔مرب نے سا ری رات روتے ھوے گزاری ۔

صبح بھابی کے ساتھ وہ پارلر چلی گئی تھی کیا نکاح سے انکار کر دو ۔

پربابا ان کا کیا ہوگا فدی سے میں پیار کرتی ہوں ۔فدی تو مجھ سے نہیں کرتا

جو بھی میرے حق میں بہتر ہے میرا اللہ‎ جانتا ہے ۔وھ بہتر ہی کرے گا

۔انشاءلله مرب نے اپنے معملات اللہ‎ کے سپرد کیے اور تمام سوچو سے آزاد ہو گئی ۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖

بارات میریج ہال میں آ چکی تھی

۔ہر طرف گہما گہمی کا ماحول تھا۔وہ لائٹ پنک ۔وائٹ کونٹراسٹ لہنگے میں بہت پیاری لگ رہی تھی

۔فادی وائٹ شیروانی میں ملبوس کیسی شہزادے سے کم نہ تھا لگ رہا

۔میرب کادل بہت پریشان تھآ .وہ آنے والے طوفان سے گھبرا رہی تھی ۔

پارلر سے آنے کے بعد مولانا نے اس کا نکاح پڑھایا ۔نکاح کے ٹائم وہ اس سوچ میں مبتلا رہیں ۔آج میں اپنی زندگی کی ڈور اس انسان کے ہاتھ میں دینے لگے ہو ۔چیز کی زندگی میں میری کوئی جگہ نہیں

۔آوہ شاید کبھی ہوگی بھی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *