Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 01)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

: وہ کچن میں پکوڑے تل رہی تھی ۔ساتھ کھڑی بھابھی فائزہ چائے بنانے میں مصروف تھی

میرب آج رات کا کیا پلان ہے ۔آپ کسی طرح فادی کو باتوں میں لگانا

۔میں اس کا لیپ ٹاپ لے اوگی۔میرب نے مزے سے اپنا پلین بتایا ۔اور اگر فادی جلدی گھر آگیا تو ۔

بھابھی آپ بھی نہ بہت پریشان ہوتی ہیں ۔آپ کو معلوم ہے نا

۔وہ رات کو اپنا کمرہ لاک کر کے جاتا ہے ۔اور صبح آ کے کھولتا ہے ۔مممممم چلو ٹھیک ہے ۔ امی باہر انتظار کر رہی ہوں گی ۔پکوڑے لے کرآ جاؤ۔میں چائے لے کر جانے لگی ہوں ۔جی بھابھی بس آئی ۔

*************************

اعظم مصطفی اور حسن مصطفی دو بھائی تھے دونوں بھائیوں کے گھر ساتھ ساتھ ہیں

.اعظم مصطفیٰ نے اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد اپنی بیٹی عائشہ اور اپنے بیٹے فہد مصطفی کی آکیلے تربیت کی

۔اعظم چھوٹے اور حسن بڑے بھائی تھے ۔حسن مصطفی کی اہلیہ ساجدا نے کبھی فہد اور عائشہ کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔

حسن مصطفی کا بیٹا علی اور ایک بیٹی میرب ہے

۔اولاد کے جوان ہونے کے بعد بھی دونوں بھائی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے ۔اعظم مصطفی اور حسن مصطفی کی ایک بہن کلثوم تھی

۔کلثوم کی ایک بیٹی لائبہ اور دو بیٹے حمزہ اور وہاب تھے حمزہ مرب سے 4 سال بڑاتھا

اور وہاب 1_سال چھوٹا تھا لائبہ مرب سے ایک سال بڑی تھی ۔

: فہد میرب سے دو سال بڑا تھا ان دونوں کی آپس میں بہت بنتی تھی

۔ایک دوسرے کا حیآل رکھنا تو جیسے یہ اپنا فرض سمجھتے تھے

۔ہر وقت ان کی چھوٹی موٹی نوک جھوک جلتی رہتی تھی ۔میرب اپنی ہر بات فہد سے شیئر کرتی تھی۔

جب تک وہ فہد سے بات شیئر نہ کرتی اسے سکون نہیں تھا ملتا ۔عائشہ میرب سے تین سال چھوٹی تھی۔

لیکن ان دونوں میں گہری دوستی تھی ۔میرب کی بھابی بھی اچھے مزاج کی ہیں ۔

جو ہر بات میں ان کا ساتھ دیتی ۔لائبہ آزاد خیال لڑکی ہے

۔دونوں بھائیوں کے لاڈ پیار کی وجہ سے وہ کسی کو اتنا بھاؤ نہیں دیتی ۔ہر بات میں اپنی من مانی کرتے ۔

***********************

میرب تمہیں فادی کی حرکتیں مشکوک نہیں لگ رہی ہے آج کل؟وہ کیسے

۔میرب نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر بھابھی کی طرف دیکھا ۔ارے وہ ساری ساری رات گھر نہیں آتا

۔دن میں بھی اب تو یا موبائل پر رہتا ہےیا سوتا ہے ۔بھابھی کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں

۔کل میں اپنے کمرے کی ونڈو سے دیکھتی رہیں لیکن ساری رات وہ گھر نہیں آیا

۔وہ اداس سی ہو کر بولی

کیا کھچڑی پک رہی ہے میرے خلاف

۔میرب کو فادی کی آواز سنائی تھی

جو دروازے پر کھڑا وہ بھابھی کے ہمراہ اس کے کمرے سے اٹھا کے لائیں تھیں تھا

۔میرا لیپ ٹاپ آج پھر چرا لیا ۔تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں میرب کی بچی

۔اس کے نظر اپنے لیپ ٹاپ پر پڑ گئی

۔جو تھوڑی دیر قبل ہی وہ بھابھی کے ہمراہ اس کے کمرے سے اٹھا کے لائیں تھیں ۔

وہ کہنے کے ساتھ ہی میرب کی طرف بھاگا ۔

________

: عفو فدی چھوڑو مجھے ۔کیوں چھوڑوں میرب کی بچی بہت تنگ کر رکھا ہے تم نے

۔فدی نے اس کے بالوں کو اور زور سے کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ۔

ااا درد ہو رہی ہے چھوڑو ۔چلو بتاؤں اب لوگی میرا لیپ ٹاپ ۔نی لو نگی چھوڑو

۔میرے آدھے سے زیادہ بال تو تم نے حراب کردیئے ۔وہ اپنے بالوں کو سہلاتے ہوئے بولی

۔فادی اب صوفے پر سر ٹکا کر بیٹھ چکا تھا ۔آنکھیں بند کئے وہ کچھ سوچ رہا تھا

۔میرب نے اسے حاموش پا کر پوچھا ۔کیا سوچ رہے ہو مسٹر بین ۔

وہ اسے چھیڑتے ہوئے اس کے سامنے صوفے پر آ بیٹھی ۔

میرب تم نے کبھی بالکل سفید رنگ کے کپڑے کیوں نہیں ڈالے ۔

یہ کیسا سوال ہے ۔وہ منہ کے ڈیزائن بناتے ہوئے بولی ۔چھوڑو تم نہیں سمجھوگی

۔یہ وہ سوال ہیں جو تمہاری سمجھ سے باہر ہے ۔

وہ اٹھ کر اس کے سر کو انگلی سے تھوڑا پیچھے سرکاتا ہوا باہر نکل گیا ۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞

وہ کمرے میں بند اندھیروں میں ہی اپنا عکس تلاش کر رہی تھی ۔ اسکی آنکھوں میں روشنی پری

۔دروازہ کھولا تھا اپنے قریب آتے ہوئے قدموں کی آواز کو آسانی سے سن سکتی تھی

۔وہ سامنے سے آتے شخص کو دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔آج دو مہینے ہو چکے تھے

اسے اس بند کمرے میں ۔

دیکھنے میں یہ ایک عالیشان محل جیسا تھا

۔اور وہ اس میں ایک پرندے کی طرح قید تھی۔اسے ہر طرح کی آسائش میسر تھی ۔

لیکن وہاں نہ کوئی موبائل تھا نہ باہر جانے کا راستہ

۔آہستہ آہستہ اس کے سامنے سے اندھیرا چھٹ رہا تھا

۔سامنے کھڑے شخص کو وہ آسانی سے اب دیکھ سکتی تھی ۔

اس کی آنکھوں میں نفرت بھر آئی ۔سامنے کھڑا شخص اب گھٹنوں کے بل اس کے پاس کلین پے بیٹھ چکا تھا

۔ اور کب تک تم مجھے یہاں رکھو گے

۔وہ غصے اور نفرت کے ملے جلے اثرات لے کر بولی

۔جب تک تم میری بات مان نہیں جاتی ۔وہ سخت لہجے میں بولا

۔اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہاری بات مان جاوں گی؟

ہوہ ۔

تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے۔

وہ حقارت سے بولی ۔دیکھتے ہیں وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا ۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

فادی اٹھ جاؤ اور کتنا سونا ہے تم نے ۔وہ صبح کے 10 بجے اس کے سر پر کھڑی تھی

۔سونے دو میری ۔وہ میرب کو پیار سے میری کہتا تھا ۔اور کتنا سونا ہے اٹھو ۔مجھے بازار جانا ہے

۔بھابھی کے ساتھ چلی جاؤ ۔نیند میں ہی جواب دیا ۔وہ مصروف ہے

مجھے تمہارے ساتھ جانا ہے اٹھو اب ۔فااادیییی

۔اسے سوتا پا کر چلائی تھی

۔عفووواوو اٹھ گیا ہو جاو تم اتا ہو ۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گیا

۔جلدی آنا ۔کہ کر وہ نیچے چلی گئی ۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

آ گئے تم دیکھو کتنا ٹائم ہو گیا ہے اور میں نے اتنی چیزیں لینی ہے

۔وہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔سوری بابا ۔میں نے نہانا بھی تو تھانہ

۔تمہاری طرح تھوڑی ہو جو ہفتے میں ایک دفعہ نہآؤں گا ۔فدی اسے چڑھاتے ہوئے بولا

۔کتنا جھوٹ بولتے ہو تم۔ وہ اسے گھورتے ہوئے بولی ۔

اپنا اور میرا مقابلہ کرو دیکھو میں کتنی پیاری لگ رہی ہو

اور تم لسورے کی شکل والے

________

وہ بھی کہاں چپ رہنے والی تھی ۔فدی نے ایک سرسری سی نظر اس پر ڈالی ۔۔

بلیک لونگ فراق میں ۔سر پر خوبصورتی سے حجاب کیے

۔سرخ سفید رنگت کے ساتھ وہ کوئی شہزادی لگ رہی تھی ۔

تمہیں دیکھ کر بزار میں موجود سبھی بچے بھاگ جائیں گے ۔

وہ بھی کہاں تعریف کرنے والا تھا ۔بھابھی دیکھیں آپ کا لاڈلا کیا کہہ رہا ہے ۔

میرب غصے میں آ چکی تھی ۔اچھا اچھا اب نہیں کہتا چڑیل کہیں کی

۔چلو دیر ہو رہی ہیں ۔میرب اسے غور کر رہ گئی فدی گاڑی میں جاکر بیٹھ چکا تھا ۔

وہ بھی غصے سے تلملاتی گاڑی کی طرف بڑھ گئی

۔اور گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی ۔آؤ تو میڈم ناراض ہو گی ۔

فدی نے بالوں میں ہاتھ ڈال کر ان کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا ۔۔۔میر ب اب کہاں کچھ بولنے والی تھی

۔میرب نے منہ دوسری طرف کر لیا

۔فدی نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلتا میرب کی جانب آیا ۔

۔دروازہ کھول کر میرب کو باہر نکالا ۔ناج(ناراض ) ہو گی۔وہ اب لاڈ سے پوچھ رہا تھا ۔

تمہیں اس سے کیا ۔وہ ناک سکر کر بولی ۔مجھے بہت کچھ ہے ۔

فدی نے اس کا حجاب ٹھیک کرتے ہوئے کھا ۔جیسا کہ ۔

آگے سے سوال کیا کیا تھا ۔جیسا کہ میری پیاری سی کزن بہت پیاری لگ رہی ہے ۔اور میں اپنی کزن کو ناراض نہیں کر سکتا ۔

جس پر میرب مسکرا دیی

💞
💞
💞
💞
💞
💕
💕

وہ کمرے میں اندھیرا کیے۔آنکھیں موندے صوفے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی

۔کچھ پچھلی یادیں اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی

۔اس کی آنکھوں کے سامنے سب ایک فلم کی طرح چل رہا تھا تھا

۔(آپی آپ کے سسرال والے تو بہت اچھے ہیں ۔میری چھوٹی سی پیاری سی بہن کو بھی دیکھنا اتنے ہی اچھے سسرال والے ملیں گے ۔

ارے کیا باتیں ہو رہی ہیں ۔

ارے آگئ میرب میں کب سے دیکھ رہی تھی تم کچن میں ہی گھسی ہوئی ہو ۔بھابھی آپ کی بہن روز روز تھوڑی آتی ہے

سوچا آپ اس کے ساتھ ٹائم گزار لے ۔میرب نے ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے جواب دیا

۔آج پھوپھو لوگ آ رہی ہیں ۔میرب نے بتایا ۔چلو اچھا ہے حیا بھی ملے گی

۔فائزہ نے اپنی بہن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔

ہاں یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔فرقان بھائی کیسے ہیں

۔میرب نے حیا کے منگیتر کا پوچھا

۔دیکھو میرب حیا انھیں کو لے کر پریشان ہو رہی ہے کہتی ہے پتہ نہیں وہ لوگ اچھے ہیں کہ نہیں

۔ارے آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں نہ اچھے ہوئے تو ہم اپنے حیا کو چرا کے واپس لے آئیں گے

۔میرب نے شرارت سے کہا ۔جس پر حیا بے اختیار مسکرا دی۔

میرب فدی بھائی آپ کو بلا رہے ہیں کہتے ہیں چھت پر آ جاؤ ۔عائشہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔چھت پر کیوں ۔

فائزہ نے پوچھا

۔بھابھی پھوپھو لوگ آ گئے ہیں اور سب چھت پر ہی ہیں ۔عائشہ نے جواب دیا اور چھت پر چلی گئی ۔

چلو میرب ھم بھی چلتے ہیں حیا نے کہا ۔بھابھی سمیت وہ دونوں اٹھ کر جانے لگے

۔سب سے آگے حیآ تھی ۔سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے فائزہ نے کہا

۔حیاتم جاؤ میں اور میرب چائے لے کر آتی ہیں آپی جلدی آنا ۔کہہ کر وہ اوپر جانے لگی ۔

فائزہ اور میرب کیچن کی طرف بھر گے ۔

وہ چھتّ پر پہنچی ہی تھی کہ اس کا پاوں مڑ گیا ۔

اس سے پہلے کے وہ بل کھا کر سیڑھیوں سے نیچے گرتی ۔ کسی نے اسے تھام لیا

۔حیا نے آنکھیں ڈر سے بند کر لی

۔خود کو محفوظ پا کر اس نے آنکھیں کھولی تو وہ کسی کے باہوں کے حصار میں تھی ۔۔

ارے آپ تو وہی ہیں نہ میرب کی پھوپھو کے بیٹے ۔ااااممم کیا نام ہے آپ کا ۔

وہ ذہن پر زور ڈال رہی تھی اور یہ بھول گئی تھی کہ ابھی تک وہ اس کے حصار میں ہی ہے

۔جی میں میرب کی پھپھو کا بیٹا حمزہ ہوں آپ مہربانی کرکے سیدھی ہوجائیں۔میں تھک گیا ہوں

۔حمز ہ آب اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا

۔افففففوواوو سوری سوری سوری ۔

کہتی ہوئی وہ سیدھی کھڑی ہو گئی ۔پر شرمندگی سے وہ حمزہ کی طرف دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔حمزہ کو حیا کی یہ ادا بہت پسند آئ

۔شکر ہے حمزہ بھائی آپ نے مجھے بچا لیا آپ نہ ہوتے تو اس وقت میری ہڈیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہو گئے ہوتے ۔

وہ اپنی شرمندگی کو چھپآتے ہوئے بات بدلتے ہوئے بولی

۔پرا س کے کپکپاتے ہاتھ اس کی گھبراہٹ کا واضح ثبوت دے رہے تھے ۔

جو حمزہ دیکھ چکا تھا ۔ویسے میں آپ کا بھائی کب سے ہو گیا ۔اب کے حمزہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا

۔تھےجی آپ میرے بھائی ہے امی کہتی ہی شادی سے پہلے سب بھائی ہوتے ہیں ۔

حیابنا سوچے سمجھے بولے جا رہی تھی

وہ جب بھی نروس ہوتی اس کے منہ میں جو بھی آتا وہ بول دیتی تھی ۔حمزہ اس کی معصومیت سے محفوظ ہو رہا تھا

۔اور مجھ سے شادی کے بعد بھی میں آپ کا بھائی ہو گا کیا ؟وہ حیا پر جھکتا ہوا بولا

۔توبہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ شادی کے بعد تو شوہر ہو جائیں گے آپ میرے ۔وہ دو قدم پیچھے ہٹتی ہوئی تیزی سے بولی

۔لیکن ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا

۔اس نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔

سوری بھائی سوری کہتے ہوئے وہ وہاں سے بھاگ نکلی

۔لیکن حمزہ اپنی مسکراہٹ پارک کا فون نہ پاسکا اور ہنستا ہوا اس کے پیچھے چلا گیا ۔

__________

ااااا یہ دیکھو کیسا ہے مجھ پر پیارا لگے گانا ۔وہ اسے مہرون کلر کا ایک دوپٹہ دکھا رہی تھی ۔تم پر کونسا کلر اچھا نہیں لگتا

۔فادی نے تعریفانہ انداز میں کہا تھا ۔سچ میں ؟نہیں جھوٹ۔چڑیل کہیں کی

۔۔۔۔ہوووو ۔تم گھر چلو پھر بتاتی ہو تمہیں ۔وہ پچھلے دو گھنٹے سے لے کر اسے بازار میں گھوم رہی تھی

۔سارے بیگ فدی کو پکڑا کر وہ آگے آگے چل رہی تھی ۔میری اب چلو گھر ۔بہت ہوگیا

اگلے پندرہ منٹ میں تم میرے ساتھ گھر نہ گئی تو نے یہ سارے بیگ یہی پھینک کر چلا جاؤں گا ۔پھر اکیلے آنا اور بابا کو جواب دینا

۔وہ اس کے پیچھے چلتا ہوا بول رہا تھا ۔اچھا ٹھیک ہے زیادہ دیر نہیں بس تھوری سی جویلری لینے دو ۔

وہ اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئےلمبا سانس لے کر بولی ۔اچھا چلو تم لے لو میں ایک کال کر کے آیا

۔فدی نے ہاتھ پر بندی واچ پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا ۔

اوکے ٹھیک ہے ۔کہتے ہوئے میرب جویلری شاپ میں داخل ہو گی

۔لیکن وہ شیشے میں سے باہر کھڑے فدی کو دیکھ رہی تھی

۔اس کا دھیان جویلری پر کم اور فادی پر زیادہ تھا ۔

فادی کسی سے مسکرا مسکرا کر فون پر بات کر رہا تھا۔میرب کو کچھ بھی پسند نہیں تھا آرہا

۔اتنے میں فادی کی کال بھی بند ہو گئی اور اب وہ اسی کی طرف آ رہا تھا ۔ہوگئی شاپینگ

۔؟فادی نے بلیک سوٹ ہاتھ پر بلیک واچ ڈالے بالوں کا پرنس سٹائل بناۓ ۔

کشش سے بھرپور گہری آنکھیں ۔سفید صاف رنگ ہلکی ہلکی شیو

۔پتلی کھڑی ناک ۔اور گلابی ہونٹوں کے ساتھ ہر کسی کی توجہ اپنی طرف کروا رہا تھا

۔نہیں کچھ بھی پسند نہیں آرہا کہتے ہوئے میرب نے فادی کی طرف دیکھا ۔جو کسی اور طرف دیکھ رہا تھا ۔

میرب نے بھی اسی جانب نظر دوڑائی

۔دوسری طرف شارٹ شرٹ سنہرے بالوں والی گورا رنگ رکھنے والی لڑکی کھڑی تھی

۔جو فادی کی طرف ہی دیکھ رہی تھی

۔یہ دیکھ کر میرب کو الجھن سی ہونے لگ گئی

۔اچھا تم لے لو میں میڈم جی کا انتظار کر لوں گا فادی نے میرب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ااامممم

ن ن نہیں

ابہت دیر ہو گئی ہے گھر چلتے ہیں ماما انتظار کر رہی ہو گی ۔کہتے ہوئے میرب باہر کی جانب بھر گئی

۔فادی نے بھی حیرانگی سے اس کے پیچھے قدم بڑھا دئیے ۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

کلثوم فاطمہ اور ساجدہ بیگم بیٹھے باتیں کر رہے تھے

جبکہ ینگ جنریشن کی دوسری طرف ۔تروتھ ار ڈیر گیم چل رہی تھی

۔فائزہ حیا میرب عائشہ لائبہ ایک لائن میں بیٹھے تھے ۔ان کے سامنے ہیں دوسری لائن میں علی ۔حمزہ ۔فدی ۔

اور و ہاب بیٹھے تھے ۔گیم سٹارٹ ہو چکی تھی

۔وہاب نے بوتل کو گھمایا ۔جو کچھ سیکنڈ بعد ہی عائشہ پر رک گئی ۔سب کے شور کرنے پر عائشہ نے ڈیر لیا

۔جیس پر اس کو پھوپھو کلثوم کی نقل اتارنے کا کہا گیا جو بہو بھی اس نے سر انجام دیا ۔

بوتل کو دوبارہ گمایا گیا جو اب کی بار فادی پر رکی کی تھی۔فدی نے تروتھ لیا۔جس پر بھابھی فائزہ نے پوچھا ۔

کوئی ایسی بات بتاؤں جو ہمیں معلوم نہیں ۔جو تم نے اپنے بسٹی کو بھی نہیں بتائیں

۔انہوں نے میرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔کچھ دیر سوچنے کے بعد فدی نے کہا

.میں کسی لڑکی کو پسند کرتا ہوں ۔جس پر

سب کو ہی حیران کی ہوئی

۔سب کے بار بار پوچھنے پر بھی فادی نے مزید کچھ نہ بتایا۔پر میرب کا منہ بن چکا تھا ۔جو سب نے ہی محسوس کیا تھا

۔پھر کافی ترلو منتوں کے بعد کہیں میرب کا موڈ ٹھیک ہوا ۔یہ سچ فدی کو بہت بھاری پڑا۔

گیم ایک دفعہ پھر سے سٹارٹ ہو چکی تھی بوتل کو گمانے پر اب کی بار بوتل حیا پرر کی تھی

۔حیا نے ڈیر لیا لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی یہ ایک ڈیر اس کی ساری زندگی بدل دے گا

کوئی کچھ بولتا اس سے پہلے ہی حمزہ نے جھٹ سے ڈ یڑ دے دیا ۔حیا کو کل کا دن بھی یہی رکنا پڑے گا

۔جس پر سب نے شور مچا دیا اور حیا کو ڈیر ماننا پڑا ۔)

وہ اپنے سوچوں میں گم تھی تبھی اسے اپنے ہاتھ پر کسی کے لمس کا احساس ہوا۔

: اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تو سامنے وہی شخص تھا ہاں وہی شخص تھا ۔جیس نے اس کے کردار کو مشکوک کرڈالا تھا

سب کے سامنے ۔کیا سوچا ھے تم نے ۔اور کتنی دیر دور رکھوں گی خود کو مجھ سے ۔

وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بول رہا تھا

۔لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا وہ آج بھی خاموش تھی ۔

وہ اسے خاموش نظروں سے دیکھ رہی تھی لیکن ان نظروں میں بہت کچھ تھا

جو وہ محسوس کر رہا تھا

نفرت شکایت بے بسی اور آزاد ہونے کی التجا ۔وہ مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔

حیا کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر وہ پھر سے الج گیا تھا ۔

اس سے نظریں چراتا وہ اس کے ہاتھ کو ہولے سے دبا کر وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں کمرے میں آؤ ۔

اس کے پاس کھڑے ہو کر اس نے سحت لہجے میں کہا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *