Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary NovelR50678 Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 03)
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 03)
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary
: حیا اور میرب اپنی کی گئی شاپنگ دیکھ رہی تھی ۔کتنی پیاری لگ رہی ہو حیا
۔میر ب نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اس نے حیا کے اوپر محرون کلر کا ڈوپٹہ دیا تھا
اور اب وہ اسے یک ٹک دیکھ کر اس کی تعریف کر رہی تھی جس پر حیا نے شرما کر سر نیچے کر لیا ارے ابھی مت شرماؤ دولہا بھائی کے سامنے شرمآنہ وہ تمہیں ایسے دیکھیں گے تو اپنے ہوش کھو دیں گے
۔مرب نے مزید ٹانگ کھینچتے ہوئے کہا پورے بیڈ پر کپڑے ہی کپڑے پھیلائے ہوئے تھے ۔جب کے صوفے پر بھی کچھ شاپنگ بیگز رکھے ہوئے تھے
میرب نے ایک نظر کمرے پر دورای اور بولی حیا تم دوسرے روم میں چلی جاؤمیں اس کی صفائی کر دیتی ہوں فائزہ بھابھی کیچن میں مصروف ہیں بھائی حمزہ بھی آنے والے ہوں گے
عائشہ اور لائبہ بھی آ رہی ہیں میں جلدی سے کام نپٹا لیتی ہوں پھر سب بیٹھ کے گپے لگائیں گے وہ چہکتی ہوئی آواز میں بول رہی تھی لیکن حیا کا حمزہ کا آنے کا سن کر رنگ اڑ چکا تھا
وہ حمزہ سے دور رہنا چاہتی تھی ۔وہ معصوم ضرور تھے لیکن اتنی بھی نہیں کے حمزہ کی باتوں کو نہ سمجھ پائے اسے اب حمزہ سے جھجک آتی تھی
۔اس نے ہاں میں سر ہلایا اور دوسرے کمرے میں چلی گئی جبکہ میرب سامان سمیٹنے لگ گئی ۔وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھے اپنے بالوں کو ٹھیک کر رہی تھی ۔کالے سیاہ بال اس کی کمر پر پھیلے ہوئے تھے
۔دوپٹہ اتار کر اس نے بیڈ پر رکھا ہوا تھا ۔باہر سے اسے عائشہ اور لائبہ کی آوازیں آ رہی تھی وہ سمجھ گئی کہ سب لوگ آ گئے ہیں
۔وہ جلدی سے اٹھ کر دوپٹہ لینے لگی تبھی کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حمزہ نے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا
۔بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے ۔
وہ ڈرے سے لہجے میں بولی ۔حمزہ کی نظر اس پر اٹک گئی ۔ڈوپٹہ ندارد تھا حمزہ بھائی پلز حیا کے دوبارہ کہنے پر وہ اپنے خوش و ہواس میں واپس آیا
۔تم چپ کر کے پہلے میری بات سنو ۔اس نے حیاکے منہ پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ دی
اب اگر تم نے مجھے بھائی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا وہ مزید اس کے پاس ہوتے ہوئے بولا حیا نے دو قدم پیچھے ہونا چاہا
۔لیکن پیچھے بیڈ تھا وہ پیچھے گرنے ہی والی تھی کہ حمزہ نے تھاما ہوا ہاتھ اپنی اور زور سے کھینچا جس کی وجہ سے وہ لچکتی ڈال کی مانند اس کی اور کھینچی چلی گئی
۔اس کا سر حمزہ کے سینے پر تھا ۔ حیا کا دل زور سے دھڑک رہا تھا
۔ہوش کی دنیا میں آتے ہی یکدم اس نے پیچھے آنا چاہا لیکن حمزہ نے اس کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اسے ساتھ لگائے رکھا ۔اور اس کے کان میں ہلکے سے سرگوشی کی ۔
رات کو چھت پر آنا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔اگر تم نہ آی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
۔ یہ کہتے ہوئے اس نے خیا کو چھوڑا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔جب کے حیا ہانک سی کھڑی تھی
اس کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پر چکا تھا ۔اسی وقت عائشہ اور لائبہ کمرے میں آگئی ۔لیکن وہ تو کسی اور ہی دنیا میں تھی ۔حیااپی عائشہ کہتی ہوں آ کر گلے لگ گئی ۔








میرب شاپینگ سے آکر کافی تھک چکی تھی اس لیے اس نے اپنے شاپنگ بیگ بھی فادی کے حوالے کئے اور بولی یہ میرے کمرے میں لے جانا
۔فادی بھی سمجھ گیا تھا کہ میرب کافی تھک چکی ہے وہ بھی سر ہلاتا ہوا شاپنگ بیگ نکالنے لگا۔
میرب کمرے میں جا رہی تھی اس سے رونے کی آواز آئی ۔اس نے دو منٹ وہی رک کر اندازہ لگایا تو اسے سمجھ آ گیا کہ فائزہ بھابھی رو رہی ہیں
۔وہ ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی کمرے سے باہر ہی اس کے کانوں میں آواز آ رہی تھی ۔
کاش حیا ایسا نہ کرتی ۔تو آج امی میرے ساتھ ہوتی ۔اور ساجدہ بیگم اسے سمجھا رہی تھی
۔بیٹا افسردہ نہ ہو ۔ہم نہیں جانتے وہ معصوم بچی کس حال میں ہیں کس کے بہکاوے میں آکر اس نے گھر کی عزت روندتا ڈالی
۔بس دعا کرو وہ بچی جہاں بھی ہو خیر و عافیت سے ہوں ۔انہوں نے انسانیت سے فائزہ کو سمجھایا ۔فائزہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے سر ہم کردیا
۔میرب سمجھ گئی تھی بھابھی آج پھر پریشان ہیں ۔پچھلے دو ماہ میں کیئ دفاع انہیں روتا ہوا دیکھ چکی تھی ۔
وہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے فائزہ کے پاس چلی گئی ۔بھابی اٹھے ۔آئیے آپ کو دکھاتی ہوں میں نے جو شاپنگ کی اس نے فائزہ کا موڈ خوشگوار کرنے کے لئے بات بدلی
۔جس پر فائزہ نے بھی مسکرا کر اس کے ساتھ جانے کی حامی بھری ۔








عائشہ لائبہ میرب سب لوگ گپے لگانے میں مصروف تھے ۔جب کے حیا سوچ سوچ کر اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی
۔اسے سمجھ نہیں تھا آرہا وہ کیا کرے حمزہ بھائی نے اسے چھت پر کیوں بلایا ہے وہ کرنا کیا چاہتے ہیں
سوچ سوچ کر اس کا دماغ الج گیا ۔میںرب نے اسے سوچوں میں پاکر فکر مندی سے پوچھا حیا تم ٹھیک تو ہو نہ
۔جس پر حیا نے کچھ نا بولآ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ اب میرب کو اسے لے کر پریشانی لاحق ہوئی وہ جا کر اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی
اور آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔جس پر حیا اپنے خوش و ہواس میں آئی ۔ہاں میں ٹھیک ہوں حیا نے مدھم سے لہجے میں کہا ۔۔
میرب نے سمجھا شاید وہ شادی کو لے کر فکر مند ہو رہی ہے اس وقت ہر لڑکی پریشان ہوتی ہے
۔یہ لمحے ہی ایسے ہوتے ہیں ایک لڑکی کو اپنا اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنے سارے رشتے چھوڑ کر اک اجنبی کا ہاتھ تھامنا ہوتا ہے
جو اس کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے وہ گھر جس میں وہ شروع سے رہی ہو
اس نے اپنا بچپن گزارا ہو ۔سب ایک لمحے میں بیگانہ ہو جاتا ہے
__________
ہر طرف پھول ہی پھول تھے ۔کوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب آ رہا تھا
سفید کپڑوں میں ملبوس وہ کوئی شہزادہ لگ رہا تھا ۔سب دھندلا دھندلا ہو رہا تھا
وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی ۔وہ اس کے بالکل قریب آ چکا تھا وہ فادی تھا فادی نے اپنا ہاتھ میںرب کی طرف بڑھایا ۔
اس نے آہستہ سے ہاتھ فادی کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔فدی نے اس کا ہاتھ ہولی سے دبایا اور قدم آگے بڑھادئے
میںرب نے بھی اس کی پیروی کی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے چل رہی تھی ۔
اٹھ بھی جاؤ میرب میرب ۔اس کے کانوں میں بیگم ساجدہ کی آواز پڑی
جو اس کے سر پر کھڑی کب سےاسے اٹھا رہی تھی ۔امی آپ بھی نا
کتنا پیارا خواب تھا آپ نے سب خراب کردیا وہ آنکھیں مسلتے ہوئے منہ بنا کر بولی ۔
اپنے خواب بعد میں دیکھ لینا بیٹا ابھی اٹھ جاؤں
فائزہ بیچاری کب سے کیچن میں لگی ہوئی ہیں ٹائم تو دیکھو صبح کے 10 بج رہے ہیں
۔ اس نے ٹائم دیکھا اور جی امی کہہ کر اٹھ کر بیٹھ گئی ساجدہ بیگم کمرے سے جا چکی تھی اس نے دوبارہ پلو سر پر رکھا اور لیٹ گئی







رات دیر تک سب باتیں کرتے رہے ۔حیا کی دو دوستے بھی آچکی تھی مائرہ اور کشف
۔میرب اور فائزہ بہت تھک چکی تھی ۔عائشہ اٹھ جاؤ تم بھی ۔دیکھو وہ دونوں کب سے کچن میں ہے ۔رات کے گیارہ بج رہے ہیں ۔
فادی نے عائشہ کو مسلسل باتیں کرتے دیکھ کر بولا ۔۔اچھا نا بھائی جا رہی ہوں ۔عیشہ نے منہ بنا کر کہا ۔وہ جانے کے لیے اٹھی ہی تھی
کہ اسے میرب اور فائزہ آتی ہوئی نظر آئی ۔لو آ گئی ۔دیکھو میرب فادی بھائی نے مجھے ڈانٹا ۔آپ ان کے کان کھینچے اس نے میرب کے کندھے پر اپنا سر ٹکا کر لاڈ سے کہا
۔جس پر میرب نے فادی کو گھورا ۔میں نے تو تمہاری ہی سائیڈ لی تھی اور تم مجھے بول رہی ہوں فادی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
۔جس پر عائشہ کان کھجانے لگ گئی آب مرب کا رح عائشہ کی طرف تھا ۔چھوڑو فدی میںرب کو تو تمہاری قدر ہی نہیں ہے کشف نے لقمہ دیا ۔
کشف نے ایک ادا سے بال کو پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔ہاں کشف تم ٹھیک کہہ رہی ہو چلو آج سے میں تمہاری سائٹ لیا کروں گا ۔فدی نے میرب کو چڑہانے کے لیے بولا
میرب حران نظروں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔وہ بنا کچھ کہے چپ کر کے دوسری طرف آ کر بیٹھ گئی ۔
جب کے فادی اور کشف کی نوک جونک چلتی رہی ۔حیا اٹھ کر میرب کے پاس آگئی ۔جو مسلسل کشف کو گھور رہی تھی
۔حیا نے اسے آہستہ سے پوچھا کیا ہوا میری ۔تو میرب نے حیا کے قریب ہو کر اس کے کان میں سرگوشی کی ۔مجھے تمہاری یہ دوست بالکل نہیں پسند
۔شادی تو ابھی کل سے اسٹارٹ ہوگی اور وہ تو آج ہی اتنا سج سنور کے بیٹھی ہے
میرب نے کشف پر نظر ڈالتے ہوئے کہا ۔جس نے آج شارٹ شرٹ کی بجائے لانگ فراک ڈالی تھی دوپٹہ غیر ضروری اشیاء کی طرح گلے میں جھول رہا تھا
۔فراک اتنی تنگ تھی کہ اس کا جسم نمایا ہو رہا تھا ۔اوپر سے وہ فادی کے ساتھ چپک چپک کر بات کر رہی تھی ۔
میرب کو تو اسے دیکھ کر ہی شرم محسوس ہو رہی تھی ۔جس کا اظہار اسنے حیا کے سامنے کر بھی دیا تھا ۔
حیا اس کی بات سن کر کے کھلکھلا کر ہنس دی ۔
باتیں کرتے کرتے رات کے ایک بج گے ۔ ۔آب سب سونے کے لئے اٹھ کر اپنے اپنے کمروں میں جانے لگے
۔جب کے حیا کشمکش میں مبتلا تھی چھت پر جائیں یا نہ جائیں ۔بہت سوچنے کے بعد اپنے دل و دماغ سے کوئی جواب نہ پا کر جانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے وہ سست روی سے اپنے کمرے میں جانے لگی
۔اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اس لئے وہ کمرے میں جانے سے پہلے کچن کی طرف چلی گئی
اسنے فرج کو کھولا اور اس میں سے پانی کی بوتل نکالی۔اس کا دل عجیب انداز میں گھبرا رہا تھا
۔پانی گلاس میں انڈیل کر اس نے پانی کا گلاس منہ کو لگانا ہی چاہا ۔تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا
۔لیکن اس کی ہمت نہ ہوئی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ۔اگر میڈم نے پانی پی لیا ہو تو ہو ہم چھت پر جا کر بات کر سکتے ہیں ۔
حمزہ کی آواز سن کر اس کا سانس وہی اٹک گیا ۔ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح تھی
حمزہ نے اس کا جائزہ لیا ۔چلو شاباش پانی پیو اور چلو میرے ساتھ
اس نے پانی کے گلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ اب حیا کے سامنے آ کر کھڑا ہو چکا تھا
۔تمام لائٹس بند ہو چکی تھی ۔صرف کچن کی لائٹ آن تھی ۔ن ن ن نہیں بھا حمزہ میں نے پی لیا ۔
وہ بھائی کہتے کہتے ڈایریکٹ حمزہ پر آئی تھی ۔اس کی اس حرکت پر حمزہ کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ پھیل گئی
۔کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے گلاس میز پر رکھ دیا ۔تو بات آپ یہاں کرنا چاہیں گی کہ چھت پر چلے گی میرے ساتھ
۔حمزہ نے کرسی پر ٹانگ رکھتے ہوئے پوچھا ۔ی یہی کرلے ۔اس نے سہمی سی آواز میں کہا
۔ٹھیک ہے میڈم حیا تو ڈائریکٹ بات پر آتے ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے ٹانگ سے کرسی کو پیچھے دھکیلا اور گھٹنوں کے بال سر جھکا کر بیٹھ گیا
۔حیا کی سمجھ سے سب باہر تھا وہ اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی حمزہ نے کچھ پلوں کے بعد سر کو اٹھایا
۔اور حیا کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے بولا ۔اس شادی سے انکار کردو حیا ۔میں نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی لڑکی کو چاہا ہے
اور وہ تم ہو ۔تو تم پر صرف میرا ہی حق ہے اگر تم انکار نہیں کروں گی تو بھی تمہیں میں حاصل کرکے ہی رہوں گا ۔
وہ چمکتی آنکھوں کے ساتھ اس کی طرف دیکھ کر بولا تھا ۔حیا کو اپنی سماعت پر یقین نہیں تھا آرہا ۔
کل اسکی مایوں ہے اور سامنے بیٹھا شخص اس سے محبت کا دعوی دار ہے اس نے اپنے ہاتھ زور سے کھینچ لیے ۔
حمزہ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ اٹھ کے کھڑا ہو گیا ۔چلے جائیں آپ یہاں سے ۔اور کوشش کیجئے گا کہ آئندہ آپ میرے سامنے نہ آئے
۔حیا نے ہمت کرکے بولا ۔میں اکیلا نہیں جاؤں گا بلکے تمہیں ساتھ لے کر جاوں گا ۔
حمزہ نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا
۔میرے دل میں آپ کے لئے کچھ بھی نہیں ہے جو احترام تھا وہ آپ کھو چکے ہیں اس کے علاوہ آب اگر میرے ساتھ اپکا کوئی رشتہ بنے گا تو وہ صرف اور صرف نفرت کا ہوگا
۔حیا نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا ۔تم میرے ساتھ نفرت کا رشتہ بنا لو اسے محبت میں تبدیل میں خود کروالوں گا
۔حمزہ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھامنا چاہا حیا ایک دم سے پیچھے ہٹ گئی دور رہے مجھ سے
میں آپ کے ساتھ نہیں آؤں گی میں فرقان سے ہی شادی کرو گی ۔بہتر یہی ہے آپ چلے جائیں یہاں سے ۔خیا نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا
۔پھر سوچ لو انکار نہیں کروں گی شادی سے ۔حمزہ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا نہیں بالکل بھی نہیں ۔حیا نے بھی بنہ ڈرے سخت لہجے میں کہا
۔اوکے ٹھیک ہے ۔پھر میں تمہاری بارات والے دن ہی یہ کاغذات سب کو دکھا دوں گا ۔حیا نے حیرانی سے کاغذات کو دیکھا اس کے دل سے آواز آئی جیسے کچھ برا ہونے والا ہے ۔
ک ک ک کیسے کا کگذات ہے یہ ۔حیا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔یہ وہ کگذات ہے جن پر آپ کے سگنیچر ہے ۔ حیا کو اس دن ڈیر والی بات یاد آئی
۔ہاتھ بڑھا کر حیا نے کاغذات کو پکڑا ۔کاگذات دیکھتے ہی اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔وہ نکاح کے پیپر تھے ۔کچھ پل کے لئے مکمل خاموشی چھا گئی ۔حمزہ اس کے چہرے پر آئے آنے جانے والے رنگ آسانی سے دیکھ پا رہا تھا
۔حیا نے سہارے کے لئے پیچھے فریج پر ہاتھ رکھا ۔نہیں ایسآ نہیں ہوسکتا یہ جھوٹ ہے نکاح ایسے نہیں ہوتا
۔دھوکا ہے یہ حیا بار بار یہی بولے جا رہی تھی ہا دھوکا ہے یہ اسے اپنی آواز کسی کنوے میں سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔حمزہ نے حیا کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
حیا دیکھو تمہیں میری بات ماننی پڑے گی ورنہ تم جانتی ہو میں کیا کروں گا ۔
وہ سرگوشی کے انداز میں اسے سمجھا رہا تھا ۔پرحیا کچھ بھی نہ بول پا رہی تھی نہ سن پا رہی تھی اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے ۔
حمزہ نے حیا کا گال تھپتھپایا اسی وقت حیا حمزہ کی باہوں میں جھول گئی
