Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 04)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

فادی اٹھو مجھے ایس کریم کھانی ہے ۔ابھی نہیں میری ۔تھوڑی دیر تک جاۓ گے ۔فادی لیپ ٹاپ میں کام میں مصروف تھا

جب میرب اس کے سر پر کھڑی آئس کریم کھانے کی ضد کر رہی تھی ۔مسلسل پندرہ منٹ سے وہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھی

اور فادی اس کا ایک ہی جواب دے رہا تھا ۔نہیں آٹھو ابھی ۔میرب نے فادی کا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا

۔فادی نے اسے گھور کر دیکھا ۔ابھی وہ کچھ میرب کو کہتا اس سے پہلے ہی فائزہ بھی فدی کے کمرے میں آ گئی

۔ابھی تک تم گئی نہیں میرب ۔نہیں بھابھی دیکھے نہ نہیں لے کر جارہا ۔میرب نے منہ بنا کر کہا

۔فادی بھی اب اٹھ کر ان کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔چلو چڑیل کہیں کی ہر وقت پیچھے پڑی رہتی ہے

۔ہاں بھیی پھر تو تمہاری بیوی آ جائے گی

اس لئے ابھی جتنا فائدہ اٹھا سکتی ہوں میرب اٹھا لو

۔میرب اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ دیے وہ اب خطرناک موڈ میں آ چکی تھی کونسی بیوی

۔اس نے منہ کے زاویے بگاڑ کر پوچھا ۔بھابی کیوں آپ نے مجھ بیچارے کو مروانا ہے ۔جب تک یہ ہے تب تک بیوی کا تو چانس نہیں ہے ۔

فادی نے بھی شرارت سے کہا ۔جس پر میرب انھے گھور کر رہ گئی ۔چلو آب جانا نہیں ہے فدی نے اسے یوں کھڑا پا کر پوچھا

۔نہیں تم اپنی بیوی کو ہی لے جانا ۔میرب نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا

۔جس پر فائزہ اور فادی نے قہقہ لگا دیا ۔فادی نے میرب کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا ساتھ لے گیا پاگل لڑکی وہ منہ میں ہی بربراننے لگا

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

حمزہ کو تھوڑا بہت تو اندازہ تھا کہ وہ کس طرح ری ایکٹ کرے گی ۔لیکن یہ اندازہ بالکل بھی نہیں تھا

کہ وہ اس طرح بے ہوش ہو جائے گی ۔حمزہ کافی پریشان ہو گیا ۔پاس پڑی کرسی پر حیا کو بٹھایا

۔اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا ۔بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے

اور وہ تمام پریشانیوں سے آزاد آنکھیں بند کیے لیتی ہوئی تھی ۔حمزہ کو محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اس طرف آ رہا ہے

۔وہ جلدی سے کیچن کی ونڈو سے باہر پھلانگ گیا ۔کمرے میں آنے والی کشف تھی

اسنے حیا کو چیر پر آنکھیں بند کئے بیٹھے دیکھا ۔اس نے حیا کو بلایا

لیکن حیا تو اپنے ہوش وحواس سے بیگانہ تھی ۔کشف کے بار بار بلانے پر بھی حیا نے کوئی جواب نہ دیا

کشف نے حیا کا گل تھپتھپایا ۔حیا کو تھوڑا تھوڑا ہوش آ رہا تھا

۔آنکھیں کھولنے پر حیا نے کشف کو اپنے سامنے پایا اس نے زور سے کشف کو گلے سے لگا لیا ۔

کشاف حیران ہو رہی تھی آخر حیا کو کیا ہو گیا ۔کیا ہوا ہے حیا۔ اس نے حیات کی کمر کو سہلاتے ہوئے پوچھا ۔

حیا کے جسم میں کپکپاہٹ طاری تھی ۔ک ک کش کشف ۔بولو یار کیا ہوا ۔ک ک کشف و وھ جھوٹ ہے ۔میں نے ن نہیں ک کیا

۔حیا کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ اٹک اٹک کر بول رہی تھی ۔کشف کو کچھ سمجھ نہیں تھا آرہا ۔کیا جھوٹ ہے کیا نہیں کیا اس نے جھنجھلا کر پوچھا

۔وہ جھوٹ ب بول رہے ہیں دھ دھوکا دیا ہے ۔میں نے کو کچھ نہیں کیا وہ مجھے لے جائیں گے

تم س سب کو بتاؤں گی نہ میں نے کچھ نہیں کیا ۔وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے ساتھ بول رہی تھی

۔ہاں میں سب کو بتاؤں گی تم نے کچھ نہیں کیا ۔کشف نے جان چھڑوانے کے لئے بولا ۔اور اسے اپنے ساتھ لگاکر روم میں لے گئی

۔روم میں جاکر وہ خود تو سو گئی ۔لیکن حیا ساری رات ڈر سے کانپتی رہی۔صبح فجر کے ٹائم حیا اٹھی

اور وضو کر کے نماز کے لیے کھڑی ہو گئی ، کافی دیر وہ اللہ سے رو رو کر دعا مانگتی رہی ۔دل کو تھوڑا سکون پا کر وہ آرام کی غرض سے آکر لیٹ گئی

۔لیکن وہ سوچ چکی تھی وہ سب کو حمزہ کے بارے میں بتا دے گی ۔

مہمانوں کا آنا جانا سٹارٹ ہو چکا تھا ۔رات کو مائوں کا فنکشن تھا ۔ہر کوئی تیاریوں میں مصروف تھا

۔کسی کو کسی کا ہوش نہیں تھا ۔‏آئمہ کششف لائبا عائشہ ڈانس کی پریکٹس کر رہی تھی

۔جب کہ میرب حیا کی ہر چیز تیار کر رہی تھی ۔فائزہ نے کچن سنبھالا ہوا تھا ۔فاطمہ کلثوم ساجدہ بیگم اور دیگر خواتین نے اپنے الگ ہی رونق لگائی ہوئی تھی

۔سارا دن بھاگ دوڑ میں گزرا ۔مایوں کا فنکشن سٹارٹ ہونے والا تھا ۔فادی نے ہاتھ میں تھال پکڑا ہوا تھا

جس میں ڈھیر سارے موتیے کے پھول تھے ۔میرب کو موتیے کے پھول بہت پسند تھے

وہ اسی کے پاس لے کر جا رہا تھا میرب نے بھی اسے پھولوں سمیت اپنی طرف آتے دیکھا

وہ بھی بھاگ کر آتی فادی کے پاس جانے لگی ۔لیکن درمیان میں کشف پتہ نہیں کہاں سے آ گئی

۔واو اتنے پیارے پھول ہے مجھے بہت پسند ہیں تمہیں کیسے پتہ چلا میری پسند کا وہ ادا سے بولتی ہوئی فادی کے قریب ہوئی

۔فادی بھی کشف کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو چکا تھا ۔میرب دور کھرے سب دیکھ رہی تھی

۔اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی ۔اسنے وہیں سے اپنے قدم پیچھے لے لیے ۔ جب کے حیا تیار ہو کر اپنے روم میں بیٹھی ہوئی تھی

۔۔حیا نے یلو کلر کی فراک ڈالی ہوئی تھی جس پر ہلکا گرین کلر کا کام ہوا تھا

۔وہ کوئی آسمان سے اتری پری کی مانندلگ رہی تھی ۔بالوں کی فرینچ ناٹ بنائے۔ عائشہ اور لائبہ حیا کو چھیڑ رہی تھی ۔

میںرب کے بلاوے پر وہ باہر چلی گئی ۔

ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے سراپے پر ایک نظر ڈالیں ۔کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا

۔سفید شلوار قمیص میں آستین کو کہنیوں تک مورے بازو پر بندی بلیک گھڑی ہلکی ہلکی شیو روشن پیشانی اور پاؤں میں کھیری ڈالے

وہ وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا ۔اسے دیکھ کر حیا کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگی

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا حیا کے قریب آیا حیا اپنی جگہ پر برف سی جم گئی

۔کیا سوچا ہے مسز حمزہ ۔وہ اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہوا بولا ایک ہاتھ اس نے ڈریسنگ پر رکھا ۔چلے جاؤ یہاں سے

۔تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے میں تمہیں کبھی م۔ معاف نہیں کروں گی

یہ سائن کر دینے سے مجھ پر تمہارا حق نہیں ہو جائے گا ۔نہ ہی یہ نکاح مانا جاتا ہے

اسلام میں ایسے نکاح کو نہیں مانتے ۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اپنا قدم پیچھے لیتے ہوئے دیوار کے ساتھ جا لگی ۔

حمزہ نے بھی اس کی طرف قدم بڑھایا ۔اور اس کے بالوں کی فرینچ ناٹ کو آہستہ سے کھولتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹ حیا کے کان کے پاس کیے

۔اور نرمی سے بولا ۔یہ تم جانتی ہو اور میں جانتا ہوں کہ یہ سب دھوکا ہے یہ کاغذات نقلی ہیں

۔لیکن سب نہیں جانتے ۔لیکن میڈم حیا یہ ہے تو نکاح کے ہی پیپر اور ان پر آپ کے سائین موجود ہیں

۔جو آپ کو میرا کرنے کے لئے کافی ہیں ۔آپ کی بات کوئی بھی نہیں مانے گا ۔اور رہی بات حق کی تو ۔وہ آج بھی میرا ہے اور کل بھی میرا ہوگا

۔اور پھر آپ کچھ نہیں کر پائیں گی ۔یہ کہتے ہوئے وہ تھوڑا پیچھے ہوا لیکن وہ ابھی بھی حیا کی بالوں کے ساتھ کھیل رہا تھا

حیاکے بال۔ اب اس کے چہرے پر آ رہے تھے

۔۔حیا کی سانس رک چکی تھی ۔حیا نے کچھ لمحوں کے بعد ایک لمبی سانس کھینچی

۔اور بولی میں سب کو بتانے جا رہی ہوں تم جو کر سکتے ہو کرلو ۔یہ کہتے ہی حیا نے حمزہ کو جھٹکے سے پیچھے گرایا اور باہر کی طرف بھاگی

حمزہ کا پاؤں لڑکھڑایا اور اس کا سر دیوار کے ساتھ جا لگا ۔وہ حیا کے پیچھے جانے کیلئے اٹھا لیکن حیا کمرے سے جاچکی تھی ۔

وہ بھی تیزی سے باگتا ہوا باہر نکلا ۔لیکن حیا اسے کہیں بھی نظر نہ آئی

حمزہ کی نظریں حیا کو ڈھونڈ رہی تھی ۔وہ چیئرز پر بیٹھے مہمانوں کو دیکھ رہا تھا ہر کوئی گپو میں مصروف تھا

۔کافی دیر ادھر سےاؤدھر نظر دورانے کے بعد جب حمزہ کو حیا نظر نا آئی تو وہ سٹیج کی طرف جانے لگا

اسے یقین ہو گیا حیا اسٹیج پر ہو گی اور یقینا وہاں کسی سے بات کر دے گی ۔وہ بھاگتا ہوا سٹیج کی طرف پہنچا حمزہ کی نظر بیک سائیڈ سے آتی ہوئی حیا پر پڑی ۔

جو سٹیج کی طرف ہی آرہی تھی حیا نے اسٹیج پر چڑھنے کے لیے ایک قدم رکھا ہی تھا کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا

اور اسے فورا اپنی طرف کھینچا اسے اٹھاتا ہوا اسٹیج کی بیک سائیڈ پہ چلا گیا

جہاں روشنی کام اور اندھیرا زیادہ تھا ۔حمزہ نے ایک ہاتھ سے حیا کی کلائی اور دوسرے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا

۔اس نے حیا کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔حیا چپ کر کے میرے ساتھ چلو میری بات مان لو اور قبول کر لو کہ تم نے مجھ سے نکاح کیا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا

حمزہ نے حیا کے منہ سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا ۔پتہ نہیں کس یقین کے تحت اس نے حیا کی کلای بھی آزاد کردی

۔حیا نے حمزہ کی طرف رخ کیا اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ہونٹوں پے کپکپاہٹ طاری تھی

۔میں آ آپ کے سامنے ہ ہاتھ جوڑتی ہوں ۔ہ حمزہ ایسا نہ کریں ۔فرقان کے ساتھ م میری شادی ہے

۔مجھے یوں رسوا نہ کریں ۔وہ ہاتھ جوڑے سسکیاں لیتے ہوئے بول رہی تھی ۔

حیا تم میرے نکاح میں ہو یہ تم سب کے سامنے مانو گی یا نہیں ۔اور اگر تم نے نہ مانا تو یقین مانو تم بہت پچھتاؤگی

۔حمزہ نے سخت الفاظ میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔م میں نہیں مانو گی ب بلکے سب کو سچ بتا دوں گی

۔حیا نے ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا جیسےابھی وہاں سے بھاگ جائے گی

حمزہ اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا ۔حمزہ نے اس کی کلائی کو پکڑ لیا ۔

اس کے سر پر پینز کے ساتھ اٹیچ دوپٹے کو ایک جھٹکے سے اس نے کھینچ کر اتارا

۔حیا اس کی اس حرکت سے حیران نظروں سے اسے دیکھتی رہ گی ۔اس نے چیخنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ حمزہ نے وہی دوپٹہ اس کے منہ پر باندھ دیا

۔حمزہ سب اتنی جلدی جلدی کر رہا تھاکے حیا کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اس کا جسم ڈر سے کانپ رہا تھا ۔

اسٹیج کی سائیڈ سے اتے ہوئے میوزک کی آواز دونوں کی سماعت سے ٹکرا رہی تھی

کھول دے میرے پروں کو

مجھے آزاد کرے

جس نے برباد کیا ہے

وہی آباد کرے

آس یہ پوری کب ہوگی

میں ہو گیی روگی۔

چھین گیا ہے جو مجھ سے

وہی بے چین کرے

دل میرا روئے مسلسل

میری جان بین کرے

‏چپ یہ رد الی کب ہوگی

میں ہو گئی روگی

میرے سائیں میرے سائیں

_____

اسی دوپٹے کے ساتھ اس نے حیا کا منہ باندھ کر اس کے ہاتھوں کو بھی جکڑ کر لیا

۔حمزہ نے حیا کو بازوں میں اٹھایا ۔حیا مسلسل رو رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے

وہ اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی ۔حمزہ اسکی آنسو کی پرواہ کیے بغیر اسے اٹھا کر بیک سائٹ پر لے جا رہا تھا

گھر کی بیک سائیڈ پر درخت کے پاس حمزہ نے حیا کو بٹھایا ۔حیا وہاں سے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ اس وقت اتنا ڈری ہوئی تھی

کہ اس کے پاؤں میں جان ہی نہ ہو جیسے ۔حیا میں لاسٹ ٹائم کہہ رہا ہوں یہاں سے مت ہلنا ۔وہ کہتا ہوا بیک دروازے سے باہر نکل گیا ۔

حیا اپنا ہوش آہستہ آہستہ کھو رہی تھی اسے ایسا لگا جیسے اس طرف کوئی آ رہا ہے ۔لیکن اس سے پہلے ہی حمزہ دبارہ اس کے سر پر آ چکا تھا

۔ اس نے حیا کو بازوں میں اٹھایا اور باہر کی طرف قدم بڑھا دئیے حیا کی نظر کشف پر پڑی جو کسی سے موبائل پر بات کرتے ہوئے اسی طرف آ رہی تھی

وہ سارا منظر دیکھ چکی تھی حیا کا ایک ہاتھ آزاد ہو گیا تھا اس نے بار بار ہاتھ ہلا کر کشف کو اپنی طرف آنے کا اشارہ دیا

۔کشف اس کے قریب آئی لیکن اس سے پہلے ہی حمزہ اسے گاڑی میں بٹھاکر لے گیا ۔کشف سمجھ گئی تھی حیا کو کوئی زبردستی لے گیا ہے

۔وہ کندھے اچکاتے اندر کی طرف چلی گئی ۔گاڑی میں بیٹھتے ہیں حمزہ نے حیا کے منہ سے دوپٹہ ہٹایا ۔حیا لمبے لمبے سانس لے رہی تھی

۔آنکھوں کو بند کیے وہ ونچی آواز میں رو رہی تھی ۔ ۔حیا کو مسلسل روتا دیکھ کر حمزہ نے کہا حیا چپ کرو

۔لیکن حیا نے جیسے سنا ہی نہ ہو وہ ویسے ہی روتی رہی حمزہ نے حیا کو ویسے ہی روتا پاکر اس دفعہ تھوڑا غرا کر کہا ۔

حیا میں نے کہا ابھی اسی وقت چپ کرو .ورنہ تمہارا وہ حشر کروں گا تم یاد رکھو گی

۔حیا کے رونے کو ایکدم بریک لگی پر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن اب آواز نہیں تھی آ رہی۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی

۔میرب اور فائزہ حیا کو لینے کمرے میں گئی لیکن کمرے میں کوئی نہ تھا وہ دونوں حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی

میرب میں واش روم میں چیک کرتی ہوں فائزہ نے کہا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی تھوڑی دیر بعد ہی وہ وہاں سے آ گئی

حیا واش روم میں نہیں ہے میرب ۔بھابی آپ پریشان نہ ہوں ہوسکتا ہے باہر گی ہو چلے چل کر دیکھتے ہیں ۔میرب نے کہا اور دونوں نے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے

ہر روم چیک کرنے کے بعد ان کو حیا کہیں سے بھی نہ ملی وہ دونوں اڑی ہوئی رنگت کے ساتھ سٹیج کے پاس کھڑی تھی وہی فادی آیا

نہیں بھابھی حیا کہیں بھی نہیں ہے میں خود چیک کر کےآ رہا ہوں ۔کہاں گئی فائزہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی

جبکہ اردگرد کے مہمان بھی اب ان کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوگئے تھے کچھ لوگ بول رہے تھے دلہن کو بلاؤ ۔لیکن فائزہ اور فاطمہ بیگم کی رنگت اڑی ہوئی تھی

تبھی کشف نے کہا آپ سب لوگ کس کو ڈھونڈ رہے ہو حیا کو تو میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کسی کے ساتھ پچھلے دروازے سے جاتے دیکھا ہے

کہ وہ کسی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی ۔میں نے اسے روکنا چاہا لیکن میرے روکنے سے پہلے ہی وہ گاری میں بیٹھ کر چلی گئی

میں نہیں دیکھ پائی وہ کس کے ساتھ گئی ہے کشف بولتی جا رہی تھی اور فائزہ اور فاطمہ بیگم کو ایسے لگا جیسے ان کے پاؤں تلے کسی نے زمین کھینچ لی ہو ۔فاطمہ بیگم وہیں زمین پر ڈھیر ہو گئی

علی میرب اور فادی فاطمہ بیگم کو اٹھا کر اسپتال لے گئے فائزہ کی اپنی حالت حراب ہو رہی تھی

ساجدہ بیگم اسی کے پاس رک گئی اعظم مصطفی اور حسن مصطفی بھی ہسپتال کے لئے نکل چکے تھے

۔فائزہ مسلسل روئے جا رہی تھی آج دنیا کے سامنے ان کا تماشہ بن گیا تھا ساجدہ اسے تسلی دے رہی تھی لیکن ان کی اپنی آنکھوں سے آنسو جاری تھے مہمان سب جا چکے

💖
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حمزہ نے حیا کو گاڑی سے نکالا اور بازو میں اٹھاتا ہوا گھر میں داخل ہو گیا

۔حمزہ نے ایک چھوٹا سا فلیٹ لے رکھا تھا جہاں وہ کبھی کبھار چکر لگاتا رہا رہتا تھا اب بھی وہ حیا کو وہی لے کر آ گیا ۔

گھر میں داخل ہوتے ہیں حمزہ بیڈروم کی طرف ببڑھ گیا ۔حیا کے گالوں پر آنسو کے نشان تھے ۔اس کے چہرے پر انتہا کی معصومیت تھی

حمزہ نے اسے بیڈ پر لٹایا ۔اسے لٹا کر وہ اٹھنے لگا تو حیا کے بالوں کی ایک لٹ حمزہ کے کرتے کے ساتھ لگے ہوئے بٹن میں پھنس گئی ۔

اس نے ایک نظر حیا پر ڈالی سوجی ہوئی آنکھیں کھلے بال جو اس کے چہرے پر پھیلے ہوئے تھے حمزہ نے اپنی نظر بد لی اور اس کے بالوں کو بٹن سے آزاد کرانے لگا ۔

بالوں کو بٹن سے نکال کر اس نے ڈاکٹر کو فون کیا ۔تھوڑی ہی دیر بعد ڈاکٹر آچکا تھا اس نے حیا کو چیک کیا ۔انہوں نے بہت زیادہ سٹریس لیا ہے

میں نے انہیں انجکشن لگا دیا ہے تھوڑی دیر تک ہوش آجائے گا ۔ڈاکٹر نے کہا تو حمزہ کو اطمینان ہوا ۔وہ ڈاکٹر کو باہر چھوڑ کر واپس کمرے میں آیا تو حیا ویسے ہی لیٹی ہوئی تھی

حیا کی جانب سے اب اس کی فکر کچھ کم تھی گھر سے باربار حمزہ کو کالز آرہی تھی ۔حمزہ نے کال پک کی ۔تو فادی نے اسے ساری تفصیل بتا دی

۔میں حیا کو ڈھونڈتا ہوں کہہ کر حمزہ نے کال بند کر دی ۔حمزہ کو اپنا غصہ ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔میں نے کتنا سمجھایا تھا تمہیں حیا

لیکن تم نے میری ایک بھی نہیں مآنی ۔اگر تم میری بات مان جاتی اور سب کے سامنے میرا ساتھ دیتی تو آج حالات یہ نہ ہوتے

تم پرگھر سے بھآگنے کا الزام نہ لگتا کیسی دوست ہے یہ تمہاری جس نے تمہارے ہی کردار کو مشکوک کرڈالا ۔وہ غصے سے کمرے میں ٹہلتا ہوآ مسلسل سوچ رہا تھا

اور گاہے بگاہے نظر حیا پر بھی د وڑا رہا تھا ۔بیوقوف لڑکی نہ ہو تو ۔حمزہ نے لمبا سانس لیا

۔تقریبا دو گھنٹے بعد ہی حیا کو ہوش آنے لگا حیا نے بند آنکھوں سے پانی مانگا حمزہ نے پانی کے گلاس اس کے ہونٹوں سے لگایا

حیا نے ایک گھونٹ لیا ہی تھا کہ اس کی نظر سامنے حمزہ پر پڑھی ۔اس نے تیزی سے گلاس کو ہاتھ مار کر گرا دیا اس کے ذہن میں سب گھوم رہا تھا ۔

اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن حمزہ نے ہاتھ پکڑ کر اسے وہیں بیڈ پر بٹھا دیا چپ کر کے یہیں بیٹھو

۔اس نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے نرم لہجہ اپنایا ۔چھوڑو مجھے تم۔ امی میرا انتظار کر رہی ہوں میں سب کو بتا دوں گی

۔خیا نے چلا کر بولا وہ مسلسل روئے جا رہی تھی ۔حیا وہاں پہ سب کو پتہ چل چکا ہے کہ تم گھر پر نہیں ہوں ۔اب بہتری اسی میں ہے جیسا میں کہوں ویسا کرو

۔حمزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سمجھانا چاہا ۔جسے ایک پل میں خیانے جھٹک دیا اور چلانے لگ گئی ۔برباد کر دیا تم نے سب ۔میری زندگی برباد کر دی تم نے حمزہ

۔۔اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا میں تمہاری زندگی جہنم سے بھی بد تر بنا دوں گی ۔وہ چلا چلا کر کہہ رہی تھی

۔حمزہ نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ضبط کیا ہوا غصہ آب ایک دم سے باہر آیا

۔حیا میں نے کہا چپ ہو جاؤ پہلے ہی تمہاری بیوقوفی کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں ۔میں تمہارے لیے کھانا لینے جا رہا ہوں

۔چپ کر کے اسی کمرے میں بیٹھی رہنا کوئی بھی ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔گھر میں کوئی بھی چیز تمہارے کام نہیں آئے گی

اور میں باہر کا دروازہ لاک کر کے جا رہا ہوں ۔اس نے حیا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا ۔اور حیا کو چھوڑ تا کہ ہوا دروازہ لاک کر کے چلا گیا

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

حمزہ ہسپتال پہنچا تو سب کی رنگت اڑی ہوئی تھی ۔ فائزہ اور ساجدہ بیگم بھی آ چکی تھی ۔

فائزہ مسلسل روئے جا رہی تھی ساجدہ بیگم اور میرب اسے تسلی دے رہی تھی میرب کی اپنی حالت غیر ہو رہی تھی ۔ہر کوئی بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا

۔حمزہ فادی کے پاس گیا ۔کیا ہوا ہے آنٹی کو ۔یار ڈاکٹر بتا رہے ہیں آنٹی کو ہارٹ اٹیک آیا ہے

۔بچنے کے چانسز بہت کم ہیں ۔حمزہ کے کانوں میں فائزہ کی آواز آ رہی تھی حیا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔وہ رو رو کر کہہ رہی تھی ۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

حمزہ کے جانے کے بعد حیا کافی دیر روتی رہی ۔نہیں مجھے نکلنا ہے یہاں سے مجھے امی پاس جانا ہے ۔مجھے پتا ہے وہ مجھے ضرور سمجھیں گی

۔حیا سوچ رہی تھی ۔اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا اسے امید نہیں تھی کہ حمزہ دروازہ کھلا چھوڑ کر جائے گا لیکن حمزہ نے کمرے کا دروازہ کھلا چھوڑا ہوا تھا

اسے دیکھ کر حیرانی ہوئی وہ بھاگتی ہوئی مین گیٹ کی طرف گئی لیکن وہ دروازہ لاک تھا فلیٹ میں تین کمرے تھے اور ایک کیچن حیا نے سب کی تلاشی لی

لیکن اسے ایسا کچھ بھی نہ ملا جس سے اسے یہاں سے بھاگنے میں آسانی ہو ۔حیا کی نظر ونڈو پر پڑی جو دوسرے روم کی کھلی ہوئی تھی

سب کچھ اتنا تیزی سے ہوا کے حمزہ کو خیال ہی نہ آیا کہ کوئی ونڈو بھی کھلی ہو سکتی ہے ۔حیا نے کبڈ میں سے حمزہ کی ہی ایک شال نکال کر اوپر اوڑی ۔اور ونڈو میں سے پھلانگتی ہوئی باہر نکل گئی

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

حمزہ گھر میں آنے کے بعد سیدھا کچن میں چلا گیا ۔جو کھانا وہ ساتھ لے کر آیا تھا اس نے برتنوں میں نکالا

۔اور روم کی طرف بڑھ گیا ۔روم میں داخل ہوتے ہی وہ ٹھٹکا ۔حیا کہاں ہو ۔حیات کو نہ پا کر اس نے آواز لگائی

۔حمزہ نے آگے بڑھ کے واش روم میں دیکھا ۔وہاں بھی کوئی نہیں تھا ۔سارے رومز چیک کرنے کے بعد حمزہ کواب فکر لاحق ہونے لگی

وہ تیز تیز ڈگ بڑھتا ہوا باہر آیا سامنے ٹیبل پر پر ہوا موبائل اور کیز اٹھا کر باہر نکل گیا وہ جانتا تھا حیا اس وقت کہاں ہو گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *