Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 05)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

کافی دیر سرک پر ادھر ادھر نظر دورانے کے بعد اسے کوئی ٹیکسی نظر نہ آئی

کچھ دیر بعد اسے ایک رکشا نظر آیا ۔اس میں بیٹھ کر وہ اللہ‎ کو یاد کرتے کرتے اپنے گھر تک پہنچی

۔اپنے ہاتھ پر سے سونے کی انگوٹھی اتار کر اس نے رکشا ڈرائیور کو دی

۔وہ گھر کے سامنے کھڑی تھی حیا کو دیکھ کر حیرت ہوئی

گھر اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ۔گھر میں اتنا اندھیرا کیوں ہے

۔سوچتے ہوئے وہ بار بار بیل بجا رہی تھی

لیکن اندر سے کوئی نہ نکلا اس کے پاس اندر جانے کا کوئی راستہ نہ تھا

کسی طرح میں اندر داخل ہو جاؤ اس کے بعد حمزہ مجھ تک نہیں پہنچ پائے گا

یہ سوچتے ہوئے اس نے گیٹ پر پاؤں رکھا

اور اوپر چڑھنے کی کوشش کرنے لگی

۔ابھی تھوڑا ہی اوپر چڑھ پائی تھی کے اس کے پاس ایک گاڑی رکی

۔گاڑی میں سے کوئی نکل کر اس کی طرف آ رہا تھا حیا کی نظر سامنےسے آتے ہوئے انسان پر پڑی

تو اس کا پاؤں پھسل گیا ۔وہ نیچے گرنے ہی والی تھی

کہ سامنے سے آتے ہوۓ انسان نے اسے آگے بڑھ کر پکڑ لیا ۔

وہ اب اس کے حصار میں تھی آنکھیں ڈر سے بھیجے ہوئے

۔خود کو محفوظ پاکر اس نے آنکھیں کھولی۔

۔تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی

جس سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی وہ اسی کے حصار میں تھی

۔پر ڈر کی وجہ سے اب منہ سے کچھ بھی نہ بول پا رہی تھی

حیا نے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی حمزہ نے اسے گھورا ۔

حمزہ کے چہرے سے ہی اس کے غصے کا اندازہ لگاکر حیا نے اپنی کوشش ترک کرتے ہوئے

اسے کالر سے پکڑ لیا

اسکو حیا پر ترس اگیا ۔حمزہ نے اسے نیچے اتارا

اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف لے جانے لگا ۔

حمزہ ۔حیا نے اپنا ہاتھ ایک دم چھرایا ۔

چھوڑ مجھے گھر میں جانے دو ۔میں تمہاری بیوی نہیں ہوں

جو تم اس طرح زبردستی مجھے لے کر جا رہے ہو ۔

حیانے روتے ہوئے بولا

۔حمزہ نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے اسے کھینچتا ہوا گاڑی کی طرف لے گیا

۔گاڑی کا دروازہ کھول کر حیا کو اس نے اندر پٹکا ۔

خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی ۔

حیا کے دل میں طرح طرح کے حول اٹھ رہے تھے

۔سوچ سوچ کر اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا ۔

نہ جانے اب یہ میرے ساتھ کیا کرے گا ۔وہ انتہائی ڈر چکی تھی

۔تقریبا پینتالیس منٹ کے بعد حمزہ نے گاڑی ایک عالیشان محل کے سامنے روکی ۔

اترو ۔حمزہ نے سامنے دیکھتے ہوئے گمبیر لہجے میں کہا ۔حیاوہیں بیٹھی رہی

۔حمزہ نے اب کی بار کہنے کی بجائے گاڑی سے نکل کر حیا کی طرف کا دروازہ کھولا

۔اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا علیشان محل میں داخل ہو گیا

۔۔حیا نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن حمزہ کی گرفت بہت مضبوط تھی

۔حمزہ نے سیڑھیوں پر چرھنے کے لئے قدم بڑھایا ۔

لیکن حیا کے قدم وہی رک چکے تھے ۔حمزہ نے سرح ہوتی آنکھوں کے ساتھ پیچھے مڑ کر حیا کو دیکھا ۔

حیا کے چہرے سے صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ اوپر جانے سے انکاری ہیں ۔

حمزہ نے ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے

حیا کی طرف رخ کیا ۔لگتا ہے میڈم کو بہت شوق ہے کہ میں انہیں بار بار اٹھاؤ

۔حمزہ نے کہتے ہوئے حیا کو دوبارہ اپنے حصار میں لے لیا ۔حیا کا رنگ سفید پر چکا تھا

حمزہ سیڑھیاں چڑھتےچڑھتے ایک کمرے تک پہنچا

دروازہ کھول کر اس نے حیا آپ کو اس پر لٹایا

۔پندرہ منٹ تک تیار ہو کر نیچے آ جاؤ میں انتظار کر رہا ہوں

۔اس نے وہی بیٹھ کر اس کے اوپر جھکتے ہوئے کہا اور ہاں اگر تم تیار ہو کر نیچے نہ آی تو بہت پچھتاؤ گی

۔تمہاری امی ہاسپیٹل میں ہیں ۔اگر ملنا چاہتی ہو تو میری بات ماننی ہوگی

ورنہ کبھی نہیں مل پاو گی ۔

حمزہ نے کہا اور قدم باہر کی جانب بڑھا دیے

۔خیا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں ۔بیڈ پر وائٹ کلر کا لہنگا تھا ۔

جس پر گولڈن اور ریڈ کلر کا کام ہوا تھا اور ساتھ ہی بھاری کام والا ریڈ کلر کا دوپٹہ تھا

۔اس کے ساتھ میچ کرتی انتہائی خوبصورت ڈیزائن میں جویلڑی پڑی ہوئی تھی

۔خیا نے بوجھل دل سے کپروں کو اٹھایا

اور روتی ہوئی واش روم میں گھس گئی ۔تھوڑی دیر کے بعد وہ واش روم سے نکلی

۔تو 2عورتیں اس کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی

جنہیں اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں تھا دیکھا

۔ابھی حیا کچھ کہتی اس سے پہلے ہی وہ دونوں عورتیں اس کی طرف بڑھی

۔اور حیا کو لا کر ڈریسنگ کے سامنے بیٹھا دیا

۔کچھ ہی دیر میں انہوں نے حیا کو دلہن کا روپ دے دیا

۔حیا اس سوگواریت میں بھی انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی

۔کوئی بھی اس کی طرف دیکھتا تو اپنی نظر ہٹانا بھول جاتا ۔

حیا کو تیار کرنے کے بعد وہ دونوں حیا کو اپنے ساتھ نیچے لائیں

۔حیا کو کچھ سمجھ نہیں تھا آرہا

جیسے جیسے وہ دو عورتیں کہتی حیا ان کی بات مان کر ویسے ہی کرتی رہی ۔

اس کے ذہن میں بس ایک ہی بات چل رہی تھی مجھے امی سے ملنا ہے ۔

حیاسریو سے نیچے آئی تو سامنے ہی 4 مردحضرات بیٹھے تھے ۔

جن میں ایک مولانا صاحب تھے

۔حیا کو سامنے صوفے پر بٹھایا گیا ۔

دوپٹے سے چہرے پر گونگٹھ لایا گیا تھا

جس سے حیا کا چہرہ دیکھ پانا ناممکن تھا ۔

ایجاب و قبول کے مراحل طے پائے

۔اور کچھ ہی دیر میں وہ حیا کاظمی سے حیا حمزہ بن چکی تھی ۔

اس کا جسم کانپ رہا تھا اور آنکھوں سے اشک رواں تھے

شدت غم سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی

۔ہونٹوں پر کپکپاہٹ طاری تھی ۔حجاب و قبول کے مراحل طے پانے کے بعد۔

دو عورتیں اسے اس کے کمرے میں چھوڑ گئی

۔کمرے میں ہر چیز نفیس طریقے سے پڑی ہوئی تھی ۔

یہ ایک وسیع کمرہ تھا جس میں ہر طرح کی آسائش موجود تھی

۔حیا نے اداس سی ایک نظر کمرے پر دوہرای ۔

اور گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگ گئی ۔

ونڈو سے سورج کی کرنیں کمرے میں آرہی تھی

۔ایک خوفناک رات کے بعد روشنی کی کرنیں پڑنے پر اس نے نہ سر اٹھا کر دیکھا تو سویرا ہو چکا تھا ۔

۔دروازہ کھلنے پر بھی وہ ویسے ہی بیٹھی رہی حمزہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب آ کر بیٹھ چکا تھا ۔

حیا ویسے ہی باہر دیکھتی رہی جیسے اسے اس کے ہونے یا نا ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو

۔حیا ۔کمرے میں چھائی ہوئی خاموشی کو حمزہ کی آواز نے توڑا ۔

حیا نے سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا

۔میں ناشتہ لے کر آیا ہوں اٹھو ناشتہ کرلو

حمزہ نے نرمی سے کہا ۔مجھے نہیں کرنا مجھے امی سے ملنا ہے

حیا نے بھرای ہوئی آواز میں کہا

۔پہلے ناشتہ کرو اس کے بعدامی پاس بھی لے جاؤں گا ۔حیانے بمشکل دو تین نوالے لیے

۔تم ریسٹ کرو میں آتا ہوں تھوڑی دیر تک ۔

اور دوبارہ رات والی حرکت مت کرنا ۔یہاں سے نکل پانا اب تمہارے بس کی بات نہیں ہے

۔حمزہ اٹھتے ہوئے شہادت کی انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے ہوئے باہر نکل گیا ۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞

اعظم مصطفی حسن مصطفی ساجدہ بیگم اور میرب گھر جا چکی تھی

۔جبکہ فائزہ فادی اور علی ابھی بھی ہاسپٹل میں تھے ۔

فاطمہ بیگم کو ہوش آ چکا تھا لیکن ڈاکٹر بتا رہے تھے

ابھی بھی ان کی جان کو خطرہ ہے

۔وہ تھوڑی دیر ہوش میں آتی اور اس کے بعد پھر گہری نیند میں سو جاتی

فائزہ کا رو رو کر اپنا برا حال تھا

۔سارا دن وہ ہسپتال میں بیٹھی رہی

۔نماز کے لیے اٹھتی اور اس کے بعد پھر جاکر امی کے پاس بیٹھ جاتی ۔

فائزہ اٹھو تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی علی نے کہا فائزہ نے

اس کے سینے پر سر ٹکا دیا اور اس کو پکڑ کر زور زور سے رونے لگ گئی

۔علی دیکھے نا امی کو کیا ہو گیا ہے امی ٹھیک تو ہو جائیں گی نہ

۔وہ رو رو کر اس سے لپٹ کر کہہ رہی تھی ۔علی اسے تسلی دے رہا تھا

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

سارا دن گزر جانے کے بعد حمزہ کمرے میں آیا تو حیا اوندھے منہ پڑی ہوئی تھی

۔حیا اٹھو میرے ساتھ چلو ۔حمزہ نے بیڈ کے پاس کھڑے ہو کر کہا ۔

حیا نے چہرہ اوپر کیا تو اس کا پورا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔

آنکھیں شدت غم سے سوجی ہوئی تھی

۔تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا تم مجھے امی کے پاس نہیں لے کر گئے

۔وہ معصوم بچوں کی طرح نرم سے لہجے میں کہتی ہوئی رو رہی تھی

حمزہ کو اس پر بہت پیارا ہے ۔حمزہ نے اس کا ہاتھ پکڑا

جسے فورا حیا نے پیچھے کھینچ لیا ۔

اچھا نہیں پکڑتا تمہارا ہاتھ ۔میں نیچے گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں

جلدی آؤ ۔حمزہ کہتا ہوا باہر نکل گیا ۔

حیا مرے مرے قدموں سے اس کے پیچھے چل پڑی

_______

حمزہ گاری کا دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔سامنے سے اسے حیا آتی ہوئی نظر آئی ۔

جو بمشکل ہی چل رہی تھی لہنگے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھائے ۔

ریڈ ڈوپٹے کو گلے میں ڈالے اور ایک بڑی سی شال سے اپنا آپ چھپائے ۔

اسے دیکھ کر حمزہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔حیا میں اسے ہمیشہ یہ بات پسندآئ تھی ۔وہ کہیں بھی جاتی اوپرشال لیتی یا حجاب ضرور کرتی

۔حیا گاڑی تک آ چکی تھی ۔حمزہ کو فرنٹ کا دروازہ کھولے دیکھ کر اس نے اس طرف جانے کی بجائے پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی

۔شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے ۔حمزہ نے دروازہ بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کی بجائے دوبارہ گھر کی طرف قدم بڑھا دئیے

۔حیا اسے دیکھتی رہی ۔گاڑی میں بیٹھے ہوئے اسے پندرہ منٹ سے اوپر ہو چکے تھے

۔لیکن حمزہ کا کوئی اتا پتا نہیں تھا حیا یہی سوچ کر بیٹھی تھی کہ شاید وہ کوئی چیز بھول گیا ہے

۔لیکن اتنی دیر کے بعد بھی وہ واپس نہ آیا تو حیا نے دروازہ کھول کر باہر جانے کا سوچا

۔لیکن یہ کیا ۔دروازہ توکھل ہی نہیں رہا ۔حیا نے اپنا سر پیٹا ۔ بارہ سنگھا گاری بھی لاک کر گیا ہے ۔تبھی اسے حمزہ آتا ہوا دکھائی دیا

۔حمزہ نے گاری کا دروازہ کھولا ۔اور بنا کچھ کہے گاڑی میں سے اپنا موبائل اٹھایا

اور حیا کا دروازہ بھی کھلا چھورتا ہوا اندر کی جانب بڑھ گیا

۔حیا اسے حران نظروں سے دیکھتی رہ گئی ۔وہ جلدی سے حمزہ کے پیچھے بھاگی

۔حیا نے گھر میں قدم رکھا تو موصوف صوفے پر ہی لیٹے ہوئے پائے گئے

۔وہ حمزہ کے سر پر جا کر کھڑی ہو گئی ۔ہم کہاں جا رہے تھے مجھے کب سے گاڑی میں بٹھا کر خود آپ یہاں آرام کر رہے ہیں

۔اپ میں شرم نام کی کوئی چیز ہے کہ نہیں ۔میں تو نفل شکرانے کے پروں گی جس دن میرا آپ سے پیچھا چھوٹ گیا

۔وہ اس کے سر پر کھڑی ہو کر بول رہی تھی ۔ٹھیک ہے میں شکر کرو گی کے مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا نہیں پڑا ۔کہنےکےساتھ ہی وہ سیڑھیوں کی طرف جانے لگی

۔اچھا بات سنو

حمزہ اسے جاتے دیکھ کر بولا ۔حیا اس کے سامنے آکر دوبارہ کھڑی ہو چکی تھی

۔کل تم نے میری بات اچھے بچوں کی طرح معنی ۔اس لئے میں تمہیں تمہاری امی سے ملوانے لے کر جا رہا تھا

۔لیکن گاڑی کا دروازہ کھول کر میں محترمہ کو عزت بحش رہا تھا ۔اور انہو نے پیچھے بیٹھ کر میری دی ہوئی عزت کو قبول نہیں کیا

وہ انہیں کہتے ہوئے اس کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔تو اب میں کہیں نہیں لے کر جا رہا ۔

اس نے دل جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر سجاکر حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

۔امی کا نام سنتے ہی حیا صوفے کے پاس گھٹنوں کے بال نیچے بیٹھ گئی ۔میں بیٹھ جاوں گی پلیز آپ مجھے لے جائیں

۔وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی جیسے ابھی رو دے گی۔ٹھیک ہے مسز حمزہ اٹھئیں اور روئے نہیں ۔آپ بھی کیا یاد رکھیں گی ۔

وہ جو صوفے پر آرام سے لیٹا ہوا تھا کہتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا ۔حیا یہ سنتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی اور گاڑی کی طرف جانے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھیں ۔وہ کھینچتی ہوئی حمزہ کے اوپر آ گری

۔اس کا لہنگا حمزہ کے پاؤں کے نیچے تھا ۔جس کی وجہ سے وہ گر گی ۔حمزہ کے ہاتھ اسکی کمر پر تھے ۔

اس کے بال حمزہ کے چہرے پر تھے ۔حیا نے اٹھنے کی کوشش کی جسے بہت ہی آسانی سے حمزہ نے ناکام بنا دیا

۔میرے خیال سے آج جانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہیں ۔ویسے بھی کل سے تمہیں اس لہنگے میں دیکھ کر نیت خراب ہو رہی ہے

۔پر تم پر ترس کھا کر تمہیں چھوڑ رہا تھا ۔لیکن اب اور نہیں ۔یہ کہتے ہوئے

حمزہ نے حیاکے گرد اپنی گرفت اور مضبوط کر لی ۔حیا کر رنگ سرخ پر گیا ۔

اور آنکھ سے تو آنسو ٹپک کر حمزہ کی لبوں پر گر گئے ۔حمزہ نے ایک دکھ بھری نظر اس پر ڈالی اور اسے آزاد کر دیا ۔

حیا ننے حمزہ کی گرفت ڈھیلی پا کر فورا بھاگتی ہوئی گاڑی کی طرف چلی گئی ۔حمزہ بھی اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

حمزہ ہسپتال میں پہنچا تو علی اور فائزہ ہی تھے ۔اب کیسی طبیعت ہے آنٹی کی حمزہ نے پوچھا

۔اپروومنٹ نہیں ہو رہی بس دعا کرو اللہ انھے جلد صحت یاب کر دے

علی نے کہا ۔حمزہ نے فائزہ پر نظر ڈالی ۔علی بھائی آپ ایسا کریں بھابھی کو لے کر گھر چلے جائیں وہ کافی تھک گئی ہیں

آپ بھی تھوڑا ریسٹ کر لے ۔فریش ہو کر آجائیں تب تک میں یہیں ہوں ۔ارے نہیں حمزہ ۔اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔علی نے کہا ۔آپ فائزہ بھابھی کو دیکھیں

ایسے تو وہ بیمار ہو جاۓ گی ۔آپ ان کے ساتھ رہیں گے تو زیادہ اچھا رہا ہوگا

۔ان کے ساتھ چلے جائیں فریش ہو جائیں تب تک میں یہیں ہوں آپ پریشان نہ ہوں ۔حمزہ نے اطمینان دلانا چاہا

علی کو بھی مناسب لگا ٹھیک ہے میں فائزہ کو لے کر جاتا ہوں ۔تھوڑی دیر تک میں واپس آ جاؤں گا ۔

یہ کہتے ہوئے فائزہ اور علی تھوڑی دیر بعد ہی ہسپتال سے نکل گئے ۔ان کے جانے کے دس منٹ بعد ہی حمزہ گاڑی کی طرف آیا

۔باہر آو حیا ۔حمزہ کی آواز پر حیا اپنی دنیا میں واپس آئی ۔اور اس کی پیروی کرتے ہوئے امی کے کمرے تک جا پہنچی

۔حیا نے فاطمہ بیگم کے پاس بیٹھتے ہی ان کا ہاتھ تھام لیا ۔امی آپ کو کیا ہوگیا ہے میڑی طرف دیکھے نہ ۔آپ کی حیا نے کچھ نہیں کیا

۔میں نے آپ کا یقین نہیں تورا ۔پلیز اٹھ جائیں وہ رو رو کر کہہ رہی تھی روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں

حمزہ اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا ۔حیا کے آنسو فاطمہ بیگم کے ہاتھ پر گر رہے تھے ۔

فاطمہ بیگم نے مدھم سی آنکھیں کھولی تو اپنے سامنے لہنگے میں ملبوس اپنی جان سے پیاری بیٹی کو پایا

۔ان کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل کر بستر میں۔ جذب ہو گئے ۔امی میں نے کچھ نہیں کیا ۔میرا قصور نہیں ہے

حیا کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔فاطمہ بیگم نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔اور نظر اٹھاکر حمزہ کی طرف دیکھا

۔ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ کر غائب ہو گئی ۔حیا نے اپنے پیچھے کھڑے حمزہ پر نظر دورآئی ۔جواب دوسری طرف آ کر فاطمہ بیگم کے پاس بیٹھ چکا تھا

۔بیٹا تمہیں ایسا نہیں ک کرنا چاہیے تھا ۔میں ج جانتی ہوں تم اس سے بہت محبت کرتے ہو ۔

جب تم میرے پاس حیا کا ہاتھ مانگنے آئے تھے ۔میں نے تب بھی تمہاری آنکھوں میں اس ک کے لیے بے پناہ محبت دیکھ لی تھی

۔لیکن میں مجبور تھی ۔حیا کا رشتہ فرقان کے ساتھ طے تھا ۔اس کی تاریخ طے ہوچکی تھی ۔میں شادی توڑ نہیں سکتی تھی

میری مجبوری تھی ۔لیکن بیٹا جو ہوا بہت برا ہوا ۔میری حیا کا بہت خیال رکھنا

میرے بعد بہت سےل لوگ اس پر انگلیاں اٹھائیں گے ۔تم اس کو بچا کر رکھنا

۔فاطمہ بیگم بمشکل بول رہی تھی ۔اور حیا کے اوپر تو حیرتوں کے پہار ٹوٹ رہے تھے

۔بولتے بولتے فاطمہ بیگم کی سانس پھول گئی ۔۔حمزہ نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انہیں تسلی دی

۔اچانک ان کا سانس اکھڑنے لگا ۔حمزہ ان کی حالت دیکھتے ہوئے فورا ڈاکٹر کی طرف بھاگا ۔

حیارونے لگ گئی ۔یہ کیا ہورہا ہے آپ کو ۔اتنے میں ڈاکٹر آچکے تھے ۔انہوں نے حیا کو باہر جانے کا بولا ۔لیکن حیا نہیں جا رہی تھی حمزہ اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے گیا

۔تھوڑی دیر بعد دروازہ کھولا تو حیا بھا گ کر اندر چلی گئی ڈاکٹر حمزہ کی طرف آئے حمزہ بے چینی سے ان کی طرف بڑھا ۔ڈاکٹر کیا ہوا ہے کیسی طبیعت ہے آنٹی کی

۔ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ شی از نو مور ۔حیا کے کانو میں بھی آواز آ رہی تھی۔

حمزہ حیا کی طرف آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے جانے لگا ۔حیا خران نظروں سے اس کے ساتھ چلتی ہوئی امی کو دیکھ رہی تھی ۔

حمزہ نے اسے جاکر فرنٹ سیٹ پر بٹھایا ۔اورخود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔حیا سکتے کی سی کفیت میں تھی ۔حمزہ نے فون اٹھایا اور علی کو اطلاع کردی

۔۔۔حمزہ کو ہاسپٹل سے نکلتی ہوئی کشف دکھائی دی ۔وہ گاڑی سے نکل کر جلدی سے کشف کی طرف بڑھ گیا ۔کشف حیا کو نہیں دیکھ پائی تھی ۔حمزہ نے جا کر اسے تفصیل بتا دی

۔اور یہ بھی کہا مجھے ضروری کام سے ابھی جانا ہے تم تھوڑی دیر یہی روکو علی بھی آرہے ہیں میں دس منٹ تک اتا ہوں ۔کشف دوبارہ ہاسپٹل میں چلی گئی ۔جبکہ حمزہ گاری کی طرف بڑھ گیا

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

حمزہ اور فادی آ کر ڈیڈ باڈی گھر لے گئے

۔میت ساجدہ بیگم کی گھر پر رکھی گئی ۔ہر آنکھ نم تھیں ۔فائزہ کا رو رو کر برا حال تھا ۔

تدفین کا وقت آگیا ۔فاطمہ بیگم ہمیشہ کے لئے سب کی نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *