Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary NovelR50678 Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 07)
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 07)
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary
گاری اپنی منزل کی طرف روانہ تھی مقآبلے بازی ہو رہی تھی
ایک سونگ جہا سے ختم کیا جاتا دوسرا وہیں سے شروع کیا جاتا ۔
میرب اور عائشہ ایک ساتھ بیٹھے تھے جبکہ لائبہ اور کشف وہاب اور فادی سب جوڑں کی شکل میں بیٹھے تھے
کسی کے پاس پانی ہے کیا کشف نے آواز لگائی
۔وہاب نے اپنے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل کی طرف اشارہ کیا ۔فدی
آپ وہاب سے پکڑ کے مجھے دے دو نہ۔ کشف نے فدی کو مخاطب کیا
فدی نے ہاں میں سر ہلایا اور پانی لے کر کشف کی طرف جانے لگا ۔
فدی نے کشف کو پانی کی بوتل پکڑائی اور واپس پلٹنے لگا ارے فادے
میرے موبائل میں کچھ پرابلم ہوئی ہے ہینگ ہو رہا ہے آپ یہی بیٹھ کر اسے ٹھیک کردیں کشف نے کہا
۔اور لائبہ کی طرف دیکھنے لگی جیسے اشاروں میں کہہ رہی ہو کہ
یہاں سے اٹھ جاؤ لائبا نے بھی اشارہ سمجھتے ہوئے وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی اور وہاں سے اٹھ گئی
جبکہ یہ سارا منظر میرب خاموشی سے دیکھ رہی تھی
اس نے اپنی نظر باہر کی جانب دورادی ۔میرب اپی کیا ہوا عائشہ نے میرب کی ہراب ہوتی طبیعت دیکھ کر پوچھا
جب کہ فدی کی سماعت سے عائشہ کی آواز ٹکرا رہی تھی فدی نے بھی میںرب کی جانب نظر دورا ی
میرب نے سر کو پکڑا ہوا تھا فدی اٹھ کر میرب کی طرف جانے لگا کیا ہوا فدی کشف نے اسے اٹھتا
دیکھ کر پوچھا نہیں کچھ نہیں تم بیٹھو میرب کی طبیت ہراب ہے شاید میں دیکھ کر آتا ہوں
فدی کہتا ہوا میرب کی طرف بڑھ گیا ۔کیا ہوا میری تم ٹھیک تو ہو نہ فدی نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
جب کے کے وہاب نے عائشہ کو اب اشارہ کرکے اپنی طرف بلا لیا
۔کشف سلگ کے رہ گئی ۔ایک گھنٹے کے سفر کے بعد گاری فارم ہاؤس کے سامنے جاروکی
۔گرلز اندر داخل ہو گئ اور بوائز بیگزین نکالنے لگ گئے ۔
وہاب کے موبائل پر رنگ ہوئی جی بھائی بولے ۔وہاب نے حمزہ کا نام موبائل پر دیکھ کر کال اٹینڈ کی
اور اٹینڈ کرتے ہیں فورن پوچھنے لگا ۔وہاب کہاں پہ ہوں میں کب سے کال کر رہا ہوں اٹینڈ کیوں نہیں کر رہے تھے ۔
ہم سب بھائی گاری میں تھے موبائل کی آواز نہیں سنائی دی وہآپ نے جواب دیاہم سب کون
۔ وہ ہم سب فام ہاوس آئے ہیں نا وہاب نے مزید بتایا جب کے یہ سن کر حمزہ کا رنگ اڑ وہاب میری بات سنو۔
وہاب وہاب تم سن رہے ہو حمزہ وہاب سے بولا بھائی آپ کی آواز نہیں آرہی ۔ شاید سگنل پرابلم ہے
[ کال ڈسکنیکٹ ہو گی فدی اور وہاب بیکز اٹھا کر اندر کی جانب بڑھے تو گرلز دروازے کے باہر ہی کھڑی تھی
آپ سب اندر کیوں نہیں گئے ابھی تک یہاں کھڑی کیا کر رہی ہوسب فادی نے پوچھا
تو کشف منہ بنا کر بولی یہاں پر تو لاک لگا ہوا ہے ۔اوہ مجھے لگتا ہے حمزہ بھائی یہاں آئے تھے
وہ کام کے سلسلے میں اس طرف آتے رہتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ یہاں بھی روکے ہوں اور جاتے وقت وہی لاک کر گے
ہو وہاب نے اپنا اندازہ لگایا تو اب ہم کیا کریں عائشہ نے پوچھا اب تو جو کریں گے فادی بھائی کریں گے
چلے فادی بھائی اپنا کمال دکھائے وہاب نے فدی کا کندھا تھپتھپا کر اسکو مخاطب کرتے ہوئے کہا
۔فادی نے سب کی جانب نظر درائی اور میرب کی طرف بڑھ گیا
وہ میرب کے قریب کھڑا ہوا تو میرب خران نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر بولی کیا ہوا ہے ۔
رکوع پرنسیس کہتے ہوئے فادی نے میرب کے سر سے پن اتاری اور لاک کھولنا سٹارٹ کر دیا
جس میں وہ کامیاب بھی ہوا اور پانچ منٹ میں ہی لاک کھل گیا
سب نے خوشی سے تالیاں بجائیں ۔اور اندر کی جانب بھر گئے
۔۔اندر داخل ہوتے ہی سب صوفے پر ڈھے جانے کے انداز میں بیٹھے ۔فادی نے میرب کو دیکھا
جو نہ سفر میں کچھ بولی
اور نہ ہی گھر آکر مسلسل خاموش تھی وہ اٹھ کر میرب کے پاس آ کر بیٹھ گیا
کیا ہوا ہے پرنسیس ۔ابھی کچھ میرب بولتی اس سے پہلے ہی کشف بولنے لگی ارے
کچھ نہیں بس تھوڑی سی تھکاوٹ ہو گئی ہو گی اسے تم پریشان نہ ہوں ادھر اؤ ہم دونو اوپر سے دیکھ کر آتے ہیں
کتنا شاندار ہے بلکل محل جیسا کشف نے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
ارے کشف رکو ۔بولو میری ٹھیک تو ہو نہ فادی دوبارہ میرب کے لئے فکر مند ہوتے ہوئے پوچھنے لگا
۔مرب نے ہلکی سی سمائیل کی۔جسے کہا ہو میں ٹھیک ہوں ۔اوکے میں کشف کو گھما کر آتا ہوں
چلو کشف کہتا ہوافادی باہر نکل گیا
جبکہ لٹکتی مٹکتی کاشف بھی اسی کے پیچھے اپنی ادائیں پھیلاتی نکل گئی ۔
جبکہ عائشہ اور لائبہ میوزک سیٹ کرنے لگے
اور وہاب موویز ڈھونڈنے لگا جو آتے وقت اس نے بیگز میں رکھی تھی ۔
: ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
اف میرے اللہ اگر انہوں نے حیا کو دیکھ لیا تو کیا ہوگا حمزا تیزی سے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے سوچ رہا تھا ۔وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا
تبھی سامنے سے ایک ٹرک آیا حمزہ کے نظر اچانک اس پری اسے کچھ سمجھ نہ آیا اور گاری کسی چیز سے ٹکرا گئی حمزہ اپنے ہوش وحواس سے بیگانہ ہو گیا








حیا کو نیچے سے آوازیں سنائی دے رہی تھی یہاں پہ کون ہے وہ مسلسل سوچ رہی تھی
کہ گھر میں کون گھس آیا ہے اسے لگا شاید کوئی چور ڈاکو آگئے ہیں وہ بیڈ کے پاس نیچے ہی بیٹھ گئی
لیکن کافی دیر بعد بھی آوازوں کا سلسلہ ویسے ہی جاری رہا
اسے کچھ سمجھ نہیں تھا آرہا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر کی جانب بھری کمرے سے نکل کر
وہ سیڑھیوں پر پہنچی تو نیچے مرب وہاب اور باقی سب کزنز بیٹھے ہوئے تھے
ان کو دیکھ کر حیا کے چہرے پر خوشی دوڑ گئی ۔اس کی نگاہیں اپنی آپی کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن اسے کہیں بھی فائز ہ نظر نہ آئی
۔وہ درکتے دل کے ساتھ کمرے میں چلی گئی وہ عجیب کشمکش میں پھنس گئی تھی
یا اللہ میں کیا کروں ۔سامنے جاؤں یا نہ جاؤں ۔اگر میں سب کے سامنے کی تو سب مجھ پر الزام لگائیں گے
۔ممیرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے میں ثابت کر سکوں اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا ۔سوچتے سوچتے
اس نے بیڈ کا سہارا لیا اور بیڈ پر بیٹھ گئی ۔اس کا دماغ پھٹ رہا تھا سوچ سوچ کر ۔
اگر ان سب نے میرا ساتھ نہ دیا تو میں کیا کروں گی حمزہ بھی مجھے نہیں چھوڑے گا
۔پلیز اللہ تعالیٰ میری مدد کرے میں کیا کروں ۔
وہ مسلسل سوچ رہی تھی تبھی اسے کسی کے قدموں کی چاپ محسوس ہوئی
: ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
سب کی ہلکی پھلکی نوک جوک چل رہی تھی
۔ارے اب لگاؤ نہ وہ موویز ساتھ مل کر دیکھتے ہیں کشف نے وہآپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
روکے اپی ۔وہاب نے آپی کہنا ضروری سمجھا جب کے کشف کامنہ بن گیا ۔ارے میں کوئی تم سے بڑی تھوڑی ہو
ہم سب ہم عمر ہیں اپی مجھے مت کہو ۔وہ منہ پر دوغلی مسکراہٹ سجا کر بولی ۔
_________
[وہاب کو کشف بالکل بھی اچھی نہیں تھی لگتی ۔جب سے وہ آئی تھی
تب سے میرب اداس اداس نظر آ رہی تھی ۔میرب کہا اٹھ کر جا رہی ہو
۔کشف نے میرب کو اٹھتے دیکھ کر پوچھا ۔آپ لوگ موویز لگاؤ۔میں بس پانچ منٹ میں آئی ۔
کہہ کر میرب سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی ۔میرب سب کمرے دیکھ رہی تھی ۔تبھی اسے فادی ایک کمرے سے نکلتا ہوا نظر آیا
وہ مرب کے قریب آکر کھڑا ہو گیاکہاں جا رہی ہو پرنسز ۔دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوے پوچھنے لگا
۔کپڑے چینج کرنے جا رہی ہوں تمہیں پتا ہے نہ مجھے کپڑوں میں سے گاری کی سمل جب تک آتی رہتی ہے
میری طبیعت بوجھل رہتی ہے۔ابھی تک طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی
۔میرب کا اترا ہوا اداس چہرہ دیکھ کر وہ پوچھے بنا نہ رہ پایا ۔ارے نہیں میں ٹھیک ہوں
تم چلو میں آتی ہوں ویسے بھی مووی سٹارٹ ہو گئی ہو گی ۔اوکے میری جلدی آنا
۔کہہ کر فادی نیچے چلا گیا ۔میرب کمرے میں جا رہی تھی اسے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی
۔یہ آواز کہاں سے آئی ۔اس نے گھوم کر چاروں اور دیکھا سب کمروں کے دروازے بند تھے
۔میرب نے انداز لگایا آواز تو یہیں کہیں سے آئی ہے تو یقینا یہ کمرہ ہی ہوگا
۔میرب نے کمرے کی جانب قدم بڑھائیں








: تمام لائٹس اوف کیے سب کی نظر ٹی وی پر جمی تھی عائشہ اور لائبہ نے ایک دوسرے کے بازو دبوچے ہوئے تھے
۔اور ہونٹوں پہ بار بار زبان پھر رہی تھی ۔ایک چیخ دار آواز گونجی
۔اور کشف نے فادی کا بازو زور سے پکڑ لیا ۔فدی نے کشف کو دیکھا
۔اور اس کے قریب سرگوشی کی ۔کشف اچھا نہیں لگ رہا تم لائبہ اور عائشہ کے ساتھ بیٹھو
۔مجھے ڈر لگ رہا ہے فادی ۔کشف نے اسی طرح اس کا بازو پکرے ہوئے سرگوشی کے انداز میں ہی جواب دیا
۔وہاب کی نظر عائشہ پر پری ۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
۔سامنے ٹی وی پر ٹربارو ہا رور مووی چل رہی تھی







میرب نے کمرے کا دروازہ کھولا ۔تو ایک لڑکی اس کی طرف پشت کیے کھڑی تھی
۔میرب نے حیران نظروں سے اس کا جائزہ لیا ۔سکین اور مہرون کلر کی ڈیزائننگ لونگ فراک کمر پر آئے ہوئے لمبے بال اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے
یہ کوئی نوکرانی تو نہیں ہے ۔پھر کون ہو سکتی ہے یہ ۔کون ہیں آپ اور یہاں کیا کر رہی ہیں
۔میرب نے پوچھا ۔لیکن مسلسل خموشی چھائی ہوئی تھی ۔
میرب نے آگے بڑھ کر جیسے ہی اس کا کندھا پکڑ کر اپنی طرف منہ کیا ۔اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی
۔ح حیا۔اس کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے یہی الفاظ نکلے ۔حیا نے زور سے میرب کو گلے لگا لیا
اور رونے لگ گئی ۔میرب کی آنکھیں بھی نم تھیں ۔تھوڑی دیر بعد میرب نارمل ہوئی اسنے نے حیا کو خود سے الگ کرتے ہوئے بیڈ پر بٹھایا
۔۔خیا ابھی بھی رو رہی تھی ۔چپ کرو حیا ۔اور مجھے بتاؤ تم یہاں کیا کر رہی ہو
۔میرب کے ذہن میں بہت سارے سوالات تھے ۔تم شادی سے بھاگ کیوں گئی ۔وہ حیا کا ہاتھ تھامے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی ۔
حیا نے اسے سب صاف صاف بتا دیا ۔میرب اپنا سر پکڑ کر رہ گئی ۔حمزہ بھائی یہ کیا کیا آپ نے وہ سوچ رہی تھی
۔اس نے خیاکو چپ کروایا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی
۔مرب اب کیا ہوگا ۔کچھ نہیں ہوگا بس تمھے جیسا میں کہتی ہوں تم نے ویسا ہی کرنا ہے ۔میرب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
۔جب کے حیا اسے دیکھتی رہی نہ جانے اب اس کی قسمت میں کیا لکھا ہے ۔
میرب کشف والی بات گول کر گئ۔حیا پہلے ہی پریشان تھی اگر اسے پتہ چلتا
۔جیس دوست سے اس نے مدد مانگی تھی اسی نے اس پر الزام تراشی کی ۔تو کیا گزرے گی حیا پر ۔








فادی نے ارد گرد نظر دھورآئ اسے کہیں بھی میرب نظر نہ آئی
۔اب تو مووی بھی ختم ہونے والی تھی ۔فادی اٹھ کر کھڑا ہوا
۔تبھی تمام لائٹس آن کر دی گئی ۔سب کی آنکھوں میں روشنی پڑی ۔لیکن آہستہ آہستہ جب سب وزیحا ہوا تو سب حیران نظروں سے حیا کو دیکھ رہے تھے
۔کشف کا تو حلق ہی خشک ہو گیا ۔حیا یہا کیسے سب کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا
۔مرب نے اپنے ذہن میں بنائی ہوئی کہانی سب کے گوش گزار دی ۔حیا سب سے ملی ۔میرب کے موبائیل کی رنگ ہوئی ۔تو گھر سے کال تھی
۔کال سننے کے بعد میرب کے چہرے پر فکر مندی اور پریشانی کے اثرات صاف نظر آ رہے تھے
۔کیا ہوا ہے میری ۔فادی نے پوچھا ۔ بھابھی کی کال تھی باباجان کی طبیعت پھر سے خراب ہو رہی ہے
۔مجھے بہت پریشانی ہو رہی ہے ۔ہمیں گھر چلنا چاہیے ۔حالات کو دیکھتے ہوئےسب نے جانے میں ہی بہتری سمجی








کشف کو راستے میں ہی اس کے گھر چھوڑ دیا گیا ۔باقی سب لوگ گھر آ چکے تھے
۔حیا کو فادی کے گھر بھیج دیا گیا ۔اعظم مصطفی بھی ساجدہ بیگم کے گھر پر تھے
۔گھر میں کوئی بھی موجود نہ تھا ۔اس لئے حیاکو فادی کے گھر میں رہنے سے کوئی مشکل پیش نہ آئ۔
میرب گھر آتے ہی حسن مصطفی کے کمرے کی طرف چلی گئی
۔ان کے پاس ہی بیٹھ گئی بابا آپ ٹھیک تو ہے وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی ۔حسن مصطفیٰ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
۔میں ٹھیک ہوں بیٹا آپ پریشان نہ ہوں ۔حسن مصطفی نے کہا
۔لیکن ان کے ہاتھ کی گرمائش بتا رہی تھی ۔بابا آپ کو بخار ہے اپنے میڈیسن بھی نہیں لی۔
بھابھی مجھے بتا رہی تھی چلے میڈیسن لے ۔حسن مصطفی اپنی بیٹی کو اپنے لیے اس طرح فکرمند ہوتے دیکھ کر ھلکے سے مسکرا دیے
۔میں میڈیسن بھیجتی ہوں آپ لے لینا ۔میرب نے کہا اور اٹھ کر باہر فائزہ کے پاس چلی گئی
بھابھی آپ فری ہے کیا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے میرب نے فائزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
۔ہاں بس ختم ہوگئے کام چلو کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں ۔فائزہ نے برتن سمیٹتے ہوئے میررب سے کہا








حمزہ کہاں ہیں وہ نظر نہیں آ رہا ۔کیا وہ آپ لوگوں کے ساتھ نہیں تھا گیا
۔ ساجدہ بیگم نے بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔نہیں ممانی جان آنہیں شاید کوئی کام تھا
۔وہاب نے جواب دیا تبھی اس کے موبائیل کی رنگ ہوئی۔کوئی انجان نمبر تھا
۔وہاب نے کال رسیو کی ۔لیکن اگے سے بولنے والے کی بات سن کر اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی
۔ساجدہ بیگم نے وہاب کا سفید ہوتا رنگ دیکھ فکرمندی سے پوچھا ۔سب خیریت تو ہے نہ بیٹا
۔ح حمزہ بھائی کا اکسیڈنٹ کہ کر وہاب باہر کی جانب بھاگا
_________
ہاں میرب بولوں کیا بات ہے ۔انجوائے کیا وہاں جاکر فائزہ نے بیڈ کراون سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا
جب کہ میرب کشمکش میں پھنسی ہوئی تھی کیسے بات سٹارٹ کرو ۔اپنی تمام تر ہمت جمع کرنے کے بعد مرب بولی بھابھی میں خیا سے ملی تھی
۔حیا کا نام سن کر فائزہ کا رنگ سفید پڑ گیا آنکھوں میں نمی اتر آئی کچھ دیر مکمل خاموشی چھائی رہی
جسے میںرب کی آواز نے ہی تورا ۔بھابی ہم حیا کو غلط سمجھ رہے تھے جیسا کشف نے بتایا جیسا ہم سب نے سمجھا ویسا تو کچھ بھی نہیں تھا
۔فائزہ چپ کر کے سنتے رہی ہاں لیکن رخسار پر آنسو بہہ رہے تھے
۔پھر کیساتھا
حیاء کو کس چیز نے اتنا مجبور کردیا کہ وہ ہم سب کی عزت کو روند کر چلی گئی
فائزہ دھیرے سے لہجے میں بول رہی تھی اس کی آواز میں بےبسی صاف محسوس کی جا سکتی تھی
میرب نے فائزہ کا ہاتھ تھاما اور بولی ۔آپ کو حیا کی دوست یاد ہے نہ وہ اقصیٰ جس سے اس کا ایک دفعہ جگرا ہو گیا تھا
اس نے آپ کو اور مجھے بتایا تھا ۔فائزہ نے ہاں میں سر ہلا یا لیکن اسے یہ سمجھ نہیں تھا آرہا
مرب یہ بات کیوں کر رہی ہے ۔اسی نےحیا سے بدلا لینے کے لئے اپنے بھائی کو بول کر شادی سے اٹھو ا لیا تھا
تا کہ حیا کی بدنامی ہو جائے ۔حیا جیسے تیسے وہاں سے بھاگ نکلی ۔
اورحمزہ کو مل گئی مگر حالات ایسے تھے کہ وہ اس وقت گھر نہیں تھی آسکتی
آپ کی بھی حالت ٹھیک نہیں تھی اس لیے حمزہ نے حیا کو فارم ہاؤس میں رکھا ۔
فائزہ سن کر رونے لگ گئی ۔کہا ہے میری بہن مجھے اس سے ملنا ہے وہ بے چینی اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات لے کر بولی ۔
حیا ہمارے ساتھ ہی آئی ہے فعدی کے گھر پر ہے ۔مجھے لے چلو وہاں فائزہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔آپ روکے بھابھی میں لے کر آتی ہوں
حیا کو۔ وہ سب سے مل بھی لے گی ۔میرب حیا کو لینے چلی گئی
کچھ ہی دیر میں حیا ان کے سامنے تھی اور باقی تمام گھر والے بھی من گھڑت کہانی سن چکے تھے
۔فائزہ کافی دیر اسے گلے لگ کر روتی رہی ۔سب کی آنکھ نم تھی ساجدہ بیگم نے بھی اسے ڈھیروں پیار کیا
۔کیا ہوا ہے آپ کو امی فائزہ اور میرب نے ساجدہ کو پریشان دیکھ کر پوچھا
۔ارے بیٹا حمزہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ۔وہاب بتا کر گیا ہے جس بچے نے حیا کی حفاظت کی آج وہی مشکل میں ہے
ساجدہ بیگم کہتے ہوئے رو پڑیں ۔جب کے حیا کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئی تھی
(حیادروازہ کھولوحمزہ تکریبن 20 منٹ سے دروازے کے باہر کھڑا سے آوازیں دے رہا تھا
۔لیکن حیا تو ایسے جیسے کانوں میں روئی ٹھونس کر بیٹھی ہو
۔بل احر تنگ آکر حمزہ نے ونڈو کا سہارا لنا چاہا ونڈو کے ذریعے کمرے میں جاتا ہوں
یہ سوچ کر اس نے قدم آگے بڑھائیں ۔لیکن آگے کا منظر دیکھا تو وہ حیران رہ گیا
اس کی معصوم بیوی ایسا کر سکتی تھی اس نے سوچا بھی نہیں تھا
۔حیا ونڈو سے پھلانگ کر باہر کی جانب بھاگ رہی تھی۔چونکہ اس وقت حمزہ گھر پر تھا
تو مین گیٹ پر تالا نہیں ہوگا ۔اس نے حمزہ کو باہر دروازے پے الجاے رکھا ا
ور خود وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن حمزہ نے اسے پیچھے سے ا دبوچا
۔حمزہ نے اس کی کلائی کو زور سے پکڑ لیا اور اس کی پشت کو اپنے ساتھ لگا لیا ۔حیا کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھی
۔کہاں بھاگنے کی تیاری ہے میڈم ۔چھوڑو حمزہ مجھے جانے دو
حیا نے اپنا آپ چھرواتے ہوۓ کہا ۔حمزہ نے ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھتے ہوئے
اپنا حصار باندھ دیا اور اپنے تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا دی ۔
