Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary NovelR50678 Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 14)
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 14)
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary
: گھر پہنچ کر سب کو تمام حالات سے آگاہ کردیا گیا ۔حسن مصطفی تو گم سے چارپائی سے لگ کے رہ گئے
اعظم مصطفیٰ بھی غم و غصے سے ڈھے سے گئے تھے ۔ساجدہ بیگم او فائزہ نے تو رو رو کر برا حال کر لیا
۔امی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں میں نے آپ کو بتایا ہے نہ میرب ٹھیک ہے ۔میرے گھر پر ہے حمزہ نے انہیں وہیں رکھا ہے
۔میں بھی اس کے پاس جاتی رہوں گی آپ پریشان نہ ہوں ۔وہ فادی کا سامنا نہیں کر سکتی تھی
اور آپ بھی تو جانتی ہیں اگر وہ یہاں رہتی تو وہ ٹوٹ جاتی اپنے زخم کبھی نہیں بھر پآتی ۔
پلز کچھ تو کھا لیں میں خود آپ کو میرب کے پاس لے جاؤں گی ۔پتا نہیں کس حال میں ہوگی میری بچی
۔حیا کے سمجھانے پر بھی ساجدہ بیگم روی جا رہی تھی علی تو سنتے ہیں کشف کو سبق سکھانے کے لیے گھر سے شدید غصے میں نکل گیا ۔
علی کو دروازے میں داخل ہوتا دیکھ کر فائزہ اس کی طرف لپکی علی کیا کر کے آئے ہیں آپ ۔کشف کے ساتھ کیا کیا ہے آپ نے
۔علی لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے میں جا رہا تھا اورفائزہ اس کے پیچھے بھاگنے کے انداز میں پوچھ رہی تھی
علی ایک پل کے لیئے روکا اور اپنی گردن موڑے بغیر فائزہ کو جواب دیا ۔ابھی تو کچھ نہیں کیا لیکن ایک دفعہ ہاتھ لگ جائے
اس کی جان لے لوں گا ۔کشف گھر پے نہیں تھی کیا فائزہ نے حیرانگی سے پوچھا
اس کے گھر گیا تو اس کی والدہ بتا رہی تھی ابھی تک کشف گھر نہیں آئی نہ ہی اس کی کوئی خبر ای ہے
۔لیکن کتنے دن بچے گی زیادہ دن تک مجھ سے وہ بچ نہیں پائے گی علی کا لہجہ چٹانوں کی سہتی لیا ہوا تھا
کہہ کر علی کمرے میں چلا گیا۔اور دروازہ ایک دار سے بند کر دیا
۔جس بہن کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آئے تھے آج اس کے ساتھ اتنا سب ہو گیا اور اسے پتہ ہی نہیں چلا۔
آج ایک بھائی بے بسی کی انتہا پر تھا وہ اپنی بہن کے لئے کچھ نہیں کرسکتا تھا





..: فدی جب سے آیا تھا اسے تو چپ لگ گئی تھی نہ جانے کتنے پہر اس نے بند کمرے میں گذار دئیے
۔زندگی میں پہلی بار وہ رویا تھا “
…: شدت گریآ سے آنکھیں حد درجہ سرخ تھی ۔کسی کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی
وہ ۔کلین پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا ۔بیڈ کے ساتھ سر ٹکا کر اس نے آنکھیں موندی
تو اس کی آنکھوں کے سامنے میرب کا چہرہ آ گیا ۔آنسو میں بھیگا ہوا ہنستا ہوا چہرہ ![]()
![]()
۔اذان کی آواز اس کے کانوں میں گونجی ۔فدی نے آنکھیں کھولی۔شاید آب یہی ایک راستہ ہے جس سے اسے معافی مل سکے
اس کو سکون مل جائے ۔وہ اٹھا اور وضو کرنے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
کچھ دیر بعد وہ واش روم سے وضو کرکے نکلا اور جاۓ نماز بچھا کر نماز پڑھنے لگآ ۔کیا ہی خوب کہا ہے بابا بلھے شاہ نے
نہ کر بندیا میری میری
نہ تیری نہ میری
چار دناں دا میلہ
دنیا فیر مٹی دی ڈھیری
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے
ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا
ک بندے دا دل نہ ڈھاوِیں
رَ ب دلاں وِ چ رَیندا






اعظم مصطفی اور فدی کے درمیان بات چیت بند تھی وہ تو اپنے بڑے بھائی کے سامنے ہی بہت شرمندہ تھے
کہ ان کے بیٹے نے ان کی پھول جیسی بیٹی کے ساتھ اتنا برا کیا ۔جب سے میرب گئی تھی
اوپر والے پورشن میں کوئی آتا ہی نہیں تھا ۔میرب کو گئے ہوئے بیس دن سے اوپر ہو رہے تھے
۔فادی کے چہرے پر مسکراہٹ کی بجائے سنجیدگی نے اپنا جال بچھایا ہوا تھا ۔
اتنا سب ہونے کے بعد بھی ساجدہ بیگم اور فائزہ کا اگر فادی سے سامنا ہوتا تو وہ اسے کچھ نہ کہتی
۔آج ایک دفعہ پھر فدی ساجدہ بیگم کے کمرے میں موجود تھا ۔جو نماز پڑھ رہی تھی
۔فدی ان کے چہرے کو دیکھتا رہا میرب کافی حد تک اپنی۔ ماں پر گئی تھی
۔ساجدہ بیگم نماز پڑھ کے اٹھی اؤر صوفے پر بیٹھ گئی فدی ان کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ان کی گود میں اپنا سر رکھ دیا
۔ساجدہ بیگم نے شفقت سے فدی کے سر پر ہاتھ رکھا وہ جانتی تھی وہ کیا پوچھنے آیا ہے ہر دوسرے دن فدی ان کے پاس آتا
اور ایک ہی سوال کرتا فدی کیا ہوا بیٹا سآجدہ نے اپنی نم ہوتی آواز میں پوچھا امی آپ کو پتہ ہے نہ میری کہا ہے ۔پلیز مجھے بتا دیں نہ
میں اس سے معافی مانگ لوں گا میں اسے واپس لے اؤ گا ۔اس کی ہر بات مانو گا پلز مجھے بتا دیں
وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی ان سے ضد کر رہا تھا جیسے اس کے دل کو یقین ہو کہ ساجدہ بیگم کو پتہ ھے
میرب اب کہاں ہے ۔ساجدہ نے اس دفعہ بھی خاموشی اختیار کی
۔کافی دیر وہ ان کی گود میں سر رکھے بیٹھا رہا لیکن اس دفعہ بھی اسے ناامید ہو کر جانا پڑا تھا ۔
…: ![]()
![]()
![]()
![]()
حیا اور حمزہ میںرب کے پاس ہی آ گئے تھے ۔میری اٹھو شاباش
۔میں ناشتہ بنا کر لے ای ہو اٹھو اب کھآ لو حیا نے کمبل ہٹاتے ہوئے میرب کو اٹھایا
۔میرب نے اٹھنا چاہا لیکن اس کا سر چکرا رہا تھا وہ اب بیمآر رہتی تھی اور پہلے سے کافی زیادہ کمزور بھی ہو گئی تھی ۔
حیا نے اس کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اسے اٹھایا اور پھر اسے تھام کر واش روم تک لے کر گئی
۔میرب فرش ہو کر آئیں تو حیا نے ہی اسے ناشتہ کروایا ۔میرب اپنے کمرے تک ہی رہتی ۔باتیں کرنا تو وہ جیسے بھول ہی چکی ہو





علی کے موبایل کی رینگ ہوئی اس نے موبائل کی طرف دیکھا اور پھر کال اٹینڈ کی
۔کشف کا پتا چلا ؟ ۔علی کی آواز سنکر فائزہ متوجہ ہوئی ۔کچھ لمحے بعد علی نے کال بند کردی اور پیڈ پر بیٹھ کر ایک لمبی سانس خارج کی
۔کیا ہوا ہے کس کی کال تھی فائزہ نے کپڑے تے کر کے رکھتے ہوئے پوچھا
۔کشف کا پتا جائے گیا ہے ۔اتنا کہہ کر علی خاموش ہو گیا اور اس کے آگے کے الفاظ سن کر فائزہ نے دل ہی دل میں اپنے اللہ کے انصاف پر شکر ادا کیا





کشف اس دن گسے سے پاگل ہوتی وہاں سے چلی آئی اور ہوٹل میں پہنچ کر اپنے بیگز اکٹھے کیے
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حیا کی جان لے لے ۔حیا نے اسکے کیی کرائے پر پانی پھیر دیا
پہلے دن سے ہی وہ حیا سے جلتی تھی اور ایک دفعہ پھر حیا نے بازی مار لی سکول میں بھی حیا آ گئیے تھی
اس کے بعد کالج میں بھی حیا ہمیشہ آگے ہی رہی ان دونوں کی دوستی جو کہیں دور رہ گئی
کشف کے دل میں حسد نے اپنی جگہ بنا لی ۔وہ ہر وقت حیا کو نیچا دکھانے کا سوچتی رہتی
۔اور اس نے وہ کر کے بھی دکھایا۔حیا کی شادی پر
۔وہ ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی تھی فادی اکلوتا وارث اوپر سے اتنی جائیداد اس نے ٹھان لیا تھا فادی کو تو وہ حاصل کرکے ہی رہے گی
لیکن اس دفعہ بھی حیا نے اس کا ارادہ ناکام بنا دیا ۔تمہیں تو میں حیا چھوروں گی نہیں ۔کہتے ہوئے کشف سرک پار کر رہی تھی
۔وہ اپنے گسے میں اتنی اندھی ہو چکی تھی کہ اسے سامنے سے آنے والے ٹرک بھی نظر نہیں آیا ٹرک پوری طرح سے اسے کچل کر جاچکا تھا
جب کشف کو ہوش آیا تو وہ پیرالائز ہوچکی تھی اور اس کا آدھا چہرہ بری طرح سے بگڑ چکا تھا
۔کشف نے ایک معصوم لڑکی کی زندگی تباہ کر دی ۔اس نے ایک لڑکی ہوتے ہوئے میرب کے کردار پر کیچڑ اچھالا
۔اسے اپنے حسن پر اتنا ناز تھا ۔کہ اسنے سوچا کہ جس کی طرف وہ دیکھے گی وہ اسے مل جائے گا
۔لیکن وہ یہ بھول چکی تھی اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔آج نہ اسکا حسن رہا تھا ۔نہ ہی وہ جس کیلئے وہ غلط سہی سب بھول گئی
۔کشف نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا تو چیخیں مار مار کر روی۔ ۔وہ اب دوسروں کی محتاج ہو گئی تھی ۔آب اس کے پاس کچھ نہیں تھا کرنے کو
سوائے پچھتاوے کے
_________
فدی
نے خود کو بہت زیادہ مصروف کر لیا تھا وہ صبح ہوتے ہی آفس کے لئے نکل جاتا
اور رات دیر تک کام کرتا رہتا ۔نہ ہی وہ کسی سے بات کرتا اور نہ ہی اسے کھانے پینے کا ہوش تھا
ہسب معمول آج بھی وہ کام سے آکر شام کو سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا
۔ٹیبل پر لیپ ٹاپ رکھے وہ کام کرنے میں مصروف تھا
۔بھائی میں اندر آجاؤں عائشہ نے دروازے میں کھڑے ہو کر پوچھا
اپنے بھائی کے مزاج سے اب وہ بھی ڈرنے لگی تھی
وہ اب اتنا بولتا تو نہیں تھا لیکن جب بولتا اس کا سرد لہجہ اور اس کا گصہ عائشہ کے دل میں ڈر پیدا کرگیا
عایشہ ہی نہیں گھر کے باقی افراد فایزا ساجدہ تمام فدی سے ڈرے رہتے تھے
وہ بولتا تو بہت کم تھا لیکن جب بولتا
۔تو اس کا غصہ دیکھ کر سب ڈر جاتے وہ اپنے اندر کا غصہ ضبط کرتا رہتا
لیکن جب وہ باہر نکلتا تھا تو ہر کوئی حاموش ہوجاتا اس کے سامنے ۔
آجاؤ ۔فدی نے ہمیشہ کی طرح آپنے سرد لہجے میں جواب دیا
بھائی آپ نے کھانا نہیں کھایا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پاس آ کر کھڑی ہو کر پوچھنے لگی
۔بھوک نہیں فدی نے نظریں لیپ ٹاپ پر محصوص کرکے اسے جواب دیا
۔عائشہ ابھی کچھ بولتی اس سے پہلے ہی فدی بولا چائے کا ایک کپ بھیج دو اور دوبارہ مت آنا مجھے کام ہے
۔عائشہ وہیں واپس پلٹ گئی







مرب کی وجہ سے حیا کو تو موقع مل گیا تھا حمزہ سے بھاگنے کا
۔حمزہ پہلے تو سمجھا کہ حیا میرب کو لے کر پریشان ہیں اس لئے اسے زیادہ ٹائم دے رہی ہے
لیکن اب وہ سمجھ چکا تھا کہ حیا جان بوجھ کر اسسے بھاگ رہی ہے
۔وہ گھر آیا تو وہ کھانا لگا کر چلی گئی ۔حمزہ کافی دے دیکھتا رہا
لیکن وہ نہیں آئی حمزہ اٹھا اور مرب کے کمرے کی طرف گیا تومرب سوئی ہوئی تھی
حیا اس کے کپرے تہ کر کے رکھ رہی تھی ۔
آپ کو کوئی کعام ہے ۔حیا کی نظر حمزہ پر گئی تو پوچنے لگی
باہر آؤ میرب اٹھ جائے گی ۔حیا حمزہ کی آوازکے انے پر پہلے ہی بوکھلا گئی تھی
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہرآگئی کیا ہوا ہے کوئی کام تھا آپ کو
۔ہاں۔ کام ہی تھا آپ ذرا یہاں سے کام کر کے روم میں آئے گی حمزہ کاموڈ کافی خراب ہوچکا تھا
اس نے طنزیہ لہجہ اپنایا۔یہ کہہ کر حمزہ اپنے روم کی طرف چلا گیا
جبکہ حیا اپنی نازک انگلیا مروڑتی ہوئی دوبارہ میرب کے کمرے میں چلی گئی
۔جب دس منٹ بعد بھی وہ نہ آئی تو حمزہ نے ٹیبل پر رکھا ہوا گلاس اٹھا کر زور سے نیچے پٹحا
جوکیی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا
۔حیا کچھ ٹوٹنے کی آواز پر فورن کمرے میں گئی تو گلاس ٹوٹا ہوا تھا
۔یہ گلاس کیسے ٹوٹا ۔پانی پینے لگاتو ہاتھ سے پھسل گیا اسے ذرا صاف کر دو ۔کہہ کر حمزہ بیڈ پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا حیا پھلے ہی بوکھلا چکی تھی کہ وہ جھاڑو کی بجائے آگے بڑھ کر ہاتھ سے ہی اٹھانے لگ گئی
سسسسس کے آواز حمزہ کے کانوں میں پڑھی
اس نے پلٹ کر دیکھا تو حیا کی انگلی میں شیشہ لگا ہوا تھا
وہ فورن اٹھا اور حیا کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگا لیا
حیا کی آنکھوں میں پانی بھر آیا
حمزہ نے شکوہ کنا نظروں سے حیا کو دیکھا
اٹھوسرد لہجے میں حمزہ نے کہا اور اسے لے کر بیڈ پر بیٹھ گیا حمزہ نے حیا کی بینڈج کرتے ہوئے نظریں اس کے چہرے پر جما کر کہا
۔اگر میرا کام۔ کرنا اتنا ہی برا لگتا ہے
تو مجھے بتا دینا تھا کہ تم میرا کام نہیں کرنا چاہتی
بلاوجہ خود کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت تھی اس کے چہرے کی طرف دیکھنا ایک ایک لفظچبا چبا کر بول۔ رہا تھا
جبکہ خیا تو اس کی بات پر ہی حیران رہ گی
حیا نے اپنی نظر اٹھائی آنکھیں پانی سے بھر چکی تھی
حمزہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر بیڈ پر لیٹ گیا اور کمبل منہ تک اور لیا
جیسے وہ مزید حیا سے بات نہیں کرنا چاہتا
: حیا دوبارہ سے جاکر میرب کے کمرے میں بیٹھ گئی
۔حمزہ کی باتیں اور اس کا رویہ تو جیسے اس کے سر کے اوپر سے ہی گزر گیا
۔وہ اپنے کمرے میں آنے کی بجائے میرب کے ساتھ ہی سو گئی
۔یہ سوچے بغیر کہ اس کی آس ترھا کی حرکتیں ان کے رشتے میں دوری پیدا کر سکتی ہیں
______
کام کرتے کرتے رات کے ایک بج ہے تھے فدی نے گھڑی کی جانب نظر دوڑائی
ٹائم دیکھ کر اس نے لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھا اور آٹھ کار واش روم چلا گیا
۔کپڑے چینج کر کے وہ آ کر بیڈ پر لیٹ گیا آنکھیں بند کئے وہ سونے کی کوشش کررہا تھا
لیکن نیند تو اس سے کوسوں دور تھی ۔وہ کروٹ بدلتا رہا لیکن جب مزید ایک گھنٹہ آنکھیں بند کئے گزر گیا
اور اسے نیند نہ آئی تو وہ اٹھ کر باہر نکل آیا اورریلنگ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا
دل و دماغ پر اداسی اور پچھتاوے نے اپنا جال بچھایا ہوا تھا
۔نظر سامنے کے پورشن کی طرف گئی جہاں اندھیرا چھایا ہوا تھا کبھی وہاں میرب ہوا کرتی تھی
۔آدھی رات کو بھی وہ چھت پھلانگ کر اس سے بات کرنے آ جایا کرتی تھی
۔اب وہ روشن گھر اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ۔فدی کی آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہو رہی تھی ۔
نہ جانے کتنے پہر اس نے وہاں کھڑے کھڑے سوچوں میں گذار دئیے ۔





: فائزہ ٰ نے ساجدہ بیگم کو فون لا کر دیا امی میرب کا فون ہے بات کر لے ساجدہ بیگم نے فون لیا
اورکیے لمھے فون کو تکتی رہی پھر فون کو کان سے لگایا میرب نے بہت دن بعد فون کیا تھا
فائزہ کو ۔فائزہ سے بات کرنے کے بعد اس نے امی سے بات کرنے کو کہا
تو فائزہ نے فون ساجدہ بیگم کو دے دیا ۔فائزہ تو فون پکڑا کر چلی گئی
۔کیسا ہے میرا بچہ ساجدہ نے نم آواز کو مضبوط بناتے ہوئے پوچھا
میں ٹھیک ہوامی آپ کیسی ہیں اور بابا کیسے ہیں صاف سنائی دے رہا تھا میرب رو رہی ہے
وہ تو کبھی اپنے گھر سے دور نہیں گئی تھی لیکن اج حالات ایسے ہوگئے تھے
کہ اسے اپنے ہی گھر سے دور رہنا پڑ رہا تھا
۔میں بھی ٹھیک ہوں بیٹا ۔اپنا بہت خیال رکھنا اور جلدی سے ہمارے پاس آ جانا تمہیں تو پتا ہے
ہم کبھی تمہارے بغیر نہیں رہے کہتے ہوئے ساجدہ بیگم رو رہی تھی
تبھی انھیں ایسا لگا جیسے کوئی پیچھے کھڑا ہے ساجدہ نے مڑ کر دیکھا تو فدی کھڑا تھا
جوابھی آیا تھا ساجدہ بیگم کو روتا دیکھ کر وہ فورن ساجدہ بیگم کی طرف بڑھا اور ایک پل کی تاحیر کے بنا فون ان کے ہاتھ سے چھپٹا
امی مری کا فون ہے نامری ہے نا آپ مری سے بات کر رہی تھی نہ وہ ساجدہ بیگم کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا ۔ساجدہ بیگم کو تو ایسے لگا جیسے فدی نے سب سن لیا ہے
ان کا رنگ سفید پڑ گیا فدی نے موبائل کی طرف دیکھا اور کان ساتھ لگا لیا
۔میری میری سنو بات سنو میری ۔سن رہی ہونا ۔آجاو پلیز معاف کر دو مجھے سزا دے لینا
پلیز میری آجاؤ ۔فدی پاگلوں کی طرح بول رہا تھا آواز ایسی تھی جیسے وہ ابھی رو دے گا
آنکھیں برسنے کو تیار تھی لیکن ضبط کی وجہ سے صرح پر رہی تھی
آنکھوں میں سرخ ڈورے دھور رہے تھے فدی نے موبائل کو زور سے پکڑا ہوا تھا
جیسے کوئی چھین کر اسے میرب سے دور نہ کر دے ۔آگے سے کوئی بھی نہیں بولا تھا
مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی لیکن فدی میںرب کو محسوس کر پا رہا تھا ۔
فدی مزید کچھ کہتا اسے پہلے ہی موبائل میں سے آواز گونجی فدی میں حیا ہو میرب نہیں
۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں امی مجھ سے بات کر رہی تھی ۔حیا کی آواز سنتے ہی فدی نے موبائل دے دیا
اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے گھر کی طرف چلا گیا ۔گھر میں جاکر وہ سیدہ اپنے کمرے میں گیا
اور ایک دھار سے دروازہ بند کر دیا ۔کمرے میں کوئی روشنی نہیں آ رہی تھی
کمرا اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ۔فادی گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گیا ۔
اس نے چہرہ اوپر اٹھایا چہرہ سرح ہوچکا تھااسنے ایک لمبی سانس حارج کی ۔
اس کے منہ سے صرف ایک ہی لفظ بار بار نکل رہا تھا اللہ ۔اللہ
۔وہ یہ ایک لفظ بھی اس طرح بول رہا تھا کہ اس کی سانس بھی خوداس کے قانو میں اللہ کے نام کے ساتھ گونج رہی تھی
۔وہ سکون تلاش کر رہا تھا جو نہ جانے اس کی قسمت میں تھا یا نہیں ۔





فادی کی آواز سننے کے بعد میرب کا حال برا ہو گیا تھا وہ مسلسل روئے جا رہی تھی
نہ جانے کتنے دنوں بعد اس میں ہمت آئ تھی ساجدہ بیگم سے بات کرنے کی لیکن فدی کی آواز سن کر اس کے زخم پھر سے ہرے ہو گئے
۔مرب مسلسل روتی رہی اور حیا ا سے چپ کرواتی رہی ۔حیا کا دماغ تو ویسے ہی گھوما ہوا تھا
صبح کے واقعے کی وجہ سے
