Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 10)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

حمزہ کے آنے کے بعد گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کلثوم بیگم میرب کی مہندی سے پہلے ہی سب کو تمام حالات سے آگاہ کر چکی تھی

۔صرف حیا کو ہی انجان رکھا گیا ۔فائزہ بیگم میرر کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے کپڑے دیکھ رہی تھی

۔آپی آپ فارغ ہیں کیا ۔دروازے پر کھڑی کشف نے فائزہ کو بلایا ۔کشف وہاں کیوں کھڑی ہو ادھر اؤ نا

۔کشف چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی فائزہ کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی

۔آپی سنا ہے کہ آپ حیا کو بھی رخصت کر رہے ہیں ۔ہاں کشف حمزہ بہت اچھا ہے

اور پھوپھو بھی بہت اچھی ہیں انہوں نے حیا کو لے جانے کی بات کی تو ہم انکار نہیں کر سکے۔

آخر بعد میں بھی تو حیا نے وہی جانا ہے ۔فائزہ دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی

۔بہت اچھی بات ہے لیکن جنہوں نے آپ کی ماما کو مارا آپ انہیں کے گھر حیا کو بیچ رہی ہیں

اور حیا بھی سب جانتے ہوئے جا رہی ہے ۔کشف نے کندھے اچاچکاتے ہوئے چنگاری لگائی

۔فائزہ اس کی بات سن کر حیران ہوگئی کیا مطلب ہے تمہارا کشف ۔اپی آپ کو نہیں پتہ کیا

جیس دن آپ کی ماما فوت ہوئیں میں بھی ہسپتال میں تھی مجھے پتا چلا کہ آنٹی بھی اسی ہسپتال میں ہے

تو میں ان کا پتہ لینے روم میں گئی تو وہاں پر حیا اور حمزہ پہلے سے ہی موجود تھے ۔

آپ کی ماما نے یہ کہا ان سب کے ساتھ نہیں جائے گی ۔تو حیا نے کہا کہ میں ان کے ساتھ ہی جاوں گی

اس کے لئے حیا کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی وہ ہاتھ بندھے حیا کی منتیں کر رہی تھی

لیکن حمزہ نے ایک نہ سنی اور حیا کو وہاں سے لے گیا آپ چاہیں تو حمزہ بھائی سے پوچھ سکتے ہیں

یہ سن کر فائزہ سن ہو گی ۔اور کشف تو چنگاری لگا کر وہاں سے چلی گئی آپی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں

حیا روم میں داخل ہوئی اور فائزہ کو سوچوں میں پا کر پوچھنے لگی فائزہ نے حالی نظروں سے حیا

کو دیکھا

اسے اپنی بہن پر پورا یقین تھا ۔لیکن اس وقت جو حالات تھے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے حیا سے پوچھنا ہی مناسب سمجھا

۔حیا جس دن مما فوت ہوئی تھی کیا تم ہاسپٹل ان سے ملنے گئی تھی فائزہ کے سوال پر حیا کی آنکھوں میں آنسو جمع ہوگئے ج جی گئی تھی

حمزہ مجھے لے کر گئے تھے حیانے فائزہ کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔کیا انہیں تمہارا اور حمزہ کے ریلیشن کا اسی ٹائم پتا چلا تھا

فایزا پوچھ رہی تھی جب کہ حیا اسی کشمکش میں تھی اخیر اپی کیوں پوچھ رہی ہیں

ج جی حیا نے ہلکے سے کہا ۔فائزہ نے زور سے حیا کے ہاتھ جھٹک دئے ۔میں اس بات پر کبھی یقین نہیں تھی

کرسکتی کہ ماما کی موت کی ذمے دار تم ہو لیکن۔۔۔ اتنا کہہ کر فائدہ چپ ہو گئی

چلی جاؤ یہاں سے حیا ۔جبکہ حیا کو کچھ سمجھ نہیں تھا آ رہا ۔اپی حیا نے کچھ کہنا چہا ۔

فایزہ حیا کو وہاں چھوڑ کر خود ہی وہاں سے چلی گئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

: حیاکی آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ پھر سے سب گھوم گیا ۔ہاں میں حمزہ کو کیسے معاف کر سکتی ہوں

اتنی جلدی ۔جب کے ان سب کا ذمہ دار تو وہی ہے حیاکے پیار کے نیچے دبا ہوا غصہ ایک دفعہ پھر سے ابھر آیا

۔آنکھوں میں نمی تھی ۔میرب کی رخصتی کے بعدکلثوم بیگم کے اصرار پر حیا بھی کلثوم بیگم کے ساتھ چلی گئی ۔

جاتے وقت بھی فائزہ حیا سے نہیں ملی بلکہ کمرے میں ہی رہی ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

وہ سجے سجائے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی تھی ۔تھوڑی دیر پہلے ہی اس کے پاس عائشہ آئی

۔اور خوب چھیڑ خانی کر کے گئی ۔میرب جانتی تھی فادی اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں

۔ اس لئے وہ اٹھ کر چنج کرنے جانے والی تھی تبھی لہنگا اس کے پاؤں میں آگیا ۔وھ گرنے والی تھی

تبھی کسی نے اسے اپنے بازو کے حصار میں لے لیا ۔میرب نے ڈر سے آنکھیں بھینچ لی

۔اپنے آپ کو کسی کی گرفت میں پا کر اس نے آنکھیں کھولیں ۔سامنے فادی تھا ۔اس نے پہلی بار فادی کو آپنے اتنے قریب دیکھا تھا مرب کی دھرکن تیز ہو گئی ۔

۔وہ سیدھی کھڑی ہو گئی ۔مجھے تم میرے کمرے میں نظر نہ آوں ۔۔فادی نے سخت لہجے میں کہا

۔یہ میرا بھی کمرہ ہے ۔میرب نے دھیمے لہجے میں کہا ۔نہیں یہ تمہارا کمرہ نہیں ہے

۔مجھ پر اور میرے کمرے پر میری ہر چیز پر صرف کشف کا حق ہے ۔فادی نے میرب کے بازو پر اپنی گرفت اتنی مضبوط کی کہ اس کے منہ سے سسکی نکلی

۔میرب کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔پر فادی پر کوئی اثر نہ ہوا۔کشف کے نام پر مرب ٹھٹکی ۔

اسنے حیرانگی سے فدی کو دیکھادل پر جسے کیسی نے تیز دھار ہتھیار سے وار کیا ہو

۔مرب کی یک طرفہ محبت کا جسے کسی نے گلا گھونٹ دیا ہو ۔

اگر تم واقعی میری دوست ہوتی تو آج کشف میری زندگی میں ہوتی

۔ وہ کاٹ دار لہجے میں بولا ۔تم جانتے ہو فادی ۔میں ایسا نہیں تھی کر سکتی ۔بابا کی طبیت ٹھیک نہیں ہے ۔ان سے یہ سب برداشت نہیں تھا ہونا

۔وہ روتے ہوئے بولی ۔ ۔بند کرو یہ اپنے ڈرامے وھ غرا کر بولا ۔اپنے یہ جھوٹے آنسو مجہے نا دیکھاو میرب نے فادی کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھا تھا ۔

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا ۔نکل جاؤ میرے کمرے سے ۔میں کہاں جاؤں گی باہر مہمان ہیں

۔دیکھو فادی ۔ہم بہت اچھے دوست ہیں ۔ھ ہم زرور کوئی نہ کوئی حل ڈ ڈھونڈ لیں گے

۔ت تم نارمل ہو جاؤ پلیز ۔مجھے درد ہو رہا ہے چھوڑو فادی ۔وہ سسک سسک کر بول رہی تھی ۔

میں نے تمہیں کہا تھا میں تمہاری زندگی کی درد ناک بنا دوں گا ۔

اور تم اتنی سی درد پر رو رہی ہوں ۔تم سوچ بھی نہیں سکتی میں تمھارا کیا حشر کروں گا

۔فادی نے میرب کو ایک دم سے دھکا دے کر اس کی کمر اپنی طرف کی تھی اور اس کی کلائی کو مروڑا تھا

۔اااہھھھہ فادی چھوڑو ۔وہ ترپتے ہوئے بول رہی تھی .چوڑیاں ٹوٹ کر میرب کی کلائی میں دھنس رہی تھی ۔خون کی بوندے فرش پر گر رہی تھی ۔

فادی کو ایک پل کے لئے میرب پر ترس آیا ۔وہ چھوڑتا ہوا واش روم میں گھس گیا ۔

کافی دیر وہ واش روم میں ہی رہا ۔جب وہ باہر نکلا ۔تو میرب صوفے کے ساتھ ٹیک لگا

کر فرش پر بیٹھی کانپ کر رہی تھی ۔اس کے ہاتھ خون سے بھرے ہوئے تھے ۔فرش پر خون کی بوندے چمک رہی تھی

۔کلائیوں سے ابھی بھی خون بہ رہا تھا ۔وہ اس کی طرف بڑھنے ہی والا تھا اس کے موبائل کی بپ ہوئی

۔موبائل کی سکرین پر کشف کا نمبر چمچما رہا تھاکشف کی طرف سے میسیج تھا

(اگر تم میرب کے قریب گے میں خود کو ماردونگی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا فدی )

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حیا کی چیزیں حمزہ کے روم میں ہی رکھی گی ۔حیا کھانا کھا کر روم میں ای تو روم میں کوئی نہ تھا

واش روم سے آوازیں آ رہی تھی ۔وھ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کر جویلری اترارنے لگی

۔جویلری اتار کر وہ بیڈ پر جا کر لیٹ گئی حمزہ واش روم سے باہر آیا ۔اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا

۔حیا کو اپنے حصار میں لیا تو حیا ہربرا کر اٹھ گئی ۔حمزہ نے بازو سے کھینچ کر اسے اپنے اوپر کیا

۔حیا کے بال حمزہ کے چہرے پر تھے ۔حمزہ کی سانسوں کی تپیش حیا کے چہرے کو جھلسا رہی تھی

۔تمھے پتا ہے حیا میں نے تمھے کتنا مس کیا ۔ہر پل تمھے سوچا ۔

وھ اس کے رہسار پر ہاتھ پھرتے ھوے محبت سے چوڑ لہجے میں بولا ۔حیا نے کی آنکھیں مسلسل جھکی تھی

۔پلکو نے اوپر اٹھنے کی گستاہی کی ۔اور حمزہ کی آنکھوں۔ میں ہی الجھ گئی

۔حیا کی آنکھوں میں نمی اتر ای کیا ہوا ہے حیا ۔ابھی بھی ناراض ہو

۔حیا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اٹھنا چاہا ۔حمزہ نے اسکا ہاتھ تھام۔ لیا ۔

اسے نہیں ۔پہلے بتاؤ کیوں پریشان ہو ۔کسی نے کچھ کہا ۔حمزہ حیا کے آنسو کو اپنے ہاتھ کی پورو میں جذب کرتے ھوے بولا

۔مجھے کچھ ٹائم چاہیے پلیز ۔حیا نے اس سے ہاتھ چھرواتے ھوےکہا ۔اور اٹھ کر واش روم میں چلی گئی

_________

حیا واش روم سے باہر آئی تو حمزہ کو بیڈ پر بیٹھے ہوئے پایا وہ آگے بڑھیں اور اپنا تکیہ اٹھانے لگی

۔حمزہ نہیں اس کا ہاتھ پکڑ لیا اوہ اب میڈ م 100 پرانی ہیرون والا سین کریٹ کریں گی مجھے یہاں نہیں سونا میں صوفے پر سو جاؤں گی ہینا ؟

: نہیں میں لائبہ کے ساتھ سونے جا رہی ہوں حیا نے دھیمے لہجے میں جواب دیا

اور اپنا ہاتھ چھڑانے لگی جسے حمزہ نے اور مضبوطی سے تھام لیا

۔حمزہ ہاتھ چھوڑے پلیز ۔نہیں چھوڑوں گا پہلی بتانا پڑے گا کیا بات ہے ؟

اس نے حیا کو ہاتھ سے کھینچ کر بیڈ پر بٹھایا ۔کیا مجہے واپس نہیں آنا چاہیے تھا

کیا تم میرے بغیر خوش رھ لیتی وھ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا اور اپنی انگلیاں اس کے چہرے پر پھیرنے لگا

۔حیا نے اپنے جھکی ہوئی پلکیں اٹھائیں۔آنکھیں شدت ضبط سے سرح تھی ۔آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر رہسار پر بہنے لگا

۔حمزہ کے دل میں ایک ٹھس کی لہر اٹھی ۔حیا تم کیوں خاموش ہو کچھ بول کیوں نہیں رہی ۔

حمزہ نے اس کے آنسو اپنے ہاتھ کی پوروں میں جذب کرتے ہوئے کہا ۔

حمزہ کے ہاتھوں کو حیا نے جھٹک دیا اور اپنا تکیہ اٹھا کر کمرے سے بڑے بڑے قدم اٹھاتی نکل گئی ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

: میرب کی طرف جاتے ہوئے قدم اس کے وہیں رک گئے ۔وہ میرب کو وہیں چھوڑ کر جلدی سے باہر نکل گیا ۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

یہ کیا کر رہی ہو تم ۔میں نے تم سے کہا ہے نہ میں اسے اپنی بیوی نہیں مانتا

۔میں آج بھی صرف تمہارا ہوں ۔وہ کشف کے سامنے کھڑا اسے کب سے سمجھآ رہا تھا

۔۔میں کیسے مان لوں ۔تم مجھے دھوکا بھی تو دیکھ سکتے ہو ۔وہ ابھی بھی اپنی بات پر بضد تھی

۔وہ اس کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی ۔دیکھو مجھے صرف ایک منتھ کا ٹائم دے دو ۔میں اسے اپنی زندگی سے نکال دوں گا ۔

کشف کچھ سوچنے لگ گئی ۔مممممم ٹھیک ہے ۔لیکن صرف ایک مہینے کا ٹائم ہے تمہارے پاس وہ اپنے بالوں کو ادا سے جھٹکتے ہوئے بولی ۔

۔۔فادی نے اس کے مان جانے پر اطمینان کا سانس لیا

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

وہ صبح کے 5 بجے گھر لوٹا تو پچھلا دروازہ کھلا ہوا تھا شاید مرب نے اس کے لئے کھولا ہوا تھا

۔کچھ مہمان نماز کے لئے اٹھ چکے تھے ۔وہ سمجھ گیا میرب نے ہی اس کی مدد کے لئے دروازہ کھولا ہے

۔وہ پچھلے دروازے سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔اسے اپنے کمرے میں کہیں بھی میرب نظر نہ آئی ۔

نا چاہتے ہوئے بھی اس کی نظریں اسے ڈھونڈ رہی تھی ۔شاید وہ نیچے چلی گئی

۔وہ سوچتے ہوئے واش روم چلا گیا ۔تھوڑی دیر وہ وآش روم سے نکلا ۔میرب تب بھی کمرے میں نہیں تھی

۔اسے نیچے سے بچوں کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔وہ سیڑھیوں پر کھڑا تھا تبھی اسے عائشہ نظر آی

۔نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پوچھ رہا تھا ۔میرب کو تم نے دیکھا کہا ہے وہ ؟

نہیں بھائی وہ تو ابھی تک نیچے نہیں آئی ۔۔

.: فادی کو پریشانی لاحق ہوئی

۔اسے اپنی رات والی حرکت یاد آگئی وہ بھاگتا ہوا روم میں گیا۔۔۔۔

میررب ڈریسنگ کے سامنے کھڑے اپنے بال بنا رہی تھی ۔کہاں تھیں تم

۔۔وہ دروازہ بندھ کرتے ھوے سخت لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔مرب سرخ رنگ کی فراک میں بہت پیاری لگ رہی تھی

۔کلآیوں پر چوڑیاںپہنے ہوے ایسے تیار تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔میرے روم میں میں نے فروٹ کیک منگوا کے رکھا تھا

تم جانتے ہو نہ مجھے بہت بھوک لگتی ہے ۔وہی لینے گئی تھی ۔

اب سب کے سے سامنے پہلے نیچے جا کے دلہن کھاتے ہوۓ اچھی تو نہیں لگتی نہ

۔وہ ہمیشہ کی طرح اپنی رفتار میں بول رہی تھی ۔فادی کو اس کی حرکتوں پر غصہ آ رہا تھا

۔رات کو اتنا سب ہونے کے بعد تم اتنا نارمل ری ایکٹ کیسے کر سکتی ہو ۔فادی نے اس کو کلائی سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

۔تبھی میرب کے منہ سے درد سے آہ نکلی ۔فادی کی نظر اس کی کلائی پر پری ۔

: جہاں کل رات لگنے والی چوٹ کے نشان موجود تھے ۔آو چلو نیچے سب انتظار کر رہے ہوں گے ۔

وہ جلدی سے بولتی ہوئی آگے بڑھ گئی ۔۔فادی نے اسی تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوبارہ اپنے سامنے لا کھڑا کیا

۔کیوں کر رہی ہو یہ تماشا بند کرو اپنےیہ اچھے بننے کے ڈرامے ۔

میرے دل میں صرف کشف ہے اس زبردستی کے رشتے کو میں نہیں مانتا

۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سخت لہجے میں بول رہا تھا ۔مجھے معلوم ہے تم خوش نہیں ہو۔اورمیں تمہاری خوشی کے راستے میں اونگی بھی نہیں

۔تم جب چاہو مجھے چھوڑ دینا ۔لیکن حالات تھوڑے بہتر ہونے دو

۔میں خود تمہاری زندگی سے چلی جاؤں گی ۔لیکن فی الحال ہمیں یہی دکھانا ہے ہم خوش ہیں ۔

میرب ٹوٹے ہوئے لہجے میں بول رہی تھی آنسورخسار پر بہ رہے تھے ۔ ۔اس کے اپنے الفاظ اس کا ساتھ نہیں تھے دے رہے ۔

چلو نیچے فدی نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور کمرے سے باہر نکل گیا میرب بھی آنسو صاف کرتے ہوئے اس کی پیچھے باہر نکل گئی

۔

وہ دونو سیڑھیوں سے نیچے آ رہے تھے میرب ادھر آو ۔بھابھی فائزہ نے آواز دی

۔۔میں کب سے تمھارا انتظار کر رہی ہوں تمہارے کمرے میں جانا مناسب نہیں لگا بابا جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے

سب وہی ہیں چلو میرے ساتھ ۔بھابھی کی بات سن کر فادی اور میر۔ب تیزی سےان کے ساتھ چل پڑے

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

: رات حیا نے لائبہ کے ساتھ ہی گزاری صبح ہوتے ہی وہ کچن میں چلی گئی

وہ حمزہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ارے بیٹا تم یہاں کیا کر رہی ہو

تم جاؤ حمزہ کو بلا کے لاؤ میں ناشتہ لگاتی ہوں کلثوم بیگم نے چائے کا پتیلا چولھے پر چرھاتے ہوئے کہا

۔تبھی پیچھے سے حمزہ آ گیا ۔حیا نے کوئی جواب نا دیآ ۔لائبہ اور وہاب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے

شاید بھابھی بھائی حمزہ سے ناراض ہیں لائبہ نے اونچی آواز میں بولا

۔حمزہ بھی لائبہ کے سامنے آکر بیٹھ گیا تم اپنی چونچ بند رکھو گڑیا میری بیگم مجھ سے کیوں ناراض ہوں گئی

۔جس کا اتنا ہینڈسم شوہر ہو وہ بھلا کیسے ناراض ہو سکتی ہے حمزہ اپنے بالوں کو ٹیھک کرتے ہوئے بولا

جی جی بھائ تبھی رات کو بھابھی میرے کمرے میں آگئی تھی لائبہ نے دو ٹوک جواب دیا

سامنے سے حیا آتی ہوئی وہیں واپس پلٹ کر کچن میں چلی گئی ۔حمزہ نے لائبہ کو گھورا وہاب اور کلثوم بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔

جب کےحیا شرم سے سر ح ہو گئی

________

: بابا جآن آپ ٹھیک تو ہیں ۔وہ یہ بات پہلے بھی دس دفعہ پوچھ چکی تھی

۔میرا بچہ پریشان نہ ہو میں ٹھیک ہوں حسن مصطفیٰ نے ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں کہا

۔حسن مصطفی کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ولیمہ کینسل ہو گیا

۔میرب ابھی بھی بابا کو لے کر بہت فکرمند تھی ۔میرب تم میرے ساتھ چلو۔بھابھی نے اسے پریشان سا دیکھ کر بولا

۔وہ خالی خالی نظروں سے فادی کو دیکھتی ہوئی بھابھی کے ساتھ ان کے کمرے میں چلی گئی

۔بیٹھو میرب ۔بھابھی نے صوفے کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔میرب خاموشی سے بیٹھ گئی۔وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ بولتی رہتی تھی

۔چپ چپ رہنا تو جیسے اسے آتا ہی نہیں تھا ۔لیکن شادی کے دوسرے دن ہی بھابھی نے اسے اتنا خاموش پایا

۔کیا بات ہے میرب ۔فادی نے تم سے کچھ کہا ۔میرب نے خالی خالی نظروں سے بھابھی کی طرف دیکھا

جیسے کچھ سمجھ ہی نہ پا رہی ہوں ۔بھابھی نے پھر اپنی بات دہرائی ۔

تو میرب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگے ۔۔۔بھابھی میں بہت پریشان ہوں

۔وہ بس اتنا بھول پائیں۔بھابھی حالات کی نزاکت سمجھتی تھی

۔دیکھو میرب۔ تم فادی کی بہت اچھی دوست ہو دیکھنا وہ تمہیں کتنا خوش رکھے گا

۔شوہر اگر اچھا ہو تو زندگی حسین سے حسین تر ہوجاتی ہے ۔

عام طور پر ہمیں شوہر سے بات کرنے پر جھجھک محسوس ہوتی ہے

مگر جب میاں بیوی دوست ہو تو وہ رشتہ محبت اور احترام کا ہوجاتا ہے

۔وہ اسے پیار سے سمجھا رہی تھی ۔میرب تو کچھ اور ہی سوچ رہی تھی

۔وہ انہیں کیسے بتا تی آخر معاملہ کیا ہے ۔۔۔اس نے ایک لمبی سانس لی

۔اور سر کو اثبات میں ہلا دیا جیسے وہ ان کی بات سمجھ گئی ہے ۔

وہ فادی کو بچپن سے پسند کرتی تھی ۔اس نے فادی کے علاوہ کسی کو بھی اپنے لیے نہیں تھا سوچا ۔

وہ ایک طرفہ محبت کر بیٹھی تھی ۔لیکن جب اس پر یہ انکشاف ہوا ۔فدی کے دل میں وہ نہیں کوئی اور لڑکی ہے

۔اس کی محبت نے وہی دم توڑ دیا ۔وہ لاڈوں میں پلی ہوئی نازک سی لڑکی تھی ۔

جس کا ہرنکھڑا اس کے ماں باپ کے علاوہ فادی نے بھی اٹھایا تھا۔

وہ کیسے اپنی محبت میں شرک برداشت کر سکتی تھی ۔وہ سوچ چکی تھی

فادی کو کبھی معلوم نہیں ہوگا ۔میری بے انتہا محبت میری فیلنگز اس کے لئے

۔جس سے وہ پیار کرتا ہے ۔میں خود اس کو اپنے فادی کی زندگی میں لاونگی

۔اس کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ آئی لیکن ساتھ ہی اس کے رخسار پر ایک آنسو گرا

۔جو شاید یہ ثابت کر رہا تھا ۔جو وہ کرنے والی ہے اس کے بعد وہ خود ٹوٹ جائے گی

💕
💕
💕
💕
💕

حمزہ ناشتہ کر کے باہر نکل گیا تھا ۔حیا کچھ دیر کر کلثوم بیگم کے پاس بیٹھی رہی تھی

پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔سر میں درد کی وجہ سے وہ سو گئی

۔حمزہ چار بجے کے قریب کمرے میں آیا تو اسے بے سود سوتا ہوا پایا

۔اسکی زلفین چہرے کو چوم رہی تھی ۔حمزہ اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا

اور ہاتھ بڑھا کر بال اس کے چہرے سے پیچھے ہٹآئے اور اپنے دہکتے لب اس کے رخسار پر رکھ دیے ۔

.: حیا نے لمس پاکر ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا تو حمزہ کو اپنے بہت قریب پایا

۔وہ ہڑبڑا کر اٹھ گئی ۔حیا نے گھڑی کی طرف نظر دھورآی تو چار بج رہے تھے

۔ماما کھانا بنا رہی ہوگی میں بھی جاتی ہو وہ کہ کر اٹھ کے باہر کی طرف بھاگی ۔

سنو حمزہ نے پیچھے سے پکارا۔آج رات کو کمرے میں او گی کیا یا آج بھی لائبہ کے ساتھ سونا ہے

۔اگر آج سونےگئی وہا تو میں قسم سے تمہیں اٹھا لے آؤں گا پھر نہ کہنا

حیا بینا کوئی جواب دے باہرنکل گئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرب رات کو اپنے گھر چلی گئی ۔وہ لونج سے گزر کر اپنے کمرے میں جانے لگی

تو اسے باتوں کی ہے آواز ای ۔میرب نے عائشہ کے کمرے کی طرف دیکھا دروازہ کھلا ہوا تھا

اور کشف اور فادی بیٹھے ہوئے تھے۔فدی مسکرا رہا تھا۔وہ اتنا خوش نظر آ رہا تھا جتنا کبھی وہ میرب کے ساتھ خوش رہتا تھا

۔میرب انھے نظرانداز کرتی کیچن کی طرف چلی گئی ۔میرب کچن میں گئی توعائشہ چائے بنا رہی تھی

۔ارے میرب اپی آگی آپ ۔کشف آپی بھی آئی ہوئی ہیں آپ جائیں میں چائے لے کر آتی ہوں ۔

عائشہ نے میرب کو دیکھ کر مسکرا کر کہا ۔کشف کا سن کر میرب کو اندر ہی اندر گھٹن ہونے لگی اسے ایسا لگا

جیسے اس کا سانس ابھی رک جائے گا ۔عائشہ وہاں سے جاچکی تھی ۔

میرب بوجھل قدموں سے کمرے میں جا رہی تھی مرب اپی آ بھی جاۓ اب تو چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے کن سوچوں میں گم ہیں آپ ۔

عائشہ نے میرب کو گزرتے ہوئے دیکھ کر آواز لگائی ۔میرب بی عائشہ اور کشف کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی

۔ایک نظر فادی پر اس نے دھرائی جو مسلسل اسے نظرانداز کر رہا تھا ۔کیسی ہو میرب

۔کشف نے پوچھا تھاابھی میرب کچھ بولتی اس سے پہلے ہی کشف خود بول پر ہاں خوش ہی ہوگی

۔جب اللہ آپ کو وہ چیز دے دے جس پر آپ کا کبھی حق ہی نہ ہو ۔تو خوش ہونا تو بنتا ہے

لیکن پتہ ہے کیا یہ خوشی زیادہ دیر رہتی نہیں کیونکہ جس چیز پر جس کا حق ہووہ اسی کے پاس جاکر رہتی ہے

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بول رہی تھی ۔میرب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی جبکہ عائشہ کے توپلے ہیں کچھ نہیں تھا پرہا ۔

میرب نے ایک شکوہ کناں نظر فدی پر ڈالیں ۔جو خود کو موبائل پر مصروف ظاہر کر رہا تھا

۔میرب بنا کچھ بولے کمرے میں اٹھ کر آ گئی ۔اور بستر پر اندھے منہ لیٹ کر رونا شروع کردیا

۔روتے روتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہ چلا ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

رات کے دس بج رہے تھے اور حمزا حیا کا انتظار کررہا تھا جو ابھی تک کہ کمرے میں نہیں آئی تھی

۔مزید ایک گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد بھی جب حیا کمرے میں نہ آئ تو حمزہ اٹھ کر باہر آگیا

۔اس نے کچن کی طرف دیکھا وہاں پہ کوئی بھی نہیں تھا اوہ تو میڈم آج پھر لائبہ کے کمرے میں چلی گئی

۔اس نے سوچا اور قدم لائبہ کے کمرے کی طرف برہا دیئے لائٹ اوف تھی

حمزہ نے قدم بیڈ کی طرف قدم بڑھاے ۔‏لیمپ کی مدھم سی روشنی میں حیا کا چہرہ نظر آ رہا تھا

حیا کے ساتھ والی جگہ خالی تھی اور واشروم روم کی لائٹ آن تھی حمزہ سمجھ گیا لائبہ واش روم میں ہے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حیا سوئی ہوئی تھی جب کسی احساس کے تحت حیا کی آنکھ کھلی تو اس نے حمزہ کو اپنے اوپر جھکا ہوا پایا اس کے منہ سے چیخ نکلنے ہی والی تھی

کہ حمزہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چیخ کو روکا ۔اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھی

۔حیا کا حلق خشک ہو گیا آواز نکلنا بند ہوگی حمزہ نے اپنا ہاتھ ہٹایا ۔اور حیا کو آپ نے آہنی بازو میں اٹھایا ۔حیا نے اپی آنکھیں زور سے میں میچ لی ۔

اور اس کی شرٹ کو دونوں مٹھیوں سے مضبوطی سے جگڑ لیا ۔جب آنکھیں کھلیں تو خود کو اپنے کمرے میں پایا حمزہ نے اسے ابھی تک اٹھایا ہوا تھا۔

شرم سے چہرہ لال گلابی ہو گیا ۔وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی حمزہ اتارے مجھے نیچے

اس کے حلق سے بمشکل ا واز نکلی ۔حمزہ نے ایک نظر ا سے دیکھا حیا کی سانسیں تیز ہو رہی تھی

۔اس نے اس کی حالت پر رحم کرتے ہوئے اسے اتار دیا ۔حمزہ کے نیچے اتارتے ہی حیا کو ایسا لگا

جیسے اس کی ٹانگوں میں جان ہی نہیں ہے ابی وہ گرنے ہی والی تھی کہ حمزہ نے اسے پھر سے تھام لیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *