Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 15)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

صبح کا ہونے والا منظر حیاکے ذہن میں ایک دفعہ پھر سے گھوم گیا ۔

صبح وہ اٹھی تو ہمزہ کے کمرے میں گئی حمزہ واش روم میں تھا

واشروم سے آوازیں آ رہی تھی ۔حیا نے بیڈ سے کمبل اٹھا کر طے کرکے رکھا

بیڈ شیٹ ٹھیک کرنے کے بعد وہ کچن میں چلی گئی

۔اپنے لئے چائے کا پانی چولہے پر چڑھا کر وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی

۔اسے معلوم نہیں ہوا حمزہ کب اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا ۔پتا اسے تب چلا جب حمزہ نے چولہے کی طرف ہاتھ بڑھا کر آنچ دیمی کی

۔وہ ہر برا کر ایک دم پیچھے ہٹی کچن میں فرش پر پانی گرنے کی وجہ سے اس کا پاؤں پھسلا

اس سے پہلے کے وہ گرتی حمزہ نے اسے اپنے حصار میں لے لیا ۔

دھڑکنیں ایک دم تیز ہو گئی ۔حیاکی گول گول موٹی آنکھیں معصومیت سے بھری دیکھ کر آج بھی حمزہ کے دل کو کچھ ہوا تھا

۔بے خود سا ہوتا حمزہ اپنا ہاتھ نہ روک پایا اور ہاتھ حیا کے چہرے کو چومتی لیٹو پر گیا ۔حیا نے دونوں بازو سے حمزہ کو پیچھے کیا اور سیدھی کھڑی ہو گئی ۔

حیات کے اس طرح ایک دم پیچھے ہونے پر حمزہ کو دوبارہ سے حیا کا رویہ یاد آگیا

۔اس کا موڈ ایک دفعہ پھر بدمزہ ہوا تھا ۔ناشتہ ملے گا ۔؟حمزہ نےچیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

جی بناتی ہوں۔ ٹھیک ہے جلدی بتاؤ مجھے آج جلدی جانا ہے حمزہ نے نظریں موبائل پر ٹکا کا کر کہا

ہاتھ تیزی سے ٹائپنگ کر رہے تھے ۔حیا نے جلدی جلدی پراٹھا بنایا

اور اب آملیٹ بنا رہی تھی ۔اچانک سے حیا کی نظر کیچن کی دیوار پر ٹہلتی چھپکلی پرهی

وہ آملیٹ چھوڑ کر چولہے کی آنچ دھیمی کیے بنا حمزہ کے پیچھے جاکر آنکھیں بند کرکے اس کے شانوں کو زور سے پکڑ کر چلانے لگیں

۔چھپکلی چھپکلی چھپکلی ۔حمزہ حیا کے اس حرکت پر حیرت سے حیاکو دیکھنے لگا

۔حمزہ نے حیا کا ہاتھ تھاما اور چیر سے آٹھ کر حیا کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا

۔حیا نے آنکھیں کھولی ۔تو حمزہ کو اتنے قریب پاکر نظریں جھک گئی

اچانک سے اس کے لئے بناتا املیٹ یاد آیا تیزی سے نگاہیں چولہے کی طرف گئی جہاں املیٹ کا کوئلہ بن چکا تھا

حیا کا تو سانس ہی خشک ہو گیا حمزہ کی نظر بھی آملیٹ پر گی لیکن اس پر تو اس وقت حیا کا نشہ ہی چھایا ہوا تھا

بالوں کو پونی میں قید کئے ۔کچھ بال چہرے کا بوسہ لے رہے تھے چمکتی سرح و سفید رنگت میں وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی

اوپر سے اس کی معصوم سی حرکت ۔حمزہ کا دل بے قابو ہو رہا تھا

میں دوبارہ بناتی ہوں کہہ کر حیا آگے بڑھنے لگی حمزہ نے اس کا ہاتھ تھاما رہنے دو کہہ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا

اسے ڈر تھا اگر ابھی وہ تھوڑی دیر بھی روکا تو وہ دوبارہ زبردستی حیا کو اپنے قریب لے آئے گا۔جو وہ نہیں چاہتا تھا

جبکہ حیاکا دل اداس ہو گیا اس کی نظر دیوار پر پڑی جہاں چھپکلی جاچکی تھی

کیا ہوا ہے حیا میرب نے حیا کو سوچوں میں پا کر پوچھا ۔کچھ نہیں تم نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا

او میں بناتی ہوں پھر دونوں مل کر ناشتہ کرتے ہیں

💕
💕
💕
💕
💕
💕

حسن مصطفی کو مہینے سے اوپر ہو رہا تھا انھوں نے اپنی جان سے عزیز بیٹی کو نہیں دیکھا تھا

نہ ہی ان میں ہمت تھی میرب کا سامنا کرنے کی نہ ہی وہ میرب کو اس حال میں دیکھ سکتے تھے ۔

ساجدہ بیگم محسوس کر رہی تھی ان کی طبیعت رات سے خراب ہے

انہوں نے کافی دفعہ پوچھا بھی لیکن حسن مصطفی ٹال گئے

۔لیکنصبح ہوتے ہی حسن مصطفی کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی

۔ساجدہ بیگم تومرب سے بات کرکے فائزہ کے کمرے میں ہی بیٹھ گئی تھی

فدی کے جانے کے کافی دیر بعد وہ اپنے کمرے کی طرف آئیں تو حسن مصطفی لیٹے ہوئے تھے ۔

اور پسینے میں بھیگے ہوئے رنگ زرد پڑ چکا تھا ۔

ساجدہ بیگم کو پریشانی لاحق ہوئی آپ ٹھیک تو ہیں وہ حسن مصطفی کے پاس بیٹھے ہوئے پوچھ رہی تھی

۔حسن مصطفی کچھ نہ بول پا رہے تھے ان کے بس ہونٹ حل رہے تھے

ساجدہ کی آواز سنکر علی اور فائزہ بھی آ گئے کیا ہوا ہے بابا کو

علی فکرمند سے آگے ہوتے ہوئے پوچھنے لگا ۔فائزہ نے حسن مصطفی کےہلتے ہونٹ دیکھے

وہ بار بار میرب بول رہے تھے ۔علی شاہد بابا میرب کو یاد کر رہے ہیں اسی لئے ان کی طبیعت خراب ہو رہی ہیں

۔ٹھیک ہے تم میرب کو فون کرکے بتا دو میں بابا کو لے کر حسپتال جا رہا ہوں

علی نے کہا اور حسن مصطفی کو گاڑی تک لے گیا۔ڈاکٹرز نے ہارٹ اٹیک کی علامات بتائی

اور حسن مصطفی کو ایڈمٹ کرلیا اعظم مصطفی اور فدی کو بھی حسن مصطفی کی طبیعت کے بارے میں معلوم ہو چکا تھا وہ دونوں کے ہسپتال کے لئے نکل گئے

💕
💕
💕
💕
💕

میرب اور حیا ناشتہ کرکے فارغ ہو ی ہی تھی کے موبایل کی رنگ ہوئی ۔گھر کا نمبر دیکھ کر حیا نے کال اٹینڈ کی

لیکن آگے کی بات سن کر حیا کا رنگ سفید پڑ گیا کیا ہوا ہے حیا

گھر میں سب ٹھیک تو ہے میرب نے حیاکو دیکھ کر پوچھا بابا کی طبیعت بہت خراب ہے

وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں حیا نے جواب دیا بابا بابا کا سن مرب کا دل فورا بے چین ہو گیا ۔

حیا نے حمزہ کو کال کی دو تین رنگ ہونے کے بعد اس نے اٹینڈ کر لی

حیا نے حمزہ کو تمام حالات سے آگاہ کیا ۔ٹھیک ہے دس منٹ رکو میں آ کر لے جاتا ہوں

حمزہ نے کہا اور کال بند کر دی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ساجدہ بیگم گھر پر تھی ۔علی فادی اور اعظم مصطفی حسن مصطفی کے ساتھ تھے اعظم مصطفی اپنے بھائی کی حالت دیکھ کر انتہائی پریشان ہو چکے تھے ۔

ایک شکوہ کناں نظر اپنے بیٹے فادی پر بھی ڈالتے ۔جو ایک چیئر پر سر ٹکا کر بیٹھا ہوا تھا ۔۔

___________

حسن مصطفی کی طبیعت کا سن کر کلثوم بیگم بھی دورھی آ گی

۔اپنے بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر وہ غم سے نڈھال ہو گئی

۔علی حسن مصطفی کے کمرے کی جانب جا رہا تھا

موبائیل کی رنگ ہونے پر اس کے قدم واپس پلٹے

۔ہیلو علی نے کہا اور آگے سے بات سن کر اوکے ٹھیک ہے کہہ کر علی نے فون کاٹ کر دیا

۔علی۔ فدی کے پاس آکر چئیر پر بیٹھ گیا

۔فدی بابا کی طبیعت کی وجہ سے میرب بابا کو چھوڑ کر گھر جانے کو دل نہیں کر رہا

۔امی انا چاہ رہی ہیں تم جاکر ان کو لے آؤ

فدی نے ہاتھ میں پکڑا ہوا موبایل پاکٹ میں ڈالا اور ہوں کہ کر اٹھتے ہوئے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے

۔اندر آتے ہوئے حمزہ اور حیا کو دیکھ کر فدی ان سے ملا

۔فدی کے موبائیل کی رنگ ہوئی موبائل پاکٹ میں سے نکال کر اس نے کان کے ساتھ لگایا

۔فون پر بات کرتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی جانب نکلا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

حمزہ کچھ دیر میں گھر آ چکا تھا

۔وہ گھر آیا تو میرب اور حیا تیار کھڑی تھی

۔مرب نے بلیک شال سے اپنے آپ کو کور کیا ہوا تھا

۔حمزہ نے گاڑی میں بیٹھ کر ہی گاڑی کا ہارن بجایا

تو وہ دونوں باہر آکر گاڑی میں بیٹھ گئی

کچھ ہی دیر بعد وہ ہسپتال کے دروازے پر کھڑی تھی

۔حمزہ نے موبائل نکالا اور علی کو کال کرکے اپنے آنے کا بتا دیا

۔اور ساتھ میں یہ بھی بتا دیا کہ میرب فدی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی

فدی کو کسی بہانے سے یہاں سے بیجدو

۔علی نے ویسا ہی کیا ۔حیا اور حمزہ ہسپتال میں داخل ہوگئے

۔جب کے مرب نے کہا میں تھوڑی دیر تک آپ کے پیچھے آتی ہو

تب تک فدی نکل جائے گا ۔

.: 💕💕💕💕💕💕💕فدی موبائل پر کسی سے بات کرتی ہوے گزر رہا تھا

جیسے کوئی ہوا کے جھونکے کی ترھا پاس سے گزرا تھا فدی کو ایک انجانے احساس نے گھیر لیا

جیسے کوئی اپنا بہت قریب ہو

۔میرب فادی کے پاس سے گذری تھی

میرب نے فادی کو دیکھا اس کے کپڑوں سے اٹھتی ہوئی پرفیوم کی خوشبو آج بھی مرب کے اعصاب پر چھا رهی تھی

آنکھیں ایک پل کے لیے جھپکنا بھول گئی

آنکھوں میں آتی نمی کو ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے میرب بھاگ کر اگے بڑھی

فدی نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا

وہ اپنا وہم سمجھ کر آگے بڑھ گیا ۔

میرب حسن مصطفی سے ملنے ان کے روم کی طرف گئی

تو وہاں پر اعظم مصطفی علی اور کلثوم بیگم موجود تھے

۔میرب کافی دیر علی سے گلے لگ کر روتی رہی

۔علی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہو گئیں

۔وہ بے بسی کی انتہا کو چھو رہا تھا

میرب کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے وہ میںرب کو الگ کر کے باہر نکل گیا

جب کے اعظم مصطفیٰ شرمندہ سے نظر آ رہے تھے

بابا آپ اپنی بیٹی کی طرف دیکھیں گےبھی نہیں کیا

میرب نے نے روتے ہوئے اعظم مصطفی کے سینے سے لگتے ہوئے کہا ۔

اعظم مصطفی نے میرب کی پیشانی پر بوسہ کیا

۔کلثوم بیگم نے تسلی دی میرب بابا کے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی

جو دوائیوں کےزیر اثر سو رہے تھے

وہ بابا سے بات کیے بنا نہیں جانا چاہتی تھی

لیکن اب فدی بھی واپس آنے والا تھا ۔

میرب سمیت سب کی آنکھیں نم تھیں

۔حمزہ کو کسی کام سے جانا پڑا ۔

بھائی فہد آنے والا ہے آپ پلیز ڈرائیور کو کال کردے میرب نے حمزہ کو کہا

ہاں میں غاری لے کر جارہا ہوں دوسری گاڑی لے کر ڈرائیور آتا ہے حمزہ نے مختصر جواب دیا

۔اور باہر نکل گیا ۔حسن مصطفیٰ کو ہوش آگیا تھا

میرب کمرے میں گئی حسن مصطفی نے کمرے میں میرب کو داحل ہوتے دیکھا

تو ان کی آنکھیں بھیگ گئیں آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر چپکے سے بستر میں جذب ہو گیا

میرب حسن مصطفیٰ کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی

م میرا بچہ آگیا حسن مصطفیٰ نے ٹوٹے ٹوٹے الفاظ میں پھولتی ہوئی سانسوں کے ساتھ بمشکل اتنا ہی کہا

میرب نے حسن مصطفی کا ہاتھ تھام کر بوسا کیا آنسو بے اختیار ہو کر حسن مصطفی کے ہاتھ پر گرے جا رہے تھے ۔

بابا میں آ گئی ہوں آپ پریشان نہ ہوں

آپکی میرب بہت مضبوط ہے مرب نے روتے ہوئے کہا پلیز جلدی سے ٹھیک ہو کر آ جائیں

وہ مسلسل روئے جا رہی تھی ۔دروازہ کھلا اور حیا کمرے میں آگئی

میرب تمہیں جانا چاہیے فادی بھائی آگئے ہیں

۔حیا کی بات سن کر میرب کی جیسے سانسیں رک گئی ہو

وہ بوجھل ہوتے قدموں کو گھسیٹتی ہوئی باہر کی جانب بڑھ گئی ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

: فدی ساجدہ بیگم کو لے کر ہسپتال پہنچا ۔

حسن مصطفی ہوش میں آگئے ہیں سن کر وہ ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا

۔لیکن کمرے میں داخل ہوتے ھی انجانے احساس نے اسے گھیر لیا تھا

میرب کی خوشبو اسے کمرے میں محسوس ہو رہی تھی

۔وہ لمحے جیسے ساقط ہو گئے ہو۔

فدی کے قدموں وہی سے واپس پلٹے

وہ کمرے سے باہر نکلا تو سامنے ہی کلثوم بیگم کھڑی تھی

پھوپھو میری ای تھی

نا

کہا ہے میری

بتائیے نا ا

فدی ارد گرد دیکھتا میرب کو ڈھونڈتے ہوئے وہ کلثوم بیگم سے پوچھ رہا تھا ۔

ابھی کلثوم بیگم کچھ کہتی اس سے پہلے ہی فادی آگے بڑھ کر ونڈو سے دیکھنے لگا

لیکن جیسے سانسوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو

آنکھیں پلک جھپکنا بھول گئ ہو

فدی نے میرب کو گاڑی میں بیٹھتا ہوا دیکھ رہا تھا

۔وہ وہیں سے زور سے چلایا تھا میییئری

.: 💕💕💕💕

میرب گاڑی تک ای اور گاری میں بیٹھ رہی تھی

جب اس کی سماعتوں سے دشمن جاں کی آواز گونجی ۔مرب نے پلٹ کر دیکھا

اور ایک پل کی تاحیر کیے بنا گاری میں بیٹھی

۔اس کی اپنی حالت گیر ہو رہی تھی

اگر وہ اک بھی پل اور روک جاتی

تو فدی سے دورنا جا پاتی چلو دھیمی سی بھاری ہوتی ہے آواز میں میرب نے ڈرائیور سے کہا

آنسو ٹوٹ کر رہسار پر بہ رہے تھے ۔

چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔ڈرائیور نے گاڑی بھگا دی

💕
💕
💕
💕
💕

فدی کی آواز سنکر میرب نے پلٹ کر دیکھا

۔فادی کی نظروں میں ایک التجا تھی روک جاو مری اک ڈر تھا پھر سے دور ہو جانے کا ۔

لیکن وہ بیٹھ گئی اور کار سٹارٹ ہو چکی تھی

فدی بھاگتا ہوا نیچے آیا وہ کار کے پیچھے بھاگ رہا تھا

میری روکو میری ایک دفعہ رک جاؤ پلیز ۔وہ چلا رہا تھا

لیکن گاڑی جا چکی تھی وہ سرک کےبیچ گھٹنوں کے بل ڈھے سا گیا ۔ادر گرد انے جانے والے لوگ اسے دیکھ رہے تھے

_______

حسن مصطفی کی طبیعت اب بہتر تھی ڈاکٹر نے انہیں ڈسچارج کردیا تھا

۔ساجدہ بیگم گھر جا چکی تھی ۔

علی اور حیا ابھی تک وہیں پہ تھے

میرب کے اصرار پر ۔میرب بابا کو لے کر بہت پریشان تھی

اس لئے اس نے خیاکو وحی رکنے کا کہا

لیکن ہیا میرب کے پاس آنا چاہتی تھی

کیونکہ وہ جانتی تھی میرب کی طبیعت بھی خراب ہو گئی

۔علی ڈاکٹر سے ملنے گیا ہوا تھا

۔فدی بھی کافی دیر سے ہ ہسپتال نہیں آیا تھا

۔خود کو سمبھال کر فدی ہسپتال میں آیا ۔

علی کے ڈاکٹر کے پاس جانے کے بعد ہی حیا اٹھ کر حسن مصطفی کے کمرے میں چلی گئی

اسے کا بیگ اور پرس وہی صوفے پر پڑا ہوا تھا ۔

فدی حسن مصطفی کے کمرے کی جانب بڑھنے لگا

تو اس کے قدم ایک پل کے لئے رکے

۔صوفے پر پڑے ہوئے موبائیل کی رنگ ہو رہی تھی

فعدی نے بیگ کو دیکھا اور پھر موبائل کو

حیا اپنا موبائل باہر ہی بھول گئی تھی

فدی نے موبائل اٹھایا اور حیا کو دینے کے لئے کمرے میں جانے لگا

لیکن جیسے ہی اس کی نظر موبائل پر پڑھی اس کے قدم وہی روک گے

۔سکرین پر میرب کا نام چمچما رہا تھا ۔

فعدی نے کال اٹینڈ کی اور موبائل کو کان سے لگایا

۔موبائل میں سے میرب کی آواز گونج رہی تھی

حیا آ جاؤ میری طبیعت خراب ہے

فدی نے موبائل کان سے الگ کیا اور کال کٹ کر دی

۔میرب کہاں ہوگی یہی سوچ اسے الجھا رہی تھی

مرب کو کہاں رکھا ہے حیا نے ۔پھوپھو کے گھر ؟نہیں وہاں پر تو میں خود گیا ہوں کافی دفعہ

۔فعد نے اپنی ہی سوچوں کو جھٹکا

ایک دم سے فادی کے دماغ میں جھماکا سا ہوا

حیا کے گھر ۔ہاں حیا کے گھر ۔اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہسپتال سے نکلا

بجلی کی تیزی سے سیڑھیوں سے اترتا ہوا وہ گاڑی تک جا پہنچا

گاڑی میں بیٹھ کر اس نے گاڑی کی سپیڈ برھادی

۔میری میں آ رہا ہوں اب تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا

۔فدی کے دل کی دھڑکن حددرجہ تیز تھی

۔وہ ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے حیا کے گھر تک پہنچا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرب جب سے ہسپتال آئیسے تھی

اس کی طبیعت خراب تھی

۔وہ مسلسل روتی رہی ۔آنکھیں شدت گریاں سے سوجی ہوئی تھی

۔اور اس کا سر مسلسل بھاری ہو رہا تھا

۔ اس نے حیاکو کال کی اور اسے آنے کا کہا

۔لیکن میرب کی بات سننے کے بعد ہی کال کٹ کر دی گئی

میرب سوچ ہی رہی تھی حیا نے کال کاٹ کیوں دی

۔میرب گیٹ کا دروازہ پہلے ہی کھول ائی تھی

۔پانی کی طلب محسوس ہوتے ہیں وہ اٹھ کر کچن میں جانے لگی

اس کا سر چکرا رہا تھا

پھر بھی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کچن کی طرف گئی

گاڑی کے آواز آئی ۔حیا آ گئی ۔یہی

سوچتے ہوئے میرب واپس پلٹی

۔لیکن سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر اس کی سانسیں رک گئیں

۔آنکھیں پلک جھپکنا بھول گئ

💕
💕
💕
💕

۔ فدی نے بیل بجانی چاہی لیکن دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا

۔وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا

سامنے ہی کچن میں میرب کھڑی تھی

۔مرب کی۔ پشت اس کی جانب تھی

۔وہ بولنے کے لئے ہمت جمع کر رہا تھا ۔

اسنے نے ہلکا سا کہاں میرب ۔اس کی آواز اتنی ھی تھی

کے وہ بمشکل خود سن پا یا تھا ۔میرب اسکی طرف پلٹی

ہواے رقص کر رہی تھی ۔میرب کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں نکلاف فدی

😍
😍

ایک عرصے بعد اس نے اپنا نام سنا تھا

ایک لمحے کے لئے اسے ایسا محسوس ہوا ۔‏اسے اس کا سب کچھ مل گیا ہو

۔ایک پل کی تاحیر کیے بنا وہ آگے بڑھا

اور میرب کو زور سے گلے لگا لیا

۔اس نے میرب کو اتنے زور سے گلے لگایا کہ جیسے میرب کو اس نے اپنے اندر چھپا لیا ہو

۔مرب تو بے یقینی کی حالت میں تھی ۔

۔وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں

۔اس نے فعدی سے دور ہونا چاہا لیکن فادی نے اسے اتنی مضبوطی سے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا

کہ وہ ہل تک نہ پائیں ۔نہ جانے کتنے پل فدی نے میرب کو اپنے ساتھ لگائے رکھا

۔وہ اسے دوبارہ نہیں کھو سکتا تھا

میری ۔میری مجہے معاف کر دو ۔میں تم پر یقین کرنا چاہتا تھا ۔

لیکن لیکن غصہ مجھ پر حاوی ہو گیا ۔جو کچھ میں نے کیا میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا

۔تمہارے ساتھ تو میری سانسیں چلتی ہیں

تم ہو تو میں ہوں ۔تمہارے بینا میں کچھ بھی نہیں ہوں

۔میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے ۔تم جس دن تم چلی گئی مجھے محسوس ہوا کہ میں نے سب کچھ کھو دیا ہے اپنا

میں میں ہار گیا ہوں ۔جس محبت کے لئے میں نے تمہیں چھوڑا

۔وہ محبت تو کہیں میرے اندر تھی ہی نہیں

۔میری دھڑکنوں میں تو تم بستی ہو

۔میں جتنا شکر ادا کروں کم ہے اللہ نے تمہیں میری شریک حیات بنایا

۔۔۔وہ میری کے چہرے کو دیکھتا ہوا

اس کے گالوں پربہتے ہوئے آنسو کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتا ہوا

محبت سے چور لہجے میں بولا فدی کی آنکھیں اتنی سرح تھی جسے جل رهی ہوں۔

سردی سے سرح پڑتا ناک ۔فدی کی سانسوں کی تپش مرب کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی

مرب کی نگاہے جھکا لی وہ سوچ رهی تھی

کیا تو دعایں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں؟

۔جب کسی چیز کی چاہت ھی ختم ہوجائے تو وہ آپ کے پاس واپس آجائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *