Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

اعظم مصطفی اور حسن مصطفی دو بھائی تھے دونوں بھائیوں کے گھر ساتھ ساتھ ہیں
.اعظم مصطفیٰ نے اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد اپنی بیٹی عائشہ اور اپنے بیٹے فہد مصطفی کی آکیلے تربیت کی
۔اعظم چھوٹے اور حسن بڑے بھائی تھے ۔حسن مصطفی کی اہلیہ ساجدا نے کبھی فہد اور عائشہ کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
حسن مصطفی کا بیٹا علی اور ایک بیٹی میرب ہے
۔اولاد کے جوان ہونے کے بعد بھی دونوں بھائی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے ۔اعظم مصطفی اور حسن مصطفی کی ایک بہن کلثوم تھی
۔کلثوم کی ایک بیٹی لائبہ اور دو بیٹے حمزہ اور وہاب تھے حمزہ مرب سے 4 سال بڑاتھا
اور وہاب 1_سال چھوٹا تھا لائبہ مرب سے ایک سال بڑی تھی ۔
: فہد میرب سے دو سال بڑا تھا ان دونوں کی آپس میں بہت بنتی تھی
۔ایک دوسرے کا حیآل رکھنا تو جیسے یہ اپنا فرض سمجھتے تھے
۔ہر وقت ان کی چھوٹی موٹی نوک جھوک جلتی رہتی تھی ۔میرب اپنی ہر بات فہد سے شیئر کرتی تھی۔
جب تک وہ فہد سے بات شیئر نہ کرتی اسے سکون نہیں تھا ملتا ۔عائشہ میرب سے تین سال چھوٹی تھی۔
لیکن ان دونوں میں گہری دوستی تھی ۔میرب کی بھابی بھی اچھے مزاج کی ہیں ۔
جو ہر بات میں ان کا ساتھ دیتی ۔لائبہ آزاد خیال لڑکی ہے
۔دونوں بھائیوں کے لاڈ پیار کی وجہ سے وہ کسی کو اتنا بھاؤ نہیں دیتی ۔ہر بات میں اپنی من مانی کرتے ۔
میرب تمہیں فادی کی حرکتیں مشکوک نہیں لگ رہی ہے آج کل؟وہ کیسے
۔میرب نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر بھابھی کی طرف دیکھا ۔ارے وہ ساری ساری رات گھر نہیں آتا
۔دن میں بھی اب تو یا موبائل پر رہتا ہےیا سوتا ہے ۔بھابھی کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں
۔کل میں اپنے کمرے کی ونڈو سے دیکھتی رہیں لیکن ساری رات وہ گھر نہیں آیا
۔وہ اداس سی ہو کر بولی
کیا کھچڑی پک رہی ہے میرے خلاف
۔میرب کو فادی کی آواز سنائی تھی
جو دروازے پر کھڑا وہ بھابھی کے ہمراہ اس کے کمرے سے اٹھا کے لائیں تھیں تھا
۔میرا لیپ ٹاپ آج پھر چرا لیا ۔تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں میرب کی بچی
۔اس کے نظر اپنے لیپ ٹاپ پر پڑ گئی
۔جو تھوڑی دیر قبل ہی وہ بھابھی کے ہمراہ اس کے کمرے سے اٹھا کے لائیں تھیں ۔
وہ کہنے کے ساتھ ہی میرب کی طرف بھاگا ۔
: عفو فدی چھوڑو مجھے ۔کیوں چھوڑوں میرب کی بچی بہت تنگ کر رکھا ہے تم نے
۔فدی نے اس کے بالوں کو اور زور سے کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ۔
ااا درد ہو رہی ہے چھوڑو ۔چلو بتاؤں اب لوگی میرا لیپ ٹاپ ۔نی لو نگی چھوڑو
۔میرے آدھے سے زیادہ بال تو تم نے حراب کردیئے ۔وہ اپنے بالوں کو سہلاتے ہوئے بولی
۔فادی اب صوفے پر سر ٹکا کر بیٹھ چکا تھا ۔آنکھیں بند کئے وہ کچھ سوچ رہا تھا
۔میرب نے اسے حاموش پا کر پوچھا ۔کیا سوچ رہے ہو مسٹر بین ۔
وہ اسے چھیڑتے ہوئے اس کے سامنے صوفے پر آ بیٹھی ۔
میرب تم نے کبھی بالکل سفید رنگ کے کپڑے کیوں نہیں ڈالے ۔
یہ کیسا سوال ہے ۔وہ منہ کے ڈیزائن بناتے ہوئے بولی ۔چھوڑو تم نہیں سمجھوگی
۔یہ وہ سوال ہیں جو تمہاری سمجھ سے باہر ہے ۔
وہ اٹھ کر اس کے سر کو انگلی سے تھوڑا پیچھے سرکاتا ہوا باہر نکل گیا ۔
وہ کمرے میں بند اندھیروں میں ہی اپنا عکس تلاش کر رہی تھی ۔ اسکی آنکھوں میں روشنی پری
۔دروازہ کھولا تھا اپنے قریب آتے ہوئے قدموں کی آواز کو آسانی سے سن سکتی تھی
۔وہ سامنے سے آتے شخص کو دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔آج دو مہینے ہو چکے تھے
اسے اس بند کمرے میں ۔
دیکھنے میں یہ ایک عالیشان محل جیسا تھا
۔اور وہ اس میں ایک پرندے کی طرح قید تھی۔اسے ہر طرح کی آسائش میسر تھی ۔
لیکن وہاں نہ کوئی موبائل تھا نہ باہر جانے کا راستہ
۔آہستہ آہستہ اس کے سامنے سے اندھیرا چھٹ رہا تھا
۔سامنے کھڑے شخص کو وہ آسانی سے اب دیکھ سکتی تھی ۔
اس کی آنکھوں میں نفرت بھر آئی ۔سامنے کھڑا شخص اب گھٹنوں کے بل اس کے پاس کلین پے بیٹھ چکا تھا
۔ اور کب تک تم مجھے یہاں رکھو گے
۔وہ غصے اور نفرت کے ملے جلے اثرات لے کر بولی
۔جب تک تم میری بات مان نہیں جاتی ۔وہ سخت لہجے میں بولا
۔اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہاری بات مان جاوں گی؟
ہوہ ۔
تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے۔
وہ حقارت سے بولی ۔دیکھتے ہیں وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *