Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 11)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

[ حیا کچھ بولنے ہی والی تھی کہ حمزہ نے اس کے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ دی

۔حمزہ اس کے ہونٹوں پر اپنے انگلی پھیر رہا تھا ۔حیا کو حصار میں لے کر وہ اس کے اوپر جھکا ۔

حیا کا حلق خشک ہو گیا ۔اس نے اپنے خشک ہوتے لبوں کو زبان سے ترکیا

۔حمزہ نے اس کے لبو کو فوکس کیا ۔تو حیا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا

۔اسنے سھتی سے اپنے لبو کو بنچ لیا ۔۔۔تم میری بیوی ہو حیا ۔

تمہیں نخرے دکھانے کا پورا حق ہے لیکن مجھ سے دور جانے کا نہیں

۔۔میں آگر لینا چاہو تو اپنا حق ابھی بھی لے سکتا ہوں ۔میں صرف تمہیں ٹائم دے رہا ہوں ۔

تو اس کا مزید فائدہ نہ اٹھاؤ ۔حمزہ نے حیا کی کمر میں اپنی انگلیاں زور سے پیو ست کی تھی ۔

میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔

[

..: مگر ۔۔۔اتنا کہہ کر حمزہ چپ ہو گیا جب کے حیا کی سانس اٹک گئی

۔اس نے کپکپاتے لبوں سے بس اتنا ہی کہا مگر ؟اب تمھرے پاس صرف ایک ہفتہ ہے

۔ اپنے چھوٹے سے دماغ کو تیار کرلو

۔کہتے ہوئے انگلی سے حیا کی پیشانی کو تھوڑا پیچھے سرکآیا ۔

مجھے اپنے قریب لے آؤں ورنہ ۔

ورنہ کہہ کر ایک دفعہ پھر سے حمزہ نے خاموشی اختیار کی ۔

حیاتو بے ہوش ہونے کو تھی پورا جسم لرز رہا تھا

۔ورنہ میں تمہیں خود قریب لے آؤں گا کہتے ہوئے حمزہ نے اس کی گردن پر اپنے دہکتے ہوئے لب رکھ دیے

💕
💕
💕
💕
💕
💕

: رات کو فدی کی کمرے میں آنے سے پہلے ہی میرب کمرے میں آ کر لیٹ گئی

کھانا کھائے بغیر ہی نہ جانے روتے روتے اس کی کب آنکھ لگ گئی

فدی اور اعظم مصطفیٰ نے کھانا ایک ساتھ کھایا عائشہ میںرب کو بلانے آئی کھانے کے لئے تو اسے بے سود سوتا پایا

۔وہ نیچے چلی گئی اور جا کر بتایا تھوڑی دیر بعد ہی

فدی کمرے میں آگیا ۔

میرب کو سوتا ہوا پاکر وہ واش روم چلا گیا اور اس کے بعد آ کر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا ۔میرب فدی کی آواز پر اپنے تھوڑی سی آنکھیں کھولیں

۔اٹھو یہاں سے اور کسی اور کمرے میں چلی جاؤں مجھے سونا ہے

فادی نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے کہا لیکن میرب ویسے ہی لیٹی رہی

جب کچھ دیر میرب نہ اٹھیں تو فادی نے اس کی کلائی کو پکڑ کر اٹھانا چاہا

۔لیکن میرب کی کلائی کو پکڑتے ہی فادی کو احساس ہوا کہ میرب بحار میں تپ رہی ہے

۔وہ وہی میرب کے پاس بیٹھ گیا میری اٹھو اس نے میرب کے چہرے کو تھپتھپایا

لیکن میرب تو اپنے ہوش وحواس سے بیگانی تھی فدی نیچے جا کر عائشہ کو لے آیا ۔

فدی کے موبائل کی بار بار رنگ ہو رہی تھی فدی نے موبائل کی طرف دیکھا تو کشف کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔

اسنے سا یلینٹ پر لگا کر موبائل کو ٹیبل پر رکھا اور میرب کے پاس بیٹھ گیا

فدی نے ڈاکٹر کو کال کرکے آنے کا کہا ۔عائشہ میں رب کو پٹیا کرتی رہی ڈاکٹر بھی آ گیا

۔۔۔ساری رات میرے بحار میں تبتی رہی ۔فدی اس کے پاس بیٹھا رہا ۔

: وہ اس وقت اپنے مرب کے ساتھ احتلافات بھول چکا تھا ۔ساری رات وہ کمرے میں ٹہلتا رہا

اور اس کے بحار کم ہونے کا انتظار کرتا رہا صبح کے وقت جب مرب کا بحار کچھ کم ہوا

تو فعدی نے ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

صبح ڈائننگ ٹیبل پر سب بیٹھے ہوئے تھے حیا ہمزہ سے نظریں چرا رہی تھی

جبکہ حمزہ کی نظریں مسلسل حیا کے چہرے پر تھی آنٹی مجھے آپی سے ملنا ہے

آپ میرے ساتھ چلیں گی حیا نے ہلکی سی آواز میں کلثوم بیگم سے اجازت طلب کی ۔

ارے بیٹا میری طبیعت رات سے ٹھیک نہیں ہے حمزہ تمہیں چھوڑ آئے گا ۔

حیا نے حمزہ کی طرف دیکھا وہ چہرے بھی دلکش مسکراہٹ سجاۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا

جب کے حیا خود کو اندر ہی اندر کوس کے رہ گئی ۔

.: مجھے تھوڑا سا کام ہے وہ کر کے تمہیں لے جاؤں گا ۔حمزہ نے اٹھتے ہوئے کہا

💕
💕
💕
💕
💕

صبح میںرب کو ہوش آئی تو عائشہ اس کے پاس تھی ۔میرب کو ہوش میں آتا دیکھ کر عائشہ اسکی طرف لپکی

اپی آپ ٹھیک ہے نا ۔میرب نے اثبات میں سر ہلایا ۔میں آپ کے لئے سوپ لے کر آتی ہوں

عائشہ کہہ کر باہر نکل گئی ۔مرب نے کمرے میں نظر دھورای فدی کو کمرے میں نا پا کر اسکے چہرے پر مایوسی چھا گئی ۔

دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی ۔

💕
💕
💕
💕
💕

تم میری کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھی ۔مجھے معلوم ہے تمہارا انٹرسٹ اب مجھ سے ختم ہو رہا ہے

۔کشف غصے سے بول رہی تھی ۔کیا ہو گیا ہے تمھے کشف تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا

۔میرے لئے صرف تم امپورٹنٹ ہو ۔اور یہ کیا بات کررہی ہو تم انٹریسٹ ؟

تمہارا دماغ ٹھیک ہے ۔؟وہ بھی اسی کے انداز میں غصے سے بولا ہاں میں ٹھیک بول رہی ہوں

اگر میں امپورٹنٹ ہوتی تو تم میری کال اٹھاتے ۔کشف حد ہے یار ایک کال نہ اٹھانے پر تم اتنا عشو بنا رہی ہو میرب کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی

پہلے بھی تمہیں بتا چکا ہوں ۔وہی تو میں کہہ رہی ہوں وہ تمہارے لیے ااہم ہیے میں نہیں ۔

وہ آنکھوں میں آنسو لے کر بولی ۔فادی نے ایک لمبی سانس خارج کی

۔اور کشف کا ہاتھ تھام لیا ۔سوری ۔اس نے سر جھکا کر کہا ۔جب کے کشف ہاتھ چھڑوا کر وہاں سے تن فن کرتی ہوئی نکل گئی

..: 💕💕💕💕💕

فدی پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا

۔اس کا دماغ پھٹنے کو تھا ۔ایک طرف میرب سے جوڑی ہوئی ساری یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی

تو دوسری طرف کشف تھی جو اسے کچھ اور ہی سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔

فدی نے گاڑی گھر کے سامنے روکی اور باہر نکل کر گاری کا دروازہ ایک دھار سے بند کیا

اور بجلی کی تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔کمرے میں پہنچا تو میرب صوفے پر بیٹھی مووی دیکھنے میں مصروف تھی

۔اس نے بینا کچھ سوچے سمجھے میرب کا بازو پکڑ کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا

۔آنکھیں حد درجہ سرح تھی ۔جیسے ان سے لہو ٹپک رہا ہو ۔میرب فدی کی اس حرکت پر ہی حواس باہتا ہو گئی

۔باہر ہلکی ہلکی بارش سٹارٹ ہو چکی تھی

_______

فدی نے میرب کا بازو پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا بیک دروازے سے باہر لے گیا ۔

اور ایک دار سے دروازہ بند کر دیا ۔میرب کو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ فادی نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے

۔تھوڑی دیر بعد جب سمجھ ایا تو وہ دروازہ کھٹکٹانے لگی فادی دروازہ کھولو

۔لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا ۔میرب بے بسی سے بند دروازے کو دیکھتی رہی

اس نے ایک نظر اپنے گھر کی چھت پر دھورائی ۔اپنے کمرے کا سوچ کر وہ جیسے ہی دیوار پھیلانے لگی

کمرے کی لائٹ آن نظر ائی اورکمرے میں لیٹے ہوئے حسن مصطفی بھی

۔میرب کے قدم وہیں رک گئے ۔ وہ دوبرہ دروازہ کھٹکٹانے لگی

۔فدی دروازہ کھولو باہر بارش ہونے والی ہے ۔بابا اوپر کمرے میں آئے ہوئے ہیں پلیز دروازہ کھولو

تماشہ نہ بناو ۔لیکن وہ تو جیسے کسی پتھر سے بات کر رہی تھی ۔

تھوڑی دیر بعد جب دروازہ نا کھلا تو ۔وہ وہی ایک کونے میں بیٹھ گئی

بارش سٹارٹ ہو چکی تھی ۔اور اس کی آنکھیں بھی برس رہی تھی

۔جن میں ان گنت یادیں کچھ شکوے اور ادھوری محبت تھی جو بارش کے پانی میں بہ رہی تھی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

فدی ایسی چیر پر جھول رہا تھا کمرے میں گھپ اندھیرا کیے ۔اس کے کانوں میں یہی آواز گونج رہی تھی

مجھ سے نکاح کرو مرب کو چھوڑ دو ۔اور دوسری طرف اس کی آنکھوں کے سامنے میںرب کا چہرہ گھوم رہا تھا

سب کو متاثر کر دینے والی اس کی مسکراہٹ اس کی باتیں فدی نے موٹھیا بھینچ لی پیشانی کی رگیں تن گی

۔موبائیل کی رئنگ نے اس کی سوچوں میں خلل ڈالا ۔فادی نے بنا موبائل دیکھیں موبائل کو زور سے دیوار میں پٹحا

۔جو کہ تھک کی آواز سے کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا

💕
💕
💕
💕
💕

حمزہ گھر میں واپس آیا تو شام ہونے والی تھی ۔شام کے سائے پھیل رہے تھے

۔وہ سیدہا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔اسے لگا حیاتیار ہو گئی ہو گئی لیکن آگے کا منظر تو کچھ اور ہی بیان کر رہا تھا

۔حیا آرام سے بستر پر چادر تان کر سو رہی تھی ۔حمزہ اس کے سر پر جا کر کھڑا ہو گیا

۔اہم۔ اہمم حمزہ کی آواز پر حیا نے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔

جانا نہیں آپی کو ملنے اٹھو تیار ہو جاؤ ۔حیا نے گھڑی کی جانب نظر دوڑائیں ۔

اور تھوک اندر نگل کر اٹھ کر واش روم میں گھس گئی ۔حیا ڈریس ڈال کر ڈریسنگ کے سامنے آکر بیٹھ گئ ۔اور ہلکا پھلکا میک اپ کیا

۔‏ان۔ سب کے دوران حمزہ بیڈ پر لیٹا اس پر نظریں جمائے اسے ہی دیکھ رہا تھا

۔جیسے حیا نے ٹوٹل اگنور کیا ۔وہ ڈریسنگ کے سامنے سے اٹھنے ہی لگی کہ حمزہ اس کے پاس آکر کھڑا ہو گیا

۔ڈریسنگ کے سامنے پڑی ہوئی ریڈ لپسٹک اٹھائیں ۔اور حیا کے ہونٹوں پر لگانے لگا ۔

[ ۔حیا کی تو جیسے سانسیں خشک ہوگی ۔اس نے سہتی سے آنکھیں بند کرلیں ۔

حمزہ اسے لپسٹک لگاتا ہوا اس کے اوپر جھکا اور اس کے لبوں پر انگلی پھیرنے لگا

۔حیا نے اس کی فنگر کو دانتوں میں لے کر زور سے کاٹا ۔اور وہاں سے بھاگ نکلی

جب کے حمزہ درد سے کراہنے لگا ذحمی شیرنی وہ بر براتا ہوا حیا کے پیچھے چلا گیا

حصاب تو میں پورا کر کے رہوں گا دیکھنا میڈم حیا ۔

حمزہ نے گاڑی کا فرنٹ دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا

حیا نے اسے مسلسل نظر انداز کیا اور نظر باہر کی جانب رکھیں

ابھی آدھے راستے میں ہی پہنچے تھے کہ بارش سٹارٹ ہو گئی گاڑی ایک دم سے رک گئی

سنسان جگہ تھی ۔کیا ہوا ہے حیا نے گاڑی روکتے ہوئے دیکھ کر پوچھا

بارش بہت زیادہ ہے اور ڈرائیور کی بھی طبیعت حراب ہے تو غاری اگے نہیں جا سکتی

۔حمزہ نے بازو سینے پر باندھتے ہوئے کہا ۔جب کہ حیا کا تو رنگ ہی اڑ گیا

۔وہ اس وقت کو کو سنے لگی جب وہ اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئی ۔

پلیز یہاں سے چلے مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔حیانے التجایا لہجہ اپنایا جب کے اس کا دل تو کر رہا تھا کہ حمزہ کا سر پھاڑ دے

۔لے جاتا لیکن میری طبیعت خراب ہے نا وہ چہرے پر مصومیت سجا کر ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر بولا

۔جب کے حیا اس کا اشارہ اچھے سے سمجھ گئی تھی ۔دیکھیں آپ مجھ سے بدلا پھر کبھی لے لیجئے گا

ابھی مجھے یہاں سے لے جائیں حیا نے اپنی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا

جبکہ ٹانگیں پوری طرح سے کانپ رہی تھی ۔باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی

حمزہ نے کوئی جواب نا دیا سر گاڑی کی سیٹ پر ٹکا دیا ۔حیا کو اس وقت شدید کوفت ہورہی تھی

۔جب کے حمزہ لبوں پر زبان پھیر رہا تھا ۔خیااسے دیکھتی رہی

کب وہ یہاں سے نکلے ۔لیکن مزید پندرہ منٹ بھی جب حمزہ وہا سے نا ہلا

۔تو حیا نے جھنجھلا کر پوچھا کیا کروں کے اپ یہاں سے مجھے لے جائیں ؟

حمزہ کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ پھیل گئی ۔وہ سیدھا ہوا اور حیا کی فنگر پکڑ کر اپنے لبو پر رکھیں

اور ایک آنکھ دبائ

حیا نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔

حمزہ نے حیا کا ارادہ بھانپ لیا حیا میڈم کچھ نہیں کرنے والی

حمزہ نے حیا کو بازو سے کھینچ کر اپنی طرف کیا اور اپنے دہکتے لبوں کو اس کے لبوں پر رکھ دیے 💋😉۔😗

۔کچھ لمحے بعد جب حیا حمزہ سے علیحدہ ہوئی تو اس نے اپنے لبو پر ہاتھ رکھا جن پر خون کی بوندیں تھی

حیا کئ آنکھوں میں نمی اتر آئی حمزہ نے گاڑی سٹارٹ کی اور منزل کی طرف بھگا دی

💕
💕
💕
💕
💕

اندر کی گھوٹن سے گھبرا کر فدی کمرے سے باہر نکلا ۔پانی پینے کی غرض سے کچن میں گیا ۔

پانی پی کر وہ باہر نکلا تو اعظم مصطفی اپنے کمرے کی طرف جا رہے تھے

فادی کو دیکھ کر روکے برھودار اس وقت کہاں ؟پانی پینے آیا تھا بابا

۔فادی نے جواب دیا ٹھیک ہے بیٹا لیکن کل میں آفس نہیں جا سکوں گا ۔

موسم بہت خراب ہے اور تم تو جانتے ہو اس موسم میں میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے

۔کہ کر اعظم مصطفی اپنے کمرے میں چلے گئے جب کے فدی کے دماغ میں جمعکا سا ہوا

وہ بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں گیا اوربیک دروازہ کھول کر دیکھا

تو اس کے ہوش اڑ گئے ۔میرب کا رنگ نیلا ہو چکا تھا اور وہ فرش پر گری ہوئی تھی

۔پوری بھیگ چکی تھی اور ابھی مسلسل بارش جاری تھی اور اس کا وجود بھی جان ہو چکا تھا

جاری ہے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

epi 26

تیرے عشق میں ہم یونہی مرنا جاۓ

از ہاجرہ چوہدری

: فادی نے اسے بازوؤں میں اٹھایا اس کے گلے اور بے جان وجود کو اٹھا کر بیڈ پر لے آیا

۔میری اٹھو وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولا ۔اٹھو پلز ۔وہ شدت غم سے بولا

۔فدی اس کے اوپر جھکاہوا تھا اور اپنے رخسار اس کے رہسار کے ساتھ لگائے ہوئے

وہ سرگوشی کے انداز میں بے بسی کی انتہاکو چھوتا ہوا بول رہا تھا ۔۔

: فدی کی نظر میںرب کے نیلے ہوئے ہونٹوں پر پڑھیں ۔فدی بھاگنے کے انداز میں ہیٹر آن کر کے آیا ۔

اور عائشہ کو بلا کر لے آیا عائشہ نے میرب کے کپڑے چینج کیے بھائی یہ سب کیسے ہوا ؟😞۔

: فدی۔ کی۔ نظر مرب پر اٹکی ہوئی تھی اس نے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو اعظم مصطفی کو اس سارے معاملے سے بے خبر رکھا گیا ۔

ڈاکٹر آیا اور میںرب کو چیک کیا ۔انجیکشن دینے کے بعد ڈاکٹر ہدایت دے

کے چلا گیا میرب کو ابھی تک ہوش نہیں تھا آیا ۔

💕
💕
💕
💕
💕

کیسی ہو بیٹا ۔ساجدہ بیگم نے خیا کو سر پر پیار کرتے ہوئے پوچھا ۔‏

جی انٹی ٹھیک ہوں ۔او نہ بیٹھو کیس کے ساتھ آئی ہو ۔ساجدہ بیگم نے بیٹھتے ھووے پوچھا

۔حمزہ کے ساتھ ای ہہو گاڑی پارک کر کے آ ہی رہے ہوں گے ۔تم بیٹھو میں فائزہ کو بلا کر لاتی ہوں ۔

ارے نہیں آنٹی میں خود جا کر۔ مل لیتی ہوں ۔حیا نے کہا اور فائزہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی

۔

: آپی حیا نے دروازے سے داخل ہوتے ہوئے کہا ۔فائزہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا

جو شاید کوئی کام کرنے میں مصروف تھی ۔حیا کو نظرانداز کرتی ہوی وہ پہلے کی طرح قبڈ میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی

حیا نے آگے بڑھ کر فائزہ کو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا آپ میری بات تو سنے آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں

۔ایسا کچھ نہیں تھا ہوا جسا آپ سمجھ رہی ہیں وہ روہانسی ہو گی

۔تو۔ کیا ہوا تھا حیا جو تم لوگوں نے مجھ سے چھپایا اور مجھے کشف سے پتہ چلا ؟😡

فائزہ نے چلانے کے انداز میں پوچھا جب کہ حیا کشف کے نام پر چونکی 😯 ۔

کمرے میں داخل ہوتا حمزہ ساری بات سن چکا تھا ۔کیا بات ہے بھابھی ۔کیا آپ کو ہم نے نہیں بتایا

جو آپ کو کشف سے پتا چلا ؟🤔حمزہ نے تفتیشی انداز میں پوچھا

۔تمہیں اس سے کیا حمزہ ؟ تم تو اپنی من مانیاں کرتے ہو ۔اگر تم نے ماما کا دل نہ دکھایا ہوتا تو آج شاید وہ ہمارے ساتھ ہوتی ۔

حمزہ تو فائزہ کی بات پر حیران ہی رہ گیا 😮اس نے حیا کی طرف دیکھا تو وہ بھی نظر بد ل گی

😒۔کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ بھابھی جس کا ٹائم آنا ہے اس نے اس وقت جانا ہی ہے

جب اللہ تعالی بلاتے ہیں تو جانا پڑتا ہے ۔اور ایسا کیا کہ دیا ہے آپ سے کشف نے کہ آپ اس طرح کی باتیں کر رہی ہیں؟

حمزہ کو کچھ کچھ سمجھ آ رہا تھاحیا ایسا کیوں کر رہی تھی۔ فائزہ نے کشف کے ساتھ ہونے والی ساری بات بتا دی

۔حیا کے ساتھ ساتھ حمزہ بھی حیران ہوئے بنا نہ رہ سکا میری بات سنیے بھابھی آپ کو مجھ پر یقین ہے

یا مس کشف پر جس نے آپ کی بہن پر جھوٹا الزام لگایا تھا

حمزہ نے خیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جب کے حیا کو تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا

۔فائزہ بھی اب پریشان ہو گئی ۔حمزہ نے ساری بات بتا دی اس دن ہاسپٹل میں انہیں کیسے کشف ملی تھی ۔اور وہ کس طرح حیاء کو آنٹی سے ملوانے لیکر گیا ۔

فائزہ کے آنکھوں میں نمی اتر آئی ۔اور اپنی ہی بہن کو غلط سمجھنے پر اس کی نظریں جھک گئیں

حیا نے آگے بڑھ کر اپنی جان سے عزیز بہن کو گلے سے لگا لیا ۔ خیا کو سب معلوم ہو گیا تھا

۔کس طرح اس کی دوست نے ہی اس پر کیچڑ اچھالا تھا ۔لیکن کشف نے ایسا کیا کیو

۔ میں تم سے پوچھوں گی ضرور حیانے دل میں ہی کشف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

: 💕💕💕💕💕💕

صبح اعظم مصطفی نے جب میرب کو ڈائننگ ٹیبل پر نہ پایا تو اس کے بارے میں پوچھا

آپی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے فادی بھائی بھی ان کے ساتھ ہی ہیں

عائشہ نے جواب دیا کیا ہوا ہے میرے بچے کو ۔اعظم مصطفیٰ نے ڈائننگ ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا پتا نہیں بابا شاید سردی ہوگی

عائشہ نے بھی بات کو ٹالا اب تک تو وہ بھی سمجھ چکی تھی کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوئی ہے

۔اعظم مصطفی نے دروازہ کھٹکھٹایا فادی نے دروازہ کھولا تو میرب آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی

۔کیسی ہے مری بیٹی اعظم مصطفیٰ نے پاس پڑی چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا از مصطفی کی اواز پر میر ب نے آنکھیں کھولیں یہ کیسے ہوا

برخوردار اور آپ کہاں تھے آپ ہماری بیٹی کا بھی حیا نہیں کرسکتے اعظم مصطفیٰ نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے کہا

مرب کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی دل تو چاہا کہ ظالم جان کی شکایت کردے

۔لیکن دل بھی اسی کی سائیڈ لیتا تھا میرب نے ایک شکوہ کناں نظر فادی

پر ڈالی جو شرمندہ شرمندہ سا نظر آرہا تھا نظر جھکائے ہوئے سامنے بیٹھا اعظم مصطفی کی ڈانٹ سن رہا تھا

میں ٹھیک ہوں چچو بس بارش میں تھوڑی سی بھیگ گئی میرب نے آنکھوں میں آتی ہوئی

نمی کو چھپاتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجاکر کہا ۔ٹھیک ہے بچہ اور برخوردار تم میری بیٹی کا خیال رکھنا

کہہ کر اعظم مصطفی کمرے سے باہر نکل گئے ۔میری فدی نے بیڈ کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے پکارا

لیکن لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا میرب کا دل زور سے دھڑکا ۔آنسو ٹوٹ کر رخسار پر دی گئی

۔وہ حاموش نظروں سے اسے دیکھتی رہی ۔فدی میرے پاس آکر بیٹھو پلیز

۔میرب نے محبت سے چور بے بسی کی انتہا کو چھوتے ہوئے کیی جذبات سے لاچار لہجے میں کہا

۔فدی اس کے پاس آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔میری ناج(ناراض ) ہو فدی نے میرب کےپاس بیڈ پر بیٹھے ہوئے

اس کے آنسو کو صاف کرتے ہوئے پوچھا ۔جس پر میرب مسکرا دی

۔فدی کافی دیر میں مرب کے چہرے کو دیکھتا رہا ۔میرب فدی کا ہاتھ تھامے نہ جانے اس کے ہاتھوں میں کیا ڈھونڈتی رہی

شاید محبت کی وہ لکیر جس جو اس کی قسمت میں نہیں تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *