Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary NovelR50678 Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 06)
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 06)
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary
ہسپتال سے گھر انے کے دوران دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہ ہوئی
۔حمزہ حیا کو لے کر بہت پریشان ہو رہا تھا ۔حیا جب سے گھر ای ۔ کچھ بھی نہ بولی ۔نہ ہی روئیں ۔بس خالی خالی نظروں سے دیکھتی
۔اگر حمزہ کوئی بات کرتا تو اس کا بھی جواب نہ دیتی اسے اس حالت مے چھوڑ کر ساجدہ بیگم کی طرف جانا بھی نا ممکن تھا
۔حیاجب سے آئی تھی لونج میں صوفے پر ایک ہی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی ۔
کسی نقطے کو مسلسل گھورے جا رہی تھی ۔حمزہ چاہتا تھا وہ ایک دفعہ تو روئے
۔وہ اس کے پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔حمزہ اس کے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مخاطب ہوا
۔حیا کچھ تو بولو ۔آب سے تم جیسا کہوگی ویسا ہوگا ۔مجھے ایسے پریشان مت کرو
۔ایسے خاموش رہ کر مجھے سزا مت دو ۔وہ گھمبیر مگر نرم لہجے میں بول رہا تھا
۔لیکن حیا کی جانب سے ہنوز خاموشی تھی ۔حمزہ اٹھ کر سوفے پر بیٹھ گیا
اور حیا کو بازو سے پکڑ کر جھنجوڑنے لگا ۔حیا میں کچھ بول رہا ہوں
۔حیا ۔حیا کی نظر نقطے سے ہٹ کر سامنے حمزہ پر پڑھیں
۔اس سے لپٹ کر اونچا اونچا رونے لگ گئی ۔حمزہ نے اسے ساتھ لگائے رکھا ۔اور رونے دیا ۔
خیا روتے روتے وہیں نیند کے آغوش میں چلی گئی ۔صبح حیا کی آنکھ کھلی تو اس کا سر حمزہ کے سینے پر تھا ۔اور وہ صوفے کی بجائے پیڈ پر تھے
۔حیا وہاں سے بھاگ کر دوسرے روم میں چلی گئی اور خود کو لاک کر لیا ۔
دو مہینے ایسے ہی چلتے رہے ۔حیا حمزہ سے بھاگتی اور زیادہ تر حاموش رہتی
جب کہ حمزہ چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا کے شائد حیا زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ۔
لیکن حیا کے دل میں نفرت اور ڈر نے اتنی جگہ بنا لی تھی ۔کہ اس میں حمزہ کے پیار کیلئے کوئی جگہ ہی نہیں بچی








: دو مہینوں میں فائزہ کی حالت قدرے بہتر ہوگی ۔وہ زندگی کی طرف واپس لوٹ آئیں
۔لیکن جب بھی انھیں حیا کی یاد آتی وہ سارا دن بے چین اور پریشان رہتی ۔اس نے جو بھی قدم اٹھایا اآخر تھی تو وہ ان کی بہن ہی۔
بھابھی کیوں نہ ہم فارم ہاؤس کی طرف جائیں ۔کافی عرصے سے ہم نہیں گئے
۔میرب نے اوٹنگ کا پروگرام بنایا ۔کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو میرب ۔
لیکن علی آجکل بہت مصروف ہیں ۔میں ان کے بغیر نہیں جا سکتی ۔تم تو جانتی ہو نا
۔میرب کا دل ایک دم اداس ہو گیا ۔جو اس نے ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کوئی بات نہیں بھابھی آپ اور بھائی فری ہو جائیں
اس کے بعد ہم سب مل کر چلیں گے
لیکن فائزہ جان گئی تھی ۔اس نے چائے کا پانی چولہے پر چڑھایا ۔
اور پاس کھڑی میرب کاہاتھ تھامتے ہوئے بولی ۔تم تو میری چھوٹی سی گڑیا ہو
میری بہن جیسی ۔تمہیں میں اداس نہیں دیکھ سکتی ۔میں بابا جان سے بات کروں گی
اور علی سے بھی بولوں گی ۔حمزہ فادی عائشہ لائبہ اور تم اپنا پروگرام بناؤ ۔باباجان سی اجازت میں لے لوں گی
۔تم سب چلے جانا ۔میں اور علی پھر کبھی چلے جائیں گے ۔اور تھوڑا ٹائم بھی اکیلے سپینڈ کرلیں گے ۔
فائزہ نے کہتے ہوئے آنکھیں جھکا لی ۔اوہو تو یہ بات ہے ۔میں فادی سے بات کرکے آتی ہوں
۔وہ خوشی سے بولی ۔اور کچن سے باہر جاتے ہوئے ایک پل کے لئے رکی
۔ویسے آپ ہے بہت چھپی رستم ۔کوئی بات نہیں آپ کا ٹائم ہے
۔کر لے رومانس ۔ایک دن میں اور فادی بھی ۔اتنا کہہ کر ہی میرب نے دانتوں تلے زبان دبائیں اور بھاگ گئی ۔
جبکہ فائزہ کہ کا لگا کر رہ گئی
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
..: ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ہاں ہم بہت انجوے کرے گے ۔آپ کو یاد ہے نا پچھلی دفع جب آپ سوئی ہوئی تھی
اور فادی بھی نے آپ کے منہ پر کارٹون بنا کر پکس بنا لی تھی ۔کتنا چڑھایا تھا انہوں نے آپ کو ۔
عایشہ یاد کر کے ہنس رہی تھی ۔جب کے میرب منہ بنا رہی تھی ۔
کیا باتیں چل رہی ہے ۔فادی نے کمرے میں داحل ہوتے ھوے کھا ۔
: میرب اور عائشہ کی نظر اس کی طرف اٹھی ۔بلو شرٹ بلیک جینز آنکھوں پر گلاسز لگائے ۔
ہاتھ پر ہمیشہ کی طرح گھڑی بندھے وہ وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا
۔ارے بھائی آپ کہاں جا رہے ہو ۔بالکل ہیرو لگ رہے ہو عائشہ نے کمنٹری کی جب کہ میرب نے پلکیں جھکا لی ۔اور رحصار پر لالی بکھر گئی
۔فادی کی نظر میرب کی طرف گئی۔او ہیلو میڈم تعریف میری کی گئی ہے آپ کیوں اتنا شرما رہی ہیں
۔فادی ان کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا دونوں ٹانگیں اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دی
۔میرب اس کے اس سوال پر بوکھلا گئیں ۔آپ نے بوکھلاہٹ چھپاتے ہوئے اس نے اسی پر تنقید کردی ۔تمہیں پتا ہے عائشہ کتنی مشکل سے صفائی کرتی ہے
۔اور تم نے ایک منٹ میں ٹیبل گندا کر دیا ۔تم دونوں بات کو مت گماو
اور بتاؤ کیا کھچری بن رہی تھی ۔وہ بھی ٹس سے مس نہ ہوا ۔
میرب خوشی سے بولی ۔ہم سب فارم ہاؤس پر جا رہے ہیں ۔تم بھی کل تیار ہو جانا۔اور اپنی پیکنگ بھی کر لینا
اھواوو
۔تمہاری پیکنگ میں کر دوں گی ۔تم بھی کیا یاد رکھو گے ۔وہ اپنی ہی بات کی نفی کرتے ھوے کندھے اچکا کر بولئ
۔اچھا میڈم بہت بہت شکریہ آپ کا ۔کون کون جا رہا ہے ویسے ۔
میں میرب لائبہ وہاب بھائی اور آپ بھائی ۔علی بھائی اور فائزہ بھابھی بزی ہیں ۔
حمزہ بھائی کو کال کی تھی انہوں نے اٹنڈ نہیں کی ۔اس دفع عائشہ نے بتایا
۔چلو ٹھیک ہے لیکن اس دفعہ ہمارے ساتھ ایک اور انسان بھی جائے گا ۔آپ سب اسے جانتے ہو ۔کون ہے وہ میرب نے بےچینی سے پوچھا ۔یہ سرپرائز ہے خود دیکھ لینا ۔
بتاؤں نا
وو بزد تھی
مرب زد نہیں کرتے
۔اگر فائزہ بھابھی جاتی تو میں اسکو ساتھ لے ۔کے نا جاتا
۔لکن اب تو کوئی مسلہ ھی نہیں ۔وہ اپنی رینگ کے ساتھ کھیلتے ھوے بولا
جب کے عائشہ اور میںر ب سوچ میں پڑ گئی





رات کو ہی میرب نے اپنی اور فادی کی ساری تیاری کرلی۔
اس نے بیگز ایسے تیار کیے جیسے کہ کسی شادی پر جا رہی ہو
۔رات کو فعدی اپنے کمرے میں آیا ۔تو کپڑے لینے کی غرض سے قبڈ کو کھولا ۔
لیکن قبڈ کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی
__________
میرب میرب ادھر آوفادی بہت زور زور سے چلا رہا تھا ۔لیکن میرب کا تو کچھ اتا پتا ہی نہیں تھا
۔وہ اپنا غصہ ضبط کرتا میرب کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔ارے فادی تم اس ٹائم
۔فائزہ نے اسے سیڑھیوں سے نیچے اترتے دیکھ کر پوچھا ۔جی بھابھی میرب کہاں ہے
۔ارے وہ بہت تھک گئی تھی پیکنگ جوکی ہے اس نے۔ اب میرے کمرے میں ہی سو گئی ہے ۔
فائزہ نے بتاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔اس میرب کی بچی کو تو میں بتاتا ہوں ۔یہ کہتا ہوا وہ کمرے میں چلا گیا
۔جب کے فائزہ نے بھی حیرانگی سے اس کے پیچھے قدم بڑھا دئیے
۔فادی کمرے میں گیا تو میرب نیند کے مزے لوٹ رہی تھی
میرب اٹھو ۔فادی نے اس کے سر پر کھڑا ہو کے ذرا اونچی آواز میں کہا
۔مگر میرب کی نیند میں۔ رتی برابر بھی فرق نا آیا۔
میییرب اب فادی نے ذرا چلا کر کھا ۔میرب ہربرا کر اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
وہ کھلی آنکھوں سے حیرانگی سے فادی کی طرف دیکھ رہی تھی
کیا ہوا ہے کیوں مجھے اٹھایا تمہیں پتا ہے نہ کہ صبح ہمیں جلدی نکلنا ہے ایک تو مجھے نیند نہیں تھی آ رہی
اوپر سے تم ۔اپنی نیند خراب ہونے پر وہ مسلسل بولے جا رہی تھی
ٹھیک سے آنکھیں کھلیں تو فادی کو گھورتے ہوئے پاکر وہی چپ ہو گئی
کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو کھا جاؤ گے کیا
وہ بالوں کو کیچر میں قید کرتے ھوے بولی ۔تم پہلے یہ بتاؤ میری قبڈ میں سے سب کچھ غائب کیوں ہے
۔اوہ اچھا وہ ۔وہ تو میں نے پیکنگ کی نہ
تو دیکھو سارا سامان بیگز میں پڑا ہوا ہے اس نے بیگز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
فادی نے اسی جانب دیکھا تو وہاں پانچ عدد بیگ پڑے تھے ۔فادی نے وہیں سر پکڑ لیا
یہ کیا کیا تم نے میری ۔تم بیاہ کے سسرال نہیں جا رہی جو اتنا سامان میرا اور اپنا سب تم نے اکٹھا کرلیا ہے
تم صرف ایک دن کے لئے جا رہی ہوں فادی نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا
۔نہیں فادی تم سمجھ نہیں رہے دیکھو اب ہم وہاں جائیں گے تو پکس بھی تو بنائیں گے نہ تو کیا ایک ہی ڈریس میں ساری بنا لیں گے
ہر آدھے گھنٹے بعد ہم کپڑے چینج کریں گے اور پھر پکس بناے گے
۔اس نے فادی کی بات کی نفی کرتے ہوئے اپنا ارادہ بتایا جس پر فائزھ ڈھے جانے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گئی
۔میری معصوم بہن اتنا نہیں سوچتے ۔شاباش اب یہ جو جو کچھ نکالا ہے سب ویسے کا ویسا رکھ کر آؤ ۔
لیکن بھابی میرب نے بنا منہ بنایا ۔لیکن سامنے فادی کے گھورنے پر وہ چپ کر کے چلی گئی
اور فائزہ اور فادی اس کے پیچھے پیچھے بیگ اٹھائے چلے ۔رات ایک بجے تک اس نے دوبارہ سب قبڈ میں رکھا
۔اٹھ جاؤ میں کب سے لگی ہوئی ہوں اب ایک کپ چائے بنا دو ۔اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے فادی کو ٹانگ مار کر کہا
۔جو کہ صوفے پر ہی بیٹھا اسے زیچ کرنے میں لگا ہوا تھا ایسے رکھو ویسے رکھو
۔میں کیوں چائے بناؤں گا تمہارے لیے ۔اس نے کندھے اچکا کر کہا
۔میرب نے تھکن سے سر صوفے پرٹیکا دیا ۔۔کیوں کہ میں نے تمہاری قبڈ ٹھیک کی
۔اس نے وہی تھکے تھکے انداز میں جواب دیا ۔ہراب بھی تو تم نے ہی کی تھی ۔
چھورو تم نے پہلے کون سا کوئی کام کیا ہے تم نے میرا جو تم اب میری مدد کرو گے
۔آنکھیں موندے وہ روٹھے روٹھے لہجے میں بولی ۔اوہ ناج ۔۔ناراض ۔۔۔ ہو گی وہ ہمیشہ کی طرح لارڈ سے بولا ۔
جب کے میرب کا غصہ ایک منٹ میں اڑن چھو ہو گیا اور وہ بھی ہمیشہ کی طرح مسکرادی
پاگل نہ ہو تو ۔کہہ کر میرب اٹھنے لگیں
۔فادی نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔رکو پرینسیز میں چائے لے کر آتا ہوں بیٹھو ۔یہ کہہ کر وہ کچن کی طرف بڑھ گیا







حمزہ نے گھر کا تالا کھولا تو اسے سامنے کہیں بھی حیا نظر نہ آئیں
وہ آگے بڑھتا ہوا اوپر کمرے میں گیا تو حیا کو سوتے ہوئے پایا
۔وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور کافی دیر اسے ایسے ہی سوتا دیکھتا رہا
۔حمزہ نے اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرنے کی کوشش کی
کسی کا اپنے چہرے پر لمس محسوس کرکے حیا ہر برا کر اٹھ گئی
۔اپنے سامنے حمزہ کو پاکر وہ پیچھے ہوگی ۔میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے میرے پاس کیا آیا کرو
حیا نے چلانے کے انداز میں کہا ۔تم سے کس نے کہا میں تمہارے قریب آ رہا تھا
۔وہ اس کے اور پاس ہو کر بیٹھتا ہوا بولا ۔دیکھو حمزہ میں یہاں سے کسی دن بھاگ جاؤں گی
اور پھر تمہارے ہاتھ کبھی نہیں لگو گی ۔وہ انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دیتے ہوئے بولی ۔
وہ اسے دھمکا رہی تھی یہاں شاید خود کو تسلی دے رہی تھی اسے بھی سمجھ نہ آیا
۔آپ کو کیا لگتا ہے میڈم نے آپ کو اتنی آسانی سے بھاگنے دو گا
۔حمزہ اسکی قریب ہوا جبکہ حیا بیڈ سے نیچے گرنے کو تھی
۔حیا نے اسے دھکا دیا اورکمرے سے باہر کی طرف بھاگ گئی ۔حمزہ بھی اس کے پیچھے بھاگا اور سیڑھیوں کے پاس جاکر دوبارہ اسے اپنی گرفت میں لے لیا ۔
چھوڑو مجھے
تم مجھے آزاد کیوں نہیں کردیتے میں تمہیں کبھی نہیں اپناو گی۔نا ھی تمہاری کبھی بنو گی ۔ حیا نے چلا کر کہا
سکون کا سانس کیو نہیں تم مجھے لینے دیتے
حمزہ نے اسے اپنے اور قریب کر لیا ٹھیک ہےآزادی چاہے نا ۔تو ایک دن سے زیادہ میں نہیں دے سکتا ۔ میں تمہے آج کا دن دیتا ہوں میں سارا دن گھر نہیں آؤں گا رات کو آؤں گا
۔مناؤں تم آج کے دن اپنی آزادی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا اور اسے پیچھے دھکیل کر باہر نکل گیا پر گھر کو لاک کرنا نہ بھولا








عائشہ لائبہ وہاب اور فادی سب میرب کے گھر آ گئے ۔سب ہی بہت پرجوش نظر آ رہے تھے فادی کہاں ہیں وہ گیسٹ جس نے آنا تھا ۔میرب نے پوچھا ۔بس آنے والی ہے تھوڑا ویٹ کرو ۔فادی نے کہا
جبکہ آنے والی کا سن کر میرب کا موڈ بگڑ گیا اور اس کے دل میں ہول اٹھ رہے تھے نہ جانے یہ کون سی بلا ہے میرب نے سوچا
۔ہیلو ایوری ون ۔تبھی کسی کی آواز گونجی سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کشف کھڑی تھی میرب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں سامنے کشف کھڑی تھی ۔میرب نے بمشکل اپنی تھوک اندر نگلی
۔جب کے کشف آب سب کے ساتھ ہاتھ ملا رہی تھی
۔فادی کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری ۔
میرب اسے دیکھ کر اندر ہی اندر جل بن گئی
۔سب ہی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔میرب اداس دل کے ساتھ گاری میں جا بیٹھی۔
