Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 08)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

اگر تم چلی گئی تو میرا کیا ہوگا اس نے سرگوشی کے انداز میں اس کے کان کے قریب کہا

۔میری بلا سے تم مر جاؤ مجھے ذرا بھی فرق نہیں پڑے گا حیا نے غصے سے کہا

۔حمزہ نے اس کی کلائی کو مروڑ کر اسکا روح اپنی طرف کیا اور اس کی کمر کے گرد حصار باندھ دیا ۔

اگر تم مجھے چھوڑ کر چلی گئیں تو دیکھ لینا میں واقعی مر جاؤں گا

۔پھر روتی رہنا حمزہ نے اس کے سر سے اپنا سر ٹکرا کر کہا )اللہ نہ کرے حیا کے منہ سے اچانک الفاظ نکلے میرب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا

۔حیا اپنے خوش ہو اس میں واپس لوٹیں اور بھاگ کر کمرے میں چلی گئی

۔پھپھو کلثوم بھی وہی آ گئی ۔وہاب کو کال پر کال کی جا رہی تھی لیکن وہ جواب نہیں تھا دے رہا

۔تھوڑی دیر بعد وہاب واپس آیا تو سب اس کی طرف بھاگے ۔ حمزہ کہاں ہے سب ٹھیک تو ہے۔

سب سوآل پے سوال کر رہے تھے فادی نے وہاب کو جھنجوڑا ۔وہاب فدی کے گلے لگ گیا اور رونے لگ گیا ساجدہ بیگم اور کلثوم بیگم رو رہی تھی

۔حمزہ بھائی نہیں رہے ۔وہاب روتے ہوئے بول رہا تھا حیا کھڑکی میں کھڑے سب سن رہی تھی

۔اس کے پاؤں وہی سن ہو گئے۔کلثوم بیگم کو لگا جیسے ان کی سانسیں کسی نے کھینچ لی ہو

۔کہرام سا مچ گیا ہر طرف رونے دھونے کی آوازیں آ رہی تھی ۔

حمزہ کی گاری کا ایکسیڈنٹ اتنی بری طرح ہوا کے ڈیڈ باڈی کو پہچاننا بہت مشکل تھا

۔ہر طرف بات پھیل گئی ۔

: ہر طرف سوگ کا سماں تھا ساجدہ بیگم کلثوم بیگم کے گھر چلی گئی

جبکہ حیا کو اپنا بھی ہوش نہیں تھا لیکن سب کی حالت اتنی گیر تھی کسی نے حیا پر دھیان نہ دیا

میرب ہر پل حیا کے ساتھ رہیں اس حادثے کے بعد حسن مصطفی کی طبیعت خراب رہنے لگی

۔حیا کو ہر پل حمزہ کی یاد ستا رہی تھی ۔ایک منتھ ہونے والا تھا کسی کو یقین نہیں تھا آرہا حمزہ ایسےاتنی جلدی چلا جائے گا

سب کی لائف سے ۔خیا کا دل کہتا تھا حمزہ ضرور آئے گا جب کہ کلثوم بیگم بھی یہی کہتی میرا حمزہ زندہ ہے

اسے کچھ نہیں ہوا ۔ایک مہینہ ایسے ہی گزر گیا کلثوم بیگم نہ امید نا ہوئی اور نا ہی حیا کی امید ختم ہوئی

۔کلثوم ساجدہ بیگم کے گھر آئے ہوئے تھے حسن مصطفیٰ نے انہیں بلایا اور انہیں بولا کےکہا اگر انہیں برا نا لگے تو وہ ایک فیصلہ کرنا چاہتے ہیں

ان کی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اس لئے میں نے سوچا ہے کہ فادی اور میرب کا رشتہ کر دیا جائے

اور چھوٹا سا فنکشن رکھ کر ان کا نکاح بھی کر دیا جائے ۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بھائی صاحب

مجھے امید ہے میرا حمزہ واپس آجائے گا ۔گھر میں خوشی کا ماحول بنے گا تو کیا پتہ میری خوشیاں بھی واپس آجائے میر ا پیارا بیٹا آجائے

کلثوم بیگم نم آواز میں بولی ۔حسن مصطفیٰ نے انہیں تسلی دی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حیا اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی وہ خالی خالی نظروں سے دیواروں کو دیکھ رہی تھی ۔میرب اس کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔

حیا کیا ہو گیا ہے تم تو ہنسنا ہی بھول گئی ہوں ۔میرب اسے کیسے ہوسکتا ہے

۔کوئی انسان ایک دم سے مری زندگی میں آئے اور پھر چلا جائے ۔جیسے خوشیوں نے ہمیں اپنے پاس بلایا ہو اور جب ہم ان کے پاس آئے تو وہ ہم پر اپنا دروازہ بند کر دیں

وہ آنکھوں میں نمی لے کر بولی ۔حیا پریشان نہ ہو اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے تمہیں یقین ہے نہ حمزہ بھائی آئیں گے

تو وہ ضرور آئیں گے حیاکو میرب نے تسلی دی ۔

: 💕💕💕💕💕💕

تمہارے کمرے میں آجاو ۔تم پہلے کبھی پوچھ کر آئی ہوں فادی نے جواب دیا ۔

وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔تو فادی کے ہاتھ میں کچھ تھا

جو وہ اس سے چھپا رہا تھا۔کیا چھپا رہے ہو ۔کچھ نہیں ۔بتاؤ بتاؤ بتاؤ بتاؤ بتاؤ

۔وہ بچوں کے جیسی ضد کرنے لگی۔اچھا بتا دوں گا لیکن ایک

شرط پر ۔فادی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔کیسی شرط ۔

جب میں تمہیں دکھاؤں گا تو اس کے بعد تم ایک ۔ بی سوال نہیں کروں گی

منہ پر انگلی رکھو گی

اور چپ کر کے چلی جاؤں گی ۔یہ کیا بات ہوئی اسنے منہ بنا کر کہا ۔سوچ لو اگر منظور ہیں تب ہی دکھاؤں گا

۔وہ بھی اپنی بات کا پکا تھا ۔چلو ٹھیک ہے ۔دکھاو اب ۔فادی نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔تو اس میں ایک چمچماتی پیاری سی انگوٹھی تھی

آہ یہ کس کی لیے اتنی پیاری ۔۔بتاؤ نا ۔وہ اس کی شرط بھول کر پوچھنے لگے

۔میری چلو شاباش منہ پر انگلی رکھو اور جاؤ ۔فادی نے اسے شرط یاد دلائیں

۔جس پر میرب اسے گھور کر رہ گئی ۔اور پاؤں پٹختی کمرے سے نکل گئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

وہ فدی کے گھر سے نکل کر جیسے ہی اپنے گھر میں داخل ہوئی اسے کچن سے خوشبو آی

وہ بھاگتی ہوئی کچن میں چلی گئی بھابی آج کیا بن رہا ہے ۔چاول بنا رہی ہوں رائتہ بن گیا ہے

۔پھر میں کباب تل لیتی۔ ہو ۔فادی کو بھی بلا لو گی

۔اسے بہت پسند ہیں وہ رینگ والی بات بھول کر دوبارہ بولنے لگی ۔

میرب کی ہر بات میں فہد کا نام زرور ہوتا ۔اچھا بھلا لینا امی بتا رہی تھی

رات کو باباجان کی طبیعت حراب تھی ۔کیا ہوا بابا جان کو ۔اس نے فکر مندی سے پوچھا ۔امی بتا رہی تھی

ساری رات وہ سوئے نہیں ان کے سینے میں جلن ہوتی رہی ۔اور ہلکی ہلکی درد بھی

۔میں ابھی بابا جان سے مل کر آتی ہوں ۔وہ بابا جان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی

۔حیا کو کچن میں بھیج دینا فائزہ نے پیچھے سے آواز لگائی میرب بابا کے کمرے کی طرف جاتے ہوئےحیا کو فائزہ کا پیغام دیں گی

حیا کچھ ہی دیر بعد کچن میں اس کے ساتھ موجود تھی حیا روٹی بنا دو

شاید بابا چاول نہ کھائیں۔فائزہ نے حیا کو بولا حیانے فرج سے اٹا نکالا اور روٹیا بنانے لگی

۔لیکن ایک دفعہ پھر اس کا ذہن کہیں اور چلا گیا (وہ کچن میں آٹا گوند رہی تھی تبھی پیچھے سے آکر حمزہ نے اس کے گرد حصار باندھ لیا۔

چھورے مجھے حیا نے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کی جسے حمزہ نے ہمیشہ کی طرح ناکام بنا دیا۔میری بیوی مرے لیے روٹیاں بنانے لگی ہے ۔

حمزہ نے حیا کے سر کے ساتھ اپنا سر لگا کر کہا ۔زہر لا دو تھوڑا سا وہ بھی ڈال دو

۔حیا نے غصے سے کہا ۔اتنی ظالم بیوی اپنے شوہر کو زہر دو گئ وہ معصوم سی شکل بنا کر بولا

۔جب کے ہیااسے دھکا دے کر پیچھے کرتی ہوئی کچن سے تن فن کرتی ہوئی نکل گئی

۔لیکن پانی کی غرض سے جب وہ واپس آئی تو حمزہ آٹا غوند چکا تھا اور اب اس کے لیے روٹیا بناکر ٹرے میں رکھ رہا تھا آگئی میڈم ۔۔۔۔۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

وہ بابا جان کے پاس بیٹھی ضد کر رہی تھی مجھے نہیں پتا بابا جان بس ڈاکٹر کو دکھائیں۔

آپ ہر دفعہ ایسے ہی ٹال دیتے ہیں کچھ نہیں ہوتا بیٹا ۔تبھی پیچھے سے اعظم چچا بھی آگے

۔کیا ہوا بھائی صاحب آپ ٹھیک تو ہیں ۔مجھے کیا ہونا ہے بس عمر کا تقاضا ہے ۔وہ ہمیشہ کی طرح خود کو بچاتے ہوئے بولے

۔نہیں چچا جان ۔بابا جان ساری رات نہیں سوئے ۔درد کی وجہ سے ۔اور اب بہانہ بنا رہے ہیں ۔میرب بیٹا چچو کے لیے چائے لاؤ

۔جی بیٹا آپ اپنے ہاتھوں کی مزیدار سی چائے لاؤ میں تب تک آپ کے بابا سے بات کرتا ہوں

۔اعظم چچا کے پیار سے کہنے پر وہ چائے لانے کے لئے کچن میں چلی گئی ۔

بھائی جان مجھے لگتا ہے آپ کسی بات کو لے کر پریشان ہیں ۔اعظم نے فکر مندی سے پوچھا ۔تم میرے چھوٹے بھائی ہو تمہیں نہیں بتاؤں گا

تو اور کسے بتاؤں گا ۔میں میرب کو لے کر پریشان ہو ۔کیوں بھائی صاحب ۔اعظم میری ایک ہی بیٹی ہے تم جانتے ہو میں نے اسے کتنے پیار سے بالا ہے ۔

میری طبیعت آپ ٹھیک نہیں رہتی ۔پتا نہیں میری کتنی زندگی ہے ۔

بھائی صاحب آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔اعظم مصطفی پریشان ہو گے ۔اعظم میں چاہتا ہوں میری زندگی میں میری بیٹی کی شادی ہو جائے

بھائی صاحب آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں میں نے میرب کو ہمیشہ اپنی بیٹی کی طرح سمجہ ہے

۔اور میں نے تو فادی کے لئے میرب کا ہی انتخاب کیا ہے ۔اعظم تم نے تو میری مشکل ہی حل کر دی

۔بس بھائی جان آپ پریشان نہ ہوں آپ کے لئے تو جان بھی حاضر ہے ۔اور دونوں بچے ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے بھی ہیں

۔فادی نے ہمارا بزنس آگےجآ کے سنبھالنا ہے ۔پریشانی کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے ۔حسن مصطفی نے سکون سے آنکھیں موند لیں

________

حمزہ نے اسے اسے کچن کے دروازے کے پاس کھڑا پا کر پوچھا ۔

وہ جواب دیے بنا فریج کی طرف بڑھ گئی اور پانی کی بوتل نکال کر کلاس میں انڈیلنے لگیں

۔پانی پی کر بنا کوئی جواب دیے وہ کمرے میں چلی گئ حمزہ نے بھی ٹرے اٹھائی اور اس کے پیچھے چل دیا

۔وہ کمرے میں پہنچا تو حیا ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ائیر رنگز اتار رہی تھی

حمزہ نے ٹرے بیڈ پر رکھا اور اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا ۔اس نے حیاکی کمر پر پھیلے ہوئے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کیا

اور اس کو کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا اور اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا دیں

۔حیا حمزہ کی اس حرکت پر سٹپٹآ گئی ۔سامنے میرر میں سے اس نے حمزہ کو غصے سے دیکھا

۔پہلے ہی میڈم کی ادائیں اتنی خطرناک ہیں اب مارنے کا ارادہ ہے کیا ۔حمزہ نے اس کو ایسے غورتے ہوئے پآکر کہا

۔وہ حمزہ کو پیچھے دھکیلتی ہوئی آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی ۔وہ بھی اسی کے سامنے آکر براجمان ہو گیا

۔کب تک ایسے نظر انداز کرو گی میڈم ۔لیکن حیا کی طرف سے مسلسل خاموشی تھی

۔حیا کو مسلسل حاموش پاکر اب حمزہ کو غصہ آنے لگا اس نے روٹی کا نوالہ بنایا اور حیا کی طرف بڑھایا ۔جیسے حیا نے ہاتھ سے پیچھے کر دیا

۔حمزہ نے کھانا درمیان میں سے ہٹایا اور اس کے قریب ہو کر ایک دم سے اس کے لب پر اپنے لب رکھ دئے

اور اس کے لیپس کو لاک کر دیا۔خیامچلتی رہی وہ پوری ترھا لرز گئی ۔

حمزہ نے اسکی کمر کی گرد بازوہآیل کے اس کے جسم۔ کی کپکپاہٹ محسوس کر کے

۔حمزہ خود ہی اس سے دور ہوا اور اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا ۔

یہ میرے ہاتھ سے کھانا نہ کھانے کی سزا ہے ۔اگر آئندہ نہ کھایا تو سزا کے لیے تیار رہنا )

حیا روٹی پر دھیان دو روٹی جل رہی ہے فائزہ نے خیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔

فائزہ کی آواز پر خیا اپنے ہوش و ہواس میں واپس لوٹی۔اور اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرنے لگی ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بھائی ماما کی طبیعت خراب ہے انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں ۔

کیا ہوا ہے ماما کو ۔وحاب نے فکرمندی سے لائبہ سے پوچھا ۔پتا نہیں بھائی رات سے حمزہ بھائی کو یاد کرکے بہت رو رہی ہیں۔

ٹھیک ہے تم ماما پاس جاؤ میں آتا ہوں ۔وہاب نے کہا۔لائبہ کمرے میں چلی گئی وہاب نے موبائل نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگا

۔اور کب تک ایسا چلے گا ۔پلیز بھائی جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ۔

اور واپس اجاۓ ماما بہت پریشان ہیں ۔آپ نے جیسا کہا میں نے ویسا ہی کیا

۔جیسے ہی کال رسیو ہوئی وہاب بولنے لگ گیا۔(ابھی نہیں میرے بھائی تھوڑا صبر رکھو )موبائل میں سے آواز گونجی ۔لیکن بھائی آپ ایسا کرکیو رہے ہیں

مجھے نہیں سمجھ آرہا ۔وہ سب تم چھوڑو پہلے بتاؤ تمھاری بھابھی کیسی ہیں ۔بھابھی ٹھیک ہیں

لیکن آپ پہلے میرا جواب دیں ۔توں بس اتنا جان لے جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیری کرنی پڑتی ہے

۔بھائی مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آ رہی ۔وہ جھنجھلا کر بولا ۔دیکھ میرے بھائی جب ماما کو ان کا بیٹا واپس ملے گا تو وہ میری ہر بات مانے گی

۔اور تیری بھابھی کو بھی ایکسپٹ کر لے گئی۔اور کیا پتا تری بھابھی کو بھی عقل آجاے

۔ کہنے کے ساتھ ہی حمزہ کاقہقہ موبائل میں سے گونجا

۔او کے بھائی ماما کی طبیعت ہراب ہے میں ان کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانے لگا ہوں ۔

وہاب نے کہا ۔اوکے میرے بھائی ماما کو لےکر یہی آ جا حمزہ نے کہا اور ۔

فون کٹ کر دیا

💕
💕
💕
💕
💕

امی۔ لاے میں آپ کے کپڑے استری کر دوں ۔فائزہ نے ساجدہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔ارے نہیں بیٹا تم میرے پاس آکر بیٹھو

مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔ساجدہ بیگم نے پیڈ پر بیٹھتے ہوئے اسے پاس بلایا

۔ فائزہ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی ۔فائزہ تمہیں پتا ہے تمہارے بابا جان نے کیا فیصلہ کیا ہے

۔کونسا فیصلہ امی ۔انہوں نے فادی اور مرب کا رشتہ طے کر دیا ہے ۔سچ میں یہ تو بہت خوشی کی بات ہےفائزہ نے خوشی کا اظہار کیا

۔ہاں بیٹا خوشی کی بات تو ہے بس دونوں بچے راضی ہو جائیں ۔امی فادی کو تو میرب اچھی لگتی ہے اور میرب کی تو ہر بات میں فادی ہوتا ہے ۔

آپ پریشان نہ ہوں ہاں بیٹا کہہ تو تم ٹھیک رہی ہوں اللہ بہتر کرے گا ۔چلو بیٹا کچن میں جلتے ہیں رات کے کھانے میں دیر ہو رہی ہے ۔جی امی ۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

حیا میرب کی گود میں سر رکھے کب سے رو رہی تھی کیا ہو گیا ہے حیا کیوں رو رہی ہو کب سے

۔میرب نے اس کے رہسار پے بہتے ہوئے آنسوؤں کو ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے بولا

میرب میں ہمیشہ حمزہ سے بھاگتی تھی میں چاہتی تھی وہ میری زندگی سے چلا جائے دیکھو آج وہ چلا گیا ہے

۔مجھے سکون کیوں نہیں آرہا تھا وہ نم آواز میں بولی آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر بہ رہے تھے

میرب کے پاس کوئی جواب نہ تھا دیکھو حمزہ چلا گیا ہے میرب اب ںہیں آئے گا مجھے اپنا عادی بنا کر چلا گیا ہے وہ ہچکیوں میں بول رہی تھی

اور کتنا ستاو گے ۔کتنا میرے صبر کا امتحان لوں گے ۔برداشت کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا ہے

مگر تم تو صرف دور سے دیکھ رہے ہو نا مجھے ۔اتنا ظلم بھی اچھا نہیں ہوتا

۔کچھ تو رحم کرو نا اپنی حیاپر ۔وہ دل میں ہی حمزہ سے موہاتب ہوئی

میرب نے حیا کے لرزتے وجود کو خود سے الگ کیا حیا حمزہ بھائی آئیں گے

۔چپ کرو وو آے گے وہ بار بار آئیں گے پر زور دیتے ہوے اسے یقین دلا رہی تھی ۔تبھی فائزہ کمرے میں آگئی

۔ اس نے حیا کو روتے دیکھا تو اس کے پاس بھاگتی ہوئی آی ۔حیا بچے ٹھیک تو ہو نہ رو کیو رہی ہو

۔میں نماز پڑھ کر آتی ہوں حیا کہ کر اٹھ گئی اور کمرے سے باہر چلی گئی

ارے بھابھی آپ پریشان نہ ہوں اس کے سر میں درد تھا ۔فائزہ نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اصل بات کی طرف آئی اہم، اہم ۔میرے پاس ایک نیوز ہے

۔کون سی نیوز بھابھی ۔اسی نیوز سےجسے سن کر تمہارا چہرہ خوشی سے کھل جائے گا ۔اگر ایسی بات ہے تو میں فورا سننا چاہتی ہوں

۔نہیں میڈم امی نے منع کیا ہے ۔وھواوو ۔امی کو نہیں پتا چلے گا بھابھی ۔نہ بابا ۔

تم وہ نیوز امی سے ہی پوچھ لینا ۔ فائزہ کہ کر خود تو چلی گئی لیکن مرب کے لیے ۔سوچوں کے نیے دھارے کھول گئی

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

فادی اوٹھو ۔اٹھو بی ۔کیا ہوا ہے مرب ۔صبح ہو گئی کیا ۔نہیں رات کے ایک بجے ہیں اٹھو اب ۔

فادی نے یکدم آنکھیں کھلی۔وہ اس کے سر پر کھڑی تھی ۔تم آدھی رات کو میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو

وہ گھورتا ہوا بولا جس کو نظر انداز کرتے ھوے مرب نے اپنی بات جاری رکھی ۔تمہیں پتا ہے گھر میں کوئی کھیچڑی بن رہی ہے

۔کیا مطلب ۔؟مطلب کے کل اعظم چچا نے مجھے کمرے سے باہر جانے کا کہا

اور بابا سے اکیلے میں بات کی ۔آج صبح امی نے بھابھی سے کوئی بات کی

۔پر مجھے کوئی کچھ نہیں بتا رہا۔اس نے منہ بنا کر کہا ۔میری کہیں تمہاری شادی کی بات تو نہیں چل رہی

اس نے شرارت سے کہا

۔تم اپنا منہ بند رکھو اور مجھے بتاؤ کہ آپ بات کا پتا کیسے لگایا جائے ۔

کال صبح دیکھیں گے ابھی تم جاؤ ۔مجھے سونے دو ۔سو جاؤ لیکن کل مجھے بات کا پتا کر کے دینا ہے

تم نے ۔ورنہ تمہاری خیر نہیں۔ جا رہی ہیں ۔یہ کہہ کر وہ چھت کی دیوار پھلانگ کر اپنے چھت پر چلی گئی۔

صبح ہوتے ہی اعظم مصطفی نے فادی کو بلایا ۔جو پندرہ منٹ بعد ان کے سامنے کھڑا تھا

۔بابا آپ نے بلایا ۔ہاں بیٹا ۔میں نے اور تمہارے تایا ابو نے تمہارا اور میرب کا رشتہ طے کر دیا ہے

۔انہوں نے اٹل لہجے میں بتایا جسے سن کر فادی پر حیرانگی کے پہاڑ ٹوٹے

۔بابا یہ کیا بول رہے ہیں آپ ۔میں اور میرب صرف اچھے دوست اور کزن ہیں۔

میں نے اسے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا ۔دیکھو فادی بیٹا تمھارے تایا جان کی طبیعت اب ٹھیک نہیں رہتی میرب گھر کی بچی ہے

۔سولجھی ہوئی بھی ہے تم دونوں ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہو

۔اور میں بھائی صاحب کو زبان دے چکا ہے ۔ہمارا فیصلہ یہی ہے اگر تم اس فیصلے کو نہیں مانو گے

۔تو تم اپنے باپ کو ہمیشہ کے لئے کھو دو گے ۔اعظم مصطفیٰ نے روعب دھار اور اٹل لہجے میں کہا ۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

: وہ ہمیشہ کی طرح اپنے چھت کی دیوار پھلانگ کر فادی کے کمرے کی طرف جا رہی تھی

۔فادی کے کمرے کے باہر فادی کی آواز آ رہی تھی جو شاید کسی سے موبائل پر بات کر رہا تھا

۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گا تم پریشان مت ہو ۔میں بہت جلد بابا کو منا لوں گا ۔کس بات کے لیے منا لو کے فادی ۔میرب جو پیچھے کھڑی تھی پوچھے بنا نہ رہ سکے ۔

فادی نے اسے غصے سے دیکھا ۔تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔اب ہم بچے نہیں رہے ۔جو تم ہر وقت منہ اٹھا کے میرے کمرے میں چلی آتی ہو فدی نے غصے سے کہا

۔میں اور تم ہمیشہ سے بچے ہیں اور بچے ہی رہیں گے چلو بتاؤ ااب کیا ہوا ہے ۔وہ اس کے گسے کو نظر انداز کرتے ھوے دوبارہ بولی ۔ فدی نے آگے بڑھ کے میرب کو بازو سے پکڑ لیا

اور اپنی گرفت مضبوط کر لی اس کی انگلیاں میرب کے بازو میں دھنس رہی تھی

میرب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی ۔فدی نے ایک جھٹکے سے اسے خود سےدور کیا

..: فادی نے کبھی اس لہجے میں میرب سےبات نہیں کی تھی ۔ف فاد میرب نے کچھ کہنے کی کوشش کی اس سے پہلے ہی فادی بول پڑا

۔جاؤ یار تنگ مت کرو ۔آج فادی نے پہلی بار میرب کی دل ازاری کی تھی

۔وہ وہاں سے چلی گئی اور اپنے کمرے میں آ کر رونے لگی ۔کیا ہوا ہے میرب ۔بھابی نے اسے شاید روتا دیکھ لیا تھا

۔کچھ نہیں بھابھی۔ وہ روہانسی آواز میں بولی ۔کچھ تو ہوا ہے ۔نہیں بھابھی بس سر درد ہے۔

اچھا تم ریسٹ کرو میں میڈیسن بھجواتی ہو۔بھابھی کے جانے کے بعد وہ کافی دیر روتی رہی

۔بھابھی نے کمرے نے کھانا بھیجا لیکن اس نے وہ بھی نہیں کھایا

۔وہ بستر میں منہ دییے رو رہی تھی ۔تبھی کسی نے اس کا کندھا ہلایا ۔میرب نے سر اٹھا کر دیکھا سامنے فادی کھڑا تھا ۔

میری سوری ۔اسنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا ۔لیکن میرب کچھ نہ بولی۔

ناج ہو گئی سوری نا ۔معاف نہیں کروں گی التجائیہ لہجے میں بول رہا تھا ۔

جس پر میرب نے مسکرا دیا۔تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا ۔شاید بھابھی نے اسے بتا دیا تھا بھوک نہیں تھی

۔کیوں ۔؟وہ وجہ جانتے ہوئے بھی پوچھ رہا تھا ۔کیوں کہ تم نے آج پہلی بار اس طرح غصہ کیا

۔وہ روٹھے روٹھے لہجے میں بولی ۔سوری میری ۔اب ایسا نہیں ہوگا۔وہ کافی دیر سے مناتا رہا

۔وہ دونوں ایسے ہی تھے ۔ایک دوسرے کا بہت حیال رکھنے والے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *