Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary NovelR50678 Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 13)
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 13)
Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary
میرب سوئی ہوئی تھی اسے اپنے کمرے میں کھٹا کی آواز سنائی دی
اس نے ہلکی سی آنکھیں کھولی تو اپنے کمرے میں کسی اجنبی انسان کو پایا
۔میرب کا حلق خشک ہو گیا ۔ک کون ہو تم
کیا کر رہے ہو م۔ میں کمرے میں
۔میرب بمشکل ٹوٹے پھوٹےالفاظ میں اتنا ہی بول پائیں
۔وہ انسان جلدی سے آگے بڑہآ اور میرب کے منہ پر ہاتھ رکھ کر
اس کی گردن میں زور سے انجیکشن لگایا ۔
اس انسان کے ہاتھ کی وجہ سے اسکی چیخ وہی دب گی
۔میرب کی آنکھیں بند ہو رہی تھی
۔چ چھوڑ دو مجھے ۔تمھے اللہ کا واستہ
۔میرب بے ہوش بھی نہیں ہو پا رہی تھی
اور ٹھیک سے آنکھیں بھی کھول نہیں پا رہی تھی
نہ جانے یہ کیسا انجکشن تھا ۔وہ ٹوٹی پھوٹے آلفاظ میں مدد مانگ رہی تھی
۔آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر بستر میں جذب ہو رہے تھے
اس انسان نے میںرب کے گلے میں سے ڈوپٹہ نکالا
۔پلز ں نہیں ۔میرب کو ایسا لگا جیسے وہ کچھ ہی لمحوں میں مر جائے گی
۔مرب کے آنسو بے ایہطیار ہو گے ۔ہچکیا بندھ گئی وہ اٹھنے کی کوشش کررہی تھی
لیکن جیسے ہی اٹھنے لگتی اسے چکر انے لگ جاتا
۔میربنے اس انسان کو اپنے قریب ہوتے دیکھا ۔
اپنا ہاتھ میرب نے اس کے چہرے پر رکھ کر اسے پیچھے کرنا چاہا
۔وہ انجان آدمی ایک پل کیلئے مرب سے دور ہوا
اور ڈریسنگ کے سامنے جاکر ریڈ لپسٹک نکالی
۔وہ دوبارہ سے میرب کے سر پر کھڑا تھا
لپسٹک ہاتھ میں لیے ۔میرب کے منہ کو زور سے پکڑا
میںرب کو اس کی انگلیاں اپنے چہرے میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
۔سسسسس ۔میرب چلانا چاہ رہی تھی لیکن اس کی سسکی کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ۔
فادی کہاں ہوف فادی وہ دل میں اپنے دشمن جاں کو یاد کر رہی تھی
۔انجاں۔ آدمی نے میںرب کے لبوں پر ریڈ لپسٹک لگائیں
۔واہ بہت ججتی ہے تیرے ہونٹوں پے ۔وہ اپنی گندی نظر میںرب کے ہونٹوں پہ جمآ کے بولا
۔ہائے پر میرے اتنے نصیب کہاں ؟مجھے تو بس جتنا آرڈر ہے اتنا کروں گا
۔کہہ کر وہ انسان پیچھےہٹا ۔اور وہی لپسٹک اپنے لبوں پر لگانے لگا ۔
۔وہ دوبارہ ڈریسنگ کی طرف بڑھا
۔میرب اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی اور بیڈ سے نیچے اتر چکی تھی
۔وہ اپنے چکراتے سر کے ساتھ باہر دروازے کی طرف لپکی
۔سامنے ٹریسنگ میں وو انسان میںرب کو دیکھ رہا تھا
۔اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔کہتا ہوا وہ دوبارہ میرب کے سامنے آیا
اور زور سے اس کا کیچر کھینچ کر اتارا
۔اور ہاتھ سےپکڑ کر گھسیٹتا ہوا جا کر بیڈ پر دھکیل دیا
۔مرب نے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھا
۔میرب کی آنکھیں خوف سے پھیل چکی تھی
۔جسم میں کپکپاہٹ طاری ہو گئی
۔میرب کے بال اس کے چہرے پر پھیلے ہوئے تھے
دوپٹہ پاس زمین پر پڑا ہوا تھا ۔انجان آدمی نے اپنی شرٹ اتاری
۔اور سامنے صوفے پر بیٹھ کر ٹائم دیکھنے لگا ۔
اسکے موبائل کی رنگ ہوئی ۔اسنے میسج دیکھا
۔اورایک کمینی مسکراہٹ اس کے چہرے پر دھوڑ گئی
کچھ لمحے بعد وہ اٹھا اور میری کے قریب آیا
۔میرب کی ٹانگے جواب دے چکی تھی
۔میرب کا ہاتھ زور سے اسنے پکڑا اور اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا
۔میرب کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی
اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی
جسے اس انسان نے با آسانی ناکام بنا دیا ۔ایک دم سے دروازہ کھلا






چلو نآ فدی بہت ٹائم ہو گیا آب ہوٹل میں جاتے ہیں
۔ہریت ہے آج بڑی جلدی ہے ہوٹل میں جانے کی
۔تھک گئی ہوں نہ اس لیے ۔وہ سر فادی کے کندھے پر رکھتے ہوئے بولی ۔
چلو ٹھیک ہے ویسے بھی کافی سردی ہو گئی ہے
حمزہ بھائی کی کال آئی تھی وہ لوگ بھی کب کے ہوٹل جاچکے ہیں
۔ اب تو ہمیں بھی چلنا چاہیے ۔فدی نے بتایا ۔
کشف کے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی
۔کچھ ہی دیر بعد وہ ہوٹل میں تھے
فدی اپنے کمرے میں جانے لگا تو کشف نے آواز لگائی
۔فاتدی شائد میری جیکٹ جو۔ کے تمہارے کمرے میں ہے صبح میں وہی بھول ای تھی وہ تو مجھے دے دینا
چلو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں
۔ٹھیک ہے چلو کہہ کر فادی اگے بھرا
اور اپنے روم کا جیسے ہی دروازہ کھولا اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی
۔منہ غصے سے سرخ سفید ہو گیا پیشانی کی رگیں تن گی
ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ گی ۔سامنے میرجب کسی آدمی کے ہاتھ میں ہاتھ دئیے ہوئے اس کے اوپر جھکی ہوئی تھی
۔اور اس آدمی کے چہرے پر لپسٹک کے سرخ نشان اور میرب کے لبوں پر لپسٹک دیکھ کر فدی کا دماغ گھوم گیا
۔اس سے پہلے وہ ایک بھی قدم آگے بڑھاتا مرب کے ساتھ بیٹھا ہوآ انسان ایک جھٹکے میں اٹھا اور بھاگ کر ونڈو سے چھلانگ لگا دی
اس کی جیکٹ وہیں صوفے پر پری ہوئی تھی ۔
فادی کو دیکھ کر مرب کیروکی ہوی سانس بھال ہوئی
۔مرب اٹھنے کی کوشش کرنے لگی
۔فادی آگے بڑھا اوراس انسان کے پیچھے جانے لگا
لیکن اس سے پہلے ہی وہ جا چکا تھا
وہ سرخ سفید چہرے کے ساتھ شدید غصے میں واپس پلٹا
اور ایک خراٹے دار تھپر میرب کے منہ پر دے مارا ۔
میرب تو پہلے ہی اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھی
۔فدی کا تھپڑ پڑھنے کے بعد اس کا رنگ فق سے اڑ گیا ۔
آوہ تو تم یہ سب کر رہی ہو ہمارے پیچھے سے ۔
کشف نے ایک اور چنگاری لکھائی دوائی کا اثر ختم ہو رہا تھا
میںرب کو کچھ سمجھ نہ آیا اس کے ساتھ ہوا کیا ہے فدی م میں نے کچھ نہیں کیا تم غلط سمجھ رہے ہو
وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اتنا ہی بولی فادی نے ایک اور تھپڑ اس کے منہ پر مارا
اس کے لبوں کے کنارو سے خون نکلنے لگ گیا
وہ بیڈ پر گر گئی ۔نکل جاؤ یہاں سے
میں نے کہا ا بھی نکل جاو
فادی غصے سے اونچی آواز میں گرایا تھا ۔
اور ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر میرب کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا
اور اور جھٹکےسے اسے پیچھےدھکیل کر دروازہ بند کر دیا
مرب کی آنکھیں بے یقینی سے پتھرا گئی ۔آنسو نکلنا بند ہو گے ۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنا لرزتا وجودسرہ آنکھے لیے ہمزہ کے کمرے تک پہنچی
دروازہ کھٹکھٹایا ابھی دروازہ کھلتا اس سے پہلے ہی وہ زمین بوس ہو گئی






حمزہ نے دروازہ کھولا تو اسے سامنے کوئی بھی نظر نہ آیا
وہ پلٹ کر جیسے ہی واپس آنے لگا اس کی نظر میرب پر پڑھی میری وہ وہی زمین پر بیٹھ گیا
،اور اس کو اٹھانے کی کوشش کرنے لگا
میری اٹھو کیا ہوا ہے حیا بھی حمزہ کی آواز سن کر آ گئی
حیا بھی مرب کی طرف لپکی ۔حمزہ نے میرب کو آٹھایا
اور کمرے میں لا کر بیڈ پر لٹا دیا
۔اٹھو میرب حمزہ اور حیا مرب کوہوش میں لانے
کی کوشش کر رہے تھے
لیکن بے سود روکو میں فدی کو بلا کر لاتا ہوں
حمزہ نے کہا لیکن حیا نے ہاتھوں سے روک دیا روکیں حمزہ
مجھے لگتا ہے ہم پھلے مرب سے بات کریں گے اس کے بعد ہم فادی کو بتائیں گے
حیا نے میںرب کے چہرے پر انگلیوں کے نشان اور لبوں سے نکلتا ہوا ہون دیکھ کر کہا
حمزہ نے ایک نظر میرب پر ڈالی کسی حد تک سچویشن سمجھ تو وہ بھی گیا تھا
اسے اپنا غصہ ضبط کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا
۔حیا نے میرب کے لبوں کے کنارو سے نکلتا خون ساف کیا
۔میرب کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں وہ حمزہ اور خیا کی باتیں سن پا رہی تھی لیکن اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے پا رہے تھے
۔حیا نے میرب کی جانب نظر دھورآی میری بولو کیا ہوا ہے کہتے ہوئے حیا کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے ۔
حیا نے میرب کو دودھ پلآیا اور میڈیسن دی
۔مرب نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔حیا اور ہمزہ میںرب کے پاس ہی بیٹھے رہے صبح فجر کے ٹائم جب میںرب کی آنکھ کھلی
۔تو حیا اور حمزہ اس کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے وہ سوئے نہیں تھے
۔میرب خیا کی گود میں سررکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
۔حیاکے باڑ بار پوچھنے پر مرب نے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اسے سب بتا دیا ۔
حمزہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا
فدی تمہیں تو ہم نے چھوڑوں گا نہیں ۔
حمزہ نے سخت لہجے میں کہا اور اٹھ کر جانے لگا میرب نے اس کآ ہاتھ تھام لیا
ں ۔نہیں بھائی میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں پلیز مجھے یہاں سے لے جائے
۔میں تو دوبارہ فہد کو نہیں دیکھنا چاہتی
۔میرب نے کہا تو حیا نے اسے اپنے ساتھ گلے لگا لیا ۔







چنگاری لگا کر کشف تو اپنے کمرے میں چلی گئی
فدی کا غصے سے برا حال تھا ایک طرف تو اس کی جان سے عزیز دوست اور دوسری طرف وہ منظر جو اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا
وہ یقین اور بے یقینی کے درمیان الجھا ہوا تھا
۔کمرے کی ہر چیز تہس نہس ہوی تھی
۔شدت ضبط سے اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھی
۔کمرے میں گھپ اندھیرا کئے ۔اپنے دل و دماگ میں۔ چھری جنگ سے فرار پانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اگر کوئی اور میرب کے بارے میں ایسا کہتا تھا تو وہ کبھی بھی نہ یقین کرتا
لیکن اپنے آنکھوں دیکھا حال وہ کیسے جھٹلا سکتا تھا
_________
[.: خوفناک رات گزر چکی تھی سورج کی۔ کرنیں کمرے میں آ رہی تھی
۔فدی نے آنکھیں کھولیں ۔دسمبر میں یہ ہلکی ہلکی دھوپ کافی بھلی لگ رہی تھی
لیکن فادی کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا
وہ اٹھا ۔چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا وہ ڈریسنگ تک پہنچا
۔ اس کی نظر اپنے حلیے پر پڑی
۔شدت ضبط سے سرخ اور سوجی ہوئی آنکھیں رات کا خوفناک منظر یاد کروا رہی تھی
۔اس کی آنکھوں کے سامنے میرب کی آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھیں اس کے کپکپاتے لبوں کے کناروں سے نکلتا خون
جیسی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہو فدی تم نے سب کھو دیا
۔دل بار بار میرب کی بے گناہی کا ثبوت دے رہا تھا
۔فدی کی نظر اپنے ہاتھوں پر گئ
ہاتھوں پر بھی میرب کا روتا ہوا چہرہ ۔چہرے پر انگلیو کے نشان فدی کی تکلیف کو بڑھا رہا تھے
۔دل بار بار کہہ رہا تھا اسے میںرب کی بات سننی چاہئے تھی
۔اس کی آنکھوں کے سامنے بغیر دوبٹے کے مرب کا سراپا گوما
۔جس حالت میں اس نے میرب کو کمرے سے باہر نکال دیا تھا
رات کے اس پہر انجان شہر میں کہاں گئی ہوگی
وہ فدی کے دل میں ڈر کنڈلی مار کے بیٹھ گیا ۔
ہاتھ کے مٹھیا بینچ گئ۔ میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں ۔ اس کے ساتھ ۔
فادی نے ایک لمبا سانس کھینچا اور اپناہاتھ پورے زور سے سامنے ڈریسنگ کے شیشے پر دے مارا
شیشہ کرچی کرچی ہو گیا ۔ہاتھ لہو لہان ہو گیا ۔
اپنی تکلیف کو نظرانداز کے وہ لمبے لمبے ڈگ بڑتا کمرے سے باہر نکل گیا
: ![]()
![]()
![]()
![]()
فدی لمبےلمبےڈگ برہتے گزر رہا تھا ۔
فدی روکو حمزا نے پیچھے سے آواز لگائی
فادی نے گردن موڑ کر دیکھا تو حمزہ اسی کی طرف آ رہا تھا
۔فدی آسے دیکھتا رہا جیسے وہ کچھ بولے گا ۔
کیا ہوا ہے تمہیں تمہاری آنکھیں اتنی سرح کیوں ہیں
تم ٹھیک تو ہو ۔حمزہ نے بظاہر اپنا غصہ چھپاتے ہوئے اسے پوچھا
۔تبھی پیچھے سے کشف آگئی ۔فدی تم یہاں کیا کر رہے ہو
میں تو کب سے تمہارا کمرے میں انتظار کر رہی ہوں
۔وہ حمزہ کو نظرانداز کرتے ھوے فدی سے ہم مھاطب ہوئی
حمزہ نے ایک گسیلی نظر اس پر ڈالی
۔بھائی آپ کچھ کہہ رہے تھے فدی نے کشف کو نظرانداز کرتے ہوئے حمزہ سے پوچھا ۔لیکن دل تو کر رہا تھا
جلدی سے حمزہ اپنی بات کہے اور وہ میرب کے بارے میں پتہ چلا سکے
میرب ان کے پاس ہے یا ۔۔۔۔۔
اس سے آگے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
۔ہاں ماما کی کال آئی تھی ان کی طبیعت خراب ہے تو ہمیں آج ہی واپس جانا ہوگا
حمزہ نے چہرے پر فکرمندی کے آثار لاتے ہوئے کہا ۔
تبھی پیچھے سے حیا آگئی فدی بھائی میرب کہاں ہے
۔وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھنے لگی
۔فدی اس کے سوال پر ٹھٹکا: مرب اپ کے ساتھ نہیں ہیں۔یہ پوچھتے ہوئے اسے ایسا لگا جیسے اس کا سانس بند ہو رہا ہو
۔میرب ہمارے ساتھ کیوں ہو گی مرب تمہارے ساتھ ہونی چاہیے نا
۔حمزہ نے تشویشی انداز اپنایا ۔
: فدی کا رنگ سفید پر گیا
۔فدی کی بجائے کشف نے جواب دیا
۔وہ فدی کے ساتھ کیوں ہو گی ۔اسے فادی سے کیا لینا دینا
وہ تو کسی اور ہی چکروں میں ابھی وہ اتنا ہی بولی تھی ایک خراٹے دار تھپڑ کشف کے چہرے پر پڑا
.: تمہاری ہمت کیسے ہوئی حیا مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ۔وہ غصے سے چلائی تھی
۔تمہارے ساتھ یہی ہونا چاہیے ھیا کی بجائے حمزہ نے جواب دیا
۔تم جواب دو فادی میرب کہاں ہیں اور کشف کیا بکواس کر رہی ہے ۔
[
..: فدی تو ہکا بکا کھڑا تھا اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا
۔میںرب میریو کہاں ہو وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں خود سے ہی بولا ۔
حمزہ نے فادی کا کالر پکرا ۔
: کہاں ہے میرب ۔۔۔حمزہ نے گرا کر پوچھا
۔مجھے میںرب سے ملنا ہے مجھے مرب کو ڈھونڈنا ہے ۔فدی ہلکی سی آواز میں بولا جو بمشکل وہ خود ہی سن پایا تھا
میرب فدی کے ساتھ نہیں ہے جس کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی اسی کے ساتھ ہوگی
کشف نے چھبا چھبا کر ایک ایک لفظ ادا کیا
۔اور کس کے ساتھ ہوگی؟ اسی کے ساتھ جس کو تم کل پیسے تھما رہی تھی
۔حیا نے کشف کے سر پر بم پھورا
۔کیا بکواس کر رہی ہو تم وہ غصے سے چیخیں
حیا نے اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا موبایل ایک لمحے میں چھپٹا ۔کشف اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی
اس سے پہلے کے وہ اپنا موبائل لینے کے لیے ہاتھ آگے کرتی حمزہ نے ایک ہاتھ سے اسے روکا
۔حیا نے بولنا شروع کیا
میں فدی کو لے کر آرہی ہوں جتنے میںنے تمہیں پیسے دیے ہیں
اس کے مطابق اگر کام تھوڑا سا بھی ہراب ہوا تو تمہاری خیر نہیں ۔
جب فدی کمرے می آئے تو تم نے ایسا سین کریٹ کرنا کہ میرب منہ دکھانے کے لائق نہ رہے
ہم پانچ منٹ میں پہنچ رہے ہیں تم اپنی طرف سے تیاری مکمل رکھو
۔کہہ کر خیا نے موبائل کی سکرین سامنے کی ۔کشف کا تو رنگ ہی فق سے اڑ گیا
فدی کو تو ایسے لگا جیسے کسی نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ہو
۔جب اسکی دوست کو اس کی ضرورت تھی اسی نے اس پر یقین نہیں کیا ۔
وہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا پلٹا اور کشف کے چہرے پر نا نہ جانے کتنے تھوڑ آس کے منہ پر رسید کردئیے
۔حمزہ نے ہاتھ سے اسے روکا ۔فادی نے بے بسی سے حمزہ کی طرف دیکھا
بھائی پلیز مجھے بتا دیں میرب کہاں ہے ۔
بھائی۔ پلز بتائیں ۔وہ پھولی ہوئی سانسوں سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کررہا تھا
اس کی صرح آنکھیں جیسے ابھی پر س پریگی
۔ایک مرد بے بسی کی انتہا کو چھو رہا تھا
۔پڑ قسمت کو اس پر رحم نہیں آرہا تھا ۔
حمزہ نے ایک افسوس بری نظر فدی پر ڈالی
۔ہمیں نہیں معلوم فدی ۔رات کو میرب جس حالت میں ہمارے پاس آئی تھی ۔
صبح ہونے سے پہلے ہی وہ ہمیں بنا کچھ بتائیے ہمارے جاگنے سے پہلے جا چکی تھی
نہیں میرب ایسا نہیں کر سکتی فدی کا دل۔ ڈہوبنے لگا ۔۔۔وہ وہاں سے بھاگنے کے انداز میں جانے لگا
حمزہ نے نے ہاتھ بڑھا کر اسے روکا اب کوئی فائدہ نہیں وہ جا چکی ہے
۔حمزہ نے سخت الفاظ میں کہا ۔فدی وحی گھٹنوں کے بل زمین۔ پر ڈھے سا گیا اایک۔ لمبی سانس کھینچی جسے روکی ہوئی سانس کو اس نے بحال کرنا چاہآ
۔شدت سے سرح ہوئی آنکھوں کو اس نے زور سے بھینچا
۔ایک تیز دھار آواز میں وہ چلایا تھا مییری
۔ہلکی ہلکی بارش سٹارٹ ہوچکی تھی
آج مری کے پہاڑ بھی اس کے دکھ پر ماتم کر رہے تھے
۔جب کہ کشف غم و غصے سے پاگل ہو رہی تھی ۔
حمزہ نے فدی کو اٹھایا اور گاری میں بٹھایا
۔گاڑی کا دروازہ کھولے وہ کشف کے منتظر تھے
۔چلے جو آپ سب لوگ نفرت ہے مجھے تم گھٹیا لوگوں سے کشف اپنی زہریلی زبان سے پھنکاری
۔ٹھیک ہے مرویہیں کہہ کر حمزہ نے گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کے لئے روانہ ہو گئے
