Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen (Episode 12)

Tere Ishq Mein Yuhi Mar Na Jayen by Hajra Chaudhary

صبح حیا کی آنکھ کھلی تو حمزہ سویا ہوا تھا

۔وہ فریش ہو کر کچن میں آگئی

جہاں فائزہ پہلے سے ہی کھڑی ناشتہ تیار کر رہی تھی

حیا نے فائزہ کے ساتھ مل کر ناشتہ بنایا

ناشتہ کرکے سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے حمزہ ابھی تک سو رہا تھا

آپی میرب نہیں آئی کیا ؟نہیں عائشہ آئی تھی بتا رہی تھی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے

مجھے بس تھوڑا سا کام ہے وہ ختم کر لو اس کے بعد میں جاؤنگی میرب کے پاس تم بچے جا کر اس سے ملو

فائزہ نے پیار بھرے لہجے میں حیا کو کہا ۔جی آپی 😊

💕
💕
💕
💕
💕

: فدی صوفے پر بیٹھا سامنے لیپ ٹاپ رکھے کوئی کام کرنے میں مصروف تھا

میرب بیڈ کراون سے ٹیک لگائے مسلسل فادی کو دیکھ رہی تھی

فدی نے اس کی نظروں کی تپیش اپنے چہرے پر محسوس کی

لیکن خود کو مصروف ظاہر کرتا وہ دوبارہ سے کام میں مصروف ہو گیا

میرب کے ذہن میں ایک غزل ای

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا

وہ یوں بدلے گا یہ سوچا نہیں تھا

عجب ہے سہہ کے زخم بے وفائی

یہ دل کہتا ہے وہ ایسا نہیں تھا

سبب کوئی تو ہے ان نفرتوں کا

میں جھوٹا تھا کہ وہ سچا نہیں تھا

نہ جانے کیوں مرے حصے میں آیا

وہ دکھ قسمت میں جو لکھا نہیں تھا

بہت تنہائیاں تھیں اس سے پہلے

مگر اتنا بھی میں تنہا نہیں تھا

چلو کچھ تو گھٹن کم ہو گئی ہے

بہت دن ہو گئے رویا نہیں تھا

کنارے پر کھڑا وہ کہہ رہا ہے

سمندر اس قدر گہرا نہیں تھا

سبھی کچھ ہے ندیمؔ اب پاس میرے

بس اک وہ شخص جو میرا نہیں تھا

میرب کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر رحسار پر بہ رہا تھا

اور چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی جیسے وہ خود ہی خود پر ہنس رہی ہوں

اس کی سوچوں میں حیا نے خلل ڈالا

۔حیا نے دروازہ ناک کیا تو دروازہ خود بہ خود ہی کھلتا چلا گیا

اسے دیکھ کر فدی تو سلام دعا کر کے باہر نکل گیا لیکن

میرب اپنے ہی خیالوں میں گم تھی

کہاں گم ہیں آپ میڈم ۔حیا نے میرب کے پاس بیٹھتے ہوئے اسکے چہرے کے آگے ہاتھ لہرا کر کہا

میرب حیا کی آواز پر ایک دم چونکی ارے آپ کب آئیں وہ حیا سے گلے ملتے ہوئے بولی ۔

میں تب آئیں جب میڈم کسی اور ہی دنیا میں گم تھی ۔

حیا نے مرب کے رخسار پر پیار کرتے ہوئے کہا

میرب کی آنکھ سے ایک آنسوٹوٹ کر رخسار پر بہنے لگا

ارے کیا ہوا میرب تم ٹھیک تو ہو نہ ؟رو کیوں رہی ہو

حیا اسے روتا دیکھ کر ایک دم پریشان ہو گئی

۔میرب کے لیے اپنی حالت سنبھالنا مشکل ہوگی ۔

وہ حیا کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

۔میرب ہوا کیا ہے بتاؤ تو حیا اسکی کمر تھپتھپاتے ہوئے بولی

۔میرب نے اسے کشف کے بارے میں سب بتا دیا

۔سن کار حیران تو حیا بھی ہوئی لیکن اس نے ظاہر نہ کیا

۔میرب میں آپ کے ساتھ ہوں پریشان نہ ہو دیکھنا ایک دن فادی آپ کے پاس آئیں گے

۔حیا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔کمرے میں داخل ہوتا حمزہ بھی سب سن چکا تھا

میرب کی نظر حمزہ پر پڑی تو وہ نظر چرا گی

۔میری چھوٹی سی گڑیا اتنی بہادر کب سے ہوگی ۔

حمزہ نے میرب کے بال کھینچتے ہوئے کہا ۔روکے ہوئے آنسو ایک دفعہ پھر سے جاری ہوچکے تھے

حمزہ نے ہمیشہ لائبہ کی طرح ہی میںرب کو پیار کیا تھا

۔اس فادی کے بچے کو تو میں چھوڑوں گا نہیں

چپ کرو مری ۔حمزہ نے میرب کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

میرب حیا کے ساتھ لگی ہوئی رو رہی تھی پلیز بھائی ہمزہ بھابھی کو یا کسی اور کو مت بتائے گا

بابا کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے

علی بھائی کو پتہ چلا تو بہت غصہ ہوں گے

۔وہ روہانسی آواز میں بولی ۔نہیں بتاتا ویسے ۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔تمہیں تو میں کشف چھوڑوں گا نہیں

حمزہ نے غصے سے دل میں سوچا غصہ تو اسے فادی پر بھی بہت تھا

لیکن پہلے کشف کی باری تھی ۔ابھی وہ تینوں باتیں کر ہی رہے تھے

عائشہ اور فادی بھی آگئے فادی کو دیکھتے ہیں سب نے بات تبدیل کردی

۔۔۔میں کیا سوچ رہی ہوں فدی بھائی آپ اور میرب ہنی مون پر چلے جاؤ

۔حیا نے جان بوجھ کر فدی کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا

فدی تو حیا کی بات پر ہی سٹپٹا گیا۔

حیران تو حمزہ بھی ہوا اس کی بھولی بھالی بیوی ہنی مون کی بات کر رہی ہے

حمزہ کے دماغ میں بھی شیطان نے پناہ لی ۔فادی کو دیکھتے ہوئے جیسے ہی نظر حیا کی حمزہ پر گی

حیا نظر بدل گئی اور خود کو اندر ہی اندر کوسنے لگی ھاے یہ میں نے کیا کر دیا

۔فادی کچھ کہنے ہی لگا تھا اس سے پہلے ہی حمزہ بول پرا

فدی حیا بلکل ٹھیک بول رہی ہیں

میں اور حیا تو مری جاں ہی رہے ہیں

تم لوگ بھی ہمارے ساتھ چلو ۔حیاتو حمزہ کی بات پربے ہوش ہونے کو تھی

۔فدی نے ایک نظر اپنی دوست پر ڈالی ۔

جس کا چہرہ پہلے کی نسبت کافی مرجھا چکا تھا

طبیعت خراب کی وجہ سے رنگ بھی زرد پڑ چکا تھا

۔کچھ سوچتے ہوئے اس نے حامی بھر لی ٹھیک ہے

جیسے آپ بہتر سمجھے فادی نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا

اور موبائل میں مصروف ہو گیا ۔حمزہ نے حیا کی طرف دیکھا اور ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی

حمزہ نے حیا کو دیکھ کر ایک آنکھ دبائیں ۔آپ لوگ آگے کا پروگرام ڈسکس کریں

میں چائے لے کر آتی ہوں حیا نے تو بھاگنے والی کی

۔💕💕💕💕

حیا کچن میں چائے بنا رہی تھی تبھی عائشہ آ گی

۔آپی آپ لوگ مری جا رہی ہیں کیا؟

عائشہ نے پاس پڑی ہوئی چیر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

جی عیشہ حیا نے چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے کہا

آپ کو پتہ ہے مجھے مری جانے کا بہت شوق ہے

عائشہ نے آواز میں اداسی پیدا کرتے ہوئے کہا

تو اس میں بڑی بات کون سی ہے آپ بھی ہمارے ساتھ چلنا حیا نے عائشہ کو دیکھتے ہوئے اسے آفر کی

عایشہ تو سنتے ہی خوش ہو گئی

لیکن ایک دم سے پھر سے اداسی نے چہرے کا احاطہ کیآ

کیا ہوا اب کیوں منہ بن گیا ہے؟

اپی آپ لوگ تو ہنی مون پر جا رہے ہیں

میں ویسے ہی کباب میں ہڈی بنوں گی ۔

عائشہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا جس پر حیا کھلا کر ہنس دی

۔نہیں ہم۔ ہنی مون پر نہیں جا رہے ۔

سب مل کر کھومنے کے لئے بس جا رہے ہیں

۔آپ پریشان نہ ہوں اور اپنی تیاری کر لینا

جانے کی

۔ابھی وہ بات کر رہی تھی کے پھر عائشہ کے موبائیل کی رنگ ہوئی

۔عائشہ کال۔ سنتے ہوئے باہر چلی گئی

البتہ حیا عائشہ کے منہ سے کشف کا نام سن کر حیران ضرور ہوئی ۔

لیکن اپنا وہم سمجھتے ہوئے وہ چائے لے کر اندر کی جانب بڑھ گئیں

💕
💕
💕
💕
💕
💕

حیا رات کو میرب کے پاس ہی رک گئی

میرب تو میڈیسن کی وجہ سے جلدی ہی سو گئ

اور ان دونوں نے ملکر پیکنگ بھی کی اپنی اپنی

۔حیا مرب سلا کر اپنے کمرے میں گئی

تو حمزہ بیڈ پر کراؤن سے ٹیک لگائیں آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا ۔

حیآ نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ۔

حمزہ کو سوتے ہوئے پاکر وہ آرام آرام سے قدم اٹھاتی بیڈ پر آکر لیٹ گی

درمیان میں کشن اٹھا کر رکھا ۔

ابھی آنکھیں بند کئے کچھ لمحے ہی گزرے تھے

کہ حیا کو اپنے ہاتھ پر ہم کسی کا لمس محسوس ہوا

ہیا نے دیکھا تو حمزہ سوئے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا

حیا نے آرام سے اس کا ہاتھ پیچھے کیا

اور دوبارہ آنکھیں بند کیں لیکن فورا ہی حیا کو اپنے ہاتھ پر دوبارہ حمزہ کی گرفت محسوس ہوئی

وہ بڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھ گئی ۔حمزہ نے حیا کا ہاتھ تھاما ہوا تھا

۔حیا نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی

لیکن گرفت مضبوط تھی وہ حیران ہوئی سوتے ہوئے بھی کوئی کیسے اتنی مضبوطی سے ہاتھ پکڑ سکتا ہے

دال میں کچھ تو کالا ہے ۔حیا نے حمزہ کا ہاتھ جھٹکنا چاہا ۔لیکن حمزہ نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی اور کھینچا

تو حیا حمزہ کے سینے سے جا لگی

۔حمزہ کو حیا کی تیزی سے چلتی ہوئی دھرکنے محسوس ہورہی تھی

حیا نے چہرہ اپر اٹھایا تو ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھی

۔جسے حمزہ نے ہاتھ سے صاف کی

۔میڈم حیا ہنی مون کیلئے مری ہی بہترین جگہ ہے جتنا میڈم کو سردی میں پسینہ آتا ہے

وہ مری میں ہی ٹھیک رہیں گی ۔

حمزہ نے شرارت سے کہتے ہوئےحیا کے بال چہرے سے ہٹائے

م۔ ۔میری طبیعت خراب ہے میں ن نہیں جاؤں گی حیا نے بنا سوچے بےکار سا بہانہ ہ بنایا

۔کوئی بات نہیں جب لسٹ ٹائم مری تبیت ہراب ہوئی تھی تو آپ جانتی ہے نا کیسے ٹھیک ہوئی تھی

۔ حمزہ کی انگلی حیا کے لبو پر آ چکی تھی

۔ حیا نے آنکھیں زور سے بنچ لی ۔اور میں بھوبی جانتا ہو ۔میڈم کی طبیت کسے ٹھیک ہو گی

۔ حمزہ محبت سے چور لہجے میں بول رہا تھا ۔حیا نے ایکدم۔ جھٹکے سے خود کو حمزہ سے علیحدہ کیا

اور بھاگتی ہوئی واشروم میں گس گئی

________

صبح میرب اٹھی تو وہ پہلے سے کافی بہتر لگ رہی تھی

۔اسے اٹھتا ہوا دیکھ کرفدی اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا

۔میری مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔بولونا فادی ۔

وہ کچھ لمھے اسے دیکھتا رہا جیسے سوچ رہا ہو بات کہاں سے شروع کروں

کمرے میں چھائی ہوئی حآموشی کو میرب نے توڑا ۔

بولو نہ فادی کیا بات کرنی ہے ۔میری تم جانتی ہو ہمارے درمیان ایسا کوئی ریلیشن نہیں ہے

۔اور تمھارے دل میں بھی میرے لیے کوئی فیلنگز نہیں ہے

ہم اچھے کزن اور دوست تھے ہینا ؟

۔فدی نے بولتے ہوئے میرب کی رائے مانگی

تو میرب نے بھی سر اثبات میںہلا دیا

لیکن اندر ہی اندر اسے ایسا لگا جیسے اس نے اپنی محبت کا گلا گھونٹا ہو

۔فدی نے ایک لمبا سانس کھینچ کر دوبارہ بات کا آغاز کیا

۔میری تم نے ہی کہا تھا نا کہ ابھی حالات ایسے نہیں ہیں جب حالات نارمل ہوں

تو میں تمہیں چھوڑ دو ۔وہ ایک بار پھر سے خاموش ہوا

میرب کو سمجھ نہیں تھا آرہا ہیں فدی کہنا کیا چاہتا ہے

۔فدی نے میرب کا ہاتھ تھامتھے ہوے کہا میری اگر میں حمزہ بھائی کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوا ہوں

تو تمہارے لیے تمہاری حالت کو دیکھتے ہوئے

۔وہ جیسے اپنی دوستی کا بھرم رکھ رہا تھا یا مرب ا کو اپنی دوستی کا یقین دلآرہا تھا

یہ بات میرب نہ سمجھ پائیں ۔میری کشف بھی ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہے

میں اس سے کوئی بات چھپا نہیں سکتا میں نے اسے ہمارا پلان بتایا

تو وہ بھی ضد کرنے لگیں عائشہ سے اس نے بات کر لی ہے

وہ عائشہ کی دوست کے حوالے سے ہمارے ساتھ چلے گی

۔مرب کا رنگ سفید ہو گیا ۔دل میں درد کی لہر اٹھی ۔۔ ۔

: میرب کھلکھلا کر ہنسنے لگ گئی ۔

فدی کی پیشانی کی رگیں تن گی

۔وہ سمجھنے سے قاصر تھا آخر مرب اس پر ہنس رہی ہے یا خود پر

۔میرب جب اپنے ہی درد پر ہنس ہنس کر تھک گئی

تو اپنے رخسار پر بہنے والے آنسو کو ہاتھ سے صاف کیا

۔مجھے کوئی ایشو نہیں مجھے نماز پڑھنی ہے جاؤ یہاں سے

۔مرب نے پہلی دفعہ تلخ لہجہ اپنایا

۔اور آٹھ کر واش روم میں گھس گئی

فادی وہیں بیٹھا رہا وہ واش روم سے نکلی

اور جائے نماز پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگ گئی

۔نماز پڑھنے کے دوران فدی اسے مسلسل دیکھتا رہا

۔میرب نماز پڑھنے کے بعد کمرے سے باہر نکل کر لان میں۔ آگئی

فدی ڈھے جانے کے انداز میں ہی بیڈ پر لیٹ گیا ۔عصر کا ٹائم ہو رہا تھا

۔حمزہ حیا تیار ہوچکے تھے ۔جب سب غاری میں بیٹھنے لگے تو کشف بھی آگئی

۔کیسے ہو سب لوگ ۔کشف نے میرب کی طرف دیکھتے ہوئے دل جلآ نے ولی مسکراہٹ چہرے بھی سجا کے کہا

۔میرب گاری میں بیٹھ گئ جبکہ حیاکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کشف کو پکڑ کے دو لگا دے

۔دروازے میں کھڑے اعظم مصطفی اور فائزہ کا لحاظ کرتے ہوئے حمزہ حیا کچھ نا بولے

..: اعظم مصطفی اس وقت حیران ہوئے

جب فدی کے ساتھ کشف فرنٹ سیٹ پر بیٹھی

۔حیرانگی تو عائشہ اور فائزہ کے چہرے پر بھی تھی ۔

حمزہ کا چہرہ غصے سے سرخ و سفید ہو چکا تھا

۔کشف نیچے اترو پیچھے گرلز کے ساتھ بیٹھو

مجھے فدی سے بات کرنی ہے ضروری

۔حمزہ نے گاڑی کا دروازہ کھول کر کشف کو غصیلے لہجے میں کہا

۔کشف ہمزہ کے خطرناک تیور دیکھتے ہوئے پیچھے جا کر بیٹھ گئی ۔

گآری اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گی ۔

💕
💕
💕
💕
💕

جب وہ لوگ ہوٹل میں پہنچے تو رات کے بارہ بج رہے تھے

۔آرام کی غرض سے اپنے اپنے روم میں چلے گئے

۔کشف اور عائشہ کے لیے روم تھا

حیا اور حمزہ اور فادی اور میرب

۔کشف کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ مرب کو باہر نکال کر خود کمرے میں چلی جائے

۔ تمہیں تو ایسا سبق سکھاؤں گی میرب کے تم دوبارہ فادی کے ساتھ نظر نہیں آؤں گی

کشف نے دل میں سوچا اور زہریلی مسکراہٹ سے جاکر بیڈ پر لیٹ گئی ۔

💕
💕
💕
💕
💕

صبح ہوتے ہی سب ہی جلدی اٹھ گئے

ناشتہ کرنے کے بعد سب نے گھومنے کا پروگرام بنایا

۔کشف ہر وقت فادی کے ساتھ چپکی چپکی رہتی

خیآ نے بہت کوشش کی کشف سے بات کرنے کی

لیکن ہر بار فادی بیچ میں آ جاتا جس کی وجہ سے وہ بات نہیں کر پا رہی تھی

۔کشف اور فادی علیحدہ ہو گئے تھے

عائشہ میرب حمزہ اور حیا ایک ساتھ تھے ۔میرب بہت افسردہ تھی

اس کی طبیعت بھی ہراب ہو رہی تھی

۔۔عائشہ کی وہاں پر رہنے والی ایک دوست ہے جو اس سے ملنے آئی تو عائشہ اس کے ساتھ چلی گئی

حیا نے میرب کو تسلی دی لیکن میرب کی خراب ہوتی طبیعت کے باعث حیا اسے کمرے میں چھوڑ آئی

۔حیا نے میرب کے پاس رہنے پر بہت اصرار کیا

لیکن میرب نے اسے بھیج دیا ۔حیا اور حمزہ کوگھومتے ہوئے مغرب کا ٹائم ہو رہا تھا

کشف اور فدی کا تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا

۔حمزہ آپ چلیں میں پانی لے کر آتی ہوں

۔حمزہ حیا کے لئے کچھ جیولری لے رہا تھا

۔حیا کی نظر کشف پر پری جو تھوڑے سے فاصلے پر ہیں کسی آدمی سے بات کر رہی تھی

۔ حیا نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ اسے کچھ پیسے تھما رہی تھی

۔لیکن حیا کے پہنچتے ہی وہ آدمی نہ جانے کہاں چلا گیا

اور کشف بھی حیا کی نظروں سے اوجھل ہو گئی

۔سردی بھی ہو رہی ہے اور میں تھک گئی ہوں ہمیں حمزہ چلنا چاہیے

حیا نے اپنا سکارف اچھے سے لپیٹتے ہوئے کہا

۔حمزہ نے ایک پیار بھری نظر اس پر ڈالی اور اس کا ہاتھ تھام کر چلنے لگا ۔

وہ لوگ روم میں پہنچے حیاتو کھانا کھائے بغیر ہی سو گئی

۔حمزہ کھانا لے کر آیا تو حیا سو چکی تھی ۔

حمزہ کی نظر حیا کے سراپے پر پڑھیں ۔

سرخ سفید رنگت بالوں کو کچر میں قید کئے ہوئے

۔وہ دنیا سے بے نیاز سو رہی تھی ۔

حمزہ حیا کے اوپر جھکا اس کی پیشانی پر بوسہ لینا چاہا کے حیا کی آنکھ کھل گئی

۔حمزہ کے ہاتھ حیا کے ہاتھ پر تھے

۔چھوڑے مجھے کیا کر رہے ہیں آپ

یا اچانک اسے اتنا قریب دیکھ کر کچھ اور ہی سمجھی تھی

۔مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی د دور قیمت ہٹے وہ اس کے چوڑے سینے پر اپنے نازک ہاتھوں سے مکے برسا رہی تھی

۔حمزہ تو حیران ہی رہ گیا تھوڑا پیچھے ہٹا اور سیدھا کھڑا ہو گیا

۔حیااٹھ کر بیٹھ گئی اوہ تو میڈم ہنی مون والی بات کو لیکر سریس ہے؟😉 حمزہ پٹری سے اترا تھا

۔ ۔میں تو صرف پیار کی چھوٹی سی نشانی دے رہا تھا

لیکن اتنا بڑا الزام مجھ شریف معصوم بندے پر لگاتےھوے اپنے میڈم حیا اچھا نہیں کیا

۔وہ اس کے پاس ہوتے ہوئے بولا تو حیا آٹھ کر کھڑی ہو گئی

حمزہ نے اس کے گرد حصار بآندھ کےاسے اپنے قریب کیا

اور اک ہاتھ بڑھا کے

۔

حیا کے کان میں سے جمکا اتارتے ہوئے اس کے قریب ہو کر سرگوشی کے انداز میں گھمبیر آواز میں اپنی بات کہنا شروع کی۔

ہیا تم میری بیوی ہو تم مجھ پر ہر تریقے سے ہلال ہو مجھے مجبور مت کرو

۔تم اللہ کو راضی رکھنے کیلئے نماز پڑھتی ہو لیکن تم اپنے مجازی خدا کو ہی جب خوش نہیں رکھتی ۔تو اللہ‎ کسے راضی ہوں گے ؟

۔حیاکے ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔ ٹانگیں کانپ رہی تھی

حمزہ نے اسے پیار سے اپنی بات سمجھآی

۔حمزہ نے حیا کا کیچر اتارا ۔۔

بال اسکی کمر پر پھیل گے ۔کچھ آوارہ لیٹے چہرے کو چوم رہی تھی ۔

حمزہ نے بال اسکی گردن سے ہٹا کے اپنے دہکتے لب اسکی نازک گردن پر رکھے

م۔ میں یہ سب نہیں چاہتی ابھی

حیا نے نم ہوتی آواز میں کہا

۔آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کررہسار پر بہ رہے تھے ۔

حمزہ نے حیا کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا

شش۔ حیا آج نہیں حیا کے آنسو بے اختیار ہو گئے تھے

حمزہ نے حیا کو اپنے مضبوط اہنی بازو میں۔ اٹھایا ۔اور بیڈ پر لٹا دیا

اس نے ہر ممکن طریقے سے حمزہ کو باز رکھنے کی کوشش کی تھی

حیا نے کتنی بار اسے ٹوٹے پھوٹے بےربط الفاظ میں روکنا چاہا تھا مگر وہ بھی حمزہ تھا جو ٹھان لیتا تھا وہ کر کے ہی رہتا تھا

حیا کی سسکیاں اس کے مضبوط کشادہ سینے میں دھب کے رہ گی

وہ کچھ نہ کرسکیں اس کی مضبوط گرفت کے سامنے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *