No Download Link
Rate this Novel
Episode 41
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Episode 41
Last epi
جنت آکر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی سمر بھی اُس کے پیچھے چلا آیا
پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ہے جب دیکھو مٹکتی رہتی ہے آگے پیچھے اور جلی کٹی باتیں کرتی رہتی ہے ۔۔۔میں کیوں کسی کو کنٹرول کرنے لگی ۔۔۔آئیندہ اگر اُس نے مجھ سے ایسے بات کی نہ تو میں اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Shhshshshhshsh
سمر نے ایک دم سے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا جس پر جنت نے اُسے چونک کر دیکھا وہ چہرہ اُس کے بہت قریب لے آیا تھا جنت کے ہونٹوں سے انگلی ہٹا کر اُس نے باہر کی جانب اشارہ کیا جس پر جنت نے اُس طرف دیکھا جہاں ایک پیڑ پر دو سفید پرندے بیٹھے تھے وہ منظر بہت دلکش تھا جنت نے دوبارہ سمر کی جانب دیکھا تو وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا جنت نے آنکھیں بند کر لی سمر نے اُس کے ہونٹوں کو چھونا چاہا لیکن اچانک جنت کا سر اُس کے کندھے پر آ گرا اس نے اسے جنت کی ناراضگی سمجھتے ہوئے دھیرے سے اُسے خود سے الگ کیا لیکن جب اُس کے ہونٹ سے نکلتے خون پر نظر پڑی تو اُس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی
جنت۔۔۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔۔جنت
وہ پریشان ہو کر جنت کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا جنت نے بہت مشکل سے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا
تم ٹھیک تو ہو نہ کیا ہورہاہے تمہیں۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے انگوٹھے سے اُس کے ٹھوڑی تک آتی خون کی لکیر کو صاف کیا
پتہ۔۔۔۔۔پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔چکر سا ۔۔۔۔۔۔آرہا ہے
جنت نے بمشکل آواز نکال کر کہا
کچھ نہیں۔۔۔۔۔ہم لوگ ابھی ہاسپٹل جا رہے اوکے ٹن بیٹھو ٹھیک سے
اُس نے خود جنت کو ٹھیک سے بٹھاتے ہوئے سیٹ بیلٹ باندھ دیا اور خود جلدی سے گاڑی سٹارٹ کرلی جنت کی آنکھیں بند ہوتی دیکھ کر اُس کے دل کو کچھ ہو رہا تھا اُس کا دھیان سڑک سے زیادہ جنت پر تھا
جنت آنکھیں کھلی رکھو پلیز۔۔۔۔۔۔بس دو منٹ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی پہنچ جاینگے۔۔۔۔۔
اُس نے ایک ہاتھ سے جنت کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور گاڑی کی رفتار اور تیز کردی تھی ہسپتال زیادہ دوری پر نہیں تھا اس لیے وہ اُسے جلدی سے لے کر پہنچ گیا تھا اُس نے ایکدم سے گاڑی کو بریک لگایا تھا اور جنت کو گود میں اٹھا کر تیزی سے ہسپتال کے اندر داخل ہوا تھا جنت کو دیکھتے ہی ڈاکٹر نے اُسے بتا دیا تھا کے یہ پوائزن کا اثر ہے اور جنت کو جلدی سے اندر لے جاتے ہوئے اُس کا علاج کرنا شروع کیا تھا لیکن اُن کے جانے کے کتنی دیر بعد تک وہ سن کھڑا رہا
اگلے ایک گھنٹے تک وہ دل ہی دل میں جنت کے ٹھیک ہونے کی دعا کرتا رہا اور ہے چینی نے آپریشن تھیٹر کی جانب دیکھتا رہا ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر نے آکر اُسے بتایا کہ جنت ٹھیک ہے اور اُس کے دلوں ڈھیروں سکون محسوس ہوا
ڈاکٹر نے اُسے یہ بھی بتایا کہ زہر بہت تیز تھا اور اگر وہ جنت کو جلدی نہ لے کر آتا تو مشکل ہو سکتی تھی اور اُس سے آگے سمر سننا نہیں چاہتا تھا نہ سوچنا چاہتا تھا
اُسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کے یہ کس نے کیا ہوگا اور اب وہ اُن کو اُن کے انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکا تھا جنت کو کھونے کے خیال سے ہی اُس کے اندر ایک جنون سا آگیا تھا اُن لوگوں سے بدلہ لینے کے لیے جنہوں نے یہ کیا تھا
💜💜💜💜💜💜💜
دو دن لگے تھے جنت کو ٹھیک ہو کر گھر آنے میں اور ان دو دنوں تک سمر نے اُسے ایک پل کے لیے بھی اکیلا نہیں رہنے دیا تھا ہر پل ہر وقت وہ اُس کے سامنے رہا اُس نے جنت کو بستر پر لیٹا کر كمفر ٹھیک سے اوڑھا دیا تھا
تم ریسٹ کرو میں تھوڑی واپس آؤنگا
وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے باہر جانے لگا لیکن جب اُس کی شرٹ اوپر اٹھی اور جنت نے اُس کے پاس گن دیکھی تو اُسے جلدی سے آواز دی
سمر۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُس کی جانب دیکھا جنت نے ہاتھ بڑھا کر اُسے قریب آنے کا اشارہ کیا جس پر وہ اُس کے پاس آیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا
کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اٹھ کر دونوں ہاتھوں سے سمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
کچھ کام ہے ۔۔۔۔۔ابھی آجاونگا
نہیں پہلے بتاؤ کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔
جنہوں نے تمہیں تکلیف پہنچائی اُن سے بدلہ لینے۔۔۔۔۔
سمر نے اُس کی جانب دیکھ کر صاف صاف بتا دیا
نہیں تم ایسا کچھ نہیں کروگے۔۔۔۔۔
جنت نے جلدی سے کہا جس اور سمر نے اُسے حیرت سے دیکھا
تم چاہتی ہو میں اُن کو چھوڑ دوں ۔۔۔جنہوں نے تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہا۔۔۔اُن کو اس کی سزا نہ دوں
سمر نے اُس کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے غصے کہا
اُنھیں سزا دینگے لیکن اس طرح نہیں۔۔۔۔۔۔تم کچھ نہیں کروگے۔۔۔۔۔تمہارے چہرے پر معصومیت اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ غصّہ۔۔۔۔یہ بدلہ۔۔۔ یہ سب تمہیں سوٹ نہیں کرتا سمر۔۔۔۔۔۔۔۔پرومس کرو کے ایسا کچھ نہیں کروگے
جنت نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا سمر نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئی اُس کی پیشانی سے پیشانی ٹکا دی
اگر تمہیں کچھ ہو جاتا نا تو میں بھی مر جاتا پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے سارے عاشق یہی کہتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے مسکراتے ہوئے کہا سمر نے پیچھے ہو کر اُسے دیکھا
لیکن تم ہی تو کہتی ہو نہ کے میں پاگل ہوں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔تو کیا میں یہ نہیں کر سکتا
لیکن اب تو میں زندہ ہوں نہ اور مجھے لگتا ہے تمہیں اُس ہنی ٹائپ کی لڑکیوں سے بچائے رکھنے کے لیے میرا ہونا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سمر بھی اس کی بات پر مسکرایا
اور میرے جینے کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے کہتے ہوئی اُس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے
The end
By۔۔۔sanaya khan
💜💜💜💜💜💜
