No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 22
عائشہ اپنے بھائی سے بات کرو بتاؤ اُسے میرے اور جنت کے بارے میں۔۔۔۔۔۔
کبیر نے ایک نظر بھی اُسکے خوبصورت چہرے کو غور سے نہیں دیکھا تھا جو اُسکی بات سن کر پہلے سے اور زیادہ اُداس ہو گیا تھا آج ریسیپشن تھا اور کل سے آج تک کبیر نے اُس سے صرف یہی بات کہی تھی جب اس نے جنت اور سمر کو اسٹیج پر آتے دیکھا لیکن عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا خاموش بیٹھی رہی
سمر نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ کرتا نہیں پہنیگا چاہے کچھ بھی ہو جائے اسی لیے آج وہ بلیک سوٹ میں اور جنت بلیک گاؤن میں میچنگ میچنگ سے کھڑے تھے
سمر کسی سے کال پر بات کررہا تھا اور جنت اُسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی، کیوں کہ اُس کے پاس وہی فون تھا جس پر جنت نے پانی ڈال دیا تھا اُسنے جنت کی جانب دیکھا تو جنت نے انجان بنتے ہوئے چہرہ سامنے کر لیا
میرا فون واٹر پروف ہے کوئی اگر اس پر جگ بھر کر پانی بھی ڈال دے تو کوئی فرق نہیں پڑتا
وہ مسکراتے ہوئے بولا
تو مجھے کیوں بتا رہے ہو
وہ اُس کی جانب دیکھ کر بولی
ایسے ہی جنرل نالج۔۔۔۔۔۔..اگر تمہیں کبھی اپنی بھڑاس نکالنی ہو تو کچھ اور طریقہ آزمانا اس لیے
میں نے پانی نہیں ڈالا تھا اوکے
اُسکی طنزیہ باتوں پر اُسنے صاف جھوٹ بولا اور سامنے دیکھنے لگی
تم نے نہیں ڈالا تو پھر کس نے ڈالا ہوگا۔۔۔۔۔۔کہیں اسے خود نہانے کا شوق تو نہیں ہو گیا
وہ حیرانی کا ناٹک کرتے ہوئے بولا
کوئی کیوں ڈالے گا ہوسکتا ہے جگ خود گر گیا ہوگا
ہاں ہو سکتا ہے لیکن جگ گرنے کے بعد خود سیدھا بھی ہو گیا یہ بات تھوڑی شاکنگ ہے ۔۔۔ہے نا۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے بولا اور جنت نے اُسے گھور کر دیکھا
لیکن ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔آفٹر آل یہ انڈیا ہے ادھر تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ بھڑک کر سب کے سامنے اس کی انسلٹ نا کردے اس لیے جلدی سے بولا
💜💜💜💜💜💜
وہ لوگ گھر آچکے اور عائشہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھی خاموش اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے آنسو بہا رہی تھی کبیر نے اُس کی خاموشی پر آنکھوں ہی آنکھوں میں جو غصّہ ظاہر کیا تھا اُس سے عائشہ بہت ہرٹ ہوئی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اُسنے جلدی سے آنسو صاف کرکے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پلٹ کر دیکھا الیشا کو اس وقت دیکھ کر و حیران ہوئی تھی جلدی سے کھڑی ہو گئی الیشا نے کبیر کو گھر واپس آنے کی بجائے اتنی رات گئے کام کا بہانہ کرکے باہر جاتے دیکھا تو سمجھ گئی کے کس حد تک وہ غلطی کر رہا ہے
مجھ سے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتی ہوں تم رو رہی تھی اور یہ بھی جانتی ہوں کے تمہارے انسوں کی وجہ کیا ہے
الیشا نے کہا تو عائشہ نے سر اٹھا کر اُسے حیرانی سے دیکھا
ہاں بیٹا۔۔۔میں کبیر کی ماں ہوں وہ کچھ نا بھی کہے تو سمجھ سکتی ہو اُسکے دل کی بات۔۔۔مجھ سے غلطی ہو گئی تمہیں شادی سے پہلے ہی سب کچھ بتا دینا چاہیے تھا۔۔۔۔لیکن میں نے سوچا کہ کیوں تمہارے دل میں یہ رنجش پیدا کی جائے جب کے کبیر خود شادی کے لیے راضی ہے ہو سکتا ہے تمہارے آنے کے بعد وہ پچھلا سب کچھ بھول کر ایک نئے سرے سے شروعات کریگا لیکن آج جب تمہارے چہرے کی اُداسی دیکھی تو سمجھ آیا کے میرا فیصلہ غلط تھا ۔۔۔۔۔
کبیر بچپن سے جو چیز چاہتا ہے وہ اُسے ملتی آئی ہے اُسکی ہر خواہش پوری کی ہے ہم لوگو نے شاید اسی لیے وہ اب اتنا محسوس کر رہا ہے کے اُس نے کچھ کھو دیا ہے۔۔۔۔۔۔میں بھی چاہتی تھی کے میرے بیٹے کی خواہش پوری ہو لیکن جنت اور سمر کے رشتے کے ساتھ بہت سارے رشتے جڑے ہے ۔۔۔۔۔۔میرے ابو کی آخری خواہش تھی وہ میں کیسے اُس میں رکاوٹ ڈال دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بیٹا دنیا کی ہر شادی محبت کے بعد نہیں ہوتی بلکہ اکثر شادی کے بعد بھی محبت ہوتی ہے تم یقین رکھو ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا تمہیں تمہارے حصے کا پیار بھی ملےگا اور حق بھی۔۔۔۔۔
اُسکی باتوں سے عائشہ کو ہمت ملی لیکن ایک ڈر بھی تھا دل میں
وہ کہتے ہیں کے وہ جنت کے علاوہ کبھی کسی سے پیار کر ہی نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔
پیار کسی کی ملکیت نہیں ہے جو اس پر مرضی چلے گی کسی کی۔۔۔۔۔جنت سے بھی اپنی مرضی سے محبت نہیں کی تھی اُس نے وہ تو شروع سے جانتا تھا کے جنت صرف سمر کی تقدیر میں ہے۔۔۔۔تم اُس کی سوچ کو غلط ثابت کرو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے مجبور کر دو خود سے محبت کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔یہ تمہارا حق ہے اور حق حاصل کرنا تمہارا فرض۔۔۔۔نکاح کے رشتے میں بہت طاقت ہوتی ہے اُس طاقت کو اپنا ہتھیار بناؤ اور اسکا دل جیتنے کی کوشش کرو زیادہ دیں حقیقت سے بھاگ نہیں پائیگا وہ
الیشا نے اسکا ہاتھ تھام کر سمجھاتے ہوئے کہا
آپ میرا ساتھ دینگی نے امی۔۔۔۔۔۔
عائشہ نے پر امید نظروں سے اُسے دیکھا
ہاں بیٹا میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دونگی ۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا وقت لگیگا لیکن دیکھنا وہ خوبصورت دِن ضرور آئیگا
💜💜💜💜💜💜💜
جنت اتنی بری طرح تھک گئی تھی کے روم میں آتے ہی بستر پر گر گئی نا اُسے کپڑے چینج کرنے کا ہوش رہا نا اپنی جویلری اُتارنے کا سمر کو آج کا سارا دن بھی موقع نہیں ملا تھا اُس سے کوئی بات کرنے کا اُس نے سوچا کہ اب بات کریگا لیکن اب اُسے سوتا دیکھ کر اسکا پلان فیل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا اوپری کورٹ اتار کر جنت کے قریب بیٹھتے ہوئے اُسکے سر سے مانگ ٹیکا نکالنے لگا یہ سوچ کر کے جنت کو اس سے اُلجھن ہو رہی ہوگی اُسکے بعد اُسکے کان سے ایئر رنگ نکال کر سائڈ میں رکھے اُسکی ناک سے نوز رنگ نکال دی اور نوز رنگ کی چین جو اُسکے بالوں میں اُلجھ گئی تھی اُسے نکالنے کو اُس پر جھکا تھا لیکن جنت کو اتنے قریب سے دیکھ کر اسکا دھیان چین سے ب بھٹک کر کہیں اور چلا گیا تھا وہ اُسکے لبوں کو دیکھ کر ایک گستاخی کرنے کے خیال سے مسکرا رہا تھا اور پھر اپنے خیال پر عمل کرنے کے اراد سے اُسکے مزید قریب ہوا تھا اُس کے بال جنت کی پیشانی کو چھو رہے تھے اور شاید اُسے نیند میں بھی احساس ہو رہا تھا کے کوئی اُسکے اتنے قریب ہے اسکا کروٹ بدلنے کا ارادہ دیکھتے ہی سمر ایکدم سے پیچھے ہوا ورنہ جنت کا سر اُسکے سر سے ٹکراتا اور اُس کے بعد قیامت بھی آسکتی تھی زلزلہ بھی آسکتا تھا کچھ کہہ نہیں سکتے
کروٹ لیکر وہ سیدھی ہو گئی تھی اور ہاتھ سر کے اوپر رکھ دیا تھا جس سے اُس کا دوپٹہ چہرے کو ڈھک گیا تھا سمر نے اُسکے دونوں سائڈ میں ہاتھ رکھتے ہوئی بنا ٹچ کیے ایک بار پھر اُسکے قریب ہوا تھا اور دوپٹہ سے واضح نظر آتے اُسکے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے اور اگلے چند سیکنڈ میں ہی جنت کو کچھ بھی محسوس ہو اُس کے پہلے پیچھے ہٹ گیا تھا
💜💜💜💜💜🙊
