Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 35
وہ کپڑے چینج کرکے بیڈ پر آئی تو دیکھا سمر کا موبائل بیڈ پر ہی پڑا تھا وہ ہمیشہ ہی موبائل کہیں نا کہیں بھول جاتا تھا جنت موبائل لے کر اُس کے روم میں آئی دروازہ تھوڑا سا کھول کر دیکھا تو روم خالی تھا اُس نے سکون کا سانس لیا کیوں کے اس وقت وہ اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اور دھیرے سے چل کر اندر آئی فون بیڈ کے سائڈ ٹیبل پر رکھا اور جانے کے لیے پلٹی لیکن ایکدم سے اُس کے قدم رک گئے سمر کو دروازہ بند کرتے دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔اُس کے اندر آتے ہے وہ پیچھے سے نکل کر آیا تھا اُس نے دروازہ لاک کیا اور وہیں دیوار سے ٹیک لگائے اُسے مسکرا کر دیکھنے لگا اُسکے انداز پر جنت کا دل بہت زور سے دھڑکا اُس نے اپنی سانس کو اندر ہی روکے رکھا اپنے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے نظریں سمر سے ہٹائی اور دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا لیکن ہینڈل کو دبانے سے پہلے ہی سمر نے قریب آکر اُس کےاسی ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
جنت کی پشت سے لگتے ہوئے اُس نے اپنا دوسرا ہاتھ اُسکے پیٹ پر رکھا تھا جنت نہ اپنا ہاتھ ہینڈل سے ہٹا سکتی تھی نہ پیچھے جا سکتی تھی نہ باہر جا سکتی تھی سمر نے اُسکے بال کاندھے سے ہٹاتے ہوئے پیچھے کیے اور چہرہ اُس کے اور قریب لے آیا تھا اُسکی سانسوں کی تپش سے جنت کو اپنے کان میں سنسنی سی محسوس ہو رہی تھی سمر نے اُسکے گال پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے اور جنت نے اپنے آزاد ہاتھ سے اپنی ٹی شرٹ کے گلے کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا سمر نے ہونٹ اُسکے چہرے سے ہٹا کر اُسکے گلے پر رکھے تھے اور ہینڈل سے ہاتھ ہٹا کر اُسکے شولڈر سے ٹی شرٹ کو نیچے کیا تھا اور اگلے پل اپنے کندھے پر اُسکے ہونٹوں کو محسوس کرکے جنت نے جلدی سے پلٹ کر اُسے پیچھے کیا تھا اور ٹی شرٹ ٹھیک کرتے ہوئے وہاں سے نکل کر آگے بڑھی تھی باہر جانا تو مشکل تھی ورنہ وہ اس وقت غائب ہو جانا چاہتی تھی سمر نے آگے بڑھ کر اُس کا رخ اپنی جانب کیا تھا اور جنت کسی روبوٹ کی طرح پلٹی تھی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر آج پہلی دفعہ جنت کو اپنے جسم میں کپکپی محسوس ہو رہی تھی سمر دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھامتے ہوئے اُسکے ہونٹوں پر جھکا تھا اور اُسکے نچلے لب کو اپنے ہونٹوں میں قید کرتے ہوئے کتنی ہی دیر اپنے جذبات لٹاتا رہا

کبھی کبھی پیار کو اظہار کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بس دل کی بات سیدھے دل تک پہنچ جاتی ہے جیسے بنا تمہارے بولے تمہاری آنکھیں ہر بات کہہ جاتی ہے۔۔۔۔لیکن پھر بھی میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں

سمر نے اُس کا چہرہ اب تک ایسے ہی تھاما ہوا تھا اور جنت اُسکی بات پر بہت غور سے اُسے دیکھ رہی تھی سمر جیسا انسان اتنی سنجیدہ باتیں کریں تو کون حیران نا ہو۔۔۔۔۔

یہ جو تھوڑا سا فاصلہ تمہارے اور میرے بیچ باقی ہے میں اسے بھی ختم کر دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔میں تمہارے اتنے قریب آنا چاہتا ہوں کے تم اور میں الگ نا رہ جائے۔۔۔۔۔۔کیا تم مجھے اجازت دو گی
جنت اُسے اسی طرح دیکھ رہی تھی اُس کے لہجے میں جو سچائی تھی اُس کی آنکھوں میں جو پیار تھا اور اُسکے الفاظوں میں جو تاثیر تھی اُس نے جنت کے دل کے دروازے پر دستک دی تھی وہ جنت کے اشارے کا انتظار کر رہا تھا اور جنت نے وہ اشارہ اُسکے سینے سے لگ کر دیا وہ خود اُس کی محبت کے لیے ہی جیتی آئی تھی اور اب جب وہ مہربان ہو رہا تھا تو جنت کیسے اُسے ٹھکرا سکتی تھی
سمر نے اپنے بازؤں کے گھیرے کو تنگ کرتے ہوئے اُسے پوری طرح خود سے لگا لیا تھا

سمر نے دیوار سے لگے سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھ کر کمرے کی لائٹ بند کر دی تھی اب کمرے میں صرف لیمپ کی تھوڑی سی روشنی تھی جنت اُس سے الگ ہوئی تھی اور سمر نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اُسے بیڈ تک لے آیا تھا اور دونوں کندھوں سے تھامتے ہوئے بیڈ پر بٹھایا تھا جنت اُس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی اور سمر ایک پل کے لیے بھی نظر اُس کے چہرے سے نہیں ہٹا رہا تھا سمر نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود جنت کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے اور اوپر جاتے ہوئے شولڈر سے گردن پھر وہ اُسکے گلے پر جھکا تھا اور ساتھ ہی ایک ہاتھ سے اُسے پش کرتے ہوئے اُسے بیڈ پر لٹا دیا تھا اور اسی ہاتھ کو شرٹ ہٹا کر اُسکی کمر پر رکھا تھا اور اگلے ہی لمحے اپنے ہاتھ کی جگہ اُس نے ہونٹ رکھے تھے اور جنت نے تکیے کو سختی سے پکڑتے ہوئے آنکھیں بند کر لی تھی

جنت نے اُسکی بڑھتی وارفنگی سے پریشان ہو کر اُسے پیچھے کرنا چاہا لیکن یہ اُس کے بس کے باہر تھا آج اُس نے بتا دیا تھا کے اُس کے کئی روپ ہے کبھی بہت نرمی تو کبھی اتنی شدّت۔۔۔۔۔۔۔جنت نے اپنے دونوں پیر سمیٹ کر اوپر کیے ہوئے تھے اور ایک ہاتھ سے سمر کی آستین کو مضبوطی سے پکڑ ہوا تھا سمر نے پیچھے ہو کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اُسے دیکھا تھا اور اُس کے پیروں تک ہاتھ لے جا کر اُنھیں سیدھا کیا تھا اپنی شرٹ نکال کر اُس نے سرہانے رکھی تھی اور جنت کے دونوں شولڈر سے ٹی شرٹ کو نیچے کرتے ہوئے اسکی گردن پر جھکا تھا
وہ جنت کے وجود پر پوری طرح قابض ہو چکا تھا اور جنت کی دھڑکنیں بہت تیز ہو گئی تھی اُس نے جنت کے سرہانے رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے لیمپ کی روشنی کو بند کردیا تھا جس سے کمرے میں گہرا اندھیرا چھا گیا تھا
💜💜💜💜💜