Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

Sun_mere_humsafar
Sanaya khan
Epi 24

میں نے تم سے کہا تھا نا کے سب کو سچ بتادو تو کیوں یہ ڈراما کر رہی ہو کے سب نارمل ہے۔۔۔۔تمہارے مام ڈیڈ واپس جا رہے ہیں تم بھی کیوں نہیں چلی جاتی اُن کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں گھر سے باہر نکلے تھے کبیر کا موڈ کافی خراب ہو چکا تھا جنت اور سمر کو ساتھ دیکھ کر و غصے سے عائشہ کو بولا جس پر وہ حیرانی سے اُسے دیکھنے لگی

دیکھو عائشہ میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے نہ مجھے تم سے کوئی شکایت ہے غلطی میری ہی تھی جو تم سے شادی کی ۔…۔۔۔۔۔۔لیکن پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میری مشکلیں مت بڑھاؤ میں جنت سے پیار کرتا ہوں اور اگر چاہوں تو بھی کبھی تم سے پیار نہیں کر سکتا ہماری شادی کا کوئی فیوچر نہیں ہے ہم میں سے کوئی خوش نہیں رہ پائیگا کبھی ۔۔۔۔۔۔۔میں چاہوں تو خود بھی سب کو جا کر یہ کہہ سکتا ہوں اس ناٹک کو پل میں ختم کر سکتا ہوں لیکن اس سے بہت کچھ غلط ہو جائیگا ۔۔۔۔۔۔سالوں تک جو فاصلے تھے نا اب اُس سے بھی کئی زیادہ برا ہوگا لیکن اگر تم اپنے بھائی کو اچھے سے سمجھاؤ کے وہ جنت کو طلاق دے دیں تو کوئی پرابلم نہیں ہوگی عائشہ۔۔۔۔۔ کوئی خاص فرق نہیں پڑےگا یہی سوچے گے سب کے جو ہو رہا ہے ہم سب کی مرضی سے ہو رہا اور وہ زبردستی کرنے والے پرنٹس نہیں ہے ہمارے ….وہ سمجھ جائینگے کے ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے
پلیز میں تم سے ریکویسٹ کر رہا ہوں میری بات مان لو

وہ غصّہ کنٹرول کرکے اپنے لہجے کو نرم بناتے ہوئے بولا عائشہ کو ناراض کرکے وہ اپنی مشکل نہیں بڑھانا چاہتا تھا
نہیں میں یہ نہیں کر سکتی یہ جھوٹ ہے کے اس میں سب کی مرضی اور خوشی شامل ہے ۔۔۔۔یہ صرف آپ چاہتے ہے ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔آپ صرف اپنے بارے میں سوچ رہے ہے ۔۔۔۔اور اُسے سب کی مرضی بتا رہے ہے میں بتاتی ہو سچ کیا ہے
سچ یہ ہے کہ جنت سمر سے الگ نہیں ہونا چاہتی
سچ یہ ہے کہ سمر جنت کو نہیں چھوڑ سکتا
اور سچ یہ بھی ہے کے میں اس رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہماری مرضی اور یہ ہمارا سچ ہے آپکا سچ صرف آپکا جنون ہے جو آپکو کچھ اور دیکھنے نہیں دے رہا
اور آپ جب اتنے ہی اندھے ہو چکے ہیں اس جنون میں تو توڑ دیجئے اس حد کو بھی کیوں کسی کا خیال کر رہے ہیں جا کر بتا دیجئے سب کو کے آپ کیا چاہتے ہیں
تو کیا ہوا اگر پھر سے آپ کی امی اپنی بہن سے دور ہو جائیگی
تو کیا ہوا اگر آپکی نانی پھر اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے ترستی رہےگی
تو کیا ہوا جو ایک بار پھر آپ کے ابو کی دوستی ایک کہانی بن کر رہ جائیگی
آپ کا جنون تو آپ سے کچھ بھی کروا سکتا تو پھر کیوں پرواہ کر رہے ہیں سب کی جا کر اعلان کر دیجئے کی آپ کے لیے آپکی یہ ایک طرفہ محبت کے علاوہ اور کوئی چیز معنی نہیں رکھتی

عائشہ نے اطمینان سے کہا یہ پہلی دفعہ تھا جب اُس نے کبیر کی بات کا جواب دیا تھا اور ایسا جواب جس کی کبیر کو ہرگز امید نہیں تھی

میں تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آرہا ہوں اور تم مجھے سخت ہونے پر مجبور کر رہی ہو اگر تم یہ سوچ رہی ہو نا کے کچھ وقت میں میں جنت کو بھول جاؤنگا اور تمہیں اپنا لونگا تو یاد رکھو وہ دن کبھی نہیں آئیگا میں کبھی تمہیں نہیں اپنا سکتا میں صرف جنت سے پیار کرتا ہوں چاہوں تو آزما کر دیکھ لو مہینے سال یا صدیاں لیکن میرے جذبات کبھی نہیں بدلے گے میں جنت کو سمر کو الگ کر کے ہے رہونگا اور ہاں میں چاہوں تو ابھی جا کر سب کو بتا سکتا ہو کے میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا لیکن یہاں سوال میرے امی ابو کا ہے اسلئے میں چپ ہو لیکن اگر ضرورت پڑی تو میں یہ بھی کر گذروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر غصّہ ہوتے ہوئے بولا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرکے بھگا لے گیا صاف جتاتے ہوئے کے اُسے کوئی پرواہ نہیں کے تمہیں لے جانا ہے یہ نہیں وہ افسوس بھاری نظر سے اُسے جاتے دیکھتے ہوئے واپس پلٹ کر اندر جانے لگی جب اُسنے اپنے پیچھے سمر کو دیکھا تو جلدی سے مسکرا کر آگے بڑھی تاکہ اُس پر کچھ ظاہر نہ ہو جائے

سیم۔۔۔۔۔۔وہ کبیر کو کسی کام سے باہر جانا تھا اسلئے وہ جلدی جلدی میں نکل گئے میں ۔۔۔۔۔۔

بس ۔۔۔۔۔۔مجھ سے کچھ بھی جھوٹ مت بولو میں نے سب سن لیا جو کبیر نے کہا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کاٹ کر بولا وہ کبیر اور عائشہ کو روکنے کے ارادے سے باہر آیا تھا اور جب اُسنے کبیر کو عائشہ سے غصے میں بات کرتے دیکھا تو اُسکے قدم رک گئے تھے وہ چاہتے ہوئے اُن کے بیچ آکر بول نہیں اسکا کیوں کے اُسے بہت بڑا شاک لگا تھا کبیر کا یو روپ دیکھ کر اُس نے بڑھ کر عائشہ کو گلے لگا لیا

آئی کانٹ بلیو کے وہ اتنا سیلفش ہے ۔۔۔۔۔اُس نے دھوکہ دیا تم کو ۔۔۔۔اگر وہ جنت سے ہی پیار کرتا تھا تو تم سے شادی کیوں کی اُس نے۔۔۔۔۔۔۔بٹ ڈونٹ وری میں اُسے تم کو اور ہرٹ نہیں کرنے دونگا ۔۔۔۔جا کر کہہ دو اُسے کے سمر جنت کو طلاق دینے کے لیے تیار ہے
وہ سنجیدگی اور دکھ سے بولا عائشہ اُس کی بات سن کر فوراً پیچھے ہوئی

۔نہیں سیم۔۔۔۔۔۔۔تم ایسا نہیں کروگے۔۔۔۔۔۔۔۔چاہے کچھ بھی ہو جائے لیکن تم جنت سے الگ ہونے کی بات نہیں کروگے

لیکن کیوں۔۔۔۔کبیر یہی تو چاہتا ہے نا اسی لیے تمہیں ایسے ٹریٹ کررہا ہے۔۔۔۔۔چھوڑ دو کبیر کو وہ تمہارے لائق نہیں ہے عایش۔۔۔۔۔اور جنت میرے لیے تمہاری لائف سے زیادہ ضروری نہیں ہے ۔۔۔۔کبیر نے سب کے سامنے بول دیا تو پرابلم ہو جائیگی اچھا ہے کے جیسا و چاہتا ہے ویسا ہو جائے مام ڈیڈ کو میں سمجھا دونگا

نہیں سیم تم ایسا نہیں کروگے۔۔۔۔۔کیوں کے میں چاہتی ہی نہیں ایسا ہو میں کبیر سے الگ نہیں ہونا چاہتی میں یہ رشتہ نہیں توڑنا چاہتی سیم۔۔۔۔۔میں کبیر کا دل بدل کر اُسے اپنا بنانا چاہتی ہوں ایک کوشش کرنا چاہتی ہوں اپنی قسمت آزمانے کی۔۔۔۔۔۔لیکن اگر تم نے جنت کو چھوڑ دیا تو کبیر کو نہیں روک پاونگی میں ۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ اسکا ہاتھ تھام کر منت بھرے لہجے میں بولی

لیکن وہ تمہاری لائف کے ساتھ کھیل رہا ہے تمہیں انسلٹ کر رہا ہے تمہیں ہرٹ کر رہا ہے وہ اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔تم کیوں اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو۔۔۔
سمر حیرانی سے بولا

تم نہیں سمجھتے سیم ۔۔۔۔۔۔۔ بس مجھ سے ایک پرامس کرو۔۔۔۔۔۔کے تم کبیر کو اُسکی کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دوگے ۔۔۔۔۔وہ تمہیں اور جنت کو الگ کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔تم ایسا کبھی نہیں ہونے دوگے۔۔۔۔۔پرامس می۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے آگے ہاتھ پھیلا کر بولی سمر اُسکے خالی ہاتھ کو دیکھتا رہا وہ کیسے اپنی بہن کو ایسے شخص کے لیے خوار ہوتے دیکھتا جس کی نظر میں اُسکی کوئی قیمت نہیں جو صاف اُس کے سامنے کسی اور کی محبت کا اظہار اور اُسکی بہن کی انسلٹ کر رہا تھا اُس کا ہاتھ حرکت کرنے سے انکار کر رہا تھا

میری کوششیں۔۔۔۔۔۔۔میری محنت ۔۔۔۔۔میرا یقین کسی کام کا نہیں ہوگا اگر تم میرا ساتھ نہیں دوگے۔۔۔۔۔تمہارا ایک قدم بہت کچھ غلط کردے گا سیم۔۔۔۔۔۔۔
مجھے میرے بھائی کا ساتھ چاہیے
وہ اُسے خاموش دیکھ کر پر امید لہجے میں بولی سمر نے اپنا ہاتھ اُسکے ہاتھ پر رکھ دیا تو وہ مسکرا دی وہ اُسے لیے اندر آگیا اُسے یہ نہیں پتہ کے وہ صحیح کررہا تھا یا غلط لیکن وہ اپنی بہن کو کسی چیز کے لیے انکار نہیں کر سکتا تھا وہ خود جنت سے کہہ چکا تھا کے اُسے آزاد کر دیگا لیکن اب عائشہ کی لائف سے ضروری کچھ بھی نہیں تھا لیکن جانے کیوں ایک خیال بار بار اُسکے ذہن میں آرہا تھا کے کیا جنت بھی کبیر کو پسند کرتی ہے اور کیا اُسکی شادی سے ناراضگی کی وجہ میں کبیر شامل ہے

💜💜💜💜💜💜

ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے کے درمیان سمر نے پہلی بار کچھ بولا تھا اُسکی آواز پر ساحر کے ساتھ عیشا اور جنت نے بھی سمر کو۔دیکھا

آپ دونوں کی بجائے ۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔اور جنت لنڈن چلے جائیں تو ۔۔۔۔
وہ رک رک کر بولا

کیوں۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے حیرت سے پوچھا جنت بھی بہت حیران ہوئی کیوں کے پہلے تو کو کوئی اور ہی پلان بنا چکا تھا پھر اب اچانک۔۔۔۔۔

آپ لوگ اتنے ٹائم بعد یہاں آئے ہو اور اتنی جلدی چلے جاؤگے تو نانی مامو کو بھی اچھا نہیں لگے گا کچھ ٹائم تو اور رہنا چاہیے نا آپکو۔۔۔۔اور وہاں بھی ڈیڈ بزی بزی ہی رہتے ہیں آپکو تو ٹائم ہی نہیں دیتے یہاں کچھ ٹائم ہالیڈے انجوئے کرلو نا
وہ کیسے بتاتا کے عائشہ کی مدد کا اس سے بہتر آئیڈیا کوئی تھا ہی نہیں کبیر سے جنت کو بہت دور لے جانا

اور آفس۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر نے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

آفس کا کام میں سنبھال لونگا نا ڈیڈ

کیسی باتیں کر رہے ہو سمر تم کیسے سب کام سنبھالو گے ۔۔۔۔

عیشا نے فوراً کہا

آپ لوگ یہاں آئے تھے تو بھی تو پیچھے سے میں نے سارا کام سنبھالا تھا مام اب تو مجھے کافی کچھ سمجھ میں آگیا ہے اور پھر ادیتیہ انکل بھی تو ہے ہیلپ کرنے کے لیے میں مینیج کرلونگا پکّا ۔۔۔اور
جنت نے لنڈن دیکھا نہیں ہے اسکو بھی اچھا لگے گا
اُسنے جنت کا بھی سہارا لیا کے انکار کی کوئی صورت نہیں رہ جائے

ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔تم دونوں پیکنگ کرلو اور صبح ہی نکلنا ہوگا
ساحر نے اطمینان سے کہا عیشا اُسکی بات پر حیران ہوئی لیکن کچھ بھی بولی

تھنکیو ڈیڈ
سمر کو خوشی ہوئی اُس کے ہاں کہنے پر

ساحر تم نے کیوں ہاں کہاں اُسے ۔۔۔۔۔
اُن دونوں کے جانے کے بعد وہ بھی کمرے میں آگئے تھے عیشا نے ساحر سے پوچھا

عیشا ٹھیک ہے اگر وہ جانا چاہتا ہے تو جانے دو نا

ابھی شادی ہوئی ہے اُسکی کہاں اُسے کام میں اُلجھا رہے ہو اور اُسکی پڑھائی۔۔۔کام پر دھیان دیگا تو کالج کیسے جائے گا
عیشا نے اپنی فکر کی وجہ بتائی

عیشا وہ بچہ نہیں ہے اُس نے کہا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کہا ہوگا اور کیا تمہارا دل نہیں کر رہا کے ہم کچھ اور وقت یہاں گزارے ۔۔۔۔۔۔وہاں کام کام میں واقعی کتنا ٹائم برباد ہو گیا کے تمہارے ساتھ وقت گزار ہی نہیں پایا ڈھنگ سے۔۔۔۔۔۔ اب جب موقع مل رہا ہے تو کیوں اسے انکار کرنا چاہتی ہو
ساحر نے عیشا کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا

میں بس اُن دونوں کے لیے ہی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ابھی شادی ہوئی ہے دونوں ڈھنگ سے جانتے تک نہیں تھے ایک دوسرے کو اور اب اگر سمر کام میں بزی ہو گیا تو جنت کو ٹائم کیسے دے پائیگا۔۔۔۔۔۔

تم فضول سوچ کر پریشان ہو رہی ہو بلکہ یہ اچھا ہے اُن دونوں کے لیے وہاں کوئی تیسرا ہوگا ہی نہیں دونوں کے علاوہ تب تو وہ ایک دوسرے سے ہی بات کرے گے نا
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور عیشا نے اُسکی بات سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دی

💜💜💜💜💜💜💜💜
کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ۔۔۔تم نے تو کہا تھا کے پھوپھو کے جانے کے بعد تم سب سے بات کرنے والے ہو پھر اچانک یہ انہیں روک کر ہمارے لندن جانے کی بات کیوں سوجھی تمہیں
جنت نے کمرے میں آتے ہے سمر سے پوچھا دو پہر سے اُس نے سمر کی خاموشی کو محسوس کیا تھا اور اُسے یہی لگا کے وہ اُسکے سپرے والی بات پر اب تک غصّہ ہے

جنت۔۔۔تمہیں یاد ہے اُس دِن میں چیلنج جیتا تھا تب تم نے کہا تھا کے میں جو کہونگا وہ تم کرو گی
سمر نے سنجیدگی سے کہا جنت نے سر اثبات میں ہلا دیا
تو اب تمہیں میرے ساتھ لنڈن چلنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت بغیر کوئی اعتراض کے اُسکی بات مانتے ہوئے کہا اور دوسرا بیگ نکال کر اپنے کپڑے اُس میں رکھنے لگی
مجھے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکے ہاتھ سے ہینگر لیکر خود اُسکے کپڑے تہہ کرکے بیگ میں سلیقے سے رکھنے لگا جنت کپڑے نکال کر اُسے دیتی رہی اور وہ تہہ کر کے رکھتا رہا جنت کو اُسکی خاموشی اور سنجیدگی جانے کیوں بری لگ رہی تھی
💜💜💜💜💜💜💜
۔next kal