No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 38
تم۔۔۔۔۔
وہ روم میں آئی تو سمر کو دیکھ کر حیرانی سے بولی
کیا بات ہے آج تم جلدی آگئے۔۔۔۔۔۔
سمر کو دیکھ کر اُسے خوشی ہو رہی تھی
جلدی۔۔۔۔۔مجھے تو لگا میں نے بہت دیر کردی۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا
نہیں روز تم رات کو دیر سے آتے ہو نا اسلئے۔۔۔۔۔۔
لیکن اچھا ہی ہوا جو آج جلدی آگئے میں تمہیں بہت مس کر رہی تھی
اُس کے بات کرنے کے انداز پر جنت نے جلدی سے جواب دیا
ریئلی اتنا مس کرتی ہو تم مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے قریب آیا
اس سے بھی کہیں زیادہ
اُس نے پوری سچائی سے جواب دیا اور سمر اُسے غور سے دیکھتا رہا جیسے اُسے بہت گہرائی سے جانچ رہا ہو
ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے پوچھ ہی لیا
مجھے یقین نہیں ہوتا کے اتنی انوسینٹ بننے کی ایکٹنگ کیسے کر لیتی ہو تم۔۔۔۔۔۔ اپنے ڈرامے سے سامنے والے کو کنفیوز کر دیتی ہو ۔۔۔۔۔۔کے نہیں یہ لڑکی بری ہو ہی نہیں سکتی
ایسے کیوں بات کر رہے ہو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کیا میں نے
جنت کے ماتھے پر شکنیں پڑی اور اُس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا
اوہ پلیز جنت یہ ڈراما بند کرو۔۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم جیسی دکھتی ہو ویسی ہو نہیں ۔۔۔۔۔لیکن مجھے یقین نہیں ہوتا کے تم ایسی ہو۔۔۔۔۔اتنا گر گئی تم ہمارے رشتے کے بارے میں بھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔۔میری فيلنگز کے بارے میں بھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں سوچا تم نے مجھے دھوکہ دینے سے پہلے
وہ اب غصے سے اُس کی جانب بڑھا تھا
سمر میں نے کیا کیا ہے۔۔۔
جنت بے اختیار رو دی تھی
اتنی گندی حرکت کی ہے تم نے جس سوچ کر مجھے تم سے گھن آتی ہے۔۔۔۔مجھے خود پے غصّہ آتا ہے کے میں۔۔۔۔۔۔
نہیں سمر۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُس کی بات کاٹ دی اور سمر نے اُسکی
پلیز۔۔۔۔۔اب اور ڈرامے مت کرنا ۔۔۔۔۔۔بس کر دو یہ سمرسمر بول کر میرے ساتھ دو طرفہ کھیل کھیلنا بند کرو ۔۔۔۔۔۔۔ نفرت ہے مجھے تم سے
I hate you
سمر نے رخ دوسری جانب کرلیا تھا جنت نے آگے بڑھ کر اُس کے بازؤں تھامتے ہوئے سر شولڈر پر رکھا تھا
No you love me I know you love me
جنت کو یقین نہیں ہو رہا تھا اُس کی تلخ باتوں کا اُس کے لہجے کا اُس کے غصے کا۔ سمر نے اپنا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اُسے پیچھے کیا تھا اور اُس سے دور ہو گیا تھا
Just shut up ok and stay away
وہ اُس کی جانب دیکھ کر غصے سے بولا
میں نے ایسا کیا کر دیا سمر جو اچانک تمہیں مجھ سے گھن آنے لگ گئی تمہاری محبت نفرت میں بدل گئی کونسی ایسی غلطی کر دی میں نے جو مجھ سے اتنے گندے طریقے سے بات کررہے ہو۔
وہ رونے کے درمیان شکایت کر رہی تھی سمر کو برا لگ رہا تھا اُس کا رونا لیکن اس وقت اُس کے دل میں جو شک تھا وہ پیار پر حاوی ہو رہا تھا
ایک ہی بار بتاؤنگا دھیان سے سن لو۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہاری غلطی بتا کے اپنی زبان گندی نہیں کر سکتا لیکن اتنا سمجھ کو اب تم میرے پیار تو کیا نفرت کے بھی قابل نہیں ہو۔۔۔۔تم اُن میں سے ہو جو کبھی کسی کےساتھ لائل نہیں ہوتی جو کسی رشتے کی رسپیکٹ نہیں کرتی کبھی کسی کی باہوں میں ہوتی ہے اور کبھی کسی اور کی
جنت نے اُس کی بات پر منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگی اُس کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کے سمر ایسی بات کر سکتا ہے
بہت فائدہ اٹھا لیا تم نے میرے اگنور کرنے کا میں ہر بار خود کو روکتا تھا سمجھاتا رہا کے تم غلط نہیں ہو سکتی لیکن۔۔۔۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے سب کچھ جان کر بھی میں چپ رہ جاؤں۔۔۔۔تم سے بہتر تو ہنی ہے ۔۔۔۔۔کم سے کم وہ جو کرتی ہی سامنے کرتی ہی دکھا کر کرتی ہے لیکن تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی حیرت اُس کا دکھ سب کچھ اگنور کر رہا تھا اُسے صرف وہ تصویر نظر آرہی تھی جس میں جنت کبیر ساتھ تھے سمر نے باہر نکلنے کے لیے دروازہ کھولا لیکن جنت نے اُسے روکا
سمر رک جاؤ۔۔۔۔۔۔۔اتنا ذلیل کر کے جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔
تو یہ بھی بتا دو کے اگر میں اتنی بد کردار ہوں اتنی بے وفا ہوں تو اب تک کیوں تم مجھ جیسی لڑکی کو برداشت کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔یہ پیار محبت کا ناٹک کیوں کیا میرے ساتھ۔۔۔۔
وہ افسوس اور دکھ سے بولی وہ سمر سے لڑ نہیں سکتی تھی پہلے کی طرح
غلطی ہو گئی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی
سمر نے بنا اُسے دیکھے کہا اور باہر نکل گیا اور جنت اپنی ہی جگہ پر بیٹھتی چلی گئی کچھ ہی پل لگے تھے اُسے آسمان سے زمین پر آنے میں
💜💜💜💜💜
سمر کے اتنے بے عزت کرنے کے بعد وہ اس گھر میں کیسے رہ سکتی تھی اُس نے جلدی جلدی اپنے کپڑے اور ضروری چیزیں بیگ میں بھری اور گھر سے باہر نکلی گیٹ کے پاس آئی تب اُس کے ہاتھ میں موجود ہینڈ بیگ نیچے گر گیا اور اُس میں رکھا سامان بھی وہ جلدی سے جھک کر سامان اٹھانے لگی واچ مین نے اُسے دیکھا تو کسی خیال کے تحت سمر کو فون کیا سمر اُس وقت اپنے آفس میں تھا
سر میڈم اپنا بیگ لے کر کہیں جا رہی ہے اور وہ کافی پریشان بھی لگ رہی ہے
واچ مین نے اپنی زبان میں اُسے بتایا
گیٹ بند کرو ۔۔۔۔۔کہیں نہیں جائیگی وہ۔۔۔۔۔۔
سمر نے جواب دیا اور اٹھ کر باہر آگیا اور گاڑی سٹارٹ کرکے گھر کی طرف بڑھا دی
گیٹ کیوں بند کر رہے ہیں آپ دکھائی نہیں دیتا میں باہر جا رہی ہم
واچ مین کے گیٹ بند کرنے پر وہ زور سے بولی
سوری میڈم سر نے کہا ہے آپ باہر نہیں جا سکتی
اُس نے جھجھکتے ہوئے کہا
وہ اس گھر کا مالک ہوگا میرا نہیں نا میں اُسکی غلام ہوں جو اُسکی مرضی پر چلونگی کھولو گیٹ
جنت نے غصے سے کہا بنا یہ سوچے کے واچ مین نے اُسکی بات سمجھی بھی یہ نہیں
لیکن وہ سر جھکا کر پیچھے ہو گیا اور جنت سامان وہیں چھوڑ کر اندر چلی آئی
💜💜💜
وہ اس وقت جنت کو نہیں جانے دے سکتا تھا عائشہ سے وعدہ جو کیا تھا جب تک کبیر جنت کو بھول کر اپنی شادی کو مان نہیں دے دیتا جنت کو اُس سے دور ہی رکھنا تھا اُس کا فون دوبارہ بجا تھا اور عائشہ کا نام دیکھ کر اُس نے کچھ سوچتے ہوئے فون اٹھا لیا اور نارمل انداز میں بات کی
سیم۔۔۔۔ہم لوگ رات کی فلائٹ سے واپس انڈیا جا رہے ہیں
لیکن اچانک۔۔۔۔۔
سمر نے گاڑی کو بریک لگایا تھا
پتہ نہیں۔۔۔۔ کبیر نے کہا کے ہمیں آج ہی جانا ہوگا
عائشہ خود وجہ نہیں جانتی تھی نہ کبیر کی خاموشی کی نہ اُس کے واپس جانے کے فیصلے کی سمر کو کیا بتاتی
پر مجھے پتہ ہے۔۔۔۔۔
سمر نے دل میں سوچا لیکن وہ عائشہ کو بتا کر اُسے بھی دکھ نہیں دینا چاہتا تھا
ٹھیک ہے میں ایئرپورٹ آتا ہوں۔۔
اُس نے کہہ کر فون بند کر دیا
مجھے لگا تھا کے تم مجھ سے غصّہ ہو کر جا رہی ہو میری باتوں سے ہرٹ ہو کر جا رہی ہو لیکن تم۔۔۔۔۔تم اُس کبیر کے لیے جا رہی ہو جنت ۔۔۔۔وہ جا رہا ہے اس لیے تم جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔ہاؤ۔۔کیسے کر سکتی ہو تم ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی ہارٹ لیس کیوں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری کوئی اسپیس بھی ہے یا نہیں تمہاری لائف میں
عائشہ کی بات نے اُسے ایک اور غلط فہمی کی جانب موڑ دیا تھا اُسے لگ رہا تھا کے دونوں نے مل کر جانے کا فیصلہ کیا ہے
💜💜💜💜💜💜💜
کیوں کر رہے ہو تم یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں روکا مجھے
سمر کے آتے ہی وہ غصے سے اُسکی جانب بڑھی تھی
اگر میں تمہاری لیے اتنی ہی بری ۔۔۔۔۔اتنی ہی گھٹیا ہوں تو کیوں نہیں جانے دیتے مجھے یہاں سے۔۔۔۔۔
تم جاؤ گی ضرور لیکن تب جب میں چاہوں گا۔۔۔اس وقت تو بلکل نہیں کیوں کے میں اچھی طرح سے جانتا ہوں تم کیوں جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُس سے نظریں ملائیں بنا کہا
مجھے نہیں پتہ کہ تم کیا جانتے ہو اور کیا سمجھتے ہو بس میں نہیں رہ سکتی یہاں میں جا رہی ہو
جنت نے اُس کی نے رخی پر افسوس بھاری نظروں سے دیکھا
میں نے کہا نا تم نہیں جا سکتی ۔ ۔۔۔۔
وہ ایک قدم ہی آگے بڑھی کے سمر نے اُس کے بازو کو پکڑ کر اُسے روکا
تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے۔۔۔۔۔۔۔میں جاؤنگی
وہ اُس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی
تم جانتی ہو میں کون ہوں۔۔۔بس بھول گئی ہو۔۔۔۔۔۔
اسی لیے ایک بار بھی نہیں سوچا مجھے دھوکا دینے سے پہلے۔۔۔۔۔مجھے کیا تم تو جانے کس کس کو دھوکا دے رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کسی کو کوئی دھوکا نہیں دیا ہے۔۔۔۔۔تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو
جنت نے زور سے جھٹکا دے کر اُس کا ہاتھ ہٹایا تھا
تم کہیں نہیں جاؤگی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے باہر کی جانب بڑھتے ہی سمر اُس کے سامنے آکر اُس کا راستہ روک گیا تھا
میں جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر کی ضد سے اُسے بھی ضد ہونے لگی تھی اُس نے سمر کے سائڈ سے نکلنا چاہا لیکن سمر نے ایک بار پھر اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا تھا اور جنت نے پورا زور لگاتے ہوئے اُسے چھڑانے کی کوشش کی تھی اور سمر نے اُسے روکے رکھا تھا حالانکہ بار بار اُس کا ہاتھ چھوٹنے لگتا اور سمر پھر پکڑ لیتا وہ دیوانہ وار خود کو آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی اور اس کوشش میں سمر کے ہاتھوں پر اُس کے ناخنوں کے کئی گھاؤ لگ چکے تھے
جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے غصے میں آکر ایک دم اُس پر ہاتھ اٹھا دیا تھا اور جنت نے اُسے حیرت اور خفگی بھری نظروں سے دیکھا تھا سمر کا ہاتھ خود پیچھے ہو گیا تھا اُس نے غیر ارادتاً ہاتھ اٹھایا تھا اس لیے بہت زور سے اٹھا تھا
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسے دیکھ کر غصے سےکہا اور اوپر چلی گئی
💜💜💜💜💜💜
آئے ایم سوری ۔۔۔۔۔۔۔نا میں تمہارے آنے سے خوش ہو پایا نا تمہیں جانے سے روک رہا ہوں ۔۔۔۔۔پلیز مجھ سے ناراض مت ہونا
عائشہ اور وہ ایئرپورٹ کے وزٹنگ ایریا میں بیٹھے تھے کبیر جب بیگ لے کر وہاں سے گیا تب سمر نے دھیرے سے کہا
سیم پلیز۔۔۔۔۔۔ڈونٹ سے سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں پاگل نہیں ہوں جو سب جانتے ہوئے تم سے ناراض ہو جاؤنگی
اور تم دیکھنا ایک دن سب ٹھیک ہو جائیگا
عائشہ نے اُسکی بات پر اُسے دیکھا
یہ سب جنت کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔
I hate her۔۔۔
اُسے اب بھی جنت پر غصّہ آرہا تھا
نہیں سیم اس میں جنت کا کیا قصور وہ تو جانتی تک نہیں کے کبیر اُس سے پیار کرتا ہے
اُسکی بات پر عائشہ حیران ہوئی تھی اور اب حیران ہونے کی باری سمر کی تھی
وہ تو خود انجان ہے اس بات سے ۔۔۔تبھی تو کبیر کو اپنا سب سے اچھا دوست سمجھتی ہے
تمہیں کیسے پتہ۔۔۔۔۔۔
سمر نے جلدی سے پوچھا عائشہ کی اس بات نے اُس کے اندر تک ہلچل مچا دی تھی
مجھے کیا یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے۔۔۔۔۔جنت شروع سے ہی تمہارے اور اپنے رشتے کو لے کر بہت سیریس تھی سیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی کو کچھ بھی لگے لیکن جنت کو یقین تھا کے تم دونوں ایک دن ضرور ملوگے ۔۔۔۔۔۔وہ اس یقین کے ساتھ تم سے محبت کرتی رہی ۔۔تمہیں دعاؤں میں مانگتی رہی اُس کی یہی دیوانگی دیکھ کر تو کبیر نے اُس سے محبت کی آوروں کی طرح کبیر کو بھی یہی لگتا تھا کے جنت اور تمہارا ملنا نا ممکن ہے کیوں کے اس سالوں کی دوری کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں تھے اور کبیر نے سوچا جب جنت ہار مان لیگی تب وہ آئیگا اُس دکھ میں اُس کا سہارا بن کر لیکن۔۔۔۔۔جنت کی محبت اور انتظار میں اتنی سچائی تھی کے اُسے اللہ نے ہارنے نہیں دیا اور تم دونوں کو ایک کر دیا
عائشہ نے مسکرا کر جواب دیا اُس کے چہرے پر یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی اور سکون تھا لیکن سمر کو بہت بے چینی محسوس ہو رہی تھی
غلطی کسی کی نہیں ہے نا کبیر کی ۔۔۔۔نا جنت کی نہ میری نا تمہاری لیکن متاثر ہم سب کی زندگی ہو رہی ہے
عائشہ نے اُس کی جانب دیکھا
لیکن تم اپنے اور جنت کے درمیان کبھی کوئی غلط فہمی مت آنے دینا اُس نے تم سے وفا کی ہے تو تم اُس کی محبت کی قدر کرکے اپنا فرض نبھانا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی محبت کا بہت لمبا امتحان دے چکی ہے اب اُسے یا اُس کی محبت کو کبھی نظر انداز مت کرنا زندگی بہت چھوٹی ہوتی ہے اس لیے ایک پل بھی مت گنوانا ایک دوسرے کے بنا رہ کر
مجھے بھی یقین ہے کہ میری زندگی میں بھی اس امتحان کے بعد خدا نے کچھ بہت اچھا لکھا ہوگا
سمر نے نہ اُس کی کسی بات کا جواب دیا نا اُس کے پاس کوئی جواب تھا وہ خود کو کسی گہرے اندھیرے والی کھائی میں محسوس کر رہا تھا اُس نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کے جنت اُس سے کتنا پیار کرتی ہے وہ تو بس یہ سوچتا رہا کہ کبیر کا اُس کی زندگی میں کیا حصہ ہے
ارے ہاں یہ تمہاری شرٹ۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر کی شرٹ پر کافی گر گئی تھی تو جنت نے تمہاری یہ شرٹ دی تھی۔۔۔۔۔۔
عائشہ نے یاد آنے پر کہا تو وہ چونک کر اُس کی جانب مڑا اُس نے جنت کو کتنا برا بھلا کہا تھا صرف کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے بنا اُسے صفائی کا موقع دیے اُس پر الزام پے الزام لگاتا رہا
💜💜💜💜
