No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 31
سمر نے اگلے دن آفس سے کال کرکے اُسے بتا دیا تھا کے آج اسکا وقت نکال پانا مشکل ہے اس لیے وہ نہیں آ پائیگا اور آج کا دن جنت کو بہت بھاری لگ رہا تھا شاید اُسے عادت ہو گئی سمر کے ساتھ کی اس لیے وہ بہت اُداس فیل کر رہی تھی دوپہر کے بعد سے دِن کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا وہ باہر گارڈن میں آکر بیٹھی تھی دوپہر کا وقت بھی وہاں شام کی طرح لگتا تھا کیوں دھوپ نہ کے برابر ہوتی تھی اور ہے تو خاص برسات کا موسم تھا اسکا فون بجا تھا اور سمر کی کال تھی اُس نے جلدی سے فون کان سے لگایا
ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب سے آواز آئی
کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔تمہارے گھر میں مچھر نہیں ہے ورنہ مچھر مار لیتی۔۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر بولی اور سمر اُسکی بات پر مسکرایا
مار پیٹ والی باتیں ہی کیوں کرتی ہو تم ہمیشہ کبھی پیار ویار بھی کر لیا کرو۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں کی فائل رکھ کر کرسی سے سر ٹیکتے ہوئے بولا
مجھے جو آتا ہے وہ کرتی ہوں پیار ویار نہیں آتا مجھے
وہ اپنے ناخنوں کو دیکھتے ہوئے بولی
تو۔۔۔۔ مجھے ایک چانس دو میں سکھا دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کیسے سکھاؤگے تمہیں تو پہلے ہی مجھ سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا
اس معاملے میں تو مجھے کسی کے باپ سے بھی ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔
اُس نے فوراً جواب دیا اب کیا اُسکے اقرارِ خوف کا وہ ایسے طعنہ مارے گی
ہاوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسکی بات پر جنت نے ہاتھ منہ پر رکھ لیا
ویسے۔۔۔۔ اب تک کتنی لڑکیوں کو سکھا چکے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب اُسے پھوڑنے کے چکر میں تھی
ہر بار تم ایسے پول کھولنے والے سوال کیوں پوچھتی رہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
میں زبردستی تو نہیں کرتی نا اگر تمہیں جواب دینا ہے تو نا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں میری کوچنگ کلاسز ہے پارٹ ٹائم میں میں یہی کام کرتا ہوں لڑکیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر زبردستی کلاسز دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔اچھا بائے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جواب دینے کے ساتھ ہی بائے کہا اور اُسکی وجہ دروازے پر ہونے والی دستک کی جو جنت نے بھی سنی
سنو۔۔۔۔۔۔
جنت نے ایکدم سے کہہ کر اُسے روکا
ہاں۔۔۔بولو۔۔۔۔۔۔
کب آؤگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیر ہو جائیگی۔۔۔۔۔۔۔لیکن ڈنر ہم ساتھ کرینگے اوکے۔۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسکی آخری بات پر مسکراتے ہوئے فون بند کردیا
ایک منٹ بعد پھر سے فون بجا اور اُسنے بنا دیکھے جلدی سے کان سے لگا لیا لیکن سمر کی بجائے کبیر کی آواز سن کر مسکراہٹ سمٹ گئی
کبیر۔ ۔۔کیسے ہو تم۔۔۔اور عائشہ آپی کیسی ہے
وہ خوش تو کبیر سے بات کرکے بھی ہوتی تھی
تم بتاؤ تم کیسی ہو۔۔۔۔۔
عائشہ کا نام آنے کے بعد اُسنے سوال کے جواب میں سوال کیا
میں بہت اچھی ہوں کبیر۔۔۔۔۔اور میں بہت خوش ہو ۔۔۔۔۔۔مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کے لندن اتنی اچھی جگہ ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ کبیر سے کیسے اپنی خوشی چپاتی لیکن اس بات سے بے خبر کے کبیر کو اُسکی بات سے کتنی تکلیف ہوگی
اتنی خوش ہو کے مجھے بھی بھول گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کہہ دیا
تمہیں۔ ۔۔۔۔۔۔جھوٹ نہیں بولوں گی لیکن آج کل تو میں خود کو بھی بھول چکی ہوں کبیر۔۔۔
وہ سچ کہہ رہی تھی وہ خوش تھی اور کبیر کو اُسکی خوشی آج بہت تکلیف دے رہی تھی
اچھا کبیر ایک منٹ ہولڈ کرنا میں ابھی آئی۔۔۔۔۔۔
اُسنے گیٹ سے رومی کے بھائی کو آتے دیکھا تو فون وہی چھوڑ کر اُسکے پاس چلی آئی
جنت۔۔۔۔۔گھر چلو۔۔۔۔۔
وہ شاید بھاگ کر آیا تھا تیز سانسوں کے ساتھ بولا
کیوں کیا ہوا۔۔۔۔۔۔
جنت کو برا خیال دل میں آیا اُس نے پریشان ہو کر پوچھا
تم چلو ۔۔۔۔پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔چلو
وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر لے جانے لگا
مجھے سینڈل تو پہننے دو۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جلد بازی پر بولی
جانے دو نا یہیں تو جانا ہے
وہ نہیں رکا تھا اور جنت کو مجبوراً جانا پڑا اور کبیر اُسکے واپس آنے کا انتظار اگلے تین گھنٹے تک کرتا رہا جب کے وہ بھول بھی چکی تھی لیکن کبیر کو جنت کا انداز اُسکی ہنسی بہت چبھ رہی تھی اور اب اُسے احساس ہو رہا تھا کے جنت اور سمر وہاں رہ کر ایک دوسرے کر اور قریب ہوتے جا رہے ہیں اگر جنت اسی طرح سمر سے اٹیچ ہوتی رہی تو اُسکی فیلنگ کی کوئی اہمیت نہیں رہ جائیگی اسکا خود کا فون سوئچ آف ہوا تب ہی کال کٹ گئی ورنہ شاید وہ تین گھنٹے سے بھی زیادہ اسکا انتظار کرتا
💜💜💜💜💜💜
ہوا کیا یہ تو بتاؤ نا۔۔۔۔۔۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہوئے ایک بار پھر اس نے پوچھا مگر وہ چلو تو سہی کی ضد پر اڑا تھا
کیا ہوا آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر آنٹی اُسے سامنے ہی مل گئی تو اُس نے اُن سے پوچھا
بڑی ماں نے تمہیں بلایا ہے۔۔۔۔۔۔۔لنچ کے لیے
اُنہونے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور جنت نے سکون کی سانس لی
لنچ کے لیے۔۔۔۔۔تم بھی نہ سیف۔۔۔۔۔ میں نے سوچا پتہ نہیں کیا ہو گیا اتنی جلدی میں لے کر آئے آنٹی دیکھو نا سینڈل بھی نہیں پہننے دی مجھے
چھوٹی بات نہیں ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔آج فرسٹ ٹائم بڑی ماں نے خود کچن میں جا کر کچھ بنایا ہے وہ بھی تمہارے لیے ۔۔۔بھائی اور مجھے تو جانے دو آج تک سیم کے لیے بھی اتنا نہیں کیا کبھی۔۔۔۔
ہاؤ سویٹ۔۔۔۔۔۔
اُس نے رومی کی امی کی جانب دیکھا تو اُنہونے سر اثبات میں ہلا دیا
آجاؤ بیٹا۔۔۔۔۔
وہ اندر آئی تو ٹیبل سجا ہوا تھا اور بڑی ماں اپنی خاص جگہ پر بیٹھی تھی ہمیشہ کی طرح سخت والے تاثرات سے جنت کو دیکھتے ہوئے جنت اُن کے بازو والی کرسی پر جھجھکتے ہوئے بیٹھ گئی
گجیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجیا تو مجھے پسند ہیں
آنٹی نے اس کے سامنے رکھی پلٹ میں دو گجیہ ڈالی تو خوشی سے بڑی ماں کو دیکھتے ہوئے بولی
ہاں دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے گجيا کھا کھا کر ہی تو تم نے یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا ہے۔۔۔۔۔۔
اُنہونے اُسکی بات پر سنجیدگی سے کہا اور جنت نے سیف کو ہنسنے پر گھور کر دیکھا
نہیں بڑی ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر والے کھانے کو دیتے بھی تھے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر نا بھی دیتے ہوں گے تو یہاں کھا لینا کوئی کمی نہیں ہمارے گھر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی بات کاٹ کر بولیں تھی
کھاؤ نا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی نے اس ٹاپک کو ختم کر کے جنت کو مزید شرمندہ ہونے سے بچا لیا
کیسی لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی نے اُسکے ایک ہی بائٹ لینے کے بعد پوچھا
بہت ٹیسٹی ہے۔۔۔۔بڑی ماں ایک بات پوچھو آپ سے
اُسنے بڑی ماں کی جانب دیکھا انہوں نے سے ہلا کر اجازت سے
آپ نانی دادی کے ہاتھ میں اتنا ٹیسٹ کیوں ہوتا ہے ایسا کیا ملاتی ہے آپ لوگ کھانے میں جس کا سواد کسی فائیو سٹار ہوٹل کے کھانے میں بھی نہیں اتا
وہ۔سنجیدگی سے پوچھنے لگی
بہت سارا پیار۔۔۔۔۔۔۔اور اپنا پن
بڑی ماں نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن آنٹی نے اُسکی بات کا جواب دیا
۔آنٹی شاید ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔تھینکیو بڑی ماں مجھے اپنا سمجھ کر یہ پیار دینے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت ہمت کرکے اُنکا ہاتھ تھام سکی تھی بڑی ماں نے رومی کی امی کی طرف دیکھا
مسکے لگانے میں یہ اپنے شوہر سے بھی دو قدم آگے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت رو دے اسکے پہلے بڑی ماں کی بات سن کر وہ ہنس پڑی
چل کھا لے۔۔۔۔۔۔۔
بڑی ماں نے خود اُسکی پلٹ میں گُجیا ڈالتے ہوئے اُسے مسکرا کر دیکھا
💜💜💜💜💜💜
سمر کار سے نکل کر اندر جاتے جاتے رکا باہر ہی جنت کی سینڈل اور موبائل دیکھ کر وہ وہاں آیا اور ایک ہاتھ میں سینڈل اور دوسرے میں موبائل لیے موبائل پر کبیر کی کال دیکھ کر اُسکے قدم رک گئے اور اُسنے سوچا کے کبیر جنت کو کیوں اتنی رات کے وقت کال کر رہا ہے اس وقت اگر لنڈن میں رات کے دس بج رہے تھے تو انڈیا میں رات کے ساڑھے تین کا وقت تھا اور اس وقت کبیر کی کال پر اسکا حیران اور غصّہ ہونا لازمی تھا اُس نے دیکھا کہ کبیر کے بہت سارے مس کال ہے اور ہر آدھے گھنٹے کے فرق سے وہ کال کرتا رہا ہے وہ اُسکی وجہ نہیں جانتا تھا اسلئے اسکا شاک کرنا صحیح تھا اُسنے کال ہسٹری چیک کی اور دیکھا کے مسلسل تین گھنٹے تک اُنکے درمیان بات ہوئی ہے اُس نے دوسرے ہاتھ میں موجود سینڈل پھینک دیے اور موبائل واپس اُسے جگہ پر رکھ کر اندر چلا آیا
جنت ڈائننگ ٹیبل کو اب بھی ترتیب دے رہی تھی سمر کو دیکھ کر جلدی سے اُسکے پاس آئی اُس نے آف وہائٹ ٹاپ پر بلیک جینس پہنی ہوئی تھی ہلکا ہلکا میک آپ کرکے وہ خاص اس ڈنر کے لیے تیار ہوئی تھی
۔۔۔۔۔ڈنر۔۔۔,۔۔۔
اُسنے ٹیبل کی جانب اشارہ کیا کو کینڈل اور پھولوں سے سجا تھا سمر نے اُس جانب دیکھا پھر جنت کو
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر سنجیدگی سے کہتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا اور اُس کے رویے پر جنت کو بہت حیرانی ہوئی
سمر۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہمت کرکے اُسے آواز دی تو وہ رکا اور پلٹ کر اُسے دیکھا
تم ہی نے کہا تھا نا کے آج ہم ڈنر ساتھ میں کرینگے اسلئے میں نے یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا یہ ضروری ہے جو میں نے کہہ دیا وہ مجھے کرنا ہی پڑےگا۔۔۔۔تب موڈ تھا اس لیے کہہ دیا اب موڈ نہیں ہے اس لیے منع کردیا۔۔۔۔دهٹس آل۔۔۔۔۔
وہ اپنا غصّہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے روم میں چلا گیا اور جنت وہی کھڑی اُسے جاتے دیکھتی رہی
وہ شام تک رومی کے گھر ہی رہی اور رات ہونے سے پہلے جلدی گھر آگئی گھر آکر اُس نے جلدی جلدی شیف کو کھانے کا مینو بتایا اور روزی کی مدد سے خود ڈائننگ ٹیبل کو تھوڑا بہت کینڈیلس اور پھول سے ڈیکور کر دیا اس میں اُسے بہت وقت لگ گیا اور تب تک کھانا بھی تیار ہوگا اُسنے روزی کو کھانا لگانے کو کہا اور خود تیار ہونے چلی گئی وہ کتنی خوشی سے تیار ہوئی تھی اور آج اُس کا دل کتنا خوش تھا لیکن سمر کے اس رویے نے آج کے سارے دِن کی خوشی اُس سے چھین لی تھی اُس نے غصے سے اپنے گلے میں ڈالا ہوا پنڈنٹ کھینچ کر پھینک دیا اور ہونٹوں کو بے دردی سے رگڑ کر صاف کیا اور بھاگتی ہوئی اپنے روم میں چلی آئی
💜💜💜💜💜💜💜
نیکسٹ ایپی بہت مزیدار ہوگی بٹ ٹائم فکس نہیں ہے 😔
