No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 39
اُس نے انجانے میں جنت کے ساتھ جو کیا اُس کے بعد اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کے اُس سے معافی مانگے اُس نے جنت پر ہاتھ تک اٹھا دیا تھا اور اُس کی انگلیوں کے نشان جنت کے چہرے پر صاف نظر آرہے تھے سوتے میں وہ اُسے دیکھ کر خود سے نفرت کررہا تھا لیکن اُسے ہاتھ لگا کر چھونے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی اپنے کیے پر شرمندگی تو تھی ہی لیکن اس واقعے کیا بہت گہرا اثر اُس کی محبت پر پڑا تھا اُس کے دل میں جنت کی محبت اور گہری ہو گئی تھی اب تک کے سارے شکوے۔۔۔۔بد گمانیاں غلط فہمیاں سب ختم ہو چکی تھی اور دل و دماغ آئینے کی طرح صاف ہو گیا تھا
💜💜💜💜💜
یہی سوچ رہی ہو نہ کے کس قسم کا انسان ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ کھڑکی کے باہر دیکھتے ہوئے کبیر کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کبیر کے اچانک واپس جانے کی وجہ سے وہ اب تک لا علم تھی کبیر کے مخاطب کرنے پر اُس نے کبیر کی جانب دیکھا
جو کسی کے جذبات کی قدر نہیں کرتا جسے کسی کے دکھ تکلیف کا احساس نہیں۔۔۔جو تمہیں ایک پل ک۔لیے بھی خوشی نہیں دے سکتا
کبیر کی باتوں پر عائشہ حیران ہوئی
میں کیا کروں۔۔۔۔۔میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا میں نے جان بوجھ کر جنت سے پیار نہیں کیا تھا لیکن خود کو روکا بھی نہیں تھا شاید یہی میری غلطی تھی مجھے تو سزا ملی ہی جنت کو کھو کر پر اس میں تمہیں بھی کم سزا نہیں دی میں نے
میں ہمیشہ بس جنت کو خوش دیکھنا چاہتا تھا صرف اُس کے بارے میں سوچتا تھا اسی لیے اُس کی شادی سمر سے ہونے دی لیکن اچانک میں خود غرض ہو گیا اپنے بارے میں سوچنے لگا یہ بھول گیا کے جو میں چاہتا ہوں وہ جنت کبھی نہیں چاہے گی۔۔۔یہ بھول گیا کے محبت میں خودغرضی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔
اُس نے عائشہ کی جانب دیکھا جو اب بھی اُسے حیرت سے دیکھ رہی تھی
میں تو اُسے بتانے گیا تھا کے میں اُسے چاہتا ہوں اپنے دل کی ہر بات بتا دینا چاہتا تھا اُسے یہ جانتے ہوئے بھی کے اُس کا انجام کچھ بھی ہو سکتا ہے اُس کی دوستی نفرت میں بھی بدل سکتی ہے مجھے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا لیکن ۔۔۔
وہ مجھے فرشتہ سمجھتی ہے۔۔۔۔اُسے لگتا ہے اس کی ہر خوشی کی وجہ میں ہوں ۔۔۔۔میں اُس کی لائف میں کبھی کچھ برا نہیں کرسکتا ۔۔۔۔اتنا یقین ہے اُسے مجھ پر۔۔۔میں اُسے کیسے کہہ دیتا کے میں اُس کی خوشیاں چھیننے آیا ہوں فرشتہ نہیں بلکہ شیطان بن کر اُسے دکھ دینے آیا ہوں اُس کے یقین کو توڑنے کے لیے آیا ہوں۔۔۔۔
میں نہیں کہہ پایا۔۔۔۔۔کیوں کے۔۔۔۔اُس کی نفرت نہیں چاہتا میں۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکا اور اُس کا یہ بدلہ ہوا روپ دیکھ کر عائشہ جتنی بے یقین تھی اتنی ہی خوش بھی اور اُسکی خوشی آنسووں کو شکل نے نظر آرہی تھی
میں وعدہ تو نہیں کرتا لیکن کوشش کرونگا تمہارے لائق بننے کی ایک اچھا شوہر بن کر تمہیں خوش رکھنے کی جنت کو بھول کر تم سے پیار کرنے کی۔۔۔۔تھوڑا وقت لگےگا لیکن یہ ضرور ہوگا۔۔۔۔میں جانتا ہوں جب ہم کسی کو چاہتے ہے اور اس کی آنکھوں میں اپنی بجائے کسی اور کی محبت دیکھتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔
میں کوشش کرونگا کے اب تم وہ درد محسوس نہ کرو۔۔۔۔۔۔
کبیر نے عائشہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا عائشہ نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئی دعا کی تھی کے کبیر اپنی کوشش نے کامیاب ہو جائے
💜💜💜💜💜💜💜💜
سمر کو نیچے آتے دیکھ کر وہ اپنی چیئر سے اٹھ کر اوپر جانے لگی تھی پچھلے تین دنوں سے یہی چل رہا وہ سمر کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اور اس کی ناراضگی دیکھ کر سمر چاہ کر بھی اُس سے نہ بات کر سکتا تھا نہ اُسے منا سکتا تھا عائشہ نے اُسے جب کبیر کے بارے میں بتایا کے کس طرح اُس کا دل بدل گیا تو سمر خوش ہونے کی بجائے اور زیادہ گلٹی فیل کرنے لگا تھا
جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اوپر جانے سے روکا
آئے ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہت ہمت کرکے کہا تھا اور جنت اُسے حیرت سے دیکھ رہی تھی جیسے اُس کے الفاظوں کو سننے میں غلطی ہوئی ہو
ایسے مت دیکھو مجھے پلیز۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُس کے قریب آیا تھا
مجھ سے غلطی ہو گئی تھی میں تمہیں سمجھ نہیں پایا ۔۔۔۔۔پر اب۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔اتنا سب کر کے تم کہہ رہے ہو غلطی ہو گئی ۔۔۔۔اتنی آسانی سے سوری کہہ رہے ہو جیسے کوئی کانچ کا گلاس ٹوٹا ہو تم سے
جنت چاہ کے بھی اپنے آنکھ سے نکلنے والے آنسو کو روک نہیں پائی
نہیں جنت۔۔۔آسانی سے نہیں بلکہ بہت ہمت کرکے بول رہا ہوں۔۔۔۔۔تمہیں بتا نہیں سکتا کے میں کیسا فیل کر رہا ہوں۔۔۔ مجھے کتنی تکلیف ہو رہی ہے سوچ سوچ کر کے میں نے کتنی بڑی غلطی کی۔۔۔۔آئے ہیٹ مائے سیلف ۔۔۔۔۔۔میں نے کیوں تم پر یقین نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔میں نے کیوں تمہیں غلط سمجھا۔۔۔ ۔۔ کیوں تم سے ایسے بات کی۔۔۔۔۔۔آئے ایم سوری۔۔۔۔۔۔آئے ایم سوری۔۔۔سوری۔۔۔پلیز سوری۔۔۔۔۔۔۔پلیز
سمر نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے اُس کے سر پر سر رکھا تھا اور جنت حیران ہونے کے ساتھ غصّہ بھی ہو رہی تھی اُس نے سمر کے ہاتھ چہرے سے ہٹائے تو وہ پیچھے ہوا
مجھے جاننا ہے کے تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔میں نے کونسی غلطی کی تھی۔جو۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے کوئی غلطی نہیں کی ۔۔۔۔ساری غلطی میری تھی ۔۔۔۔۔میں بیوقوف ہوں جو تمہیں غلط سمجھ لیا۔۔۔۔۔۔پلیز جنت بھول جاؤ سب کچھ۔۔۔۔۔۔معاف کردو مجھے
وہ اُس کی بات کاٹ کر بولا وہ اُسے کیسے بتاتا جب کے اُسے خود سوچ کر ہی غصّہ آرہا تھا کے اُس نے کیا کیا سوچ لیا تھا
اگر میری جگہ ہوتے تو تم بھول جاتے ۔۔۔۔۔
جنت نے دھیرے سے پوچھا اور سمر جانتا تھا اس کا جواب نا ہے کوئی بھی برداشت نہیں کر پاتا اپنے اوپر اتنا بڑا الزام خاص کر ایک مرد تو بلکل نہیں
لیکن یہ بات وہ کہہ نہیں سکتا تھا اس لیے لب بھینچ لیے
نہیں نا۔۔۔۔۔۔اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو یہ کہنے سے پہلے کے بھول جاؤ اور مجھے معاف کردو ۔۔ایک بار یاد کرتی کے میں نے اپنے الفاظوں سے کسی کے دل کو کتنی ٹھیس پہنچائی ہے ۔۔۔۔۔اُس کے کردار پر تہمت لگائی ہے اُس کی محبت پر شک کیا ہے اُس کے بعد مجھے معافی مانگنے کا بھی حق نہیں ہے
اُس کی خاموشی پر جنت نے کہا
میں تو شروع سے ہی تمہارے مطابق چلتی رہی نا سمر تم نے میرے کہنے کے بعد بھی شادی سے انکار نہیں کیا اور میں نے تم سے شادی کر لی تم سے غصّہ ہونے کے باوجود بھی
تم نے کہا دو دن میں طلاق دے دونگا سب کو بتا دونگا میں نے مان لیا
تم نے اچانک کہا کے لندن چلو میں نے مان لیا
یہاں آکر تم میرے اتنے قریب آ گئے میں نے تمہیں نہیں روکا ہر غلط فہمی کو پیچھے چھوڑ دیا جو تم نے کہا اُس پر یقین کیا ہر طرح سے خود کو تمہیں سونپ دیا لیکن۔۔۔۔
اتنا بڑا الزام وہ بھی بنا میری غلطی بتائے۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تو بہت بڑی وجہ ہوگی نا اس کی۔۔۔۔بتاؤ مجھے وہ وجہ جاننی ہے کے کونسا گناہ کیا میں نے۔۔۔۔۔میں سوچ سوچ کر پریشان ہو چکی ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا کے میں کہاں غلط تھی۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔
سمر نا اُس کی جانب دیکھ پایا نا اُس کے سوال کاجواب دے پایا
کہیں ایسا تو نہیں کے یہ بس ایک بہانہ تھا مجھ سے پیچھا چھڑانے کا تاکہ تم اس ہنی کے پاس جا سکو ۔۔۔۔اگر ایسا ہے تو اب یہ معافی مانگنے کا ناٹک کیوں کے رہے ہو سمر۔۔۔۔کونسا کھیل کھیل رہے ہو تم میرے ساتھ
پلیز اتنی مشکل میں مت ڈالو مجھے جو چاہتے ہو بتا دو صاف صاف۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے گال پر پھسلتے آنسو ں کو بے دردی سے رگڑتے ہوئے بولی
تمہیں چاہتا ہوں بس۔۔۔۔۔۔
سمر نے فوراً جواب دیا اور اُسے خود سے لگا لیا
I love you
I love you
I love you
جتنی سختی سے اُس نے جنت کو خود سے لگایا ہوا تھا جنت نے بمشکل خود کو آزاد کیا
دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔
اُس سے الگ ہو کر وہ غصے سے بولی اور اوپر چلی گئی
💜💜💜💜💜💜💜
