Sunn Mere Humsafar 2 By Sanaya Khan Readelle50084 Last updated: 20 July 2025
Rate this Novel
Sunn Mere Humsafar 2
By Sanaya Khan
اس نے غور سے نیچے دیکھا بائیک پر بیٹھا شخص جس نے بلیک جینس اور بلیک لیدر جیکٹ پہنا ہوا تھا جیکٹ کی کیپ سر پر ڈالی ہوئی تھی شاید بارش سے بچنے کے لیے اور ہاتھ میں تین رنگ کے بینڈس پہنے وہ اپنا موبائل نکال کر کان سے لگا رہا تھا وہ چاہ کر بھی اوپر سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی فرسٹ فلور تھا اسلیے وہ اس خاموشی میں باسانی اس کی آواز سن سکتی تھی
Hello....... I'm here...... Lets get it on
دوسری جانب سے فون پک ہونے پر اس نے اپنی آمد کا بتایا جنت کنفیوز سی سوچنے لگی کہ وہ کون ہوسکتا ہے اور کیا کرنے والا ہے
نو پرابلم..... تم یہ بتاؤ تم نے وارڈن کو راستے سے ہٹایا یا نہیں
دوسری جانب کی بات سن کر اس نے کہا تھا جس پر جنت کا منہ پورا کھل گیا اب وہ پریشان ہوگئی اسے کچھ غلط ہونے کا شدید احساس ہورہا تھا
گڈ......... اب ہمیں روم نمبر ون زیرہ سکس تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا...... سب کچھ پلین کے مطابق ہوگا تم جاکر لائٹ بند کرو
شاید دوسری جانب سے گرین سگنل ملا تھا جنت کو یقین ہوگیا کہ ضرور اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وارڈن کا قتل. کردیا ہے اسی لیے وہ اتنی رات گۓ جب کسی کو اندر انے کی اجازت نہیں تھی آسانی سے اندر آگیا تھا
ہاں میں نے دونوں لے لیے ہے ورنہ کام پورا کیسے ہوگا اس کی آواز نے جنت کو پھر متوجہ کیا اس نے نیچے دیکھا تو اس آدمی کے ایک ہاتھ میں چاکو اور دوسرے میں گن تھی جنت نے اپنے دونوں ہاتھ سختی سے منہ پر رکھ کر اپنی چینخ روکی پیچھے ہوتی ہوئی وہ جلدی سے روم کے اندر آئی اسے یقین نہیں ارہا تھا لیکن وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ یہ کوئی گنڈا بدمعاش ہے جو کسی بہت غلط ارادے سے یہاں آیا ہے شاید اس کا مقصد روم نمبر ایک سو چھ میں موجود کسی لڑکی کو نقصان پہنچانا تھا وہ ایک دم سے الرٹ ہوگئی اور جلدی سے حنا کے بیڈ کے پاس آئی حنا....... اسے دھیمی آواز میں پکارتے ہوۓ ہلکا سا کاندھا ہلایا حنا نے نیند سے بوجھل انکھیں کھول کر اسے دیکھا
کیا ہوا جنت......... حنا اٹھ کر بیٹھ گئی اسے جنت چہرے سے ہی پریشان لگی
حنا میں نے ابھی ابھی نیچے کسی کو بات کرتے سنا ہے...........شاید وہ کسی کا مرڈر کرنے والا
کیا......... حنا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے
وہ کہہ رہا ہے کہ اس نے وارڈن کو راستے سے ہٹادیا ہے اور اب وہ روم نمبر ایک سو چھ میں کسی کو مارنے والا ہے اس کے پاس گن بھی ہے اور چاقو بھی ہے میں نے ...خود دیکھا ہے
جنت کی آواز کانپ رہی تھی اور اسے پسینہ آنے لگا تھا اسی وقت وہاں جلتے دونوں نائٹ بلب بند ہوگۓ اور کمرے میں اندھیرا چھاگیا بس اوپر چھوٹی سی کھڑکی سے آتی چاند کی مدھم روشنی تھی جس میں وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتی تھی جنت کے ساتھ حنا بھی گھبرا کر کھڑی ہوگئی
دیکھا میں نے کہا تھا یہ لائٹ اسی نے بند کروائی ہے
اب کیا ہوگا جنت حنا نے جنت کا ہاتھ پکڑ لیا
میں پولس کو فون کرتی ہوں جنت نے جلدی سے اپنا فون تلاش کرکے نمبر لگایا اور کم لفظوں میں سارا واقعہ بتاکر جلد سے جلد آنے کی ریکویسٹ کی
روم نمبر ایک سو چھ ....یہ تو سیکنڈ فلور ہے نا جس میں ہمارے کالج کی وہ ہانیہ ہے .حنا نے اس کے فون بند کرنے پر سوچتے ہوۓ کہا جنت بنا جواب دیے جلدی سے بالکونی میں آئی اس نے نیچے جھانک کر دیکھا تو وہاں صرف بائک کھڑی تھی مطلب وہ شخص اندر جا چکا تھا وہ جلدی سے واپس آئی
پولیس پتہ نہیں کب آئیگی اتنا وقت نہیں ہے ہمارے پاس ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا حنا
لیکن کیا حنا نے سوال کیا تو وہ سوچنے لگی لیکن سوچنے کا وقت نہیں تھا اس کے پاس
چلو بتاتی ہوں .......یہ پیپر اسپرے رکھ لو کام آۓ گا
