No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 17
رومی۔۔۔۔۔ آۓ ہیٹ ڈھیٹ گرل۔۔۔۔۔یار وہ میری بات تک نہیں سنتی۔۔۔۔۔۔۔۔سیدھے کہہ دیا شادی سے انکار کردو۔۔۔۔۔۔۔
سمر سب سے مل کر واپس گھر آیا تھا اور جب تک وہ وہاں تھا سامنے ہوتے ہوئی بھی جنّت نے اُسے بہت اگنور کیا تھا جس سے اُسے غصّہ آنے لگا
کول ڈاؤن یار کیوں اتنا ہائپر ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔غصّہ ہے تجھ سے اسلئے بول دیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔تیری بھابھی کو بولوں کیا بات کرنے کو اُس کی بات تو دیفینٹلی سمجھے گی
رومی نے اپنی طرف سے صلح دی وہ سمر کو جانتا تھا کے سمر بہت کم ہی سیریس ہوا کرتا تھا
کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔وہ بات کرنے لائق ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو ٹھیک ہے ۔۔میں جا رہا ہوں مام سے بات کرنے کے مجھے بھی شادی نہیں کرنی
تو کیوں منع کر رہا ہے اگر اُسے شادی نہیں کرنی تو وہ خود جا کر بات کریگی۔۔۔۔اور رہی بات تیری تو میں جانتا ہوں تو مر رہا ہے اُس سے شادی کرنے کے لیے ۔۔۔۔اسلئے چپ بیٹھا رہ اوکے
رومی کی مرنے والی بات پر اُس کا دل کیا وہیں سے اُس کا منہ توڑ دے
ہاں چل مان لیا مر رہا ہوں میں اس سے شادی کرنے کو لیکن پکڑ باندھ کر شادی نہیں کرنی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتی ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے سے شادی ہونے والی ہے ۔۔۔۔اتنا اٹیٹود تو بنتا ہے اسکا۔۔۔۔۔
رومانی نے مزا لیتے ہوئے کہاں
دیکھ میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔۔۔اُس نے دماغ خراب کر رکھا ہے میرا اب تو مت سٹارٹ ہو جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے غصے سے کہا اور فون بیڈ پر پھینک دیا
💜💜💜💜💜💜
عیشا جنّت اور عائشہ کے درمیان بیٹھی تھی سارے فنکشن ریحان کے گھر پر رکھے جانے تھے صرف شادی ہی ہوٹل میں ہونی تھی اور یہ سب دادی کے کہنے پر وہ چاہتی تھی بچوں کی رسمیں گھر سے ہی ہی سارے مہمان جا چکے اور وہ تینوں باتیں کر رہی تھی عائشہ کے اور سمر کے بچپن کے قصے سنا رہی تھی سمر ہلدی لگانے پر بہت بیزار ہوا تھا لیکن سب نے مل۔کر اُسے زبردستی ہلدی لگا دی تھی جب کے کبیر نے کسی بات پر کوئی اعتراض نہیں جتایا رات کافی ہو چکی تھی سمر اور کبیر بھی جا چکے تھے ساحر اندر آیا اور عیشا کو چلنے کا اشارہ کیا تو عیشا نےاسے خود وہاں آنے کو کہا
بہت ٹائم ہو رہا ہے گھر نہیں چلنا ہے
وہ پاس آکر بولا
پہلے یہ بتاؤ تم نے دونوں بیٹیوں کو ہلدی لگائی یا نہیں
عیشا نے سوال کے بدلے سوال کیا
مجھے بھی لگانی ہے۔۔۔۔۔پہلے بتایا نہیں
وہ موبائل جیب میں ڈال کر ہلدی والے بول سے ہلدی ہاتھ میں لیتا ہوا بولا پہلے جنّت کے دائیں گال پر اور پھر عائشہ کے بائیں گال پر ہلدی لگانے کے بعد اُسکے ناک پر بھی ہلدی سے رنگ دیا عائشہ مسکرائی جب کے جنّت خاموش سے نیچے نظریں کیے بیٹھی تھی
چلو میں باہر ویٹ کر رہا ہوں جلدی آؤ
وہ ہاتھ ٹشو سے صاف کرتے ہوئے بولا اور باہر نکل گیا اُس کے جاتے ہی جنّت نے سکون کی سانس لی عیشا نے اُسے حیرت سے دیکھا
مجھے انکل سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ عیشا کے دیکھنے پر آنکھیں بڑی کرکے بولی جس پر عیشا ہنس دی
کیوں۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔ بہت سیریس ٹائپ کے لگتے ہے اسلئے۔۔۔۔۔۔کہیں اُنھیں کوئی بات بری لگ گئی تو
وہ جھجھکتے ہوئے بولی
ایسا کچھ نہیں ہے وہ بہت سوفٹ نیچر کے ہے تم ابھی انہیں جانتی نہیں ہونا اسلئے۔۔۔۔۔۔
عیشا اُسکے بات پر مسکراتے ہوئے بولی عیشا کا رخ جنّت کی جانب تھا اور عائشہ اُسکے کندھے پر سر رکھے جنّت کی جانب متوجہ تھی
پتہ ہے ہمارے درمیان جب بھی کوئی نوک جھوک ہوتی ہے نا نینیانوے فیصد میری ہی وجہ سے ہوتی ہے ساحر بہت سمجھداری سے ہر مسئلے کو حل کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ بھلے ہی بہت کم بات کرتے ہیں لیکن جو بھی بات کرتے ہیں لاجواب کرتے ہے
عیشا کی بات پر جنّت مسکرائی۔۔۔اُسنے بچپن سے جو دوری دیکھی تھی تو یہی سوچ تھا کے ساحر سخت مزاج ہوگا اسی لیے اسکا اور ریحان کا جھگڑا ہوا تھا
لیکن میرا بیٹا بلکل بھی اپنے پاپا پر بھی گیا۔۔۔۔۔۔
وہ ویسے تو چوبیس سال کا ہے لیکن اُس کا دماغ کسی چار سال کے بچے سے زیاد نہیں ہے۔۔۔۔اور وہ اتنی باتیں کرتا ہے سامنے والا بیزار ہو جائے
عیشا اب سمر کے متعلق بتانے لگی جس پر جنّت حیران ہوئی
مجھے تو کبھی۔۔۔۔۔ ایسا نہیں لگا۔۔۔۔۔
کیوں کہ اُسے بھی جانتی نہیں ہو ابھی تم۔۔۔۔پر جان جاؤ گی بہت جلد۔۔
عائشہ نے شرارت سے کہا جس پر اُسے اپنا جملہ شرمندہ کر گیا
اسکی با تیں تو بنا سر پیر کی ہوتی ہی ہے لیکن اِسکی کچھ حرکتیں جب تم دیکھو گی تو تمہیں میری یہ بات ضرور یاد آئیگی دیکھنا
عیشا نے جتاتے ہوۓ کہا وہ کے بھی کیا سکتی تھی
اپنے پاپا جیسی صرف دو باتیں ہے اُس میں۔۔۔۔ایک تو۔وہ جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔۔اور دوسرا دل پھینک قسم کا نہیں ہے
عیشا کی اگلے بات پر جنّت چاہ کر بھی مسکرا نہیں پائی وہ ایک ماں تھی اُسے کیسے اپنے بیٹے کی برائیاں نظر آتی لیکن حقیقت تو اُسکے جنّت ہی جانتی تھی ایسا جنّت کو لگتا تھا
💜💜💜💜💜💜
آج انکی مہندی کا فنکشن تھا اور اس نے عیشا کے کہنے پر سفید کرتا پہنا ہوا تھا ساتھ ہی گلے میں مہندی رنگ کا بڑا سا رومال لپیٹا ہوا تھا جنّت کے لیے آف وہائٹ کرتی پر مہندی کلر کر سلوار اور دوپٹہ جن میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور ایسا ہی کامبینیشن عائشہ اور کبیر کا بھی تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں کے فنکشن ایک ساتھ ہی ریحان کے گھر میں کیے جا رہے تھے اسلئے بہت رونق تھی ۔اور سب سے زیادہ خوش اگر کوئی تھا تو وہ تھی دادی
جب سمر اور عیشا وہاں پہنچے تو سب نے سمر کو ستائشی نظروں سے دیکھا اُسنے پہلی بار کرتا پہنا تھا اور وہ اُس پر بہت جچ رہا تھا دادی نے اُسکے ڈھیر ساری بلائیں لی شاید اُس دِن جنّت سے زیادہ سب کی نظریں سمر پر تھی
دونوں کی جوڈی ہمیشہ سلامت رہے
بہت خوش رہو تم دونوں
دادی نے دونوں کو باری باری پیار کرتے ہوئے کہا وہ بیچ میں بیٹھی تھی اور سمر اور جنّت اُن کے اطراف دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا لیکن پھر جنّت نے بیزار سے شکل بنائے آنکھیں گھمائی
جنّت نے پہلے سے سوچ رکھا تھا کے اُس کی شادی کیسے ہوگی یہ سب اسکی فرمائش کے حساب سے ہو رہا ہے دادی نے سمر کے پاس چغلی والے انداز نے کہا جس پر وہ حیران بھی ہوا اور جنت کی جانب دیکھ کر مسکرایا بھی
دادی۔۔۔۔۔۔
جنّت نے خفگی سے کہتے ہوئے دادی کو روکا
دیکھا اب کیسے شرما رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔پہلے تو ہر وقت سمر سمر کرتی رہتی تھی۔۔۔۔ سمر ایسا ہوگا۔۔۔۔۔ سمر ویسا ہوگا۔۔۔۔۔اُس سے ملونگی تو یہ کرونگی وہ کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے چھیڑتے ہوئے کہا
دادی۔۔۔۔۔۔۔۔جائیے مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے انکی بات کاٹ کر کہا اور وہاں سے اٹھ گئی جب کے سمر کی مسکراتی نظروں نے روم میں جانے تک اسکا پیچھا کیا
دادی۔۔۔یور گریٹ۔۔۔۔۔
سمر نے نے تعریف والے انداز نے کہا
تیری دادی نہیں۔۔۔ نانی ہوں
دادی نے اُسے یاد دلایا تو اُسنے آنکھیں بڑی کی
ٹو مچ کنفوجن۔۔۔۔۔ نانی اوکے
وہ غلطی درست کرتے بولا
۔she lobes you
دادی نے دھیرے سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا
And I love you Nani
اُسنے یو پر زور دیتے ہوئے کہا جب کے جنّت دور سے ہی دونوں کے ایسے بات کرنے پر غصّہ ہوکر اُسے دیکھ رہی تھی
💜💜💜💜💜💜
سب کی باتیں سن کر کوئی غلط فہمی مت پال لینا
یہ لوگ وہ نہیں جانتے جو میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔۔
اور میرے نزدیک تمہاری کوئی اہمیت نہیں ہے
وہ دونوں کپل اب ساتھ ساتھ بیٹھے تھے اور تصویروں کو دور چل رہا تھا جب جنّت بنا اُسکے جانب دیکھے بولی سمر نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا
Why are you so rude
میں نے تو نہیں کہا ایسا کچھ ۔۔۔کیا تم بہانہ ڈھونڈ رہی ہو میری انسلٹ کرنے کا
وہ ناراض ہوتے ہوئے بولا جنّت نے کوئی جواب نہیں دیا پتھر بن کر بیٹھی رہی
You know what……just go to hell
وہ اس کی بے رخی پر غصے سے خطہ اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر نکل گیا ارمان نے اُسے آواز بھی سے لیکن وہ انسنی کر گیا ایک پل کے لیے جنّت کو اپنی بات پر افسوس ہوا
,💜💜💜💜💜
