Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 23

جنت کو اپنے دونوں پیروں پر بھاری وزن سا محسوس ہوا جس سے اُسے بہت اُلجھن ہو رہی تھی اُسنے نیند میں ہی اپنے پیر نکالنے کی کوشش کی لیکن نہیں نکال پائی جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی اور آنکھیں کھول کر دیکھا تو وزن کے نام پر کچھ اور نہی بلکہ سمر کے دونوں پیر اُسکے پیروں پر رکھے تھے اور وہ اوندھے منہ بیڈ پر ترچھا سویا تھا جنت کی آنکھیں حیرت سے اور زیادہ کھل گئی کل ساری رات غائب رہا اور اب اتنی بے فکری سے آکر اُس کے ساتھ بیڈ پرسو گیا تھا وہ بھی اپنی ٹانگیں پوری شان سے اُس کے اوپر رکھ کر جنت نے دونوں ہاتھوں سے اس کے پیروں کو اٹھا کر سائڈ میں رکھا اور سکون کی سانس لی ابھی سوچ ہی رہی تھی کے کیا کرے کہاں سوئے سمر کا پیر پھر سے اُسکے اوپر آ چکا تھا اُس نے جھنجھلا کا پھر سے اسکا پیر ہٹایا اور اٹھ کر صوفے پر آگئی لیکن اُسے بنا تکیے کی تو نیند ہرگز نہیں آنی تھی
ایک تکیہ سمر کے سر کے نیچے تھا جب کے دوسرے کو وہ گدا سمجھ کر اُس پر سویا تھا اُس نے سمر کو غصے سے دیکھا کے کتنی بری طرح وہ سو رہا تھا اور پھر پاس آکر اُس کے نیچے والا تکیہ نکالنے لگی لیکن سمر کا سارا وزن اُس تکیے پر تھا وہ اتنی آسانی سے کیسے نکل پتہ لیکن جنت نے بھی پورا زور لگا کر تکیے کو کھینچا تھا اتنی مشقت کے بعد بھی آدھا تکیہ ہی باہر نکلا تھا اور آدھا اب بھی اُس کے قبضے میں تھا جنت نے ایک سیکنڈ رک کے گہری سانس لی اور پھر پوری طاقت سے تکیے کو کھینچا اُس وقت سمر نے ہلچل کی اور تکیہ خود بخود فری ہو گیا تھا جنت کی ساری طاقت جو لگی تھی اُس کا نتیجہ وہ تکیہ سمیت زمین پر جا گری۔۔۔۔۔لیکن کم سے کم تکیا تو مل گیا تھا لیکن نہیں تکیہ نہیں بلکہ تکیے کا آدھا حصہ ہی اُسکے ہاتھ میں تھا و بیچ سے پھٹ چکا تھا اور اُسکی سفید نرم کپاس کچھ بیڈ اور کچھ زمین پر بکھر گئی تھی

اپنا شولڈر سہلاتے ہوئے اُس نے سمر کو کھا جانے والے انداز میں دیکھا اور ایک پل کو شبہ ہوا کے وہ جاگ رہا ہے اور جان بوجھ کر اُسے تنگ کر رہا ہے یقین کرنے کے لیے وہ اُس کے پاس آئی اور بیڈ کے نیچے زمین پر بیٹھتے ہوئے اُسے غور سے دیکھنے لگی لیکن لگ نہیں رہا تھا کے وہ جاگ رہا ہے بلکہ بہت گہری نیند میں لگ رہا تھا وہ واپس صوفے پر آئی اور بنا تکیے کے ہی رونی صورت بنائے سونے لگی
💜💜💜💜💜💜

بمشکل اُسے صوفے پر نیند آئی تھی لیکن صبح کے چھ بجے الارم کی اواز پر وہ ہڑبڑا کے اٹھی۔۔۔۔سمر خود ان تک گہری نیند میں تھا تو کیا یہ الارم اسکی نیند حرام کرنے کے لیے لگایا گیا تھا وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے اُسے دیکھ رہی تھی مسلسل بجتے الارم سے سمر کو بھی دقت ہو رہی تھی اور وہ تکیہ سر سے نکال کر کان پے رکھے سونے کی کوشش کر رہا تھا پھر جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا اور موبائل ڈھونڈ کر بیزاری سے الارم کیا۔۔وہ دوبارہ سونے کی تیاری میں تھا لیکن جنت کو صوفے پر بیٹھے خود کو گھورتے دیکھ کر رک گیا

تم صوفے پے کیا کر رہی ہو
وہ حیرانی سے پوچھنے لگا جنت نے پہلے تو غصے سے دیکھا پھر نارمل ہو کر مسکرائی

مجھے شوق ہے۔۔۔بیڈ پر سوتے سوتے میں اچانک صوفے پر پہنچ جاتی ہوں ۔۔۔
اس کے لہجے سے ہی سمر کی سمجھ میں آگیا کے وہ ابھی آگ بنی ہوئی ہے چھیڑنا مناسب نہیں اسلئے لب بھینچ کر رہ گیا
۔۔تم کس سے پوچھ کر میرے بیڈ پر سوئے تھے

او سوری۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا تم مائنڈ کروگی

مائنڈ۔۔۔۔۔۔تم کر کیا رہے تھے رات کو
وہ سختی سے دانت پیس کر بولی اور سمر کو لگا وہ کس والی بات کر رہی ہے اسلئے ایک پل کے لیے وہ حیران ہوا کے اُسے پتہ کیسے چلا

ک۔ک۔۔۔۔کیا کیا میں نے۔۔۔۔۔۔۔کچھ بھی تو نہیں کیا

کچھ نہیں کیا؟۔۔۔۔۔یہ دیکھ رہے ہو کمرے کی حالت۔۔۔۔تم میں بروسلی کی روح گھس گئی تھی یا جیکی چین کی۔۔۔۔۔۔ایک منٹ نہیں سونے دیا رات بھر۔۔۔۔۔اوپر سے صبح صبح یہ الارم لگا دیا تاکہ ساری ہی نیند حرام ہو جائے
اس کی بات پر سمر نے رکی سانس بحال کی

تھینک گاڈ۔۔۔۔۔
بے ساختہ اُس کے منہ سے نکلا اور اگلے ہی پل زبان دانتوں میں دبائے جنت کی جانب دیکھا جو آنکھیں سکیڑے اُسے دیکھ رہی تھی
آئے مین۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ایم ریلی سوری۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ درستگی کرتے ہوئی بولا جنت نے کوفت سے آنکھیں گھمائی اور اپنے بالوں کو لپیٹتے ہوئے اٹھ گئی
ایک منٹ تمہارے بالوں میں یہ
سمر جلدی سے بیڈ سے اتر کر اُس کے پاس آیا اور اُسکے بالوں میں کپاس کے تنکے لگے تھے وہ نکالنے لگا جنت پہلے تو چپ کھڑی رہی لیکن جب سمر دھیرے دھیرے اور قریب ہونے لگا تو پیچھے ہوئی

کر لونگی میں۔۔۔۔بات بات پر چپکنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔اور جلدی سے یہ کمرہ ٹھیک کرو
وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر بولی

میں ٹھیک کروں۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے حیرانی سے پوچھا لیکن وہ جواب دینے کی بجائے واشروم میں جا چکی تھی

💜💜💜💜💜💜

گڈ مارننگ۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے پیار کرتے ہوئے اُسکے سلام کا جواب دیا

سمر کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔اٹھا نہیں اب تک
وہ اپنا اور سمر کا بیگ تیار کر رہی تھی جنت بھی اُسکے نکلے گئے کپڑوں کو تہ کرتی ہوئے بیگ میں رکھنے لگی
نہیں۔۔۔۔۔
وہ جب باہر آئی تب سمر کو سوئے دیکھا تھا وہ دونوں کچھ دیر روم میں ہی باتوں کے درمیان بیگ پیک کرتی رہی

شبانہ سمر کو جگا دو اور کہو کے ڈیڈ نے بلایا ہے
عیشا نے باہر آتے ہی ملازمہ کو کہا ساحر شاید باہر گارڈن میں تھا وہ اور جنت آکر ناشتے ہی ٹیبل پر بیٹھ گئے
میڈم وہ تو کمرے میں نہیں ہے۔۔۔
ملازمہ نے کچھ دیر بعد آکر جواب دیا جس پر جنت کو حیرانی ہوئی

میں جب نیچے آئی تو وہ روم میں ہی ۔۔۔۔۔۔
اور پھوپھو میں نے باہر جاتے بھی نہیں دیکھا
وہ صفائی دینے لگی کے پھوپھو اُسے ہی جھوٹی نا سمجھے
گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔۔۔
اُسی وقت سمر نے باہر سے آتے ہوئے کہا وہ پینٹ اور ٹی شرٹ میں ہی سپورٹ شوز پہنے شاید والک کے لیے باہر گیا تھالیکن کب کیوں کے جس کمرے میں وہ لوگ تھے وہاں سے اُنھیں ضرور دکھتا اگر سمر باہر جاتا

سمر تم پھر بالکونی سے کود کر باہر گئے تھے
عیشا نے نارمل کہا وہ جانتی تھی اپنے بیٹے کی حرکتیں اُسکی بات پر سمر مسکرایا اور چیئر کھینچ کر اُس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا

اتنے بڑے بڑے دروازے ہے گھر میں پھر بھی بالکونی سے باہر جانے کا شوق کیوں ہے تمہیں پتہ نہیں یہ چوروں والی عادت کہاں سے آگئی تم میں
عیشا کے لیے یہ نارمل تھا مگر جنت اُسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی اسی وقت کبیر اور عائشہ وہاں آگئی دونوں نے سلام کیا
بیٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے دونوں کو ناشتے کے لیے زبردستی بٹھایا

بچا لیا تونے۔۔۔۔۔
سمر نے عائشہ کے کان کے قریب سرگوشی کی

امی نے بتایا کے آپ لوگ واپس لنڈن جا رہے ہیں وہ بھی آج ہی رات کو۔۔۔۔۔۔
کبیر نے کہا
ہاں۔۔۔۔۔۔
عیشا نے سر اثبات میں ہلا دیا اور چائے کی پیالے اُس کی طرف بڑھائی

آپ لوگ اتنے دن بعد واپس آئے ہے کچھ ٹائم اور رہتے کم سے کم اتنی جلدی جا رہے ہیں
کبیر نے فارمیٹ انداز میں کہا

جانا بھی ضروری ہے بیٹا وہاں کا کام دیکھنے کے لیے بھی تو کوئی نہیں ہے سمر بھی یہاں ہے اور ساحر بھی ۔۔۔کسی کو تو وہاں رہنا ہوگا۔۔۔لیکن ڈونٹ وری سمر اور جنت یہیں رہے گے تم جب تک چاہو انہیں یہی روکے رکھو۔۔۔۔۔۔
عیشا نے مسکراتے ہوئے آخری بات کی سمر نے جنت کی جانب دیکھا جو جمائی روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور اُسکی آنکھیں بھی نیند نہ ہونے کی وجہ سے سرخ لگ رہی تھی

جنت تم جا کے سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے فوراً کہا جس پر جنت کے ساتھ باقی سب نے بھی حیرت سے دیکھا

کیا ہوا جنت کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔
عائشہ نے جنت کو دیکھتے ہوئے پوچھا

نہیں اکچولی وہ میری وجہ سے ساری رات سو نہیں پائی اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے بہت آرام سے کہا جب کے اُسکی بات پر جنت کو غصّہ بھی آیا اور سب کے سامنے شرمندہ بھی ہو گئی عائشہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی جب کے کبیر کے چہرے پر بہت ساری نا گواری تھی

جنت تم جا کے ریسٹ کرو
عیشا نے کہا تو و مزید شرمندہ ہوئی
نہیں پھوپھو میں ٹھیک ہوں

لیکن۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھا تم نے جمائی لی ابھی
سمر نے اُسکی بات کاٹتے ہوئے کہا

کوئی بات نہیں جنت تم جاؤ بیٹا۔۔۔۔۔
عیشا نے پیار سے کہا لیکن اُسے تب بھی اچھا نہیں لگا وہاں سے اٹھ کے جانا سمر خود اپنی جگہ سے اٹھا
چلو۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور کھینچتے ہوئے کے جانے لگا جنت چاہ کر بھی کچھ کہہ نہیں سکتی تھی لیکن اندر ہی اندر سمر کو کھا جانے کا دل چاہ رہا تھا
مام آپکا بیٹا کتنا رسپونسبل ہو گیا ہے نا شادی کے بعد ۔۔۔۔لیکن بس بڑا نہیں ہوا ابھی بھی
عائشہ اُن دونوں کو جاتے دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی عیشا بھی اُسکی بات پر مسکرائی جب کے دونوں کو اس طرح دیکھ کر کبیر کا موڈ اچھا خاصا برا ہو چکا تھا

سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
روم میں آکر اُس نے جنت کو بیڈ پر بٹھایا

چھوڑو۔۔۔۔ کیوں مجھے سلانے کے پیچھے پڑے ہو
وہ ہاتھ چھڑا کر کھڑی ہوئی اور غصے سے بولی

تمہارا اچھا سوچنا بھی غلط ہے میری وجہ سے سو نہیں پائی اس لیے بول رہا تھا ورنہ تمہیں سلا کر کچھ کر نہیں لونگا
وہ اپنا سر اُس کے سر کے قریب لے جاکر بولا

دور سے بات کرو جب دیکھو چپکتے کیوں رہتے ہو بندر
جنت نےاُسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اُسے پیچھے دھکیلا

میں بندر۔۔تو تم بندریا
سمر نے بھی اُسکی طرح شولڈر پر دھکا دیتے ہے کہا
تم گدھے۔۔۔
جنت نے پھر اُسے دھکیلا
تم گدھی۔۔۔۔
سمر نے بھی وہی عمل دہرایا
تم اُلّو۔۔۔۔۔
تم مینا۔۔۔۔
تم شیطان۔۔۔۔
تم بھوتنی۔۔۔۔۔۔
اب کے سمر مسکرایا جس پر جنت نے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھا کر اُس کے منہ پر سپرے کر دیا سمر کو ایک دم سے چھینکیں آنے لگی اور وہ کھانسنے لگا جنت گھبرا کر اُسے دیکھنے لگی ایک کی منٹ میں چھنکتے ہوئے اُس کی ناک گلابی ہو چکی تھی اور آنکھیں بھی
وہ واش روم میں چلا گیا جب کے جنت کو اپنی حرکت پر بہت غصّہ آیا اور وہ سمر کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی تاکہ اُسے سوری بول سکے دس منٹ بعد وہ باہر آیا تو اُسکی چھینکیں بند ہو چکی تھی بال اور چہرہ پانی میں بھیگے ہوئے تھےاور ٹی شرٹ بھی اوپر سے گیلی ہو گئی تھی اُس نے جنت کی جانب نہیں دیکھا لیکن چہرے سے ہی وہ ناراض لگ رہا تھا اور جنت کو بہت برا لگا اُس کا کچھ نہ کہنا سمر نے اپنی ٹی شرٹ اتار کر شرٹ پہنتے ہوئے باہر نکل گیا
💜💜💜💜💜
Next Sunday