No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 16
دو ہفتے سے زیادہ گزر گئے تھے اُنھیں یھاں آئے اب تک تو وہ ریحان کے گھر ہی رکے ہوئے تھے لیکن آج اتنے دونوں بعد واپس اپنے گھر آئے تھے اور اُس گھر سے جڑی کتنی ہی قیمتی یادیں تازہ ہو گئی تھی دادی سے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔ اُن کی شادی کی یادیں۔۔۔۔ لڑنا جھگڑنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت بھرے پل اور بچوں سے جڑے بہت سارے انمول لمحے گزرے تھے اس گھر میں
ساحر نے پہلے ہی کہہ کر وہاں کی صفائی کر والی تھی اور وہاں ہر چیز آج بھی اس ترتیب سے رکھی ہوئی تھی جیسی سالوں پہلے رہتی تھی عائشہ بھی یھاں آکر بہت خوش ہوئی تھی اور آتے ہی اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی جہاں پہلے سمر اور وہ رہا کرتے تھے
ساحر۔۔۔اتنی جلدی کیا ہے شادی کی جو تم نے اگلے ہفتے کی ہی تاریخ رکھ دی۔۔۔مطلب کچھ مہینے بعد بھی تو کر سکتے تھے نا۔۔۔۔۔
وہ لوگ گھر کے اندر داخل ہوئے تھے
ایک دن پہلے ہی اُن لوگوں کے درمیان بات ہوئی تھی اور سب نے مل کر طے کیا تھا کے سمر اور جنّت کے ساتھ عائشہ اور کبیر کا نکاح بھی اگلے ہفتے ہی کر دیا جائے کیوں کہ اُس کے بعد اُنھیں واپس لندن جانا تھا ۔۔۔اپنی دوستی کے رشتے کو بھی وہ مضبوط کرنا چاہتا تھا تاکہ اب اُن کے درمیان کوئی دوری نا آئے اس لیے عائشہ اور کبیر کو لیکر بات کی تھی اور سب کو ہی یہ بات بہت پسند آئی تھی سب چاہتے تھے کے شادی دو مہینے بعد ہو تاکہ تیاریاں کرنا کا موقع مل جائیے گھر آتے ہی
عیشا نے ساحر کی جلد بازی کی وجہ جاننے چاہی کیونکہ اگر صرف لندن جانے کا ہی مسئلہ تھا تو وہ لوگ دو مہینے بعد واپس آکر بھی شادی کر وہ سکتے تھے تو پھر ساحر نے کیا سوچ کر جلد بازی کی
نہیں عیشا ایک دن اسی وجہ سے ہمارے درمیان غلط فہمی پیدا ہوئی تھی اور اب یہی نکاح وجہ بنے گا ہمارے رشتوں کو مضبوط کرنے کی میں چاہتا ہوں اب کسی کے دل میں کوئی خلشِ باقی نہ رہے
اُس وقت دونوں بچے تھے اگر ہم تب اُنکا نکاح کر دیتے تو نا انصافی ہوتی اُن کے ساتھ
لیکن اب وہ اتنے سمجھدار ہو چکے ہیں کے اپنا صحیح غلط سمجھ سکے۔۔۔۔۔اب دیر بھی کرنی چاہیے تمہارے ابّو کی خواہش پوری کرنے میں
اُس کی بات پر عیشا نے مسکراتا ہوئے اُسکے سینے پر سر رکھ دیا
تمہیں یاد ہے تم یہاں سے گر گئی تھی۔۔۔۔۔۔
سیڑھیوں کے پاس کھڑے تھے اور ساحر نے وہ دن یاد کرتے ہوئے اسےاپنی باہوں میں لے لیا
کیسے بھول سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی جانب دیکھ کر بولی
چلو آج بھی تمہیں اٹھا کر روم تک لے جاتا ہوں
وہ شرارت سے مسکرا کر بولا
ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔
عیشا اُسے کچھ کہتی اس کے پہلے عائشہ کے پکارنے کی آواز آئی جس پر وہ کھلکھلا کے ہنس دی
جائیے آپکی بیٹی بلا رہی ہے ۔۔۔۔
عیشا نے ہنستے ہوئے کہا ساحر اسکی بات پر مسکرایا بہت وقت بعد اُسنے عیشا کو اتنا کھل کر ہنستے ہوئے دیکھا تھا
💜💜
تیری شادی ہونے والی ہے یار ڈھیٹس آ گڈ نیوز تو ٹینشن میں کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔
کیوں کے میری سو کالڈ کزن کو یہ نہیں پتہ کے جس سیم سے وہ نفرت جتا کر گئی ہے وہی سمر ہے جس سے اُسے شادی کرنی ہے
سمر نے سوچتے ہوئے کہا وہ دونوں رومی کے کیبن میں بیٹھے تھے اور ابھی ابھی سمر نے اُسے بتایا تھا کے گھر والوں نے اُس کی اور جنّت کی شادی اگلے ہفتے ہی طے کر دی ہے رومی سن کر بہت خوش تھا لیکن وہ کنفیوز تھا کے جنّت کا فیصلہ کیا ہوگا کیونکہ اُسے لگتا تھا جنّت یہ نہیں جانتی کے وہی سمر ہے اور جب اُسے پتہ چلےگا وہ بہت غصّہ ہوگی
مجھے کل وہاں جانا ہے لیکن جب وہ مجھے دیکھے گی تو اس شادی سے منع کردیگی وہ سیم سے شادی کبھی نہیں کرنا چاہے گی
اُسنے پپر ویٹ گھماتے ہوئے کہا
کر بھی تو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تھنک پوزیٹو۔۔۔۔۔۔
رومی نے اُسے اسکی ہی بات یاد دلائی تو وہ مسکرادیا مگر جنّت نے جاتے ہوئے جیسے اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا وہ بات اُسے پوزیٹو سوچنے نہیں دے رہی تھی
💜💜💜💜💜💜
کبیر اپنے کمرے نے بیڈ سے ٹیک لگائیے بیٹھا تھا بظاھر نظریں لیپٹاپ سکرین پر تھی لیکن ذہن میں صرف اور صرف جنّت
جنّت اور سمر کے ایک ہونے سے زیادہ تکلیف دہ بات اُس کے لیے شاید ہی کوئی ہو سکتی تھی لیکن یہ تکلیف وہ برداشت کرنا چاہتا تھا جنّت کی خوشی کی خاطر۔۔۔۔۔بچپن سے دیکھتا آیا تھا وہ جنّت کو سمر کے خواب سجائے ہوئے
اُس نے ہمیشہ جنّت کی مشکلیں آسان کرنے کی کوشش کی تھی اب وہ اُسکے لیے مشکل نہیں بن سکتا تھا
کبیر۔۔۔۔۔۔۔۔
الیشا کی آواز پر اُسنے جلدی سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئی ٹائپ کرنا شروع کیا الیشا آکر اُسکے بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی کوئی سمجھے نہ سمجھے وہ بہت اچھی طرح سے سمجھتی تھی اُسکے کیفیت کو اور یہ بھی جانتی تھی کے وہ اس وقت کیسا محسوس کررہا ہے
تمہارے پاپا چاہتے ہیں کے جنّت اور سمر کے ساتھ ہی تمہارا اور عائشہ کا بھی نکاح کر دیا جائے اُنہونے مجھ سے کہا کہ میں تم سے پوچھ لو کے تم کیا چاہتے ہو
وہ دھیرے سے بولیں تھی
آپ کہہ دیجئے امی کے میں تیار ہوں۔۔۔وہ جو جیسا چاہے میں راضی ہیں
اُس نے بنا روکے جواب دیے اُن کی جانب دیکھا تک نہیں
کوئی جلدی نہیں ہے بیٹا تم وقت بھی لے سکتے ہو سوچنے کے لئے۔۔۔چاہو تو پہلے عائشہ کو جان لو اچھے سے۔۔۔
وقت لے کر کیا ہو جائیگا امی۔۔۔۔ ہوگا تو وہی جو قسمت میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے چاہنے سے تو کچھ نہیں ہوگا
اب جو قسمت چاہتی ہے میں بھی وہی چاہتا ہوں
وہ سامنے دیوار کی جانب دیکھ کر مایوسی سے بولا الیشا کو بہت دکھ ہوا اپنے بیٹے کو ایسے دیکھ کر ساتھ ہی اُسے فکر بھی ہو رہی تھی کے اسکا اور عائشہ کا نکاح کرنا صحیح بھی ہی یہ نہیں
💜💜💜💜💜
جنّت اندر جاتے جاتے رکی تھی باہر بلیک رنگ کی گاڑی کھڑی تھی جو ساحر کی تھی مطلب ضرور کوئی آیا تھا سوچ کر وہ اندر جانے لگی لیکن پھر رک کر ایک قدم پیچھے ہوئی اور گاڑی کے ونڈو میں اپنا جائزہ لینے لگی چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اُسنے تیسری انگلی سے آنکھوں کے کنارے پر پھیلا کاجل صاف کیا اسی وقت گاڑی کا دروازہ ایکدم سے کھلا وہ گھبرا کے پیچھے کو گرتی اس کے پہلے کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب کھینچا سمر کو دیکھ کر اُس نے حیرانی سے پلکیں جھپکیں پھر اسکی موجودگی کا یقین ہوا تو جلدی سے اپنا چھڑا کر پیچھا ہوئی سمر اُسے خاموش دیکھتا رہا اُس کے یوں دیکھنے پر وہ نروس ضرور ہو رہی تھی لیکن پھر سنبھلتے ہوئے بولی
اگر نہیں جانتے ہو جان لو ۔۔۔۔۔میں ہی جنّت ہوں جس سے شادی کرنے کے لئے تم نے ہاں کی ہے۔۔۔۔۔لیکن مجھے امید ہے اب تم ایسا نہیں کروگے۔۔۔۔۔۔میں چاہتی تو خود انکار کر سکتی تھی لیکن اُسکے لیے مجھے وجہ بتانی پڑتی جسے سن کر سب کو بہت برا لگتا۔۔۔۔
میں سب کچھ کر سکتی ہوں پر میرے اپنوں کو تکلیف نہیں دے سکتی۔۔۔۔اب جو کرنا ہے تمہیں خود کرنا ہے
جنّت یہ بات اسلئے کہہ رہی تھی کیونکہ اُسے لگتا تھا سمر کو ہنی پسند ہے اور اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تو یہ بات وہ خود اپنے مام ڈیڈ کو بتائیے اور شادی سے انکار کردے لیکن سمر کو لگ رہا تھا کے وہ اس سے شادی کرنا نہیں چاہتی اور گھر والوں کو منع نہیں کر سکتی اسلئے ایسا کہہ رہی ہے
کیا ہم ایک بار اس بارے میں بات کرتے سکتے ہے ۔۔۔پلیز
سمر نے سوچا اگر وہ صرف اُس رات والی بات پر اب تک اٹکی ہوئی ہے تو وہ اُس کی غلط فہمی دور کرے کے اُسنے کچھ نہیں کیا تھا
مجھے اب کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔جو کہا ہے کرو
جنّت نے بیزاری سے کہا اور جانے کے لیے پلٹی سمر نے غصے میں آکر اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اُسے گاڑی سے لگا دیا جنّت نے اُسے غصے سے دیکھا اور نکلنے کی کوشش کی لیکن سمر نے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اسکا راستہ بند کردیا
تمہارا نوکر ہوں کیا۔۔۔۔ کے جو تم نے بولا وہ کروں۔۔۔۔۔دو منٹ سن تو لو میں کیا کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی اور میں۔۔۔۔۔
سمر اُس سے اتنی نرمی سے بات کر رہا تھا اور جنّت وہ اُس کے بات کاٹنے پر غصّہ ہوا تھا اور اب اُسے زبردستی بتانا چاہ رہا تھا لیکن ہنی کا نام آتے ہی جنّت نے اُسکے بات کاٹ دی
مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔۔ تمہاری لوو سٹوری تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کوئی لوو سٹوری نہیں سنا رہا ہوں۔۔۔۔بس ایک سچ بتا رہا ہوں جو تم نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسکے بیوقوفی پر وہ سختی سے بولا
چھوڑو مجھے۔۔۔۔نہیں سننا ہے
اُس نے ہاتھ کو دھکا دے کر ہٹانے کی کوشش کی سمر نے اُسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر کار سے لگ دیے
۔تمہیں سننا پڑےگا۔۔۔۔۔
وہ بھی ضد لیے تھا جنّت نے اُسے غصے سے دیکھا
پاپا۔۔۔۔۔۔
جنّت ایک دم سے گھبرا کر پیچھے دیکھتے ہوئے بولی جس پر سمر نے بھی ہڑبڑا کر پیچھے دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اور جب جنت کی جانب پلٹا تو وہ بھی نکل کر اندر جانے لگی تھی سمر کو اُس وقت اُس پر بہت غصّہ آیا جسے اُس نے گاڑی کے اوپر ہاتھ مار کر نکالا
💜💜💜💜💜
Next Thursday
