Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 13

آئی ایم سوری۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا جنت کے بارے میں۔۔۔
وہ سمر کے پاس آئی تھی وکی کے کہنے پر
سیم نے اس کی بات سنی پر اُسکے جانب نہیں دیکھا

I love you Sam
کچھ دیر بعد ہنی نے کہا جس پر سمر نے حیرانی سے اُسے دیکھا

میں ہمیشہ تم سے پیار کرتی آئی ہوں جنت کے ساتھ جو کیا وہ بھی تمہارے لیے کیا ۔۔۔۔۔۔۔میرے لیے تم سے زیادہ امپورتنٹ کچھ نہیں ہے نہ مجھے جنت سے کوئی لینا دینا ہے نہ اُسکے جانے سے
مجھے بس تم سے مطلب ہے
میں یہ بھی جانتی ہوں کے تم جنّت سے پیار نہیں کرتے

میں تم سے بھی پیار نہیں کرتا
وہ فوراً بولا تھا

لیکن میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں جب کہ جنّت صرف تم سے نفرت کرتی ہے میں تم سے پیار کے بدلے پیار تو نہیں مانگ رہی مگر بس تم مجھ سے ناراض مت ہوا کرو سیم
ہنی اموشنلی کہتے ہوئے اچانک اُسکے سینے سے لگ گئی سیم کو پہلے یہ بہت عجیب لگا پھر اُسنے سر جھٹکتے ہوئے ہنی کو پیچھے کیا

پلیز ڈونٹ کراے۔۔۔۔۔۔۔میں تم سے ناراض نہیں ہوں
وہ نرمی سے بولا ہنی نے اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اپنے چہرے پر رکھا
تھینکیو۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے اپنے مصنوعی آنسووں سے سیم کو یہ جتانے کی کوشش کی کے وہ واقعی اس سے پیار کرتی ہیں
💜💜💜💜💜💜
جنّت واپس اپنے گھر آگئی تھی اس نے کسی پر یہ ظاہر نہیں کیا تھا کے اس کے واپس آنے کی وجہ کیا ہے لیکن وہ خود کو سمر کے بارے میں سوچنے سے ایک پل بھی روک نہیں سکتی تھی
سب سے ملنے کے بعد وہ اپنے روم میں آگئی تھی اور کبرڈ میں کچھ تلاش کررہی تھی ایک سرخ ڈبیہ نکال کر اس نے کھولی جس میں چھوٹی سے ڈائمنڈ رنگ تھی جو سمر کے نام سے اُسے پہنائی گئی تھی اور اس نے اب تک اُسے سمبھال کر رکھا تھا وہ رنگ اس کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی لیکن اب اُسے خود پر غصہ آرہا تھا اُسنے خود کے ساتھ بہت غلط کیا تھا آج اگر وہ اتنی ہرٹ ہوئی تھی تو صرف اپنی وجہ سے اس نے خود ہی اتنی امیدیں سجا لی تھی سمر نے کبھی نہیں کہا تھا کہ مجھے یاد کرو مجھ سے پیار کرو میرے بارے میں سوچتی رہو لیکن وہ خود ہی اتنی آگے نکل گئی کے اب واپس لوٹنا ناممکن تھا
وہ رنگ کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کے کاش سمر سے ملاقات ہی نہ ہوئی تھی اس سے ایک طرفہ محبت کرنا اس سے کئی زیادہ بہتر تھا اس نے رنگ واپس رکھ کر بیڈ پر آگئی اُسکے موبائل پر مسلسل میسیج آرہے تھے اُسنے سمر کے خیالوں سے پیچھاچھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے موبائل پر دھیان دیا کسی انجام نمبر سے میسیج کیے گئے تھے اُسنے اوپن کیا تو سب سے پہلے اُسے تصویریں نظر آئی جو ہنی اور سمر کی تھی ایک تصویر میں ہنی سمر کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور سمر کا ہاتھ اُسکے شولڈر پر تھا جب کے دوسری تصویر میں سمر کا ہاتھ ہنی کے چہرے پر رکھا تھا اور وہ مسکرا رہا تھا
ساتھ ہی نیچے کچھ لکھا ہوا تھا

ہیلو جنّت آئے ایم وکی۔۔۔۔۔۔
ریئلی سوری جو تھرٹی فرسٹ کی نائٹ کو ہوا وہ بہت غلط تھا لیکن سچ میں ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا یہ سب ہنی اور سیم نے کیا ہے شاید تم سے کسی بات کا بدلہ لینے کے لیے ہماری غلطی اتنی ہی کے وہ دونوں ہمارے دوست ہے بہت پچھتاوا ہورہاہے آج اس بات کا کے سیم میرا دوست ہے
جس کی وجہ سے تمہیں کالج چھوڑنا پڑا جس نے سب کے سامنے تمہاری انسلٹ کی۔۔ ویسے۔۔اُسکے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔کیوں کے لوگوں کو تنگ کرنا اُسکے لیے کھیل بن گیا ہے افسوس کے اب تک میں بھی اسکا ساتھ دیتا آیا ہوں لیکن اس بار نہیں میں اب دوستی کے نام پر اُسکے غلط کاموں میں اسکا ساتھ نہیں دونگا ۔۔۔۔۔۔۔دیکھ رہی ہو نہ تم تمہارے جانے کا انہیں کوئی گلٹ نہیں ہو رہا بلکہ دونوں سیلیبریٹ کررہے ہیں
سب کی طرف سے میں تم سے معافی مانگتا ہوں سیم کو غلطی کا احساس ہو نہ ہو مجھے پتہ ہے کے اُسنے بہت غلط کیا ۔۔

اُسنے میسیج پڑھ کر موبائل کو بیزاری سے بیڈ پر پھینک دیا جس مقصد سے وکی نے اُسے وہ تصویریں بھیجی تھی شاید وہ کامیاب ہوا تھا اب تک تو وہ اس کشمکش نے تھی کے اُسنے واپس آکر صحیح کیا یہ غلط لیکن اب اُسے یقین ہو گیا تھا کے اسکا فیصلہ بلکل سہی ہے
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
چھ مہینے بعد ⁦❤️⁩⁦❤️

مام۔۔۔۔۔۔
سمر نے سیڑھیاں اُترتے ہوئے عیشا کو آواز دی وہ ڈائننگ ٹیبل پر اکیلی بیٹھی کسی گہری سوچ میں گم تھی سمر کے پکارنے پر بھی اُسے محسوس نہیں ہوا سمر کے ہاتھ آستین فولڈ کرتے کرتے رک گئے تھے اور وہ حیرت سے عیشا کو دیکھ رہا ہے اور جانتا تھا کے وہ کیا سوچ رہی ہے اندر آتی عائشہ سے اشارہ کرکے پوچھا تو اُسنے کندھے اچکا دیے

عائیش۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور کی آواز میں عائشہ کو پکارتا اُسکے جانب بڑھا اُسکے آواز پر عیشا نے ہوش میں آتے ہوئے دونوں کی جانب دیکھا

۔تم میرے کمرے میں کیوں آئی تھی

اتنا چلا کیوں رہے ہو
عائشہ نے عاجزی سے کہا

منع کیا تھا نہ ۔۔۔۔۔۔

یہ گھر میرے ڈیڈ کا ہے میں کدھر بھی جاؤں تمہیں کیا
عائشہ نے شان سے جواب دیا عیشا اٹھ کر دونوں کے پاس آئی

کدھر بھی جاؤ مگر میرے روم میں آکر میری چیزیں مت یوز کرو
سمر نے غصے سے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا

سمر۔۔۔۔۔آشو۔۔۔۔۔
عیشا نے اُنکا جھگڑا روکنا چاہا

ہر چیز میرے ڈیڈ کے پیسے کی ہے میں یوز کروں گی
عائشہ ڈھٹائی سے بولی

ڈیڈ کا کاپی رائٹ ہے کیا تمہارے پاس۔۔۔۔

سٹاپ اٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنی بار منع کیا ہے تم دونوں کو کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی مت کیا کرو
عائشہ کے جواب دینے سے پہلے عیشا نے سختی سے کہہ کے دونوں کو روک دیا

آپ کو بھی تو کتنی بار منع کیا ہے مام کے اتنا سوچ سوچ کے خود کو پریشان مت کیا کرو۔۔۔۔۔۔آپ سنتی ہو کیا
سمر نے اسی کے انداز میں سنجیدگی سے کہا
سمر۔۔۔۔۔۔

دوسروں کو یاد کرتے کرتے خود کو مت بھول جاؤ مام پلیز۔۔۔۔۔

وہ دوسرے نہیں ہے سمر۔۔۔۔۔۔۔

مام۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے جلدی سے اُسے گلے لگا لیا اس کے پہلے کے وہ اب رونے لگ جائے

مطلب تم دونوں لڑنے کا ناٹک کررہے تھے
عیشا کو سمر کی لڑائی کی وجہ سمجھ میں آگئی تھی
نہیں مام۔۔۔۔۔۔میں ریئلی اس سے بہت پریشان ہوں کوئی لڑکا دیکھ کر اس کو جلدی گھر سے آؤٹ کرو نا
سیم اُسی طرح سیریس ہوکر بولا جس پر عائشہ نے اُسے غصے سے گھورا
💜💜💜💜💜💜

عید کا دن تھا لیکن دل کو کسی گہری اُداسی نے گھیرا ہوا تھا اُسکے ہر عید خوشیوں سے بھرپور ہوتی تھی حالانکہ تب بھی سمر کی کمی تھی لیکن اب تو اُسکے ملنے کی امید بھی نہیں تھی اُس نے پستائی رنگ کا لمبا کرتا اور چوڑی دار پر ہلکا سا میک اپ کیا تھا خود کو نارمل رکھنے کے کوشش میں کو مصروفیت ڈھونڈ رہی تھی کچن میں کھڑی نظریں کھڑکی سے باہر اور دھیان میں کوئی اور

جنّت۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر کی آواز پر اُسنے اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کیے اور مسکراتی ہوئی پلٹی

کبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عید مبارک۔۔۔۔ اچھا ہوا تم آگئے۔۔۔۔۔ اب جلدی بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں ۔۔۔۔۔اور ہاں آج میں نے خود شیر خورما بنایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم ٹیسٹ کرکے بتاؤ کیسا لگ رہا ہے
وہ ایک کے پیچھے ایک بات کہتی واپس پلٹی تھی اور چھوٹے سے بول میں شیر خورمہ نکال کر اسکی جانب بڑھایا

رو رہی تھی تم۔۔۔۔۔۔۔
کبیر نے اُسکے بڑھے ہوئے پیالے کو نظر انداز کرتے ہوئے اُسے غور سے دیکھا

نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی

جھوٹ مت بولو جنّت ۔۔۔بتاؤ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی رو دی

جنّت ار یو اوکے۔۔۔۔
کبیر نے پریشان ہوکر پوچھا جنّت نے سے اثبات میں ہلا دیا

جب سے تم۔لندن سے واپس آئی ہو تم بہت بدل گئی ہو پہلے کی طرح نہیں ہو تم اب۔۔
سچ بتانا جنّت تمہارے واپس آنے کی وجہ صرف گھر کی یاد تھی یہ کچھ اور ۔۔۔
کیا وہاں کچھ ہوا تھا یا کسی نے تنگ کیا تھا تمہیں

کبیر نے اُسے جانچتے ہوئے پوچھا

ایسی کوئی بات نہیں ہے کبیر
وہ سے جھکا کر دھیرے سے بولی

سمر کو سوچ کر رو رہی ہو
کبیر نے پوچھا تو جنّت نے اُسکے جانب دیکھ کے سر اثبات میں ہلا دیا وجہ تو وہی تھا

چپ ہو جاؤ۔۔۔۔۔میرے پاس تمہارے لیے ایک گڈ نیوز ہے
وہ مسکرا کر بولا
کیا۔۔۔۔

تم سمر کو ڈھونڈنا چاہتی تھی نا ۔۔۔۔وہ لندن میں ہے۔۔۔۔۔۔۔
کبیر نے اُسے وہ بات بتائی جو وہ بہت پہلے جان چکی تھی اگر یہ بات پہلے اُسے پتہ چلتی تو شاید اُسکے خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا لیکن اب بس وہ خاموش کھڑی تھی اُسنے ے بات نہ اب تک دادی کو بتائی تھی نہ کبیر کو پتہ نہیں کیوں وہ ہمت نہیں کررہی تھی

اب بہت جلد تم اُس سے مل سکتی ہو۔۔۔۔ چاہو تو فون پر بھی بات کر سکتی ہو

تھینکیو کبیر۔۔۔۔۔۔۔

شیر خورمہ پلاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔آنسو تو نہیں گرائے نہ اس میں
وہ پیالا اُسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولا وہ بمشکل مسکرائی

کبیر۔۔۔۔۔۔۔
وہ جانے کے لئے پلٹا تھا لیکن جنّت کی آواز پر مڑ کر دیکھا

اگر میں اُس سے ملی اور اُس نے مجھے پہچاننے سے انکار کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اُس نے کہہ دیا کہ میں نہیں جانتا کسی جنّت کو مجھے نہیں یاد کوئی بچپن کی انگیجمنت تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگی اسکی بات سن کر کبیر مسکرایا

ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔بیوقوف ہوگا جو تمہیں پہچاننے سے انکار کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔کون اس خوش نصیبی سے منہ موڑنا چاہے گا کے ایک لڑکی اُس سے سالوں سے بے غرض محبت کرتی آرہی ہے خود سے زیادہ ساری دنیا سے زیادہ اُسے اہمیت دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی محبت میں شاید خود کو بھی بھول چکی ہے اُس لڑکی کو وہ کیسے نہیں پہنچانے گا جنّت
اُسنے جنّت کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا اُسکے لیے کتنا مشکل تھا جنّت کو سمر کا ذکر بھی کرتے دیکھ لیکن وہ خودغرض نہیں تھا وہ جنّت کی خوشی چاہتا تھا چاہے وہ سمر میں ہی کیوں نہ ۔۔۔۔۔۔

تھینکیو کبیر۔۔۔۔۔۔۔
جنّت نے اُسکے جانے کے بعد کہا
💜💜💜💜💜
Next epi on sunday