Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 33

تم اوپر کیوں چلی آئی
وہ ہنی کے جانے کے بعد اُسکے روم میں آیا تھا اور جنت بیڈ پر خاموش بیٹھی تھی

ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے دلی سے بولی اور سمر ہنسنے لگا

اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولی

مجھے پتہ ہے۔۔۔۔اصل میں تم ہنی سے جیلس ہو۔۔۔۔۔

میں کیوں تمہاری اُس ہنی مس فنی سے جیلس ہونے لگی۔۔۔
وہ اُسکی بات کاٹ کر بولی

کیوں نہیں ہو ۔۔۔
سمر نے اُسکے قریب بیٹھتے ہوئے اُسے بڑی آنکھیں کرکے دیکھا

بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے لا پرواہی سے جواب دیا

اچھا ۔۔۔۔ویسے مجھے لگا۔۔۔آفٹر آل ہنی ہے ہی اتنی اسمارٹ۔۔۔۔۔اسکا ہیئر سٹائل۔۔۔۔اسکا آئے میک اپ۔۔۔۔اُسکی باتیں۔۔۔۔۔۔شی اس فنٹسٹک۔۔۔۔۔۔ہے نا
وہ اُسے غور سے دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا

اتنے قریب سے تو تم ہی اُسے جانتے ہو میں نہیں اسی لیے تو تم نے اُسے یہ تک بتا دیا کے ہم الگ الگ کمرے میں رہتے ہیں
اُسکی بات پر جنت نے سنجیدگی اور خفگی سے کہا اور سمر بھی اُس کی بات پر سنجیدہ ہوا

جنت میں نے اُسے جان بوجھ کر یہ بات نہیں بتائی غلطی سے ایک بار میں نے کہہ دیا تھا کے جنت اپنے روم میں ہے اور جب اُس نے پوچھا تو میں جھوٹ نہیں بول پایا۔۔۔۔

اگر جان بوجھ کر بھی کیا ہوگا تو میں کون ہوتی ہوں سوال کرنے والی بس جب اُس نے مجھے کہا تو مجھے اچھا نہیں لگا

میں نے جان بوجھ کے نہیں کیا لیکن پھر بھی سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوکے
وہ اُسے اُداس دیکھ کر بولا جنت نے نہ کوئی جواب دیا نا اُسکی جانب دیکھا

میں لیٹ ہو رہا ہوں اگر تم تیار ہو جاؤ تو کال کر دینا مووی دیکھنے جاینگے اوکے
سمر نے اٹھتے ہوئے کہا اور باہر نکل گیا وہ اُس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی نا کی

💜💜💜💜💜
سمر نے پہلے تو اُسکے کال کا انتظار کیا پھر خود ہی اُسے کال کی لیکن اُس نے فون نہیں اٹھایا اور اسکا یہ غصّہ اگلے دن تک جاری رہا جب سمر نے اُسے گڈ مارننگ کہا اور اُس نے جواب دینے کی بجائے باہر آگئی وہ بھی آفس کے لیے نکل گیا اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ جنت کو کیسے منائے سمر نے آفس میں بیٹھے موبائل چیک کیا تب اُسے جنت کی کی ہوئی حرکت کا پتہ چلا اور اُسے بہت ہنسی آئی اُس کی حرکت پر اُس نے اُس چیٹ کے سکرین شاٹ لے کر جنت کو سینڈ کیے

یہ سب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
نیچے لکھ کر سینڈ کیا جنت نے اسی وقت مسیج دیکھ لیا تھا لیکن کوئی رپلائی نہیں کیا

کہیں ایسا تو نہی کے میرے سونے کا فائدہ اٹھا کر تم نے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اتنا میسیج کیا تھا یہ سوچ کر کے شاید اب جواب دے گی لیکن اب بھی صرف اُس نے دیکھ کر اگنور کیا تھا اور سمر نے ایک گہری سانس لے کر فون رکھ دیا
💜💜💜💜💜💜💜💜

وہ نیند سے جاگي تو اپنے پائنتی سمر کو بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر پہلے تو ایکدم سے ڈر گئی پھر اٹھ کر اُس کے پاس آئی
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اُس سے پوچھ رہی تھی اور سمر ایسے بیٹھا تھا جیسے کان اور آنکھیں بند ہو صرف ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا
پلیز جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ بولی اور سمر پھر سے انجان بنا رہا

میں تم سے بات کر رہی ہوں جواب دو گے۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی
میں بھی تو پچھلے دو دن سے تم سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہوں نا تم دے رہی ہو کیا جواب
وہ اُسکی جانب دیکھ کر ایک دم سے بولا اُسکی آنکھوں میں بہت ساری ناراضگی دیکھ کر جنت خاموش ہو گئی

جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔
بنا اُسے دیکھے بولی

پہلے بات کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولا

جاؤ گے یا نہیں۔۔
وہ اُسے دیکھ کر بولی

بات کروگی یا نہیں۔۔۔۔۔
سمر نے اُسے سنجیدگی سے دیکھا

نو۔۔۔۔
اُس نے فوراً جواب دیا اور خود روم سے باہر جانے لگی لیکن اُس کے پہلے سمر نے اُس کا ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا اُس نے جلدی سے اٹھنا چاہا لیکن سمر نے دونوں ہاتھ اُس کے پیٹ پر رکھ کر اُس کا راستہ بند کر دیا

لیو می۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی لیکن سمر نے اپنی دونوں ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے اُسے جکڑے رکھا تھا اور اُسکی نظریں جنت کے پریشان چہرے پر تھی

سمر پلیز ہاتھ ہٹاؤ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب دیکھ کر دھیرے سے بولی

پہلے بتاؤ کس بات کی ناراضگی ہے۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکے شولڈر پر ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے پوچھا
جنت کو اُسکی سانسیں بھی اپنی گردن پر محسوس ہو رہی تھی وہ اُسکے اتنے قریب تھا اور اُسکی نظریں ویسے ہی جنت کے دل تک پہنچ جانے والی
مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔وہ ہے نہ ہنی دا فنٹاسٹک ۔۔۔۔اُس دِن تو اُسکی بہت تعریفیں کر رہے تھے
وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی

میں نے تو اُسکی کوئی تعریف نہیں کی
وہ اُسی انداز میں اُسے دیکھتے بولا لیکن اُسکے جھوٹ پر جنت نے اُسے حیرت سے دیکھا

اب جھوٹ بھی بولوگے۔۔۔۔۔

سچ کہہ رہا ہوں میں نے اُسکی کوئی تعریف نہیں کی
وہ اپنی بات پر قائم تھا

اچھا تو یہ کس نے کہا کے اسکا ہیئر سٹائل بہت اچھا ہے
جنت نے یاد دلائی

ہیئر اسٹائل کی تعریف کی یہ تھوڑی کہا کہ اُس کے بال خوبصورت ہے
وہ فوراً بولا اور اُس کے گلے میں موجود بالوں کو پیچھے لیا

نا یہ کہا کے مجھے اُسکے لمبے بالوں کو چھونا بہت اچھا لگتا ہے اور اگر میں نے پہلے دن سے اگر اُس نے کسی چیز کو سب سےزیادہ نوٹس کیا ہے تو وہ ہے اُسکے بال
اُسکی آنکھیں ظاہر کر رہی تھی کے وہ کس کی بات کر رہا ہے جنت اُس کی بات پر مسکرائی سمر نے ایک ہاتھ سے اُس کے دونوں پیروں کو اپنی دائیں جانب کر دیا تھا جس سے جنت کا رخ اب کچھ اُسکی جانب تھا

اور یہ کس نے کہا کے اسکا آئے میک اپ بہت اچھا ہے

یہ تو نہیں کہا نا کے اُسکی آنکھیں بہت اچھی ہے۔۔۔۔جب وہ مجھے دیکھتی ہے کبھی شرارت سے کبھی غصے سے کبھی پیار سے تو دل چھو جاتی ہے
وہ اب بھی اسی کی تعریف کر رہا تھا اور جنت مدہوش ہو کر اُسے سن رہی تھی

اور اُسکی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُس کی جانب دیکھا تھا سمر کا چہرہ اُسکے بہت قریب تھا اور وہ اُسکے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا
اُسکی باتیں سننے کا دل نہیں کرتا بس اُسے دیکھتے رہنے کو دل کرتا ہے بنا بولے سب سن جانے کو دل کرتا ہے اور ان ہونٹوں کو چھونے کا دل کرتا تھا

وہ اپنے ٹاپک سے بھٹک چکا تھا اُس کی بات پر جنت نے اپنے لب بھینچ لیے تھے اور نظریں جھک گئی تھی وہ اُسکی جانب یونہی جذبات لٹاتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور انتظار کر رہا تھا کے وہ اُس کی جانب دیکھے لیکن جنت کے لیے یہ بہت مشکل تھا

I love you jannat
اُس نے سرگوشی کی تھی اور جنت نے فوراً پلکیں اٹھا کر اُسے دیکھا تھا حیرت سے ۔۔۔لیکن اُس کی آنکھیں اُس کے الفاظ کی سچائی بیان کر رہی تھی وہ آنکھوں سے بھی یہی بات کہہ رہا تھا جو آج پہلی دفعہ اُس نے زبان سے کہی تھی اظہارِ محبت کا یہ انداز جنت کی روح تک جھنجھوڑ گیا ۔۔۔۔۔کیا ہنی۔۔۔۔۔ کیا غصّہ۔۔۔۔کیا ناراضگی۔۔ ۔۔ہر وجہ کمزور پڑ گئی۔۔۔۔یہ تسلسل شاید کبھی نہ ٹوٹتا اگر فون کی رنگ نے سکوت کو نہ توڑا ہوتا ۔سب سے پہلے جنت ہوش میں آئی تھی اور جلدی سے اٹھ گئی تھی سمر نے موبائل نکالا اور دیکھ کے ویسے ہی واپس رکھ دیا

آفس ۔سے کال ہے۔۔۔مجھے جانا پڑےگا
اُس نے براہِ راست یہ کہا کے وہ جانا نہیں چاہتا پر جانا پڑےگا جنت نے کوئی جواب نہیں دیا

بائے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب جھک کر بولا تو جنت اُسکی جانب دیکھ کے مسکرائی اور گردن ہلا دی

💜💜💜💜💜💜💜💜💜