Sunn Mere Humsafar 2 By Sanaya Khan Readelle50084 Episode 39 (Part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39 (Part 2)
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 39 (B)
اس نے دھیرے سے دروازے کو ناک کیا تھا اور اگلے کچھ سیکنڈ بعد دروازہ کھول کر اندر آیا اُس کی نظریں جنت کوتلاش رہی تھی لیکن وہ روم میں نہیں تھی اُس دِن کے بعد سے ہی وہ واپس اُس الگ کمرے میں رہ رہی تھی سمر نے اُس کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جنت اب اُسے کوشش کرنے کا بھی موقع نہیں دے رہی تھی وہ تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے واپس آیا تھا باہر زوروں کی بارش ہورہی تھی طوفانی ہوا چل رہی تھی لیکن سمر کا دل اس کی محبت کی ایک بوند کے لیے ترس رہا تھا وہ روم سے نکل کر نیچے آیا لیکن وہ نیچے بھی اُسے کہیں نظر نہیں آئی اُس نے ملازمہ سے پوچھا تو اُس نے انکار کر دیا کے نہیں پتہ سمر کو اب ٹینشن ہونے لگی تھی کے جنت کہیں چلی نا گئی ہو ایک بار پہلے بھی وہ جانے کی کوشش کر چکی تھی حالانکہ اُس کا غصّہ غلط نہیں تھا لیکن سمر کو اُس کے جانے کے خیال سے ہی ڈر لگا
وہ گھر کے باہر نکلا پورچ کے نیچے آکر اُس نے وہیں سے گارڈن میں اُسے ڈھونڈنا چاہا لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھی سمر نے واپس اندر آتے ہوئے اُس کے نمبر پر فون کیا لیکن رنگ بجتی رہی کوئی جواب نہیں ملا سمر نے ھنا کا نمبر ڈائل کیا لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گیا اور اوپر ٹریس پر آگیا اور اُس کی توقع کے مطابق وہ اُسے وہاں نظر آگئی اپنے سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑے بارش کے پانی میں بھیگتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ارد گرد سے بے نیاز آنکھیں بند کئے بارش کے پانی کی ہر بوند کو وہ اپنے اندر تک محسوس کر رہی تھی نہ اُسے بارش کی تیزی متاثر کررہی تھی نا زوروں سے چلتی ہوا اُس کے کپڑے بدن سے چپکے ہوئے تھے اور دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا ٹخنوں سے اوپر تک کالی کیپری میں اُس کے سفید پیر صاف جھلک رہے تھے اتنے فاصلے اور اتنی بارش کے باوجود وہ اُس کے چہرے سے صاف اندازہ لگا سکتا تھا کے وہ اس وقت رو رہی ہے بارش کے پانی میں اپنے آنسووں کو چھپائے اپنا درد بہانے کی کوشش کر رہی ہے سمر کو محسوس ہی نہیں ہوا کے کب اُس کے قدم خود بخود جنت کی جانب بڑھ گئے وہ ٹھیک اُس کے مقابل میں آکر رکا تھا اور اُسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا اتنی سے دیر میں ہی وہ پوری طرح بھیگ چکا تھا بارش کی بوندیں اُسکی آنکھوں کو تکلیف دے رہی تھی لیکن وہ بھی اپنی ضد پر تھا کے جنت کے اور اُس کے درمیان کوئی نہ آئے جنت کا دوپٹہ ہوا کے اگلے جھونکے سے اڑ کر اُس کے چہرے پر آپڑا تھا جسے اُس نے دھیرے سے ہٹایا تھا جنت نے اُس کی موجودگی کا احساس کیا تو آنکھیں کھولی اور سمر کی آنکھوں میں دیکھا اُس کی آنکھوں میں وہی جنون وہی سنجیدگی جو ہمیشہ اُسے اندر تک جھنجھوڑ دیتی تھی اب بھی اُسے پلکیں جھکانے پر۔مجبور کر گئی سمر نے اُس کا دوپٹہ اس طرح کھینچا کے وہ اُس سے الگ ہو گیا اور جب سمر نے اُسے ڈھیلا چھوڑ دیا تو خود بخود اُس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا سمر نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے فاصلے کو کافی حد تک کم کر دیا تھا جنت اُس کی قربت پر اُسے دیکھنے کو مجبور ہوئی تھی لیکن پھر وہی اُس کی آنکھیں
اُس کی آنکھیں ہمیشہ ہی جنت کو کمزور بنا دیتی تھی وہ ہار جاتی تھی ہمیشہ لیکن اب نہیں اُس نے پھر نظریں نیچے کی
اب وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی سمر نے اُس کے کردار پر انگلی اٹھائی تھی اُس کے دل کو ٹھیس پہنچائی تھی وہ اُسے ایک اور موقع نہیں دینا چاہتی تھی اس ڈر سے کے کہیں وہ اُسے دوبارہ آسمان پر بٹھا کر پھر زمین پر نہ لا پٹکھے اور اس بار شاید وہ برداشت بھی نہ کر پاتی۔۔۔
سمر نے محسوس کیا اُس کے دل کی ہر بات کو جو وہ کہہ نہیں رہی تھی لیکن اُس کی آنکھیں بتا رہی تھی سمر کی نظریں اُس کی جھکی پلکوں سے ہٹ کر اُس کے سرخ لبوں پر آ ٹھری تھی جو کچھ سردی اور کچھ اُس کے قریب ہونے سے کانپ رہے تھے سمر نے ایک ہاتھ اُس کے گلے پر رکھتے ہوئے جھک کر اُس تھوڑے سے فاصلے کو بھی ختم کیا تھا اور اُس کے لبوں سے خود کو سیراب کیا تھا ہر شکوے کا جواب اُس احساس میں شامل تھا اُس کے انداز میں بھی اتنی ہی نرمی تھی جتنی کچھ دیر پہلے جنت نے اُسکی آنکھوں میں دیکھی تھی اُس کی گرم سانسوں سے جنت کے ٹھنڈے چہرے پر تپش بڑھنے لگی تھی وہ اسی طرح مورت بنی کھڑی رہی جیسے کوئی احساس باقی نا رہا ہو نہ کوئی احتجاج نا ناراضگی نا غصّہ۔۔۔ ۔۔۔لیکن اچانک سمر کی باتیں۔۔۔اُس کی نفرت۔۔۔اُس کی کی گئی بے عزتي کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا اور اُس نے ایک دم سے سمر کا ہاتھ جھٹک کر اُسے دور کرتے ہوئے خود کو آزاد کیا سمر بنا حیران ہوئے اُسے دیکھتا رہا جنت اُسے خفگی سے دیکھ کر جانے کے لیے پلٹی لیکن سمر نے اُسکی کلائی پکڑ لی تھی وہ آگے نہیں بڑھ پائی لیکن سمر کی جانب پلٹ کر دیکھا بھی نہیں سمر نے آگے ہو کر اُس کی پشت سے لگتے ہوئے دونوں ہاتھ اُس کے گرد باندھتے ہوئے اُس کے سر پر سر رکھا تھا جنت نے اُس کے ہاتھوں کو زور سے دھکا دیتے ہوئے خود سے ہٹایا تھا اور بے اواز روتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا تھا سمر نے دونوں ہاتھ سے کان پکڑتے ہوئے بنا کہے اُس سے معافی مانگی ایک ہاتھ اُسکی آنکھوں تک لے جا کر گرتے ہوئے آنسو کو اپنی انگلی سے روک کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُسے رونے سے منع کیا تھا لیکن اُس کے رونے میں اور شدّت آگئی تھی وہ خفگی سے اُسے دیکھتے ہوئے رو رہی تھی اور دونوں ہاتھوں سے اُس کے سینے پر مکّے برساتے ہوئے اپنا بدلہ لے رہی تھی سمر بے تاثر نظروں سے اُسے دیکھتا رہا اور اُس کے نازک وار سہتا رہا جب تک وہ خود تھک کر ہار نہ مان گئی وہ وہیں زمین پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی سمر نے اُسے زمین سے اٹھا کر سیدھا کرتے ہوئے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تھا اور نیچے کی جانب چل دیا تھا دونوں اس قدر بھیگے ہوئے تھے کے اندر قدم رکھتے ہی فرش بھیگنے لگا تھا سمر اُس کے چہرے پر نظریں جمائے چلتا ہوا اُسے لے کر اپنے روم میں آیا تھا اور جنت کو بیڈ پر اُتار دیا تھا جنت اُس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی سمر کے بالوں سے گرتے پانی کی بوندیں اُس کی پیشانی پر گر رہی تھی جب وہ اُس کے دونوں جانب ہاتھ رکھتے ہوئے اُس پر جھک رہا تھا اُس کے ہونٹ جنت کے گالوں سے ہوتے ہوئے اُس کے گلے تک پہنچے تھے اور جنت نے کروٹ دوسری جانب بدلتے ہوئے رخ پھیر لیا تھا سمر نے اس کی پشت سے لگ کر لیٹتے ہوئے اس کے بالوں کو ہٹا کر ہونٹ اس کی گردن پر رکھے تھے اور اس کے اوپر ہاتھ رکھا تھا
جنت نے اس کے ہاتھوں سے اپنے شرٹ کے بٹن کھلتے ہوئے محسوس کرکے شرٹ کے اوپری بٹن کو سختی سے مٹھی میں جکڑ لیا تھا لیکن سمر نے اس کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اُسکا ہاتھ پکڑ کر سائڈ میں رکھا تھا اور اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا جنت نے اس سے نظریں چراتے ہوئے آنکھیں موند لی تھی اور سمر نے اس کی بند آنکھیں پر ہونٹ رکھتے ہوئے اُسے خود اور قریب کر لیا تھا
💜💜💜💜💜💜
باقی شام تک۔۔۔۔
