No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
Sun_mere_humsafar_2
Sanaya khan
Epi 18
بہت رات ہو رہی ہے چلو اب سو جاتے ہیں صبح جلدی بھی تو اٹھنا ہے
وہ دونوں جب سے واپس آئے تھی باتوں میں لگے تھے آخر ساحر نے خود ہی کہا اور اٹھ کر روم میں آگیا
سمر کیا ڈھونڈ رہے ہو تم کب سے۔۔۔۔۔۔
سمر کو وہ کافی دیر سے نوٹس کر رہی تھی کے وہ کچھ ڈھونڈ رہا ہے
مام میرا موبائل نہیں مل رہا ۔۔۔۔
اُس نے صوفے سے کشنس ہٹا کر ادھر اُدھر پھینک دیے تھے
روم میں ہوگا۔۔۔۔۔سمر یہ کیا کر رہے ہو
سب ڈھونڈ لیا نہیں ہے کہیں۔۔۔۔۔
وہ بیزار ہو کر بولا
لاسٹ ٹائم کہاں رکھا تھا ۔۔۔۔
لاسٹ ٹائم تو میں رومی سے بات کر رہا ہے پھر کچھ گرلز آگئی تھی مہندی لگانے کو۔۔۔۔۔ تب میں نے فون وہیں رکھ دیا تھا
وہ دماغ پر زور ڈالتے ہوئے بولا
پھر وہاں سے اٹھایا تھا۔۔۔۔
عیشا نے جانچتے ہوئے پوچھا
نہیں۔۔۔
وہ جلدی سے بولا عیشا نے سر نفی میں ہلا دیا
میں ابھی لیکر آتا ہوں
اتنی رات کو کہاں جا رہے ہو سمر جانے دو کل مل جائیگا۔۔۔۔
وہ باہر کی جانب بھاگا تھا عیشا کے آواز دینے پر بھی نہیں رکا اور اُسکے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی آواز پر عیشا چپ ہوکر روم میں آگئی
💜💜💜💜💜💜
سب سو چکے تھے جب وہ وہاں پہنچا تقریبا بارہ بج رہے تھے کل شادی تھی اسلئے سب تھکے ہارے اپنے اپنے کمرے میں جا چکے تھے وہ بنا ڈور بیل بجائے دروازہ کھول کر سیدھا اندر آگیا یہ سوچ کر کے کسی کو ڈسٹرب نہ ہو ڈرائنگ روم میں اندھیرا تھا بس ہلکی سے روشنی تھی اُسنے صوفے پر انداز سے ہاتھ پھیرتے ہوئے موبائل ڈھونڈنا چاہا لیکن صوفہ خالی تھا آس پاس دیکھا تو کونے میں رکھی ٹیبل پر اسکا موبائل پڑا تھا اُسنے جلدی سے اٹھا لیا وہ پلٹ کے دو قدم ہی آگے بڑھا تھا کے جنت سے ٹکرایا جنّت پہلے گھبرائی پھر اُسے دیکھ کر حیران ہوئی
تم ۔۔۔۔۔تم۔۔یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ پہلے ڈری تھی کے اتنی رات کو گھر میں کون آگیا پھر سمر کو دیکھ کر بولی سمر نے موبائل دکھایا
میں اپنا موبائل لینے آیا تھا
ت۔۔۔ت۔۔تو۔۔۔۔۔ایسے چورو کے طرح آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔ ڈور بیل بجا کر نہیں آسکتے تھے
ایسے ایک دم سے سامنے آگئے اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا تو
او مائے گاڈ۔۔۔۔۔۔۔تمہارے پاس ہارٹ بھی ہے
سمر نے حیرانی جتاتے ہوئے کہا اسکی طنزیہ نظروں کو دیکھ کر جنّت نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ کر اُسے دیکھا
مل گیا نا فون۔۔۔۔۔ تو اب جاؤ یہاں سے
نہیں جاؤنگا میرے ماموں کا گھر ہے
سمر نے فوراً ڈھیٹ بن کر جواب دیا
تو بیٹھ کر اپنے مامو کے نام کی تسبیح کرو۔۔۔
وہ بولی اور کچن میں آگئی سمر اُسے غصے سے دیکھتا رہا لائف میں شاید ہی کسی نے اُس کی اتنی انسلٹ کبھی کی ہوگی
جنّت نے کچن کا لائٹ آن کیا تھا اور وہ اپنے لیے کھانے کو کچھ ڈھونڈ رہی تھی اُسکے باتوں سے سمر مہندی کے درمیان ہی اٹھ کر چلا گیا تھا اور اُسے بہت برا لگا تھا اُسنے کھانا بھی نہیں کھایا تھا لیکن اب اُسے زبردست بھوک محسوس ہو رہی تھی اسی لیے اپنے کمرے سے باہر آئی تھی جنّت کے سیدھے ہاتھ کی مہندی ابھی تک نم تھی اور وہ بمشکل لیفٹ ہینڈ میں چمچہ پکڑے کھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ کچھ سوچ کر کچن میں آیا۔۔دوسرا نوالہ بناتے وقت جنّت کے ہاتھ سے چمچہ سمر نے لے لیا تھا جس پر اُس نے حیرانی سے اُسے دیکھا سمر نے خود ہی اسپون میں چاول لیکر اسکی جانب بڑھایا پہلے اُسنے کچھ سیکنڈ سمر کو دیکھا پھر منہ کھول دیا سمر اب بھی اُسکے جانب غصے سے ہی دیکھ رہا تھا لیکن ایک کے بعد ایک اُسے برابر کہلاتا جا رہا تھا جب کے جنت اُسے مکمل اگنور کیے کھانے پر فوکس کر رہی تھی درمیان میں جب سمر نے اُس کی بجائے اسپون اپنے طرف کیا تو جنّت نے اُسے ناگواری سے دیکھا جس پر سمر نے اسپون واپس اُسکے طرف لیجاتے ہوئے ٹھونسنے والے انداز میں اُسے کھلایا۔۔۔۔جب جنّت کا پیٹ بھر گیا تو وہ بنا کچھ کہے وہاں سے ہٹ گئی اور پانی پینے لگی وہ اُسکے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا جب کے وہ لائٹ آف کرتے ہوئی واپس کمرے کی جانب چلی گئی سمر نے اُس احسان فرموش کو حیرت سے جاتے دیکھا جو اُسکے اچھائی کا ایسا صلا دے رہی تھی اُسنے پلیٹ کو واش بیسن میں پٹخ کر باہر نکل گیا
اس نے مجھے سچ میں نوکر سمجھ رکھا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔۔میں کیوں اسکی نوکری کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلا،
💜💜💜💜💜💜💜
وہ موبائل لے کر باہر نکلا تو ہنی کی کال آرہی تھی
تم کب واپس آرہے ہوں سیم۔۔۔۔۔۔آئی ایم مسنگ یو
ہنی نے ہمیشہ کے انداز میں کہا
کل میری شادی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا ادھر ادھر کی بات کیے سیدھے بولا اور گاڑی کا ڈور کھول۔کر اندر بیٹھ گیا جنت کھڑکی سے اُسے دیکھ رہی تھی اور فون پر بات کرتے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کے کون ہو سکتا ہے
وہاٹ۔۔۔۔
ہنی کو اس کی بات پر جھٹکا لگا تھا
لیکن تم نے تو کہا تھا کے تم بس اپنے ریلیٹو سے ملنے جہ رہے ہو شادی کا تو تم نے بتایا ہی نہیں
ہنی نے بيقینی سے کہا
کیونکہ میں خود شیور نہیں تھا
تم اُس سے کیسے شادی کر سکتے ہو یو نو نا آئی لوو یو
ہنی نے حیرت اور صدمے سے کہا
ہنی پلیز۔۔۔۔۔ہم دونوں صرف دوست ہے ۔۔۔۔پیار ویار کچھ نہیں ہوتا
اور یہ شادی میں صرف اپنے لیے نہیں کر رہا ہوں بلکہ اپنے پرنٹس کے لیے کر رہا ہوں تم جانتی ہو نا وہ میرے لیے کتنی امپوٹنس رکھتے ہیں
سمر نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا اور اسکی بات کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ کال کاٹ چکی تھی وہ جانتا تھا ہنی کس ٹائپ کی لڑکی ہے اُسنے دو دفعہ اُسے یہی سچا پیار کسی اور سے بھی کرتے دیکھا تھا اسلئے اُسکے باتوں سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
💜💜💜💜💜
وہ سمر کو جاتا دیکھنے کے بعد روم میں آکر لیٹی ہی تھی اُسکا فون بجنے لگا
تم سیم سے شادی کیسے کرسکتی ہو۔۔۔۔تم جانتی ہو۔ نا ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہے پھر کیوں ہمارے بیچ میں آرہی ہو۔۔۔۔۔۔سیم کبھی تم سے پیار نہیں کریگا وہ صرف مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی اُسکے فون اٹھاتے ہی شروع ہو گئی
شٹ اپ۔۔۔۔
جنت نے غصے میں آکر اُسکے بات کاٹی
۔ اپنی بک بک بند کرو اور میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔میں اُسے کڑنیپ کرکے گن پوائنٹ پر شادی نہیں کروا رہی ہوں
نا وہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہے جیسے لالیپاپ کی لالچ دے کر قبول ہے قبول ہے بلوا لونگی
۔۔۔۔۔وہ اپنی مرضی سے شادی کر رہا ہے اور اگر اتنا ہی تمہارے عشق میں پاگل ہے نا تو بولو اُسے کے جاکر اپنی ماں سے بات کرے اور شادی سے انکار دے اُسکے بعد ساری زندگی اپنی دم پکڑوا کے پیچھے پیچھے گھماتی رہنا اُسے۔۔۔میرے بھی سر سے مصیبت ٹلے گی۔۔۔۔۔۔لیکن ابھی میرا سر مت کھاؤ سمجھی
اُسنے فون بند کردیا اور ہنی دانت پیس کر رہی گئی اُس کے اور وکی کے بہکانے کے باوجود جنت اُس سے شادی کر رہی تھی۔۔۔اور ہنی کو بہت بڑا جھٹکا لگا تھا
شادی تو کرلو گی لیکن سیم کو مجھ سے چھین نہیں پاوگی تم میں اُسے اپنا بنا کر رہوں گی اسکے لیے مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے
ہنی نے نفرت سے کہا اُسکے دل میں سیم کے لیے محبت ہو یہ نا لیکن اب جننت کو وہ اپنی دشمن بنا چکی تھی
