Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 9)
Rate this Novel
Sirat-E-Mustaqeem (Episode 9)
Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas
اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو وه ٹیرس کی طرف کھلتی تھی اور کوئی بھی آس پاس نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری حویلی میں وه اکیلی ہے ۔۔۔
وه آرام سے بِنا آواز کیے ونڈو کے ذریعے ٹیرس پر آ گئی۔۔۔اب وہ نیچے بیٹھ کر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی کیونکہ کھڑے ہو کر چلنے میں رِسک تھا۔۔۔دو اطراف سے وہ بلڈنگ کے اندر ہی تھا جبکہ ایک دیوار اس بلڈنگ کے باہر تھی۔۔
مطلب اس طرف سے وہ اس بلڈنگ سے نکل سکتی تھی ۔۔۔مگر کیسے؟؟
دیوار تو بہت اونچی تھی اور ایسے کودا نہیں جا سکتا تھا۔۔۔اس نے ہر چیز کا بغور معائنہ کیا تو ایک موٹا پائپ دیوار کے ساتھ لگا تھا جو نیچے تک جا رہا تھا۔۔۔
عبایا پہلے ہی مٹی سے اٹّا پڑا تھا اور اس وقت خود کو بچانا ضروری تھا اور کسی چیز کو نہیں۔۔۔
اس لیے اس نے مزید بنا کوئی وقت ضائع کیے پائپ پکڑا اور نیچے اترنے لگی۔۔۔
اسکی کہاں کوئی ایسی پریکٹس تھی۔۔۔وہ اپنے ہاتھ پاؤں قابو نہ رکھ سکی اور پھسلتی چلی گئی۔۔۔
خوف سے اسکی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔۔۔مگر اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔۔۔
موت آ جائے بہتر تھا مگر عزت نہ جائے ۔۔۔۔
وه دھڑام سے نیچے گری پاؤں میں اور زیادہ درد ہونے لگا ۔۔۔
اب گھٹنے پر چوٹ آ گئی تھی۔۔۔ہاتھ کی ہتھیلیوں میں سے خون رِس رہا تھا مگر اس نے کسی چیز کی پرواہ نہ کی۔۔
اس سے اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا اور نہ سمجھ آ رہی تھی کہ کس طرف جانا ہے۔۔مگر وہ کوشش کر کے اٹھی اور چاروں طرف میں سے ایک سائیڈ کا انتخاب کر کے وہ چلنے لگی۔۔۔
ہر طرف جنگل تھا۔۔۔سنسان راستے جیسے وہاں کوئی بستا ہی نہ ہو۔۔۔
اسے لگا جیسے کسی نے اسکا ہاتھ تھام رکھا ہے اسے راستہ دکھانے کیلیے۔۔۔ایک عجیب سی روشنی اسکے رستے پر پڑ رہی تھی جو صرف اسے دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
اور وہ اسکے پیچھے چلتی جا رہی تھی۔۔۔وہ لنگڑا کر چل رہی تھی۔۔۔کمر میں بھی درد ہو رہا تھا اور خوف اسکی رگ رگ میں بس گیا تھا۔۔۔
آنسو تو تب سے تھمے ہی نہ تھے۔۔۔
اچانک اسے کسی گاڑی کی آواز سنائی دی۔۔۔وہ مسٹر اسد کی گاڑی سمجھ کر فوراً درخت کے پیچھے چھپ گئی۔۔۔اور جھانک کر دیکھا تو پولیس کی گاڑی تھی۔۔۔
آیت بھاگ کر گاڑی کے سامنے آئی اور ہاتھ کے اشارے سے گاڑی روکنے لگی ۔۔۔
آفیسر گاڑی روک کر باہر نکلا تھا ۔۔۔
سر ، سر سر پلیز مجھے بچا لیں ۔۔۔
میری مدد کریں ۔۔۔
وه ہاتھ جوڑ کر هانپتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے بی بی ؟؟
پولیس آفسیر نے کرختگی سے پوچھا
مم۔۔۔۔مجھ۔۔۔۔مجھے اس نے اغوا کر لیا تھا۔۔۔
پلیز مم۔۔۔مجھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس آفیسر نے اسکی بات کاٹ دی
اغوا کر لیا تھا پھر خود ہی چھوڑ دیا۔۔۔
او جاؤ بی بی کسی اور کو پاگل بنانا۔۔۔پولیس کو نہیں۔۔
بیٹھو گاڑی میں اور چلو تھانے۔۔۔
اس نے سختی سے کہا تو اسکی ہمت جو انھیں دیکھ کر بندھی تھی وه ختم ہو گئی . ۔۔۔
اس نے سوچا کے ان سے بھی بھاگ جاؤں ۔۔۔۔
تبھی گاڑی میں کسی کا موبائل بجا۔ ۔۔۔
اس نے کال سن کے آفیسر کو اپنی طرف بلایا تو اس نے آہستہ آہستہ قدم پیچھے کی طرف لیے ۔۔۔
یہ وہی لڑکی ہے جسے ہم ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔تم لوگ اپنی گاڑی میں اسے صحیح سلامت گھر پہنچاؤ
میں اُسکے پاس جا رہا ہوں۔۔۔
آیت نے اسکی بات سن لی تھی اس لیے وہ وہیں رک گئی۔۔۔اب آئی جی گاڑی سے اتر چکا تھا اور درختوں کی طرف چلنے لگا تھا۔۔۔
اور ہاں اسے آبادی سے ذرا دور اتارنا تا کہ کوئی پولیس کی گاڑی سے اسے اترتا ہوا نہ دیکھے۔۔۔اور کوئی بھی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔
سمجھے؟؟
وہ چلتے چلتے رکا تھا اسے ہدایت دیتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
پولیس والے نے آیت کو گاڑی میں پیچھے بٹھایا اور گاڑی اسکے گھر کی طرف دوڑا دی۔۔۔
آیت گاڑی میں بیٹھتے ہی زار و قطار رونے لگی تھی۔۔۔
اپنے اللّہ کا شکر ادا کر رہی تھی آج اسکی پھر سن لی گئی تھی۔۔وہ سیدھے رستے پہ چل رہی تھی تو کیسے نہ مدد ہوتی۔۔۔اللّہ خود اسکا حامی و ناصر تھا تو اسے کون نقصان پہنچا سکتا تھا۔۔۔۔
آج وه دن تھا جب اس کے قدم لڑ کھڑاۓ تھے ۔۔۔وه ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھی۔۔۔اس کی حالت کو دیکھ کر جو گھر والوں کی حالت ہوئی تھی وہ اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
اسے لگ رہا تھا کہ یہ ساری تکلیفیں گھر والوں پر میری وجہ سے آ رہی ہیں۔۔۔
میری پارسائی میری دشمن بن رہی ہے۔۔۔اس کے بدلے مجھے کیا مل رہا ہے طعنے، تنگدستی ، امتحان۔۔۔
وہ کچھ عرصہ تک نارمل نہیں ہو پائی تھی۔۔۔خوف اسکے دل سے نکل نہیں رہا تھا۔۔۔
اس حادثے کے بعد اس نے ایک بنک میں نوکری شروع کی۔۔۔وہ پیاری تھی شاید اس لیے لوگ اسکی طرف متوجہ ہوتے تھے۔۔۔
یا یہ اسکیلیے آزمائش تھی جس میں سے وہ کامیاب ہو رہی تھی مگر اب ڈگمگانے لگی تھی۔۔۔
وہاں پر ایک سیکرٹری کا مینیجر کے ساتھ تعلق تھا معمولی شکل اور معمولی تجربے کے باوجود وہ آیت سے اونچے درجے پر بیٹھی تھی۔۔۔
اور یہی ساری چیزیں دیکھ دیکھ کر وہ اپنا ایمان کمزور کر رہی تھی۔۔۔وہ اتنی کمزور نہیں تھی لیکن لوگوں نے اسے ایسا کر دیا تھا۔۔۔
مزید وہ کوئی حادثہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اب اس میں اتنی ہمت نہیں تھی۔۔۔بلکہ وہ خود اپنی ہمت کو اپنے خوف کے نیچے دبا رہی تھی۔۔۔
وہ خوش رہنا چاہتی تھی۔۔۔بہت مشکلوں سے پڑھائی مکمل کی تھی۔۔۔پھر مستقل جاب نہیں مل رہی تھی ، ابو بھی مستقل چارپائی پر آ گئے تھے۔۔اور پھر وہ خوفناک دن وہ سب کچھ اسے کمزور کر رہا تھا۔۔۔
اور تب ہی جب اسے بنک کے مالک نے پرپوز کیا تو اس نے پہلی بار کسی کی ایسی بات پر تھپڑ نہیں مارا شاید اسکے دل میں لالچ آ گیا تھا یا وہ واقع ڈر گئی تھی۔۔۔
اور پھر کچھ دن سوچنے کے بعد اس نے اسے ہاں بول دیا تھا۔۔۔یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنی زندگی کی پہلی سنگین غلطی کی تھی اور اس پر سے مددگار کا سایہ ہٹا لیا گیا تھا۔۔۔
اسے دور بھیج دیا گیا تھا اب وہ اکیلی تھی کیونکہ اس نے دنیا والوں کے پیچھے لگ کے اللّه کا راستہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
اب اسکا کام بنک میں نہ ہونے کے برابر تھا اور تنخواہ سب سے زیادہ تھی۔۔۔اب وہ مغرور ہونے لگی تھی۔۔۔گھر کی فکر ختم ہو رہی تھی اپنے اوپر زیادہ توجہ دینے لگی تھی ۔۔۔۔
وہ بھٹک گئی تھی۔۔۔
بیٹا آج تو بہت دیر کر دی آنے میں ۔۔
نورین بیگم نے رات کے دس بجے گھر آتی آیت سے پوچھا
جی کام زیادہ تھا ۔۔
اس نے لا پرواہی سے جواب دیا
لیکن آیت بنک تو شام سے پہلے بند ہو جاتے ہیں۔۔۔
انہوں نے پھر فکر مندی سے پوچھا
ہاں ہو جاتے ہیں بند۔۔۔ہمارا نہیں ہوا اس میں کون سی بڑی بات ہے۔۔۔
وہ غصہ ہونے لگی تھی
اچھا روٹی لے آؤں؟؟
وہ حیران رہ گئی تھیں اسکے بدلے رویے پر۔۔
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔میں بس سونا چاہتی ہوں۔۔
یہ آیت تو کوئی اور ہی تھی آج وہ پہلی بار ابو کا بھی نہیں پوچھا تھا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے سو جاؤ
اور وو۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔آج تمہارے ابو کی دوا نہیں تھی تو میں نے کہا تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت نے انکی بات کاٹ دی
امی پلیز تھک ہار کر آتی ہوں اور آتے ہی حساب کتاب کی طاقت نہیں ہوتی۔۔۔صبح بتائیے گا۔۔۔
نورین بیگم حیرت سے آنکھیں کھولے کھڑی تھیں جبکہ وہ اپنے بستر پر جا چکی تھی۔۔۔۔۔
رات دیر تک وہ جاگتی رہی ، موبائل پر بات کرتی رہی دونوں امی ، ابو بھی سو نہ پاۓ کہ جانے ہماری آیت کو کیا ہوا ہے۔۔۔
وہ سمجھ رہی تھی کے میری زندگی اب شروع ہوئی ہے میرے خواب پورے ہو رہے ہیں کوئی ہے جو مجھ سے سچا پیار کرتا ہے مگر وه یہ نہ سمجھ پا رہی تھی کے عشق مجازی کے پیچھے لگ کے وه عشق حقیقی کھو رہی ہے ۔۔۔
اسکا خالق اس سے ناراض ہو رہا ہے اور وہ اس چیز کو نظر انداز کر کے ساٸے کے پیچھے بھاگ رہی تھی جہاں سے اسے رنج اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں تھا ۔۔۔۔۔
