264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 10)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

معمول کے مطابق اس کی آنکھ تہجد کے وقت کھلی مگر وہ کچھ دیر پہلے ہی تو سوٸی تھی تھوڑی دیر اور سو کے پھر اٹھتی ہوں یہی سوچ کر وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔۔۔۔

پھر اذان کی آواز پر آنکھ کھلی تو وہ بھی نظر انداز کرکے لیٹی رہی۔۔۔

آیت،،

آیت بیٹا اٹھ جاؤ نماز کا وقت ہے ۔۔ تمہاری نماز رہ گئی تو پورا دن روتی رہتی ہو۔۔۔

شاہ صاحب اسے جگانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔۔

وہ سنتی رہی مگر نہ جواب دیا اور نہ ہی اٹھی یہ پہلی دفعہ ہوا تھا جب اس نے جانتے بوجھتے نماز چھوڑ دی تھی۔۔ کیونکہ خالق جب ناراض ہوتا ہے تو سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے اس سے بھی چھین لی گئی تھی۔۔۔ شاہ صاحب کی تشویش میں اور اضافہ ہو رہا تھا ۔۔۔

وہ بہت پریشان ہوگئے تھے وہ پہلے کی طرح ان کے پاس نہیں آ بیٹھی تھی جیسے ہمیشہ ہر نماز کے بعد بیٹھتی تھی،،

ان کو وضو کراتی تھی ۔۔

امی کے ساتھ ناشتہ بناتی تھی کچھ بھی ویسا نہیں تھا۔۔۔ وہ اس وقت اٹھی جب بینک جانے کا وقت ہوا رسمی سلام دعا کی اور امی کو کچھ رقم دے دی کہ گھر کا حساب چلالیں۔۔۔

ابو کی دوائی تو سے یاد ہی نہیں تھی۔۔۔

یہ پیسے کہاں سے آئے؟؟؟

تنخواہ تو تم نے پہلے ہی دے دی تھی۔۔۔

نورین بیگم نے پوچھا

تنخواہ اتنی ہی تو نہیں تھی کچھ پیسے میں نے اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔۔۔

اس نے تیار ہوتے ہوئے لاپرواہی سے کہا

پہلے تو اتنی تنخواہ نہیں ملتی تھی اب کیوں زیادہ ہے؟؟

انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا

امی آپ کو پیسے نہیں چاہیے تو واپس دے دیں ۔۔

اتنے سوال جواب کیوں کر رہی ہیں؟؟

اس نے بھڑکتے ہوئے قدرے اونچی آواز میں کہا

میں ماں ہوں تمہاری آیت اور اتنا تو حق رکھتی ہوں نہ میں ۔۔۔

انہوں نے پیار سے کہا

ہاں لیکن کہیں سوال کرنے کی ضرورت بھی تو ہو۔۔ اچھا ٹھیک ہے اللّہ حافظ۔۔ خیال رکھیے گا۔۔۔

اور ہو سکتا ہے دیر ہوجائے ۔۔

وہ یہ کہتی آندھی طوفان کی طرح باہر نکل گئی تھی اللّہ حافظ ابو۔۔

وہ باہر لیٹے تھے اور وہ دور سے خدا حافظ بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔

سر آپ کو اب باہر نہیں جانا چاہیے تھا ۔۔ہمارا کیس کمزور ہو جائے گا ۔۔۔

اس کا سیکرٹری اس کے باہر جانے پر مطمئن نہیں تھا

وہ اپنے خوبصورت آفس میں ریوالونگ چٸیر پر کسی نواب کی طرح براجمان تھا۔۔

اور سیکرٹری اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا اس کا ایک آفس روم مسٹر اسد کی پوری آفس بلڈنگ سے لاکھ درجے بہتر تھا۔۔

مگر اس کے نقوش تنے ہوئے تھے جیسے وہ بہت پریشانی کی صورت حال میں بیٹھا ہو۔۔

وہ دو چیزوں میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ جاۓ یا نہ جاۓ۔۔

کیس تو میں کسی صورت کمزور نہیں ہونے دونگا اور جانا بہت ضروری ہے وہاں بھائی کو میری ضرورت ہے اور وہ بھی اچانک۔۔

ورنہ ایک دن پہلے تک تو میرا کوئی ارادہ نہیں تھا ایسا لگتا ہے کہ اللّہ تعالی خود مجھے وہاں کسی مقصد سے بھیج رہے ہیں لیکن آیت سے ضروری تو میرے لئے کبھی کچھ نہیں رہا ۔۔۔

وہ کافی پریشان لگ رہا تھا

واقع سر،،

اس کی خاطر تو آپ نے اپنا خود کا بزنس پس پشت ڈال دیا تھا اور وہاں آفندی کے آفس میں معمولی جاب شروع کر دی تھی۔۔

سر مجھے سمجھ نہیں آتا اپنی شناخت سے بھی کچھ اہم ہو سکتا ہے ؟؟

آپ نے اس کی خاطر وہ بھی چھپائی۔۔

وہ تجسس سے اس کے منہ کی طرف دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔۔

” تم کیا جانو مسٹر شہریار ، وہی تو میری پہچان ہے اور میں اس کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔“

اس نے ایک جاندار مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتے ہوئے کہا

اور شہریار بس اسکا منہ دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔

سر وہ شاہ کا کیس بہت مضبوط ہے اس نے آیت کو بلکل اس میں سے نکال دیا ہے۔۔

اسے تو پتہ بھی نہیں کہ آپ کے خلاف کوئی کیس لڑا جا رہا ہے وہ بھی اس کی خاطر۔۔

اور اس لڑکے نے ایسے چارج لگائے ہیں کہ ہماری تو عقل جواب دے گئی ہے۔۔۔

آفندی کا بندہ اس سے جیل میں ملاقات کرنے آیا تھا اور ساری تفصیل سے آگاہ کر رہا تھا۔۔

وہ اسی دن جنگلات سے پکڑا گیا تھا اور تب سے جیل میں بند تھا۔۔

وہ اسکے پاس جاب کر رہا تھا صرف آیت کی وجہ سے۔۔۔

ورنہ سید عفان شاہ مسٹر اسد سے دس نہیں سو ہاتھ آگے تھا بنک بیلنس میں بھی،، جان پہچان اور شہرت میں بھی۔۔

تو تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟؟

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے اس کے الزامات سن رہے ہو اس نے فوراً اس کا گریبان پکڑ لیا تھا

اگر اس وکیل سے کچھ نہیں ہوتا تو کوئی اور قابل وکیل ڈھونڈو۔۔ بے شک پیسے جتنے مرضی لے مگر یہ کیس ہمیں ہی جیتنا ہے۔۔

اور پھر اس نے جھٹکے سے اس کا کالر چھوڑا تھا۔۔

ج۔۔۔ جج ۔۔۔۔جی سر وہ اپنا کالر درست کرتے ہوئے ہکلا کر بول رہا تھا۔۔۔ پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا تو ایک جاندار مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی ۔۔

سر آپ نے ایک آدمی کی ذمے کام لگایا تھا نہ۔۔

وہ بڑے پرفیکٹ انداز میں انجام دے رہا ہے۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا

دیٹس گڈ ۔۔۔

اس کے تاثرات بھی پل بھر میں بدلے تھے اور وہ سب بھول بھال کر مسکرا رہا تھا۔۔

آخر کام ہی اتنا بڑا تھا اگر اسے وہ حاصل ہو جاتا تو پھر کسی چیز کی طلب نہیں رہنی تھی۔۔

اس لیے وہ سوچتے ہوۓ مسکرا رہا تھا اور جیل میں اھر سے ادھر چکر لگانے لگا تھا۔۔۔

اسکا آدمی اپنا کام کر کےوہاں سے نکل گیا۔۔۔

میں نے آپ کے لئے ناشتہ منگوایا ہے آپ کا میسج آیا تھا نا کہ آپ نے صبح ناشتہ نہیں کیا۔۔۔

سجاول راجپوت اپنے آفس میں سامنے کی کرسی پر براجمان آیت شاہ سے مخاطب تھا ۔۔

نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں میں اپنی مرضی سے کر کے نہیں آئی۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

لیکن میں نے تو آپ کی وجہ سے نہیں کیا تو آپ کو میرے ساتھ ناشتہ کرنا پڑے گا۔۔۔

آپ اندر چلیں وہاں میں نے ناشتہ لگوا دیا ہے

اس نے آفس سے ملحقہ کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

وہ مزید کوٸی بحث کیے بنا اندر چلی گئی اور سجاول کے لبوں کو ایک فاتحانہ مسکراہٹ نے چھوا

شاید وہ بھول چکی تھی کہ وہ لڑکی ہی کیا جو کسی کو انکار نہ کر سکے۔۔ وہ کٹھ پتلی کی طرح چل رہی تھی۔۔۔

اس نے اندر آ کر دیکھا تو ناشتے کے لیے ایسا اہتمام کیا گیا تھا جیسا ان جیسے لوگوں نے کبھی ولیمے میں بھی نہ کیا ہو۔۔۔

وہ مسکراتی ہوٸی ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔

یا اللہ مدد۔۔۔

آیت نے ایسے بے اختیار بولا تھا کیوں وہ خود بھی نہ سمجھی تھی۔۔

سجاول اندر جانے کیلیے اٹھا مگر اسکے قدم لڑ کھڑانے لگے۔۔۔

اس کا دماغ سن ہو گیا تھا وہ آگے جانے کے قابل نہیں تھا۔۔۔

اس لیے وہیں کرسی پر ڈھے گیا۔۔۔

پھر جلدی سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔۔۔

وہ ایسے چل رہا تھا جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔۔۔

آیت نے وہاں بیٹھے بیٹھے بہت انتظار کیا کالز بھی کیں مگر اسکا نمبر بند آ رہا تھا۔۔۔

خود ہی تو اللہ کو مدد کیلیے بلایا تھا پھر کیسےکوٸی نا محرم اسکے ساتھ بیٹھ سکتا تھا۔۔

وہ بن بلاۓ بھی مدد کرتا ہے اور پھر وہ تو اسکی راہ پر چلنے والی تھی۔۔

فی الوقت بھٹک گٸی تھی ، سازشوں کا شکار ہو رہی تھی مگر بھٹکےہوٶں کو راہ بھی تو وہی دکھاتا ہے۔۔۔