Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Last updated: 17 November 2025

264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

سر یہ میرا استعفی میں اب مزید یہاں کام نہیں کر سکتی۔۔ آیت آفندی صاحب کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی اس نے ایک لفافہ ان کی طرف بڑھایا جسے اس نے کھول کر دیکھا ،، پڑھا اور پھر ایک فاتحانہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی۔۔
آپ کیا سمجھتی ہیں کہ آپکے اس طرح کرنے سے میں ان تصویریں کا کچھ نہیں کرونگا۔۔
اس نے مسکراتے ہوۓ کہا
آپ کی مجھ سے کیا دشمنی ہے ؟؟
آیت نے بے بسی سے پوچھا
کوئی بھی نہیں۔۔ دشمنی تو آپ نے خود پیدا کی ہے مجھے انکار کرکے۔۔ ورنہ میں تو دوستی چاہتا تھا۔۔
میرے ساتھ تعلق میں ہوتی تو بہت خوش رہتیں۔۔
اسد صاحب نے نری خباثت اور کمینگی سے کہا
اپنی بکواس بند رکھیں اپنی بیٹیوں کو ان کاموں پر لگائیں میں تھوکتی بھی نہیں ہوں آپکی اس دولت پر۔۔
آیت نے غصے سے چلا کر کہا
ہاہاہاہا۔۔
ابھی تھوڑا غصہ بچا کے رکھو کیونکہ جو آپ نے کنٹریکٹ سائن کیا تھا اس کے مطابق آپ مزید تین ماہ تک جاب نہیں چھوڑ سکتی اور اگر ایسا کیا تو آپکے خلاف قانونی کارواٸی کی جا سکتی ہے اور اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کو اتنا تو میں کر ہی سکتا ہوں۔۔۔
اس نے کہنے کے ساتھ ہی ایک اور قہقہہلگایا تھا ۔۔
آیت سے مزید اسکی بکواس برداشت نہ ہوٸی تو وہ جانے کیلیے اٹھ گٸی تھی
مس آیت بات آپ نے نہیں مانی تو آپ کی تصویریں۔۔۔۔۔۔۔
آیت نے برہمی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا بھاڑ میں جائیں تصویریں جہاں بھیجنی ہیں بھیج دو ۔۔
یہ سنتے ہی مسٹر اسد کا رنگ فق ہو گیا وہ سوچتا اسے کسی بات سے خوف کیوں نہیں آتا اور پھر اس نے تصدیق چاہی۔۔
تمہارا کسی سے تعلق ہے؟؟
تم کسی سے رابطے میں ہو؟؟
آیت دروازے تک جا کر پلٹی کچھ دیر چپ رہی پھر جواب دیا
ہاں
” اللّہ سے “
یہ کہتے ہی وہ باہر نکل گئی اور اسد صاحب نے گلاس اٹھا کر پوری قوت سے فرش پر مارا وہ مزید مشتعل ہوگیا وہ ہر حال میں آیت کا یہ خود اعتمادی کا مان توڑ دینا چاہتا تھا اسے آج تک کسی لڑکی سے نہ سننے کو نہیں ملی تھی اور یہ لڑکی اسے انکار پہ انکار کیے جا رہی تھی اب اس کے پاس تین ماہ کا وقت تھا اور اس کے نزدیک یہ بہت زیادہ تھا ایک پاکیزہ ، حجابی لڑکی کو برائی کے سامنے زِیر کرنے کے لئے۔۔۔۔